قبر رسول زیارت
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 5]

قبر کی زیارت کرنا:  حدیث     رسولﷺ جس نے میری قبر کی زیارت کی اس پر میری شفاعت واجب ہے۔

  قبر رسولﷺ کی زیارت کرنا مسلمانوں کے لیے اللہ کی طرف سے عظیم نعمتوں میں سے ایک محبوب نعمت ہے ۔ ہر مسلمان یہ سمجھتا  ہے کہ اس کو زندگی  میں ایک بار حضور پرنور ﷺ کی قبر کی زیارت نصیب ہو ۔ کیونکہ  حضور اکرمﷺ نے خود فرما رکھا ہے کہ جس نے میری قبر کی زیارت کی اس پر میری شفاعت واجب ہے ۔ 

قبر رسولﷺ کی زیارت پر مذکورہ حدیث پر وارد اعتراضات کا تحقیقی جائزہ

قبر  رسولﷺ کی زیارت کے تعلق سے بے شمار محدثین بشمول امام دارقطنی ، امام بیھقی ، امام نورالدين الهيثمي، امام خطیب بغدادی ، قاضی عیاض اور بہت سے محدثین نے اس رویت کو مختلف اسناد سے نقل کیا ہے ۔

 مذکورہ روایات پر اعتراضات کے جوابات بلترتیب درج ذیل ہیں۔

(اعتراض)

امام بیہقی نے یہ روایت چاہے عبداللہ سے ہو یا عبیداللہ سے دونوں صورتوں میں منکر ہے۔ا

الجواب:(اسد الطحاوی):

امام ہیثمی نے اسکی ایک اور سند سے روایت کو فقط ضعیف کہا ہے اور اس کے منکر ہونے کی کوئی جرح نہیں کی ہے ،  قاضی عیاض تو  اس روایت کو متعدد طرق کی وجہ سے حسن مانتے ہیں ،  امام ابن ملقن نے اس روایت پر اعترضات کا ٹھیک ٹھاک رد کیا ہے اور امام ابن خزیمہ اس روایت کو اپنی صحیح میں لائے ہیں لیکن اس کی سند سے انہوں نے شک کا اشارہ کیا ہے کہ ضعیف ہے لیکن انکو بھی ٹھوس وجہ نہ ملی اس روایت کی تضعیف پر امام یوسف الصالحی الشافعی نے اسکی توثیق کی ہے  امام جلال الدین سیوطی نے اسکے متعدد طرق کی وجہ سے اسکو حسن مانا ہے  امام عبدالحق اشبیلی نےاس حدیث کو صحیح  ہے ان حوالاجات سے غیر مقلدین کے اس دعویٰ کا رد ہوتا ہے کہ محدثین نے اتفاقی طور پر اس روایت کا رد کیا ہے ۔

امام بیھقی کی بات اصول کے مطابق نہیں اسکی روایت منکر تب ہوتی جب موسیٰ بن ھلال  جس کو انہوں نے مجہول قرار دیا ہے اور امام عقیلی کی تقلید میں یہ بات کی ہے جبکہ امام ابن حجر عسقلانی نے اور امام ابن مقلن نے موسی بن ہلال کی متابعت بیان کی ہے۔

جسکا ذکر آگے آئے گا۔

مزید یہ کے امام ابیھقی  تو انبیاء کی قبور میں زندگی کے قائل ہیں اس پر باقائدہ انہوں نے مکمل ایک کتاب لکھ دی حیات الانبیاء کے نام سے ، 


قبر  نبی کی  زیارت کے تعلق سے مذکورہ روایت  حسن درجے کی ہے۔

اسکو روایت کیا ہے امام ابو طاہر السلفی الاصبھانی ؒ (المتوفی 576ھ) وہ برقم :٩  پر  روایت نقل کرتے ہیں اپنی سند سے

حدثنا عبيد الله بن أحمد، نا أحمد بن محمد بن عبد الخالق، نا عبيد بن محمد الوراق، نا موسى بن هلال، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من زار قبري، وجبت له شفاعتي

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں نبی اکرمﷺ نے فرمایا جس نے میری قبر کی زیارت کی اس پر میری شفاعت واجب ہے۔

[الجزء الخامس من المشيخة البغدادية،أبو طاهر السِّلَفي ]

اس روایت کے سارے راوی قوی ہیں اور یہ روایت حسن درجے کی ہے محدثین کی نظر میں ۔۔۔


(اعتراض)
کہ یہ روایت قوی نہیں بلکہ انتہا درجے کی کمزور اور منکر روایت ہے جیسا کہ امام ذہبی نے فرمایا یہ روایت بھی منکر ہے اور اس کے بھائی والی روایت بھی۔

الجواب(اسد الطحاوی):

متعررض  کو معلوم ہے کہ  اس روایت پر امام بیھقی امام عقیلی اور امام ذھبی کی منکر کی جرح  کا رد حافظ ابن حجر عسقلانی نے کر دیا ہے اور امام ذھبی اپنی اس جرح سے رجوع بھی کر گئے تھےنیز یہ کہ وہ تلخیص الحبیر میں امام عقیلی کی جرح نقل کرتے ہوئے اسکا رد یوں کرتے ہیں :

وَقَالَ الْعُقَيْلِيُّ لَا يَصِحُّ حَدِيثُ مُوسَى وَلَا يُتَابَعُ عَلَيْهِ وَلَا يَصِحُّ فِي هَذَا الْبَابِ شَيْءٌ وَفِي قَوْلِهِ لَا يُتَابَعُ عَلَيْهِ نَظَرٌ فَقَدْ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ مَسْلَمَةَ بْنِ سَالِمِ الْجُهَنِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِلَفْظِ "مَنْ جَاءَنِي زَائِرًا لَا تُعْمِلُهُ حَاجَةٌ إلَّا زِيَارَتِي كَانَ حَقًّا عَلَيَّ أَنْ أَكُونَ لَهُ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ

یعنی امام ابن حجر عسقلانی  امام  عقیلی کی جرح نقل کرتے ہیں  کہ اسکی حدیث صحیح نہیں (وجہ) اسکا کوئی متابع  نہیں ہے  اس میں نظر ہے (یعنی  یہ بات امام عقیلی کی صحیح نہیں ) پھر امام ابن حجر عسقلانی  موسیٰ بن ھلال کا متابع مسلمہ بن سالم بیان کرتے ہیں اور طبرانی کی المعجم سے روایت کرتے ہیں۔

ثنا مسلمۃ بن سالم الجہنی، حدثنی عبید اللہ بن عمر، عن نافع، عن سالم، عن ابن عمر رضی اللّٰہ عنہما، قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم :من جاء نی زائراً لا یعمل لہ حاجۃ إلا زیارتي کان حقا عليّ أن أکون لہ شفیعاً یوم القیامۃ

 

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی، آپ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بغیر کسی دوسرے مقصد کے صرف میری زیارت کے لئے آیا تو مجھ پر حق ہے کہ میں اس کے لئے قیامت کے دن شفاعت کروں۔

[تلخیص الحبیر]

امام ہیثمی رحمہ اللہ ’مجمع الزوائد‘ کے (۴؍۲) پر فرماتے ہیں: (امام طبرانی نے اس حدیث کو ’المعجم الأوسط اور الکبیر میں روایت کیا ہے، اس حدیث کی سند میں ایک راوی ’مسلمہ بن سالم‘ ضعیف ہیں۔

  تو اس سے امام عقیلی کی جرح ساری ہی مبھم ثابت ہو گئی ، کیونکہ امام عقیلی نے جس وجہ سے راوی موسیٰ بن ھلال کی روایت کو لا صحیح کہا اسکی وجہ ہی بے بنیاد تھی ، بے شک امام ابن حجر عسقلانی نے اس روایت کے تمام طرق کو ضعیف کہا ہے لیکن امام ابن حجر عسقلانی کاخود منہج بھی یہی ہے کہ جب ایک روایت کے متعدد طرق ہوں اور ان میں کوئی ضعیف راوی یا مدلس کا متابع مل جائے تو روایت تقویت پا کر حسن لغیرہ بن جاتی ہے جسکا حوالہ نیچے سکین میں موجود ہے ۔


غیر مقلدین اس روایت زیارت قبر رسولﷺ  کی حدیث  کے ایک راوی موسیٰ بن ھلال کومجہول کہہ کر اس رویت کو ضعیف قرار دیتے ہیں ۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ راوی حسن الحدیث درجے کا راوی ہے ۔
غیر مقلدین دو اماموں سے جرح پیش کرکے سادہ لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ روایت ضعیف ہے اور نبی پاکؐ کی قبر کی زیارت کرنے کا حکم کسی صحیح یا حسن حدیث سے ثابت نہیں (معاذ اللہ)


(اعتراض)
کہ اس راوی کو خالی دو امام نہیں بلکہ کئی آئمہ مجھول الحال قرار دے رہے ہیں جن میں امام ابو حاتم امام دارقطنی امام عقیلی امام ابن القطان امام ابن عبد الہادی ہیں۔

الجواب(اسد الطحاوی)

ابن عدی رحمہ اللہ نے الکامل میں  (۶؍۲۳۵۰) پر فرمایا: (أرجو أنہ لا بأس بہ) اور مصطلح حدیث کا ثابت شدہ قائدہ ہے کہ صرف ایک قول سے تزکیہ ثابت و مقبول ہو جاتا ہے، تو وہ راوی جس سے پندرہ لوگوں نے جن میں ائمہ وحفاظ کرام بھی ہیں، روایت کیا ہو، اور ابن عدی رحمہ اللہ نے ان کے بارے میں ’لابأس بہ‘ فرما کر تزکیہ بھی کردیا ہو، ایسا شخص بدرجہ اولی مجہول نہیں بلکہ اس کی حدیث حسن و مقبول ہوگی۔

 یہ حقیقت بات ہے کہ ہر امام ایک راوی کے حالات پر مطلع نہیں ہو پاتا لیکن اگر کوئی دوسرا امام انکی تعدیل کر دے چاہے نچلے درجے کی بھی ہو تو راوی مجہول الحال سے نقل کر حسن الحدیث درجے کا بن جاتا ہے  جیسا کہ امام ابن مقلن ، امام سبکی ، امام سیوطی ، امام ابن عدی ، امام ذھبی نے اسکی توثیق کی ہے کہ یہ صالح الحدیث ہے  نیز توثیق ضمنی بھی اسکی ثابت ہے


غیر مقلدین کے پاس موسیٰ بن ھلال پر ان دو اماموں سے جرح مبھم ہیں جبکہ تحقیقی بات یہ ہے کہ یہ راوی حسن الحدیث درجے کا ہے اور اس کی توثیق ثابت ہے ۔ امام ابن عدیؒ انکے بر عکس کہتے ہیں ارجو انہ لا باس بہ۔۔ 
(اعتراض)
کہ امام ابن عدی کا ارجو انہ لا باس بہ ۔سے راوی کی عدالت ثابت نہیں ہوتی اسکا جواب امام ابن القطان نے دیا ہے کہ حق بات تو یہ ہے کہ اسکی عدالت ثابت نہیں ہے۔

الجواب (اسد الطحاوی):

متعرض کو یہ معلوم نہیں کہ امام ابن عدی کی توثیق کا جواب ابن القطان نے کیا دیا ہے اور اسکے جواب میں ہی ابن القطان کا خود کا بنایا ہوا اصول ہی اسکے خلاف ہے  ابن القطان کی بات ہم نقل کرتے ہیں اور پھر اسی اصول ہی سے اسکا رد کرتے ہیں

ابن قطان فاسی  کہتے ہیں کہ حق یہ ہے کہ اس راوی کی عدالت ثابت نہیں پھر اس بات کو صحیح ثابت کرنے کے لیے خود سے ایک استدلال کرتے ہوئے امام ابن عدی کے منہج سے مثال دیتے ہیں  لکھتے ہیں کہ  کیونکہ امام ابن عدی نے موسیٰ بن ھلال کی توثیق ثابت نہیں ہوتی کیونکہ میمون نامی راوی کے بارے میں کہتے ہیں ـ: وارجوانه لاباس به ویکتب حدیثه فی الضعفاءّ(مجھے امید ہے اس میں کوئی حرج نہیں اور اسکی حدیث ضعیف راویوں میں لکھی جائے)۔

اسکے بعد مصنف غیر مقلد وں کے ممدوھ معلمی تائید پیش کرتا ہے کہ امام ابن عدی کی طرف سے اس کلمے کا اطلاق دیکھا ہے جہاں انکے قول کا مقصود یہی معلوم ہوتا ہے کہ راوی جان بوجھ کے جھوٹ نہیں بولتا تھا ، یہاں بھی یہی معاملہ ہے کہ اسکی دلیل یہ ہے کہ یوسف (بن محمد بن منکدر) کی بیان کردہ روایات  زکر کرنے  کے بعد امام ابن عدی نے ایس اکہا ہے ان مٰں اکثر روایات منکر ہے

اس حدیث کے  بنیادی راوی پر ابن قطان کا رد انہیں سے :

ابن قطان فاسی کا یہ استدلال بالکل غلط ہے بلکہ انہی کے بنائے ہوے اصول سے خلاف ہے ۔اسکی دلیل یہ ہے کہ ابن معین الحنفی کئی رایوں کے بارے فرماتے ہیں لیس بشئی ضعیف ، اور کبھی کسی راوی کے بارے فقط فرماتے ہیں لیس بشئی اور یہی ابن قطان فاسی لکھتے ہیں :  ابن معین جب کسی راوی کو قلیل الروایہ سمجھتے ہیں تو اسکے بارے میں لیس بشئی کہ دیےت ہیں یعنی یہ راوی کم روایات بیان کرتا ہے اسکا اطلاق ضعیف پر نہیں ہوتا

[غیر مقلد گوندلوی  خیر الکلام ص 46]

اور اسی طرح معلمی ھی لکھا  ہے ابن معین اکثر کم روایایت بیان کرنے والے کو لیش بشئی کہہ دیتے ہیں

[التنکیل جلد ۱ ص 214]

تو جیسے ابن معین جس راوی کو ضیعف قرار دیتے ہیں تو لیس بشئی کے ساتھ ضعیف کہہ کر تصریح کرتے ہیں  اس سے راوی پر جرح  کا حتمی فیصلہ ہوتا ہے ۔ اس ی طرح ایس احال اما م ابن عدی کے کلمات کا ہے جب وہ کسی راوی کے بارے میں  ارجوا لاباس بہ  کہیں تو یہ توثیق ہی کا معمولی درجہ ہے  (جیسا کہ امام ذھبی نے لکھا ہے  صالح الحدیث ) اور جب و ہ اس جملے کا ساتھ آگے ضعیف کی تصریح کر دینگے تو پھر وہ جرح میں شمار ہوگا۔ تو  ہم نے ابن قطان فاسی ہی سے انکے قائدے کے مطابق انکا رد کر دیا ہے ۔

امام ذھبی ؒنے کہا کہ یہ صالح الحدیث ہیں۔

[میزان الاعتدال برقم8937]


اعتراض
عرض ہے کہ امام ذہبی اکیلے اسکا توثیق کرنا انکا علمی تسامح ہے جبکہ اس کے برعکس امام دار قطنی نے اسکو مجھول الحال قرار دیا ہے۔

الجواب (اسد الطحاوی)

جبکہ امام ذھبی کا استقرائی حکم بالکل ٹھیک ہے کیونکہ اس راوی کی ضمنی توثیق امام احمد بن حنبل سے بھی ثابت ہے۔


اعتراض:

 عمر بن العمری کو ابن حجر اور دوسرے محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے

الجواب (ٓسد الطحاوی)

لیکن اس راوی پر تعدیل خاص ہے یعنی جب عبداللہ بن عمر نافع سے روایت کرینگے تو اسکی روایت صحیح ہوگی  اسکا ثبوت میں امام ابن معین   سے توثیق پیش کرتے ہیں اور متشدد کی توثیق راجع ہوتی ہے لیکن یہاں انکی توثیق خاص ہے

امام ابن عدی لکھتے ہیں :

حَدَّثَنَا مُحَمد بن عَلِيٍّ، حَدَّثَنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيد، قلتُ ليحيى بن مَعِين: عَبد الله العُمَريّ ما حاله في نافع قال: صالحٌ

عثمان بن سعید کہتے ہیں میں نے کہا یحییٰ بن معین سے کہ عبداللہ بن العمری کا نافع سے (روایت کرنے میں ) کیا حال ہے ؟  (ابن معین ) نے کہا صالح

پھر امام ابن عدی  اس پر جرح و تعدیل کے اقوال لکھنے اور اسکی روایتیں لکھنے کے بعد آخر میں اپنا فیصلہ اس راوی پر دیتے ہوئے یوں کہتےہیں  :

قال الشيخ: ولعبد الله بن عمر حديث صالح وأروي من رأيت عنه بن وهب ووكيع وغيرهما من ثقات المسلمين، وهو لا بأس به في رواياته،

عبداللہ بن عمر (العمری)  کی حدیث صالح ہے ، ان سے ابن وہب ، وکیع وغیرہ ثقات مسلمین نے روایت کیا اور ان سے روایت لینے میں کوئی حرج نہیں ۔

[الکامل میں  برقم:  ٩٧٦]

اب عبداللہ بن عمر (العمری ) ضعیف بھی ہو تو بھی اس پر تعدیل خاص ہے کہ نافع سے اسکی روایت پر ابن معین نے صالح کہا ہے ۔


 مذکورہ حدیث پر محدثین سے تصحیح و تحسین:

اسی طرح امام ابن المقلن سراج الدین الشافعی المصری (المتوفی 804ھ) اس روایت کو نقل کرنے کے بعد بسند جید کا حکم لگاتے ہیں 
[البدر المنير في تخريج الأحاديث ج۶ ص ۲۹۶]


عرب کے محقق علامہ شعیب الارنووط جو کہ متفقہ محقق ہیں:

غیر مقلدین کے نزدیک بھی وہ مسند احمد کی ایک روایت جس کو امام احمد بن حنبلؒ اپنے شیخ یعنی مسیٰ بن ھلال سے روایت کرتے ہیں تو اس روایت پر حکم لگاتے ہوئے علامہ شعیب الارنووط لکھتے ہیں :

حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، موسى بن هلال -وهو العبدي شيخ المصنف- حسن الحديث، فقد روى عنه جمع،


تو موسیٰ بن ھلال حسن الحدیث درجے کا راوی ہے اور اس پر کوئی جرح مفسر ثابت نہیں۔

موسیٰ بن ھلال کی توثیق مندرجہ ذیل ہے:

امام ابو عوانہ نے  موسیٰ بن ھلال سے روایت کی تخریج کی ہے اپنی مسند میں ۔

 حَدَّثَنَا أَبُو أُمَيَّةَ قَالَ:**  ثنا مُوسَى بْنُ هِلَالٍ الْعَبْدِيُّ،**  عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، وَابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْطَانِي رَبِّي سَبْعِينَ أَلْفًا مِنْ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ» قَالَ ابْنُ سِيرِينَ فِي حَدِيثِهِ: فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: «أَنْتَ مِنْهُمْ» ، قَالَ: ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: «سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ» .

[مستخر ابو عونہ، برقم:246 ]

اور امام  السکن بن جمیع وہ بھی صرف ثقہ سے روایت کی تخریج کی ہے اپنی کتاب میں  اور انہوں نے یہی حدیث روایت کی ہے اپنی کتاب میں:

وأخبرني والدي أيضاً قال: حدثنا أبو عبد الله الحسين بن إسماعيل المحاملي ببغداد، قال: حدثنا عبيد بن محمد بن القاسم الوراق قال: حدثنا موسى بن هلال العبدي، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع،عن ابن عمر، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من زار قبري وجبت له شفاعتي

[حديث السكن بن جميع برقم ۴]


اور امام  ابن المقدسی (المتوفیٰ  643ھ)نے الأحاديث المختارة أو المستخرج من الأحاديث المختارة مما لم يخرجه البخاري ومسلم في صحيحيهما

میں موسی بن ھلال سے روایت کی تخریج کی ہے۔

اور موسی بن ھلال امام احمد بن حنبل کا شیخ ہے اور امام احمد نے ان سے متعدد روایات بیان کی ہیں اور یہ وہابیہ بھی مانتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل اپنے نزدیک صرف ثقہ سے روایت لیتے ہیں علاوہ اسکے کہ اس پر کوئی جرح مفسر نہ ہو ۔

تو امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں ان سے متعدد روایات بیان کی ہیں۔


اور امام الہیثمی مجمع الزوائد میں ایک روایت کے بارے فرماتے ہیں

وقد روی عنه احمد و شیوخہ ثقات (مجمع الزوائد)


کہ ان سے امام احمد نے روایت کیا ہے اور انکے شیوخ ثقات میں سے ہیں ۔

اسی طرح خود امام احمد بن حنبل کے بیٹے عبداللہ بن احمد بن حنبل نے بھی اپنے والد کے منہج کے بارے بیان کیا ہے کہ : قال عبد الرحمن کان ابی اذا رضی عن انسان وکان عندہ ثقة حدث عنه

: میرے والد جب کسی انسان سے راضی ہوتے اور وہ ان کے نزدیک ثقہ ہوتا تو اس سے روایت کرتے

[العلل و معرفہ الرجال احمد 238:1]


موسیٰ بن ھلال جسکی حدیث کی تخریج امام  عوانہ نے مستخرج میں ، محدث سکن بن جمیع نے  اور امام ابن المقدسی نے المختارہ میں کہی ہو اور امام احمد کا شیخ ہو انکے شیوخ ثقہ ہیں ابن عدی امام ذھبی کی توثیق کے باوجود اسکو مجہول الحال کہنا نری جہالت ہے

اور اس کے شواہد بہت زیادہ  ہیں اور متابع بھی بیان کر دی گئی ہے۔

 امام ذھبی  اس باب  کی  تمام روایات کی اسناد پر کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
ورواه القاضي المحاملي عن عبيد مثله، وهو حديث منكر، وفي الباب الأخبار اللينة مما يقوي بعضه بعضا، لأن ما في رواتها متهم بالكذب،والله أعلم. ومن أجودها إسنادا ما صح عن وكيع قال: حدثنا ابن عون وغيره، عن الشعبي وأسود بن ميمون، عن هارون بن أبي قزعة، عن حاطب: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” من زارني بعد موتي فكأنما زارني في حياتي۔
امام ذھبی فرماتے ہیں :
قاضی المحاملی نے اسکو روایت کیا ہے عبیداللہ سے منکر بیان کیا ہے اس باب میں جو اخبار ہیں وہ کمزور ہیں لیکن اسکے بعض طرق بعض کو قوی بناتے ہیں کیونکہ اس کے (بعض طرق) میں کذاب راوی ہیں اور اس باب میں جو صحیح (سب سے بہتر) سند سے مروی روایت ہے وہ یہ ہے کہ :
نبی اکرمﷺ نے فرمایا جس نے میری وفات کے بعد میری زیارت کی اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی
[تاریخ الاسلام ج ۴ ،ص ۶۶۴]

امام ذھبی کے حوالے سے امام حافظ جلالد الدین سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
حدیث ابن عمر من زار قری وجب له شفاعتی
ابن خزیمہ فی صحیحه متوفقا فی ثبوته والبزار والطبرانی وله طررق و شواہد حسنه الذھبی لا جلھا الذھبی۔
یعنی امام سیوطیؒ نے اس روایت کو مختلف اسانید اور شواہد کی بنیاد پر امام ذھبی کی طرف سے حسن قرار دینا نقل کیا ہے
[مناھل الصفا فی تخریج احادیث الشفا، ص ۲۰۸]

اسی طرح امام المفسر و المحدث اسماعیل بن محمد العجلونی اپنی مشہور تصنیف کشف الخفاء میں فرماتے ہیں :
کان کمن زارنی فی حیاتی و ضعفہ البیھقی ، وقال الذھبی طرقه کلھا لینة لکن یتقوی بعضھا بعض۔
کہ اس روایت کو امام بیھقی نے ضعیف قرار دیا اور امام ذھبی کہتے ہیں اسکے تمام طریق کمزور ہیں لیکن یہ ایک دوسرے سے مل کر ایک دوسرے کو قوی بناتے ہیں
[کشف الخفاء و مزیل الالباس ص ۲۹۷]
اللہ تمام مسلمانوں کے دلوں میں زیارت قبر رسولﷺ کی تمنا پیدا کرے آمین۔

نوٹ: اس سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کے امام ذھبی بھی حسن لغیرہ کے قائل تھے اور متعدد ضعیف طرق کے جمع ہونے پر انکے ایک دوسرے کو تقویت دینے کے قائل تھے۔ جیسا کہ جمہور محدثین کا متفق علیہ اصول ہے۔
اسکی مخالفت ابن تیمیہ اور مبتدعین نے کی اور انکی تقلید جامد جدید غیر مقلدین نے کی۔
اسکے باوجود بھی علامہ البانی صاحب اور انکے دور حاضر کے محقق و محدث العصر ارشاد الحق اثری صاحب نہ صرف حسن لغیرہ کو تسلیم کرتے ہیں بلکہ اپنے مقالات میں ایسے غیر مقلدین کا شدو مد سے رد بھی کیا ہے۔

تحقیق:اسدالطحاوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے