تین مساجد کے علاوہ ثواب کی نیت سے سفر کرنا ناجائز ہے؟ ظہیر امن پوری صاحب کا رد

''تین مساجد کے علاوہ ثواب کی نیت سے سفر کرنا ناجائز ہے'
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 0 Average: 0]

تین مساجد کے علاوہ ثواب کی نیت سے سفر کرنا ناجائز ہے؟ ظہیر امن پوری صاحب کی طرف سے حدیث رسولﷺ کی غلط تشریح اور امام ابن حجر عسقلانی کی طرف غلط موقف منسوب کرنے پر رد

تین مساجدکےعلاوہ انبیاء و صالحین اور بزرگوں کی مزارات کی زیارت کی نیت سے سفر کرنے میں متقدمین سے متاخرین تک امت کا عمل چلا آرہا ہے اور یہ شرعی اعتبار سے مستحب امر ہے ۔ اور جمہور ائمہ میں سے کسی نے بھی مذکورہ روایت کہ ”تین مساجد کے علاوہ سفر کرنا ثواب کی نیت سے ناجائز ہے” کی شرح میں یہ نہیں کہا کہ اس میں قبور اور مزارات کی زیارات بھی ناجائز ہے۔  اس مسلہ پر غیر مقلدین یعنی اہل حدیث علماء مذکورہ روایت پر چند لوگوں کی شاذ آراء کو بیان کرکے حدیث رسولﷺ کی غلط تشریح کر مرتکب ہوتے ہیں۔

مزارات کی زیارت

ظہیر امن پوری صاحب کی تحریر:

موصوف اپنی کتاب بنام”شرعی حیثیت” پر ایک روایت مسند احمد کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تین مساجد کے علاوہ ثواب کی نیت سے سفر کرنا جائز نہیں سوائے مسجد اقصی، مسجد حرام اور میری مسجد۔
[مسند احمد وسندہ حسن ]

اس حدیث ”تین مساجد کے علاوہ ثواب کی نیت سے سفر” کی شرح موصوف آگے سرخی لگاتے ہوئے کہتے ہیں:
حافظ ابن حجر علیہ رحمہ نے فرمایا کہ اس حدیث میں ان تین مساجد کے علاوہ سفر کرنا منع ہے (ثواب کی نیت سے)
اور آگے امام ابن حجر نے علامہ طیبی کا فتوی نقل کیا ہے۔
لیکن امن پوری صاحب نے امام ابن حجر عسقلانی علیہ رحمہ کی ادھوری بات نقل کی جبکہ امام ابن حجر عسقلانی نے یہاں مختصر بات لکھی ہے انکا مطلب تخصیص کے ساتھ تقابل ان تین مساجد کا تقابل باقی مساجد سے ہے صرف نہ کہ اس میں مزارات اور قبور کی زیارت کی نفی ہے۔
اور یہاں ظہیر امن پوری صاحب نے امام ابن حجر عسقلانی کا مکمل موقف بیان کیے علمی خیانت کا مظاہرہ کیا ہے۔

امن پوری کا تحقیقی رد اسد الطحاویامن پوری کا رد

 جیسا کہ امام ابن حجر عسقلانی علیہ رحمہ فتح الباری میں نقل کرتے ہیں:

أن المراد حکم المساجد فقط. وأنه لا تشدّ الرحال إلي مسجد من المساجد فيه غير هذه الثلاثة وأما قصد غير المساجد لزيارة صالح أو قريب أو صاحب أو طلب علم أو تجارة أو نزهة فلا يدخل في النهي، ويؤيده ماروي أحمد من طريق شهر بن حوشب قال سمعت أبا سعيد وذکرت عنده الصلاة في الطور فقال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم لا ينبغي للمصلي أن يشد رحاله إلي مسجد تبتغي فيه الصلاة غير المسجد الحرام والمسجد الأقصي و مسجدي.
لا تشد الرحال مراد صرف مساجد مراد ہیں اور اس سے مراد یہ ہے کہ نماز (اضافی ثواب حاصل ) کی نیت سے ان تین مساجد کے علاوہ کسی اور مسجد کی طرف سفر نہ باندھا جائے اور جہاں تک کسی صالح بزرگ یا رشتہ دار یا عزیز کی زیارت ، ملاقات کا تعلق ہے یا حصول علم وغیرہ تجارت اور تفریح کے لیے سفر کرنا ہے یہ حکم "نہی” میں داخل نہیں۔
اس بات کی تائید مسند احمد بن حنبل میں شہر بن حوشب کے طریق سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے انہوں نے کہا میں نے حضرت ابو سعید خدری سے سنا جبکہ میں نے ان کے سامنے کوہِ طور پر نماز پڑھنے کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کسی نمازی کو زیادہ حصول ثواب کی نیت سے کسی مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے سفر کرنا نہ چاہیے سوائے مسجد حرام، مسجد اقصی اور میری مسجد (مسجد نبوی شریف) کے۔۔۔۔۔۔۔
[ فتح الباری شرح صحیح البخاری جلد 3، ص65 ]

معلوم ہوا آئمہ نے جو صحابی سے جس موقع پر حدیث روایت بیان کیا ہے اس میں بھی ایک مسجد کے علاوہ دوسری جگہ نماز پڑھنے کے اضافی ثواب کی نفی کے لیے ابو سعید رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حدیث بیان فرمائی فقط۔اسکے بعد موصوف نے اس حدیث کی نفی پر کسی امیر صنعانی کا فتویٰ فقط نقل کیا جو علامہ ابن تیمیہ کی موافقت میں تھا اور چھٹی کر دی۔
جبکہ مسئلہ خاص میں اس موقف کے خلاف امام ذھبی ، امام سبکی، امام عراقی ، امام ملا علی ، سمیت جمہور علماء کی ایک تعداد ہے جسکو نظر انداز کر دیا گیا۔

امام ذھبی علیہ رحمہ کا علامہ ابن تیمیہ پر مسئلہ ہذا پر بہترین رد درج ذیل ہے ۔

 امام ذھبی سیر اعلام میں مذکورہ روایت نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
عن أبي هريرة:عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: (لا تشد الرحال إلا إلى ثلاثة مساجد: مسجدي، والمسجد الحرام، والمسجد الأقصى
حضرت ابوھریرہؓ فرماتے ہیں نبی اکرمﷺ نے فرمایا کہ تم اجر کی نیت سے سفر نہ کرو سوائے تین مساجد کے ، ایک میری مسجد ، ایک مسجد حرام اور مسجد اقصی

اس روایت کو نقل کرنے کے بعد امام ذھبی علیہ رحمہ مزارات کی زیارت کے تعلق سے فرماتے ہیں :

معناه: لا تشد الرحال إلى مسجد ابتغاء الأجر سوى المساجد الثلاثة، فإن لها فضلا خاصا.
فمن قال: لم يدخل في النهي شد الرحل إلى زيارة قبر نبي أو ولي، وقف مع ظاهر النص، وأن الأمر بذلك والنهي خاص بالمساجد.
ومن قال بقياس الأولى، قال: إذا كان أفضل بقاع الأرض مساجدها، والنهي ورد فيها، فما دونها في الفضل – كقبور الأنبياء والصالحين – أولى بالنهي.
أما من سار إلى زيارة قبر فاضل من غير شد رحل، فقربة بالإجماع بلا تردد، سوى ما شذ به الشعبي، ونحوه، فكان بلغهم النهي عن زيارة القبور، وما علموا بأنه نسخ ذلك – والله أعلم –
حدیث کا معنی یہ ہے کہ تم زیادہ اجر کے ارادے کے حوالے سے کسی مسجد کی طرف قصد نہ کرو سوائے ان تین مساجدکے کیونکہ ان تین کی خاص فضیلت ہے ۔جس نے (اہلسنت) یہ بات کی ہے ”حدیث میں جو "نہی” آئی ہے اس میں نبی اور ولی کی قبر کی زیارت داخل نہیں ہے اور انہوں نے نص کے ظاہر سے قیاس کیا ہے اس امر میں "نہی” جو ہے یہ مساجد سے خاص ہے ۔جس (ابن تیمیہ اور انکے مبتدعین) نے پہلے قیاس کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب زمین کے بہتر حصے مساجد ہیں انکی نفی آگئی تو ان سے کم درجہ والے جو مقام ہے جیسا کہ قبور انبیاء تو انکی نفی بدرجہ اولیٰ ہوگی ۔
رہی یہ بات کوئی کسی فاضل و نیک بندے کی قبر کی زیارت کے لیے جائے بغیر سامان سفر باندھے تو بغیر کسی تردد کے اس امر پر اجماع امت ہے سوائے امام شعبی یا انکے جیسے کچھ کے شاذ موقف کے کہ انکو زیارت قبور کی نفی کی روایات پہنچی تھیں لیکن انکی ناسخ نہ پہنچی تھیں واللہ اعلم
[ سیر اعلام النبلاء ، ج9، ص 368]

 ایک اور روایت جو سلفیہ بڑی شدو مد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ کا فرمان ہے کہ میری قبر کو عیدگاہ نہ بناو اس روایت کو نقل کرکے امام ذھبی اسکی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں

عن حسن بن حسن بن علي:
أنه رأى رجلا وقف على البيت الذي فيه قبر النبي -صلى الله عليه وسلم- يدعو له، ويصلي عليه، فقال للرجل : لا تفعل، فإن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: (لا تتخذوا بيتي عيدا، ولا تجعلوا بيوتكم قبورا، وصلوا علي حيث ما كنتم، فإن صلاتكم تبلغني .
هذا مرسل، وما استدل حسن في فتواه بطائل من الدلالة، فمن وقف عند الحجرة المقدسة ذليلا، مسلما، مصليا على نبيه، فيا طوبى له، فقد أحسن الزيارة، وأجمل في التذلل والحب، وقد أتى بعبادة زائدة على من صلى عليه في أرضه، أو في صلاته، إذ الزائر له أجر الزيارة، وأجر الصلاة عليه، والمصلي عليه في سائر البلاد له أجر الصلاة فقط، فمن صلى عليه واحدة، صلى الله عليه عشرا، ولكن من زاره – صلوات الله عليه – وأساء أدب الزيارة، أو سجد للقبر، أو فعل ما لا يشرع، فهذا فعل حسنا وسيئا، فيعلم برفق، والله غفور رحيم
حضرت حسن بن حسن بن علی ؓ نے ایک آدمی دیکھا جو اس گھر کے قریب کھڑا تھا تھا جس میں نبی اکرمﷺ کی قبر مبارک ہے اور ان پر درود بھیج رہاتھا تو اس آدمی کو کہا کہ یہ کام نہ کرو ، کیونکہ نبی اکرمﷺ نے منع فرمایا ہےکہ میرے گھر کو عید گاہ نہ بناو اور اپنے گھر وں کو قبرستان نہ بناو ۔
امام ذھبی علیہ رحمہ اس روایت کو نقل کرنے کے بعد اپنا موقف دیتے ہوئے فرماتے ہیں :
یہ روایت مرسل ہے ۔ اور جو امام حسن نے استدلال کیا ہے اپنے فتویٰ پر تو وہ اپنے فتویٰ کے اعتبار سے دلالت میں طویل ہے جو حجرۃ مقدسہ کے قریب کھڑا ہو (ذلیل)بےچارہ بن کر ، اور سلام پڑھتے ہوئے اور دروود بھیجتے ہوئے اپنے نبی اکرمﷺ پر اسکے لیے تو بہت خوشخبری کی بات ہے کہ اس نے احسن طریقے سے زیارت کی ہے عاجزی اور محبت میں بہت خوبصورتی ظاہر کی ہے اور وہ ایک زائد عبادت کے ساتھ آیا ہے جو کہ انکی ہی زمین پر ان پر درود بھیجتا ہے ، اور اپنی نماز میں درود بھیجتا ہے تو اس وقت زیارت کرنے والے کے لیے زیارت کا اجر ہے بلکہ اس ہر اس شخص کے لیے درود کا اجر ہے جو جہاں سے بھی پڑھتا ہو جو ایک بار درود بھیجے اللہ دس بار بھیجتا ہے لیکن جو زیارت کرتا ہے بے ادبی سے کرتا ہے یا قبر کو سجدہ کرتا ہے اور ایسا کام کرتا ہے جو شریعت کے تحت نہ ہو ، تو یہ عمل جو (جو اوپر مذکور ہے ) وہ اچھا ہے اور دوسرا (جس میں سجود ہو قبور کو ) وہ برا ہے ۔

 پھر امام ذھبی فرماتے ہیں :

فوالله ما يحصل الانزعاج لمسلم، والصياح وتقبيل الجدران، وكثرة البكاء، إلا وهو محب لله ولرسوله، فحبه المعيار والفارق بين أهل الجنة وأهل النار، فزيارة قبره من أفضل القرب، وشد الرحال إلى قبور الأنبياء والأولياء، لئن سلمنا أنه غير مأذون فيه لعموم قوله – صلوات الله عليه -: (لا تشدوا الرحال إلا إلى ثلاثة مساجد) فشد الرحال إلى نبينا -صلى الله عليه وسلم- مستلزم لشد الرحل إلى مسجده، وذلك مشروع بلا نزاع، إذ لا وصول إلى حجرته إلا بعد الدخول إلى مسجده، فليبدأ بتحية المسجد، ثم بتحية صاحب المسجد –
رزقنا الله وإياكم ذلك آمين
اللہ کی قسم ایک مسلمان کو کیا گھبراہٹ ہو سکتی ہے اسکے علاوہ دیواروں کو چومنا اور کثرت سے رونا ایسا کام کرنے والا اللہ اور اسکے رسولﷺ سے محبت کرنا والا ہے اسکی محبت جو ہے وہ ایک معیار ہے اہل جنت اور اہل نار کے درمیان فرق کرنے والا ہے تو (نبی اکرمﷺ)کی قبر مبارک کی زیارت کرنا بڑی فضیلت کی بات ہے اللہ کے قرب کے لیے ،
انبیاء واولیاء اللہ کی قبر کی طرف سفر کرنا جو ہےاگر اسکو تسلیم کرے اگرچہ اللہ کے نبی ﷺ کی حدیث میں عموم کی وجہ سے معزور نہیں (یعنی اس پر حکم نہیں دیا گیا ہے) لیکن اللہ کے رسولﷺ کی قبر کی طرف سفر کرنا اس بات کو مستلزم ہے کہ انکی مسجد کی طرف بھی سفر ہوگا اور یہ بات شرعا جائز ہے بغیر کسی اختلاف کے کہ جب کوئی ذریعہ نہ ہو حجرہ میں جانے کے لیے سوائے اس بات انکی مسجد میں داخل ہو جائے اور دو رکعات پڑھے پھر صاحب مسجد پر درود و سلام پڑھے اللہ ہمیں اور آپ کو اس نعمت عظمیٰ کا مستحق بنائے۔(یعنی جو قبر مبارک کی زیارت کی نیت کریگا تو یقینی بات ہے وہ مسجد نبوی کی طرف ہی جائے گا )۔

اس تمام خوبصورت شرح میں امام ذھبی نے بہت اچھے طریقے اہلسنت کی ترجمانی کرتے ہوئے ابن تیمیہ کا بہترین رد کیا ہے یہاں تک کہ علامہ شعیب الارناؤط کو بھی حاشیہ میں یہ بات کہنی پڑ گئی :

قصد المؤلف رحمه الله بهذا الاستطراد الرد على شيخه ابن تيمية الذي يقول بعدم جواز شد الرحل لزيارة قبر النبي صلى الله عليه وسلم ويرى أن على الحاج أن ينوي زيارة المسجد النبوي كما هو مبين في محله.
مولف (امام ذھبی) نے اس اختلاف میں اپنے شیخ ابن تیمیہ کو جواب دینا چاہا ہے ، جسکا یہ قول تھا کہ نبی اکرمﷺ کے روضہ کی نیت سے سفر کرنا ناجائز ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ حاجی کو مسجد نبوی کی نیت کرکے سفر کرنا چاہیے جیسا کہ یہاں نشاندہی کی گئی ہے۔
[سیر اعلام النباء ، ج4، ص 485]

اس طرح امام ذھبی نے جب امام احمد بن حنبل کا عمل پیش کیا توابن تیمیہ کانام لیے بغیر جو اس پر طنز کیا وہ بھی پڑھنے لائق ہے جیسا کہ امام ذھبی پہلے امام احمد کے بیٹے سے امام احمدکا عمل بیان کرتے ہیں :
قال عبد الله بن أحمد: رأيت أبي يأخذ شعرة من شعر النبي -صلى الله عليه وسلم- فيضعها على فيه يقبلها.
وأحسب أني رأيته يضعها على عينه، ويغمسها في الماء ويشربه يستشفي به.
ورأيته أخذ قصعة النبي -صلى الله عليه وسلم- فغسلها في حب الماء، ثم شرب فيها، ورأيته يشرب من ماء زمزم يستشفي به، ويمسح به يديه ووجهه.
امام عبداللہ بن احمد کہتے ہیں میں نے اپنے والد کو دیکھا وہ نبی اکرمﷺ کے بال مبارک اپنے پاس رکھتے تھے پھر اسکو بوسہ دیتے تھے پھر اسکو پانی میں ڈبو کر پانی پی لیتے اور اس سے شفاء حاصل کرتے۔ انکے پاس نبی اکرمﷺ کا کٹورہ تھا اسکو پانی میں غسل دیتے پھر اس میں پانی پیتے پھر انکو یہ کرتے دیکھا کہ ان سے شفاء حاصل کرتے اور مسح کرتے اپنے دونوں ہاتھوں اور منہ سے۔

اسکو نقل کرنے کے بعد امام ذھبی ابن تیمیہ پر طنزکرتے ہوئے لکھتے ہیں :

قلت: أين المتنطع المنكر على أحمد، وقد ثبت أن عبد الله سأل أباه عمن يلمس رمانة منبر النبي -صلى الله عليه وسلم- ويمس الحجرة النبوية، فقال: لا أرى بذلك بأسا.أعاذنا الله وإياكم من رأي الخوارج ومن البدع.
میں (ذھبی) کہتا ہوں کہاں ہے مغرور جو امام احمد (کے اس عمل )پر انکار کرتا ہو، اور یہ بات ثابت ہے کہ امام عبداللہ نے اپنے والد سے اس بارے پوچھا کہ جو بندہ نبی اکرمﷺ کے منبر رسولﷺ سے مس کرتا ہے اورتوامام حمد بن حنبل نے کہا میں اس میں کوئی حرج نہیں جانتا میں اللہ کی پناہ چاہتاہوں خوارج اور بدعت کی رائے سے ۔
[سیر اعلام النبلاء ، ج11،ص212 ]

امام ذھبی ایک محدث ابن لال أبو بكر أحمد بن علي بن أحمد الهمذاني کی مداح نقل کرتے ہیں :

قال شيرويه: كان ثقة، أوحد زمانه، مفتي البلد، وله مصنفات في علوم الحديث، غير أنه كان مشهورا بالفقه.
قال: ورأيت له كتاب (السنن) ، و (معجم الصحابة) ، ما رأيت أحسن منه، والدعاء عند قبره مستجاب
امام شیرویہ کہتے ہیں کہ یہ اپنے زمانہ کے ثقہ تھے اور علاقے کے مفتی تھے اور انکی تصنیفات ہیں علام میں اور انکے علاوہ کوئی فقہ میں مشہورنہ تھا
پھر کہا کہ میں نے انکی کتاب السنن اور معجم الصحابہ دیکھی ہے اور اس سے بہتر کتب میں نے نہیں دیکھی ہے اور انکی قبر کے نزدیک دعا قبول ہوتی ہے۔
اسکو نقل کرنے کے بعد امام ذھبی اپنا تجزیہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
قلت: والدعاء مستجاب عند قبور الأنبياء والأولياء،
میں ( الذھبی) کہتاہوں کہ انبیاء اور اولیاء اللہ کی قبور کے نزدیک دعا مقبول ہوتی ہے
[ سیر اعلام النبلاء، ج۱۷، ص ۷۷]

 اور امام معروف کرخی کے ترجمہ میں جب امام ذھبی انکی قبر سے لوگوں کے توسل کا قول نقل کرتےہیں :

وعن إبراهيم الحربي، قال: قبر معروف الترياق المجرب
امام ابراہیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں : امام معروف کی قبر تریاق زہر ہے (یعنی زہر کو کاٹنے والی ہے )
پھر اسکی تشریح کرتے ہوئے امام ذھبی فرماتے ہیں :
يريدإجابة دعاء المضطر عنده؛ لأن البقاع المباركة يستجاب عندها الدعاء، كما أن الدعاء في السحر مرجو، ودبر المكتوبات، وفي المساجد، بل دعاء المضطر مجاب في أي مكان اتفق، اللهم إني مضطر إلى العفو، فاعف عني.
انکی مراد ہے (امام معروف کی قبر) پر مجبور و مضطر شخص کی دعا قبول ہوتی ہے کیونکہ مبارک جگہوں میں دعا قبول ہوتی ہے جیسا کہ مبارک وقت میں قبول ہوتی ، سحری ، فرض نمازوں کے بعد، مساجد میں ، بلکہ مجبور مضطر آدمی کی دعا ہر جگہ قبول ہوتی ہے

 اب چونکہ امام ذھبی علیہ رحمہ نے مکمل طور پر تائید کی ہے اس موقف پر کہ اولیاء اللہ کی قبور پر دعائیں قبول ہوتی ہیں اور ان سے تبرک یعنی فیض یا فائدہ حاصل ہوتا ہے

تو یہاں علامہ شعیب الارنووط جو عقیدے میں سلفی ہیں انکو مروڑ اٹھا اور حاشیہ پر امام ذھبی کے عقیدے پر نقد کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
هذا الكلام لا يسلم لقائله، إذ كيف يكون قبر أحد من الاموات الصالحين ترياقا ودواءا للاحياء، وليس ثمة نص من كتاب الله يدل على خصوصية الدعاء عند قبر ما من القبور، ولم يأمر به النبي صلى الله عليه وسلم، ولا سنه لامته، ولا فعله أحد من الصحابة والتابعين لهم بإحسان، ولا استحسنه أحد من أئمة المسلمين الذين يقتدى بقولهم،
ایسا کلام کہنے والے کے لیے ٹھیک نہیں ہے کیونکہ کسی بھی نیک شخص کی قبر کیسے تریاق یعنی زہر کو کاٹنے والی ہو سکتی ہے زندوں کے لیے ؟ اور اس پر قرآن سے کچھ ایسا ثابت نہیں ، اور نہ ہی اسکی کوئی خصوصیت ہے کہ قبروں کے پاس دعا ہو ، ایسا نبی اکرمﷺ سے کوئی حکم مروی نہیں اور نہ ہی امت سے ، نہ صحابہ سے نا تابعین سے نہ ائمہ مسلمین نے اس فعل کو اچھا سمجھا ہے جنکے قول کو قبول کیا جاتا ہے ۔
[سیر اعلام النبلاج9، ص 344]

 اب بھی کوئی کہے کہ علامہ شعیب الارنووط کو جو فروع میں حنفی اور عقیدے میں سلفی ہے ہم نے فقط روایت کے رد کرنے پر کہا ہے تو پھر اسکا علاج ہمارے پاس نہیں ہے صاف صاف وہ تو قبور کی زیارت ، انکے نزدیک اللہ سے دعا کرنے یا اسکے قصد کو غلط کہہ رہے ہیں اور دماغ ایسا انکا حواس باختہ ہوا کہ متقدمین سلف کے قول پر امام ذھبی کا کلام نقل کرکے کہہ رہے ہیں ایسا سلف اور ائمہ سے ثابت نہیں ہے حد ہے !!!

اس لیے امام ذھبی خود کئی رجال کے ترجمہ میں یوں فرماتے ہیں :
وكان ورعا، تقيا، محتشما، يتبرك بقبره.
یہ نیک دیندار متقی تھے اور انکی قبر سے تبرک یعنی شفاء حاصل کی جاتی ہے
[ سیر اعلا م النبلاء ]

پس اس تحقیق سے ثابت ہوا کہ ائمہ نے جمہور کا وہی موقف راجح بیان کیا ہے جنکا یہ موقف ہے مذکورہ روایت ”تین مساجد کے علاوہ ثواب کی نیت سے سفر جائز نہیں” اس حدیث میں تقابل فقط ان تین مساجد کا دیگر مساجد سے کثرت ثواب کی نیت سے ناجائز قرار دیا۔ نہ کہ مزارات اولیاء اللہ اور قبور کی زیارت پر ثواب کی نیت سے سفر کو ناجائز قرار دیا۔ اور حافظ ابن حجر عسقلانی کا بھی یہی موقف تھاؕ۔

تحقیق:اسدالطحاوی الحنفی البریلوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے