ترک رفع الیدین کی احادیث
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 5]

ترک رفع یدین کی احادیث بمع حوالاجات اور اسناد کے ساتھ:

ترک رفع یدین کی احادیث میں اس مضمون میں فقط وہ روایات ہیں جو حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہیں۔ ترک رفع الیدین کے باب میں۔ جس سے احناف کے اس موقف کو تقویت ملتی ہے کہ حضرت ابن عمر بھی ترک رفع الیدین کے قائل تھے۔

ترک رفع الیدین کی احادیث۔

ترک رفع یدین کی احادیث کے باب میں حضرت ابن عمر سے پہلی روایت درج ذیل ہے :

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: «مَا رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَا يَفْتَتِحُ

حضرت مجاہد فرماتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن عمر کو سوائے شروع کے مقام کے پھر رفع الیدین کرتے نہیں دیکھا۔

[مصنف ابن ابی شیبہ برقم : 2452]


ترک رفع الیدین کے باب میں دوسری روایت :

قَالَ مُحَمَّدٌ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ: «رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حِذَاءَ أُذُنَيْهِ فِي أَوَّلِ تَكْبِيرَةِ افْتِتَاحِ الصَّلاةِ، وَلَمْ يَرْفَعْهُمَا فِيمَا سِوَى ذَلِكَ

امام محمد فرماتے ہیں : مجھے خبر دی محمد بن ابان بن صالح انہوں نے عبدالعزیز بن حکیم سےکہ میں نے ابن عمر کو دیکھا وہ نماز میں سوائے شروع کے رفع الیدین کرنے کے بعد اسکی طرف نہ لوٹتے۔

[موطأ مالك برواية محمد بن الحسن الشيباني108]


ترک رفع الیدین احادیث کے باب سے حضرت ابن عمر سے تیسری روایت: 

 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُقِيمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ” تُرْفَعُ الأَيْدِي فِي سَبْعِ مَوَاطِنَ: افْتِتَاحِ الصَّلاةِ، وَاسْتِقْبَالِ الْبَيْتِ، وَالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَالْمَوْقِفَيْنِ، وَعِنْدَ الْحَجَرِ ".

[كشف الأستار عن زوائد البزار، امام ہیثمی  519]

وَقَالَ الْبَزَّارُ فِي مُسْنَدِهِ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٌ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ ثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنْ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "تُرْفَعُ الْأَيْدِي فِي سَبْعَةِ مَوَاطِنَ: افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ. وَاسْتِقْبَالِ الْبَيْتِ. وَالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ. وَالْمَوْقِفَيْنِ. وَعِنْدَ الْحَجَرِ”

حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے : کہ نبی کریم نے فرمایا ۔ رفع الیدین سات مقامات پر کیا جائے گا نماز کے شروع میں بیت اللہ کی زیارت کے وقت صفاءو مروہ پر ، عرفات اور مزدلفہ میں وقوف کے وقت اور رمی جمار کے وقت بھی۔

[مسند البزار بحوالہ نصب الرائیہ وسندہ حسن]


حضرت ابن عمر سے ترک رفع الیدین کی احادیث بیان کرنے والے راوی ابو بکر بن عیاش کا دعویٰ۔

حدثنی ابن ابی داود  قال : ثنا احمد بن یونس، قال ثنا ابو بکر بن عیاش قال: مارایت فقیھا  قط  یفعله رفع یدہ غیر تکبیر اولیٰ

امام ابو بکر بن عیاش (جو حضرت ابن عمر سے اثر ترک رفع الیدین بیان کرتے ہیں )وہ فرماتے ہیں میں نے کسی اہل علم فقیہ کو نماز میں سوائے شروع کے پھر رفع الیدین کرتے نہیں پایا

[شرح معانی الاثار ، برقم : 1367]

تحریر: اسد الطحاوی 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے