دفاع امام ابو حنیفہ سلسلہ
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 4 Average: 4.5]

سلسلہ دفاع ابو حنیفہ: محدثین سے امام ابو حنیفہ کی مداح و توثیق

دفاع ابو حنیفہ کے سلسلہ میں ہم نے ایک تحریری عنوان شروع کیا ہے جس میں مختلف محدثین سے امام ابو حنیفہ کی مداح و توثیق پیش کرینگے۔

دفاع امام ابو حنیفہ فرمان امام عبداللہ بن داود خریبی : مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی نمازوں میں امام ابو حنیفہؓ کے لیے دعا کیا کریں۔

سلسلہ دفاع ابو حنیفہ کے تعلق سے امام خطیب بغدادی اپنی تاریخ میں ایک روایت نقل کرتے ہیں اپنی سند سے :

أخبرنا الجوهري، أخبرنا محمد بن عمران المرزباني، حدثنا عبد الواحد بن محمد الخصيب، حدثني أبو مسلم الكجي إبراهيم بن عبد الله قال: حدثني محمد بن سعيد أبو عبد الله الكاتب قال: سمعت عبد الله بن داود الخريبي يقول: يجب على أهل الإسلام أن يدعوا الله لأبي حنيفة في صلاتهم قال: وذكر حفظه عليهم السنن والفقه

امام ابن سعد کہتے ہیں میں نے امام عبداللہ بن دود خریبی کو کہتے سنا :مسلمانوں پر لازم ہے کہ اپنی نمازوں میں امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے لئے اللہ تعالی سے دعا کریں۔ ان(ابو داود خریبی)نے کہا:انہوں نے ان (امام ابو حنیفہ کی بیان کردہ)سنتوں(احادیث)اور فقہ کو یاد کیا یعنی محفوظ کیاہے۔

 [تاریخ بغداد ، جلد ۱۳، ص ۳۴۴]


امام عبداللہ بن داود الخریبی کی تفصیل بیان کرنے سے پہلے سند کی تحقیق درج زیل ہے :

۱۔ الحسن بن علي بن محمد بن الحسن بن عبد الله أبو محمد الجوهري

امام خطیب انکی توثیق کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

كتبنا عنه، وكان ثقة أمينا كثير السماع

[تاریخ بغداد ، برقم: 3883]

 ۲۔ المرزباني محمد بن عمران بن موسى بن عبيد

امام ذھبی انکی توثیق کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

العلامة المتقن، الأخباري،

[سیر اعلام النبلاء برقم: 331]

 ۳۔ عبد الواحد بن محمد أبو الحسين الخصيبي

امام خطیب نے انکو صاحب اخبار  یعنی تاریخی روایات میں معتبر قرار دیا ہے اور یہ صاحب ادب تھے ایسا راوی حسن الحدیث ہوتا ہے

 صاحب أخبار ورواية للآداب.

[تاریخ بغداد ، برقم: 5610]

 ۴۔  إبراهيم بن عبد الله بن مسلم بن ماعز بن المهاجر، أبو مسلم البصري المعروف بالكجّي

امام خطیب  انکی توثیق نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

أَخْبَرَنِي الأزهري، عن أبي الحسن الدارقطني صدوق ثقة.

[تاریخ بغداد ، برقم: 3151]

 ۵۔ محمد بن سعد  کاتب صاحب طبقات

(نوٹ : )

 تاریخ بغداد میں غلطی ہے سند میں محمد بن سعد کی بجائے سعید لکھا گیا ہے جو کاتب کی غلطی ہے کیونکہ امام عبداللہ بن داود کے شاگرد امام ابن سعد صاحب طبقات ہی تھے  اور تاریخ بغداد کے محقق نے سند میں ایک غلط راوی کا تعین کیا ہے  اور لکھا ہے کہ محمد بن سعید کا ترجمہ امام خطیب نے بغیر جرح و تعدیل کی نقل کیا ہے   لیکن محقق سے یہاں تسامح ہوا ہے۔

 کیونکہ امام خطیب نے جس راوی کا ترجمہ کیا ہے وہ اسکا طبقہ بہت ۴صدی ہجری کے راویان میں سے ہے

جیسا کہ مذکورہ روای کے بارے امام خطیب کہتے ہیں :

محمد بن سعيد أبو عبد الله الكاتب

أخبرنا القاضي أبو العلاء الواسطي، قال: أخبرنا أبو عبد الله محمد بن سعيد الكاتب، ببغداد من كتابه۔۔۔۔الخ

[تاریخ بغداد برقم: 849]

 جیسا کہ دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ راوی تو امام خطیب کا شیخ الشیخ ہے جو کہ تیسری صدی کے آخر اور چوتھی صدی کے شروعاتی دور کا ہے  جبکہ مزکورہ  روایت جو ہم نے امام ابو داود خریبی سے پیش کی ہے تو اس میں تو وہ امام خریبی کا شاگرد ہے جنکا دور امام ابو حنیفہ کا دور ہے اور محمد بن سعد صاحب طبقات انکے تلامذہ میں بھی ہیں تو ہم نے تعین دلائل کے ساتھ کیا ہے

 جیسا کہ اس کہ درج ذیل دلائل ہیں :

امام ابن سعد نے خود اپنی تصنیف الطبقات میں ان سے ایک روایت بیان کرتے کہتے ہیں :

حدثنا عبد الله بن داود , عن شيخ , يقال له مستقيم قال:

مجھے بیان کیا ہے عبداللہ بن  داود  (خریبی)نے ایک شیخ سے اور انہوں نے کہا  (اسکا نام) مستقیم ہے

[الطبقات الکبری ،  جلد ۵، ص ۲۱۶]

اور امام عبداللہ بن داود خریبی کے شیوخ میں مستقیم  موجود ہے۔

جیسا کہ امام ذھبی  عبداللہ بن داود کے شیوخ میں انکا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :”مستقيم بن عبد الملك”

اور خود امام ابن سعد نے بھی عبداللہ بن داود کی توثیق کی ہے تو ثابت ہوا کہ سند میں محمد بن سعد الکاتب ہے نہ کہ محمد بن سعید

اور امام ذھبی امام ابن سعد کی توثیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

محمد بن سعد الكاتب مولى بني هاشم صاحب الطبقات حافظ صدوق

[الکاشف للذھبی برقم: 4867]

اگلے راوی خود امام عبداللہ بن داود الخریبی ہیں  جنکی تفصیل آگے آرہی ہے۔

اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ سلسلہ دفاع ابو حنیفہ کے باب کی یہ روایت کی سند حسن ہے۔


 امام عبداللہ بن داود کی تفصیل درجذذیل ہے :

 امام ذھبی سیر اعلام میں انکا ذکر یوں کرتے ہیں :

الخريبي عبد الله بن داود بن عامر بن ربيع الإمام، الحافظ، القدوة،

قال ابن سعد: كان ثقة، عابدا، ناسكا

امام ابن سعد کہتے ہیں کہ یہ ثقہ عابد تھے

وروى: معاوية بن صالح، عن يحيى بن معين: ثقة، مأمون، صدوق.

امام یحییٰ بن معین کہتے ہیں یہ ثقہ اور مامون تھے

 وقال عثمان بن سعيد: قلت ليحيى: فعبد الله بن داود؟

قال: ثقة، مأمون.

عثمان بن سعید دارمی کہتےہیں میں نے امام یحییٰ بن معین سے پوچھا عبداللہ بن داود کے بارے

تو انہوں نے کہا یہ ثقہ و مامون ہیں ۔

وقال أبو زرعة، والنسائي: ثقة.

امام ابو زرعہ  اور امام نسائی کہتے ہیں یہ ثقہ ہیں

وقال أبو حاتم: كان يميل إلى الرأي، وكان صدوقا

امام ابو حاتم کہتے ہیں یہ رائ یعنی قیاس کی طرف دلچسبی رکھتے تھے اور صدوق تھے

وقال الدارقطني: ثقة زاهد.

امام دارقطنی کہتے ہیں یہ ثقہ اور نیک تھے

[سیر اعلام النبلاء برقم: 113]

بڑے بڑے حفاظ انکے شاگردوں میں آتے ہیں۔جیسا کہ سفیان بن عیینہ ، علی بن مدینی ،امام مسدد اور امام ذھلی وغیرہ

تمام ناقدین کے برعکس امام احمد جو اوائل زندگی میں حنیف رجال سے تعصب رکھتے تھے کہ وہ انکے بارے بھی یہی حسب عادت یہی کہتے ہیں :

وقال أبو داود: سمعت أحمد. قال: رأيت ابن داود، ولم أكتب عنه، كان يحب الرأي.

امام  ابی داود کہتے ہیں : میں نے امام احمد کو کہتے سنا کہ میں نے  عبداللہ بن داود کو دیکھا ہے اس سے (حدیث) نہ لکھو کیونکہ یہ رائ کو پسند کرتا تھا

[«سؤالاته» (537) ]

اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ امام داود بن خریبی امام ابو حنیفہ کے محب تھے اور انہوں نے امام ابو حنیفہ کے منہج و طریق پر احادیث اور ققہ کو یاد کیا

تحقیق: دعاگو اسد الطحاوی

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے