شیعہ راوی کے تفرد اور اسکے مذہب کی تقویت میں روایت کے بارے ناقدین کی رائے

شیعہ راوی کا تفرد
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 2 Average: 3]

شیعہ راوی کے تفرد اور اسکے مذہب کی تقویت میں روایت کے بارے ناقدین کی رائے

ازقلم: اسد الطحاوی

شیعہ راوی کے تفرد اور اسکے مذہب کی تقویت میں روایت کے بارے ناقدین کی رائے: اب اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ غالی شیعہ جو کہ تبرائی ہوتا  یا اپنے مذہب میں غالی مشہور ہو  اسکا صدوق ہونا کا یہ مطلب بالکل نہیں ہوتا کہ اسکو مطلق قبول کیا جائے گا۔بلکہ یہ عمومی روایات میں صدوق ہوتا ہے لیکن فضائل اہل بیت اور مذہب شیعت کے باب میں ایسا راوی ناقابل اعتبار ہوتا ہے اور اسکا تفرد ہر گزر قبول نہیں ہوتا ہے۔

اب میں کچھ مثالیں پیش کرتا ہوں کہ ایسے ایسے راوی بھی موجود ہیں جو رافضی ہیں جنکو ترک کرنے کی تصریحات ہیں باجود اسکے بھی محدثین نے اسکو رافضی مان کر بھی صدوق مانا ہے  تبرائی مان کر بھی صدوق مانا ہے اسکا سبب یہی ہے کہ ایسے راویان ویسے جھوٹ بولتے ہی نہیں تھے تاکہ اپنی توثیق برقرار رکھیں اور خاص متن میں اپنا تفرد کو قابل استدلال بنا سکیں اہلسنت ناقدین کی نظر میں یہ مسلہ تھا اصل یہی وجہ ہے کہ امام بخاری کا اس پر منہج سخت تھا اور ایسا منہج امام ابو حنیفہ کا بھی تھا ۔

شیعہ راوی کے تفرد اور متقدمین کی آراء:

متقدمین میں امام اعظم ابو حنیفہ  جنکا شمار تابعین میں ہوتا ہے انکا منہج غالی شیعہ اور روافض راویان کے بارے درج ذیل ہے:

امام بیھقی اپنی تصنیف میں بیان کرتے ہیں کہ ائمہ حدیث کی طرح فقھا یعنی مجتہدین نے بھی حدیث کے رجال پر جرح کی ہے اور راویان کو میزان جرح و تعدیل میں تولا ہے

وقد تكلم فقهاء الأمصار في الجرح والتعديل فمن سواهم من علماء الحديث:

پھر پہلی روایت امام بیھقی اپنی سند سے لاتے ہیں :

أخبرنا أبو عبد الرحمن: محمد بن الحسين السلمي، حدثنا أبو سعيد الخلال، حدثنا أبو القاسم البغوي، حدثنا محمود بن غيلان المروزي، قال:حدثني الحماني عن أبي حنيفة قال: ما رأيت أحدا أكذب من جابر الجعفي ولا أفضل من عطاء

▪︎امام حمانی امام ابو حنیفہ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں میں نے جابر جعفی سے بڑا کوئی کذاب نہیں دیکھا اور حضرت عطاء بن ابی رباح سے افضل کوئی نہیں دیکھا۔

سب سے پہلے جابر جعفی کا تعارف کہ یہ کس عقیدے سے تعلق رکھتا تھا :

أحد علماء الشيعة. له عن أبي الطفيل والشعبي وخلق. وعنه شعبة، وأبو عوانة، وعدة.

امام ذھبی کہتے ہیں  یہ شیعہ علماء میں سے ایک تھا اس نے ابی  طفیل و شعبی اور ایک جماعت سے روایت کیا ہے۔اور ان سے امام شعبہ ، ابو عوانہ کے علاوہ لوگوں نے اس سے روایت کیا ہے۔

قال ابن مهدي، عن سفيان: كان جابر الجعفي ورعا في الحديث، ما رأيت أورع منه في الحديث.

امام سفیان کہتے ہیں کہ جابر جعفی روایت حدیث میں پر ہیز گار تھا میں نے اس سے زیادہ حدیث میں پرہیزگار نہیں دیکھا (یہ بات قابل غور ہے اسکا تذکرہ آگے آئے گا)

وقال شعبة: صدوق.وقال يحيى بن أبي بكير، عن شعبة: كان جابر إذا قال: أخبرنا، وحدثنا، وسمعت – فهو من أوثق الناس.وقال وكيع: ما شككتم في شئ فلا تشكوا أن جابرا الجعفي ثقة.

امام شعبہ کہتے ہیں یہ سچا تھا،امام  یحییٰ امام شعبہ سے نقل کرتے ہیں :  جابر جب اخبرنا یا حدثنا کہے (یعنی تدلیس کا احتمال نہ ہو ) تو یہ پوری جماعت سے زیادہ ثقہ ہے۔ امام وکیع کہتے ہیں تم ہر چیز کے بارے شک کرو لیکن اس با ت پر شک نہ کرو کہ جعفی ثقہ ہے۔

وقال ابن عبد الحكم: سمعت الشافعي يقول: قال سفيان الثوري لشعبة: لئن تكلمت في جابر الجعفي لاتكلمن فيك.

ابن عبدالحکم کہتے ہیں میں نے شافعی کو فرماتے سنا انہوں نے کہا کہ سفیان ثوری شعبہ سے کہتے اگر تم نے جابر جعفی پر کلام کیا تو میں ضرور تم پر بھی کلام کرونگا

یہاں تک مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ جابر جعفی تو بڑا نیک اور دیندار اور متقی پرہیز گار اور ثقہ انسان تھا امام ابو حنیفہ کا کلام اس پر غلط ہے بلکہ انہوں نے جابر جعفی کو سب سے بڑا جھوٹا قرار دے دیا۔

اب ہم مزید دلائل پیش کرتے ہیں کہ یہ رافضی جو حافظے اور اتقان کے حوالے سے بلکل اچھے ہوتے ہیں اور اسی بنیاد پر ناقدین انکی توثیق کر دیتے تھے لیکن یہ راویان اکثر صحیح روایات بیان کرکے پھر اس کے متن میں تدلیس کرکے بیان کر دیتے اور اپنی ثقاہت کا فائدہ اٹھاتے اور جن ناقدین نے انکی مدح و توثیق کی ہوتی وہ انکی اس حرکت پر بعد میں مطلع ہوتے اور پھر اسکی اصلیت واضح کرتے اور لوگوں کے سامنے یہ ہے وہ بنیادی وجہ جسکے سبب شیعہ و رافضییوں کا تفرد قبول نہیں ہوتا انکے مذہب کے موافق آگے اسکی مثالیں  پیش کرتے ہیں کہ اس کے کذب پر کیسے مطلع ہوئے ناقدین:

اب ہم ائمہ سے مثالیں پیش کرتے ہیں کہ جن ائمہ نے جابر کی تعریف و مدح کی انہوں نے اس جابر کو اسکے عقیدے کی روایت میں تفرد کے سبب ترک اور تکذیب  اور متروک کی جرح کی ہے۔

الحميدي، عن سفيان: سمعت رجلا سأل جابرا الجعفي عن قوله: ” فلن أبرح الأرض حتى يأذن لي أبي [أو يحكم الله لي] (1) ".قال: لم يجئ تأويلها.قال سفيان.كذب.

قلت: وما أراد بهذا؟ قال: الرافضة: يقول: إن عليا في السماء لا يخرج مع من يخرج من ولده حتى ينادى مناد من السماء: اخرجوا مع فلان، يقول جابر: هذا تأويل هذا، لا تروى عنه، كان يؤمن بالرجعة، كذب، بل كانوا إخوة يوسف

حمیدی  امام سفیان کے حوالے سے بیان کرتے ہیں :میں نے ایک شخص کو جابر جعفی سے اللہ کے اس فرمان کے بارے دریافت کیا ”پس میں نے اس سر زمین سے نہ ٹلوں گا جب تک والد صاحب خود مجھے اجازت نہ دیں یا اللہ میرے اس معاملے کا فیصلہ کردے”تو جابر بولا : اس کی تفسیر منقول نہیں ہےتو امام سفیان کہتے ہیں : اس نے جھوٹ بولا (حمیدی کہتے ہیں ) میں نے دریافت کیا اس جواب کے زریعہ کہ اس کی مراد کیا تھی؟

تو امام سفیان بولے رافضی اس بات کے قائل ہیں کہ حضرت علیؓ آسمان میں موجود ہیں ور وہ انی اولاد میں سے کسی کے ساتھ بھی نہیں نکلیں گے  یہاں تک کہ وہ وقت آئے گا ایک منادی آسمان سے اعلان کرےگا کہ فلاں شخص (یعنی امام مھدی ) کے ساتھ نکلو!جابر جعفی  کہتا ہے اس آیت سے یہی مراد ہے۔

تو امام سفیان کہتے ہیں :  اس  ( باب کے حوالے سے ) اس جابر  سے روایت نقل نہ کرو ۔ کیونکہ وہ رجعت کا عقیدہ رکھتا تھا اور اس نے یہ بات غلط بیان کی ہے کیونکہ یہ آیت حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے  بارے نازل ہوئی۔

یہاں تک یہ بات عیاں ہوئی کہ امام سفیان چونکہ جابر جعفی کے عقیدے بدعت و گمراہی کو جان چکے تو انہو ں نے اس مخصوص باب میں جابر جعفی کو غیر مستند قرار دیکر اس سے روایت بیان  نہ کرنے کا فتویٰ دے دیا کیونکہ  یہ اپنے عقیدے کے موافق آیت کی تفسیر بیان کر رہا تھا !!

امام ابن عیینہ سے مثال!

وذكر شهاب أنه سمع ابن عيينة يقول: تركت جابرا الجعفي وما سمعت منه، قال: دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم عليا فعلمه مما تعلم، ثم دعا على الحسن فعلمه مما تعلم، ثم دعا الحسن الحسين فعلمه مما تعلم.ثم دعا ولده..حتى بلغ جعفر بن محمد.قال سفيان: فتركته ذلك.

ابن عیینہ کہتے ہیں میں نے جابر جعفی کو ترک کر دیا  اور پھر کوئی روایت نہ سنی اس سے جب اس نے کہا کہ نبی اکرمﷺ نے حضرت علی ؓ کو بلایا اور انہیں ان چیزوں کا علم دیا جس کا علم آپو کو علم حاصل تھا  پھر حضرت  علی نے حضرت حسن ؓ کو وہ علم دیا اور سب علم انکو دیا  پھر حضرت حسن نے حضرت حسین کو بلایا اور انکو سارا علم دیا پھر انہوں نے اپنے صاحبزادے کو یہاں تک کہ امام جعفر صادق تک پہنچے!

تو امام سفیان بن عیینہ کہتے ہیں (اس روایت کے سبب) میں نے اسکو ترک کر دیا۔

الحسن بن علي الحلواني، حدثنا أبويحيى الحمانى، حدثنا قبيصة وأخوه – أنهما سمعا الجراح بن مليح يقول: سمعت جابرا يقول: عندي سبعون ألف حديث عن أبي جعفر عن النبي صلى الله عليه وسلم كلها.

جرح بن ملیح کہتے ہیں  میں نے جابر جعفی کو کہتے سنا میرے پاس ستر ہزار ایسی احادیث ہیں جو سب امام باقر کے حوالے سے نبی اکرمؔﷺ سے مروی ہیں

[میزان اعتدال برقم:۱۴۲۵]

اب یہ حال تھا شیعہ کے سب سے بڑے  عالم کا کہ جسکے حفص و اتقان کے حوالے سے کوئی مسلہ نہ تھا بلکہ ثقہ تھا اور بظاہر عبادت گزار بھی تھا لیکن  حدیث صحیح بیان کرکے اپنی توثیق ظاہر کی پھر اسکے بعد اپنے مذہب کی تقویت میں ایسی ایسی روایتیں بیان کرنے لگا کہ متروک بن بیٹھا !

لیکن اسکے تفرد کے سبب متاخرین آئمہ نے اسکو ضعیف رافضی قرا ردیا ہے  اس سے معلوم ہوا امام ابو حنیفہ شیعہ رافضیوں کے رویات سے کتنا پرہیز کرتے تھے۔

امام   ابو حنیفہ سے دوسرے راوی کا قول!

وقال: وحدثنا عبد الحميد الحماني، قال: سمعت أبا سعد الصغاني قام إلى أبي حنيفة، فقال: يا أبا حنيفة، ما تقول في الأخذ عن الثوري ؟فقال: اكتب عنه، فإنه ثقة ما خلا أحاديث أبي إسحاق عن الحارث، وحديث جابر الجعفي.

▪︎امام الحمانی فرماتے ہیں کہ میں نے ابو سعد الصغانی کو سنا کہ وہ ابو حنیفہ کی طرف آیا اور کہا کہ اے ابو حنیفہ آپ سفیان الثوری سے (حدیث) لینے کے بارے کیا کہتے ہیں؟تو ابو حنیفہ نے فرمایا ان سے لکھ لو کیونکہ وہ ثقہ ہیں سوائے ان احادیث میں کہ جب جو وہ ابی اسحاق کے طریق سے الحارث سے بیان کریں اور ان احادیث کے جب وہ جابر جعفی سے بیان کریں

[دلائل النبوی ، ج۱، ص۴۴، وسندہ حسن]

یہاں امام ابو حنیفہ ابو اسحاق سبیعی کے طریقے سے حارث جو کہ شیعہ کے بڑے علماء میں سے تھا اور حضرت علی کا شاگرد تھا اسکی روایات کو بیان نہ کرنے کا فتویٰ دیا ہے امام ابو حنیفہ نے!

اس پر زیادہ بحث کرنے کی بجائے ابن حجر کے مختصر کلام سے سمجھ لیتے ہیں :

اور ابن حجر عسقلانی کا اپنا کلام تقریبب میں درج ذیل ہے ۔

صاحب علي: كذبه الشعبي في رأيه، ورمي بالرفض، وفي حديثه ضعف،

یہ صاحب علی تھا ، امام شعبی نے اسکو رائے میں جھوٹا قرار دیا ہے ، اور اسکو رفض کی طرف بھی منسوب کیا گیا ہے ، اور اسکی حدیث میںں کمزوری ہوتی ہے

[تقریب التہزیب ]

یہ اپنی رائے میں جھوٹا تھا  یعنی جب کلام کرتا یا معنی یا تفسیر بیان کرتا تو غلط بیانی کراتا تھا اور یہ رافضی بھی تھا  ار اسکی روایت میں کمزوری ہے یعنی اسکا تفرد قبول نہ ہوگا  اس وجہ سے کہ یہ متن میں تدلیس کرتے تھے ایسے راوی یعنی اصل روایت کا بالمعنی الفاظ استعمال کرکے اس روایت کو یکسر تبدیل کر دیتے جس سے یہ کذب کی جرح سے بھی بچ جاتے اور فضائل اہل بیت  میں باطل روایات بھی پھیلا دیتے۔

اسکی مثالیں آگے پیش کرتے  ہیں  :

اب ہم پہلی مثال ایک راوی بنام سالم بن ابی حفظہ سے پیش کرتے ہیں۔

سالم بن ابی حفظہ

اس راوی کے بارے امام ابن حجر کہتے ہیں :

صدوق فى الحديث إلا أنه شيعى غالى

صدوق ہے حدیث میں سوائے یہ کہ یہ غالی شیعہ تھا

[تقریب التہذیب]

امام ذھبی میزان الاعتدال میں اس راوی پر تفصیل لکھتے ہین :

قال الفلاس: ضعيف مفرط في التشيع.وأما ابن معين فوثقه.وقال النسائي:ليس بثقة. وقال ابن عدي: عيب عليه الغلو، وأرجو أنه لا بأس به.

افلاس کہتا ہے یہ ضعیف ہے اور شیعت میں غالی تھا بہت ،ابن معین نے ثقہ قرار دیا اور نسائی کہتے ہیں کہ یہ ثقہ نہیں ہے۔ابن عدی کہتے ہیں اس پر عیب اسکے غالی ہونے کی وجہ سے ہے میرا خیال ہے اسکی روایت میں کوئی حرج نہیں۔

اسکے بعد امام ذھبی کے غالی شیعت کے بارے نقل کرتے ہیں :

وقال محمد ابن بشر العبدي: رأيت سالم بن أبي حفصة ذا لحية طويلة أحمق بها من لحية، وهو يقول: وددت أنى كنت شريك علي عليه السلام في كل ما كان فيه. الحميدي، حدثنا جرير بن عبد الحميد، قال: رأيت سالم بن أبي حفصة وهو يطوف بالبيت، وهو يقول: لبيك مهلك بنى أمية.

محمد بن بشر کہتے ہیں میں نے سالم بن ابو حفصہ کو دیکھا اسکی داڑھی لمبی تھی اور وہ ایک احمق شخص تھا،وہ یہ کہتا تھا میری خواہش ہے میں اور حضرت علی میں موجود ہر خوبی میں انکا حصہ دار بن جاوں، جریر بن عبدالحمید کہتا ہے میں نے سالم کو دیکھا وہ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے کہتا تھا : اے بنو امیہ ( حضرت عثمان ) کو ہلاک کرنے والے میں حاضر ہوں

اور یہ راوی حضرت عثمان کو یہودی کہتا تھا۔

وقال حسين بن علي الجعفي: رأيت سالم بن أبي حفصة طويل اللحية أحمق، وهو يقول: لبيك قاتل نعثل

حسین بن علی جعفی کہتا ہے میں سالم کو دیکھا یہ بڑے قد والا اور لمبی داڑھی ولا احمق تھا اور کہتا تھا یں نعثل (یہودی عثمان) کو قتل کروانے والی ذات کی بارگاہ میں حاضر ہوں

(استغفار)

[میزان الاعتدال]

اب ایسے خبیث راوی جو غالی ہو اور حضرت عثمان کا دشمن تک ہو انکو یہودی کہتا ہو تو کیا ایسے صدوق غالی بدعتی حرامی راوی کی روایت ردی کی ٹوکری میں پھینکی جائے یا اسکو لیا جائے ؟

اسکا فیصلہ سنی حضرات کو کرنا ہے۔

لیکن امام ذھبی نے ایسے راوی سے احتجاج نہ کرنے کا حکم دیا ہے

سالم بن أبي حفصة أبو يونس الكندي عن الشعبي وإبراهيم بن يزيد التيمي وعنه السفيانان وابن فضيل

شيعي لا يحتج بحديثه

[الکاشف برقم : ۱۷۶۸]

اب یہاں یہ بات یقینی ہے کہ امام ذھبی نے اس سے احتجاج نہ کرنے کا فصیلہ اسکے فقط شیعہ ہونے کے سبب کیا ہے جبکہ وہ اسکے اتقان کے مضبوط ہونے پر مطلع تھے لیکن احتمال شیعت کے سبب اسکی روایت سے سکوت کو ہی اولیٰ سمجھا ۔

اب ایک اور شیعہ راوی سے روایات کے متن میں تدلیس کا ثبوت دیتے ہیں جو ائمہ کی تصریح کے مطابق صدوق شیعہ راوی تھے

جیسا کہ امام ذھبی اس پر جرح و تعدیل بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں :

ورمى السدي بالتشيع.

اسکو شیعت کی طرف منسوب کیاگیا ہے

[میزان الاعتدال برقم : 907]

اور ایسے ہی امام ابن حجر عسقلانی تقریب میں اسکے بارے فیصلہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں :

الكوفي: صدوق يهم ورمي بالتشيع،

یہ کوفی ہے صدوق ہے اور وھم بھی کا جاتا تھا اور شیعت کی طرف منسوب کیا گیا ہے اسکو

[تقریب التہذیب برقم : 463]

جبکہ امام نسائی اس سے ایک روایت بیان کرتے ہیں ،امام نسائی ایک روایت بیان کرتے ہیں الخصائص علی میں :

– أَخْبرنِي زَكَرِيَّا بن يحيى قَالَ حَدثنَا الْحسن بن حَمَّاد قَالَ حَدثنَا مسْهر ابْن عبد الملک عَن عِيسَى بن عمر عَن السّديّ عَن أنس بن مَالك أَن النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم كَانَ عِنْده طَائِر فَقَالَ اللَّهُمَّ ائْتِنِي بِأحب خلقك إِلَيْك يَأْكُل معي من هَذَا الطير فجَاء أَبُو بكر فَرده وَجَاء عمر فَرده وَجَاء عَليّ فَأذن لَهُ

سیدنا انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک پرندہ پکایا ہوا تھا سرکارﷺ نے دعا فرمائی اے اللہ اس بندے کو بھیج دے جو تجھے تیری مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہے وہ میرے ساتھ آکر اس پرندے کو کھا لے تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے تو آپ علیہ السلام نے انہیں واپس بھیج دیا پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ آئے ان کو بھی آپ علیہ السلام نے واپس بھیج دیا پھ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ آئے تو ان کو اندر آنے کی اجازت دی

[خصائص أمير المؤمنين علي بن أبي طالب، برقم: 10]

اب اس روایت میں بہت سارا متن نکارت پر بلکہ  نبی اکرمﷺ کی رسالت پر بھی حملہ موجود ہے اس میں کہ اللہ حضرت ابو بکر کو لائے لیکن معاذاللہ نبی اکرمﷺ نے انکو واپس بھیجا یعنی اللہ کی رضا اور تھی اور نبی اکرمﷺ کی رضا اور اور یہ روایت غلو پر مبنی ہے اور اس روایت کا مدار اس راوی پر ہے۔

جبکہ یہ پہلے روایت کرتا تھا تو حضرت ابو بکر  وغیرہ کا نام نہیں بلکہ مجہول رجل کہہ کر روایت بیان کرتا تھا :

دَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الطَّيِّبِ بْنِ الشُّجَاعِ، حَدَّثَنا الحسن بن حماد الضبي، حَدَّثَنا مسهر بْن عَبد الملك بْن سَلْعٍ عَنْ عِيسَى بْنِ عُمَر الْقَارِي عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبد الرَّحْمَنِ السُّدِّيِّ، عَن أَنَس بْنِ مَالِكٍ، أَن النَّبيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيهِ وَسلَّمَ كَانَ عِنْدَهُ طَائِرٌ فَقَالَ اللَّهُمَّ آتِنِي بِأَحَبِّ خَلْقِكَ إِلَيْكَ يَأْكُلُ مَعِي هَذَا الطَّائِرُ فَجَاءَ رَجُلٌ فَرَدَّهُ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ فَرَدَّهُ ثُمَّ جَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَأَذِنَ لَهُ فَأَكَلَ مَعَهُ

امام ابن عدی نے جو بیان کیا ہے اس میں رجال کا نام نہیں ہے۔

[الکامل ابن عدی]

لیکن پھر یہ خلفاء کا نام متن میں گھسا دیا اور یہ کام شیعہ کرتا ہے تاکہ کذب کی جرح سے بچ جائے ایک جگہ مجہول کہا اور دوسری جگہ بقول اسکے نام کی تصریح دے دی  اس وجہ سے انکی ثقہ صدوق توثیق دیکھ کر آنکھیں بند کرکے انکی روایات کبھی قبول نہیں کی جا سکتی خاص کر  جب مسلہ صحابہ یا معاملات مولا علی کے بارے ہوں ۔۔۔۔

بہت سے ایسے صدوق شیعہ راوی ہیں جنکے تفرد پر ائمہ نے احتمال اور شکوک و شبھات کا علان کیا ہوا ہے۔

جیسا کہ ایک راوی جو جمہور کے نزدیک صدوق ہے امام ابن حبان کہتے ہیں :

روى عَن الثِّقَات تفرد عَنْهُم بأَشْيَاء فِي الْقلب مِنْهَا

جب یہ ثقات سے روایت میں منفرد ہوتا ہے تو اسکے متعلق میرے دل میں شک ہے

[الثقات ابن حبان]

اس طرح امام ابن عدی ایسے شعیہ راوی کے بارے جو کہ خاص بس فضائل اہل بیت کی روایات بیان کرتا تھا اور اس میں  اسکا تفرد تھا۔

اور امام ابن عدی اس پر جرح خاص کرتے ہوئے کہتے ہیں :

وجعفر الأحمر له أحاديث يرويه عَنْهُ غير أهل الكوفة غير ما ذكرته، وَهو يروي شيئا من الفضائل، وَهو فِي جملة متشيعة الكوفة، وَهو صَالِح فِي رواية الكوفيين

کہ جعفر جو احادیث غیر اہل کوفہ ے بیان کرتا ہے جسکا میں نے ذکر کیا ہے جو کہ فضائل میں کچھ مروی ہیں یہ کوفہ کے شیعوں میں سے ایک تھا

اور یہ (صرف) کوفین سے روایت کرنے میں صالح ہے

[الکامل فی ضعفاء الرجال]

تو ایسے راویوں کے بارے یقینن یہی منہج سب سے اعلیٰ ہے کہ انکی روایات انکے مذہب کے موافق ترک ہی ہونگی اور ایسی روایات جنکا تعلق ایسے راویان کے مذہب و فکر سے نہیں وہ قبول ہونگی ۔   اور یہ تخصیص خود اناقدین  سے مروی ہے۔

جیسا کہ ایک راوی کے بارے امام ابن عدی کہتے ہیں :

عبید اللہ بن موسی

یہ راوی ویسے تو صدوق و حسن الحدیث ہے لیکن شیعہ اور بدعتی تھا اور شیعہ کے مذہب میں مناکیر بیان کرتا تھا

جیسا کہ امام ابن سعد کہتے ہیں :

وكان ثقة صدوقا إن شاء الله كثير الحديث حسن الهيئة. وكان يتشيع ويروي أحاديث في التشيع منكرة فضعف بذلك عند كثير من الناس.وكان صاحب قرآن.

کہ یہ ثقہ و صدوق ہے ان شاء اللہ اور اسکی روایت حسن ہوتی ہے، یہ شیعہ تھا اور یہ شیعت مذہب( کی تقویت ) میں مناکیر روایات بیان کرتا تھا اور اس سبب اس میں یہ کمزوری بہت زیادہ تھی لوگوں کے نزدیک

[الطبقات الکبری ، جلد 6، ص 368]

؂یعنی ثقہ و صدوق شیعہ راویان کی شیعت مذہب کی روایات میں نکارت یعنی انکا تفرد خود انکے ضعف کی دلیل ہے اسکا تعلق نہ ہی انکے اعتقان سے ہے نہ ہی حفظ سے بلکہ یہ تفرد  پر سکوت انکے مذہب کے سبب تھا اور یہی راجح موقف ہے۔

اسکی ایک اور مثال ایک راوی  شیعہ ھاشم سے بیان کرتے ہیں جو کہ اکثر محدثین کے نزدیک  صدوق شیعہ اور اکثر کے نزدیک رافضی اور کچھ کے نزدیک کذب کی جرح ہے لیکن راجح قول میں صدوق ہیں۔

یہ ایک روایت بیان کرتاا تھا    عَلِيٌّ مَعَ الْقُرْآنِ ، وَ الْقُرْآنُ مَعَ عليٍ ، لَن يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ

یعنی حضرت علی قرآن اور قرآن حضرت علی کے ساتھ ہوگا یہاں تک کہ یہ کوثر پر جا ملیں گے ۔

جبکہ یہ روایت پہلے اس طرح بیان کرتا تھا۔

أخبرني الحسن بن علي بن عبد الله المقرئ، حدثنا أحمد بن الفرج بن منصور الوراق، أخبرنا يوسف بن محمد بن علي المكتب- سنة ثمان وعشرين وثلاثمائة- حدثنا الحسن بن أحمد بن سليمان السراج، حدثنا عبد السلام بن صالح، حدثنا علي ابن هاشم بن البريد عن أبيه، عن أبي سعيد التميمي عن أبي ثابت مولى أبي ذر قال:

: «علي مع الحق والحق مع علي، ولن يفترقا حتى يردا علي الحوض يوم القيامة

یعنی علی حق کے ساتھ اور حق حضرت علی کے ساتھ ہوگا یہاں تک کہ یہ قیامت کے دوز ملینگے

[تاریخ بغداد]

اب  چونکہ پہلے حق مولا علی کے ساتھ تھا اور قرآن بھی حق ہے تو اس راوی نے متن میں تدلیس کرکے ایک اور روایت بنا دی جسکی وجہ سے اس پر کذب کی صریح جرح بھی نہیں ہو سکتی بلکہ بالمعنی روایت بیان کرنے کا فائدہ اٹھایا ہے اس راوی نے۔

اور اس کے بارے آئمہ کی رائے یہ ہے ؛

۱۔ امام بخاری سے :

هاشم بن البريد كوفي.

سمعت ابن حماد يقول: قال البخاري هاشم بن البريد وابنه علي بن هاشم غاليان في سوء مذهبهما.

امام بخاری فرماتے ہیں کہ ھاشم بن بریدہ اور اسکا بیٹا دونوں غالی اور برے مذہب والے(رافضی) تھے

[تاریخ الکبیر برقم:2033 ]

۲ ۔ امام ابن عدی کہتے ہیں :

وَقَالَ ابْن عدي: لَيْسَ لَهُ كثير حَدِيث، إِنَّمَا يذكر بالغلو فِي التَّشَيُّع وكذاك ابْنه عَليّ، وَأما هَاشم فمقدار مَا يرويهِ لم أر فِي حَدِيثه شَيْئا مُنْكرا، والمناكير تقع فِي حَدِيث ابْنه.

اسکی روایت زیادہ نہیں ہیں اسکو شیعت میں غالی بیان کیا گیا ہے اور اسکے بیٹے کو بھی اور میں اسکی کوئی منکر روایت پر مطلع نہین ہو سکتا لیکن اسکی روایات میں جو نکارت ہے وہ اسکے بیٹے کی وجہ سے ہے

[الکامل فی الضعفاء]

اور امام  ذھبی اسکو صدوق قرار یتے ہیں :

هَاشم بن الْبَرِيد صَدُوق يترفض

ھاشم بن بریدہ سچا تھا لیکن رافضی تھا

[المغنی فی الضعفٓاء برقم 6710 امام ذھبی]

هاشم بن البريد [د، س، ق] أبو على. عن زيد بن علي، ومسلم البطين. وعنه ابنه، والخريبي، وجماعة.وثقه ابن معين وغيره، إلا أنه يترفض.وقال أحمد: لا بأس به.

ابن معین کہتے ہیں ثقہ تھا ،لیکن یہ رافضی تھا

[میزان الاعتدال برقم: 9181]

اور دیوان الصعفاءمیں فرماتے ہیں کہ سچا تھا مگر شیعت میں غالی تھا

هاشم بن البريد الكوفي: صدوق غال في التشيع. -د، س، ق-

[دیوان الضعفاء، برقم: 4440الذھبی]

تو ایسے راوی کے تفرد کیسے قبول کیے جا سکتے ہیں ؟ جن پر ثقہ مامون یا صدوق کی توثیق دیکھ کر فیسبکی محکک اندھا  دھند جنگ صفین و جمل اور مولا علی اور اختلافات صحابہ کے ابواب میں  استدلال کرتے نظر آرہے ہیں ۔۔۔۔

یقینن  یہ انکا تساہل نفس پرستی کے سبب ہے اور کچھ نہیں۔

یہاں تک کہ ائمہ کرام نے یہ بھی تصریح کی ہے کہ ناقدین رمی بالتشیع تھے وہ جرح و تعدیل کے اقوال میں  دھوکہ دہی کرتےتھے تو ان سے روایت بیان کرنا تو دور کی بات ہے تفرد میں۔

جیسا کہ امام ابو نعیم فضل بن دکین  امام بخاری کے شیعہ اماموں میں سے تھے لیکن یہ ففط تفضیل کے قائل تھے۔

اسکے باجود امام ابن معین انکے بارے کہتے ہیں :

سمعت يحيى بن معين يقول: «كان أبو نعيم إذا ذكر إنسانًا، فقال: (هو جيد) ، وأثنى عليه؛ فهو شيعي، وإذا قال: (فلان كان مرجئًا) ؛ فاعلم أنه صاحب سنة لا بأس به» .

میں نے ابن معین کو کہتے سنا : کہ ابو نعیم جب کسی شخص کا ذکر کرتے اور کہتے کہ یہ جید ہے اور اسکی تعریف کرتے تو وہ شیعہ ہوتا اور جب یہ کہیں فلاں مرجئ ہے تو جان لو وہ صاحب سنت  ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے

[سوالات ابن الجنید برقم: ۷۹۷]

معلوم ہوا کہ جن کے شعیت کے سبب اقوال جرح و تعدیل میں یہ حال تھا انکے فضائل اہل بیت اور ایسی روایات جن میں اصحاب رسولﷺ پر آنچ آئے ان میں متن میں کتنی تدلیس کرتے ہونگے۔

ایک یہی وجہ ہے صاحب استقراء امام ذھبی علیہ رحمہ نے بدعت صغریٰ و کبریٰ کی تخصیص متقدمین کے فہم کو سامنے رکھ کر ہی بیان کی ہے کہ جو رافضی بدعتی غالی اور دعوت دینے والا ہو تو اسکی روایت قبول نہ ہوگی تفرد میں اور یہی منہج امام ابن حجر عسقلانی کا ہے !!

فبدعة صغرى

 كغلو التشيع، أو كالتشيع بلا غلو ولا تحرف، فهذا كثير في التابعين وتابعيهم مع الدين والورع والصدق.

فلو رد حديث هؤلاء لذهب جملة من الآثار النبوية، وهذه مفسدة بينة.

ثم بدعة كبرى،

 كالرفض الكامل والغلو فيه، والحط على أبي بكر وعمر رضي الله عنهما، والدعاء إلى ذلك، فهذا النوع لا يحتج بهم ولا كرامة.

وأيضا فما أستحضر الآن في هذا الضرب رجلا صادقا ولا مأمونا، بل الكذب شعارهم، والتقية والنفاق دثارهم، فكيف يقبل نقل من هذا حاله! حاشا وكلا.

امام ذھبی یہ اعتراض نقل کرکے اسکا جواب یوں دیتے ہیں ؛

بدعت کی دو قسمیں ہوتی ہے

۱۔بدعت صغریٰ

۲۔ بدعت کبریٰ

بدعت صغریٰ جیسے غالی شیعہ ہونا یا غلو اور تحریکے کے شیعہ ہونا (اور دعوت نہ دینے والا ہو )یہ قسم میں تو بہت سے تابعین اور تابع تابعین میں تھی باجود یہ کہ وہ دیندار متقی اور صادت تھے لہذا ایسوں کی حدیث بھی رد کر دی جائے تو حدیث کا ذخیرہ احادیث کا ایک برا حصہ ضائع ہو جائے گا

۲۔ بدعت کبریٰ

جسیے کہ رافضی ہونا اور رفض میں غالی ہونا ہے

حضرت شیخین کی شان میں گستاخی کرنا اور اس پر دوسروں کو ابھارنا (یعنی داعی ہونا ) اس قسم والے کی روایت قابل احتجاج نہیں نہ ہی اس کی وئی عزت و تکریم ہے اس قسم میں اب مجھے کوئی نہیں یاد ہو صادق اور مومون ہو (جسکی روایت اسکے مذہب کی تائید میں بھی قبول کر لی جائے ) کیونکہ انکا شعار جھوٹ بولنا تقیہ کرنا اور معاملات میں نفاق کا مظاہرہ کرنا ہے لہذا جس کا یہ حال ہو ایسے کی روایت بھلا قبول کیسے کی جائے گی ہرگز قبول نہیں کی جائے گی

[میزان الاعتدال ص 6 ]

باقی رہہ گیا مسلہ رافضی تبرائی راوی کا تو اسکے لیے ثقہ و غیر ثقہ کی تخصیص کی ضرورت ہی نہیں اس سے روایت ہر حال میں نا جائز ہے جیسا کہ امام ابن معین کہتے ہیں :

كان يشتم أصحاب النبي -صلى الله عليه وسلم-، ومن شتم أصحاب النبي -صلى الله عليه وسلم- فليس بثقة»

یہ اصحاب رسولﷺ پرتبرہ کرتاتھا اور جو شخص اصحاب نبیﷺ پر تبرہ کرے او ر ثقہ نہیں ہو سکتا

[سوالات ابن الجنید ، برقم:۵۵۹]

بلکہ امام یحییٰ بن معین انکے پیچھے نماز پڑھنے کے بھی قائل نہیں تھے روایت بیان کرنا تو دور کی بات۔

قال يحيى لا أصلي خلف قدري إذا كان داعيا ولا خلف الرافضي الذي يشتم أبا بكر وعمر وعثمان

امام یحییٰ نے کہا کہ قدری کے پیچھے نماز نہ پڑھو اگر وہ داعی ہو (یعنی اپنے مذہب کی روایات بیان کرتا ہوں ) اور نہ ہی رافضیوں کے پیچھے نماز پڑھو جو ابو بکر صدیقؓ و عمر فاروقؓ پر تبرہ کرتے ہیں

[تاریخ ابن معین بروایت الدوری برقم:۲۲۹۰]

نیز ایک جگہ فرماتے ہیں :

سمعت يحيى يقول تليد كذاب كان يشتم عثمان وكل من يشتم عثمان أو طلحة أو أحدا من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم دجال لا يكتب عنه وعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين

میں نے امام یحییٰ کو کہتے سنا کہ تلید یہ کذاب ہے یہ حضرت عثمان پر تبرہ کرتا تھا اور وہ سب جو حضرت عثمان ، یا حضرت طلحہ یا  حضور ﷺ کے کسی ایک صحابی پر تبرہ کرے وہ دجال ہے اس سے روایت نہین  لکھی جائے گی اور ان پر اللہ ، ملائکہ اور لوگوں کی لعنت ہو

[تاریخ ابن معین بروایت الدوری برقم:۲۶۷۰]


ایک تحریر نظر سے گزری ہے جس میں ایک بندے کا دعویٰ ہے کہ شیعہ راوی کی روایت اہل بیت کے فضائل میں مقبول نہیں ہوگی مطلق

اور دوسری طرف اسکا رد ایک موصوف نے کیا ہے کہ نہیں شیعہ کی ہر قسم کی مطلق روایت قبول ہوگی چاہے جس بھی باب میں روایت کرے۔

ان دونوں کا دعویٰ ایک خاص مسلہ پر تھا لیکن دونوں نے اپنے موقف پر جودلائل پیش کیےوہ مذکورہ مسلے سے متابقت ہی نہیں رکھتے ہیں جیساکہ ہم ان دونوں کے دعویٰ اور دلائل کا محاکمہ کرنے کی کوشش کرینگے!!!

پہلا بندہ لکھتا ہے :ناصبی کے پیش کردہ دلائل درج ذیل ہیں :

مثلاً: اختلف أهل العلم في السماع من أهل البدع والأهواء كالقدرية والخوارج والرافضة , وفي الاحتجاج بما يروونه , فمنعت طائفة من السلف صحة ذلك , لعلة أنهم كفار عند من ذهب إلى إكفار المتأولين , وفساق عند من لم يحكم بكفر متأول , وممن لا يروى عنه ذلك مالك بن أنس , وقال من ذهب إلى هذا المذهب: إن الكافر والفاسق بالتأويل بمثابة الكافر المعاند والفاسق العامد , فيجب ألا يقبل خبرهما ولا تثبت روايتهما.

ترجمہ: امام خطیب بغدادی رحمہ الله فرماتے ہیں: اہل علم کا اس کا اس مسئلہ پر اختلاف ہے کہ اہل بدعت سے اہل اھواء سے سماع کرنا اور انکی مرویات کو قابل احتجاج سمجھنا یہ جائز ہے کہ نہیں۔ اسلاف میں سے ایک گروہ اسے ناجائز سمجھتا تھا اور یہ کہتا تھا کہ یہ کفار وفاسقین ہیں۔

کتاب الکفایة فی علم الرواية صفحہ ۱۲۰۔

امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں: (ومن لم يكفر) فيه خلاف.

(قيل: لا يحتج به مطلقا) ، ونسبه الخطيب لمالك ; لأن في الرواية عنه ترويجا لأمره، وتنويها بذكره ; ولأنه فاسق ببدعته، وإن كان متأولا يرد كالفاسق بلا تأويل، كما استوى الكافر المتأول وغيره.

ترجمہ: امام جلال الدین سیوطی رحمہ الله لکھتے ہیں: خطیب بغدادی نے امام مالک کے حوالے سے یہ بات کہی ہے جو بدعتی شخص کی روایت ہے اسے بلکل ترک کردو کیونکہ اس سے اسکے مذہب کی ترویج ہوگی اور اسکا ذکر عام ہوگا۔ وہ آدمی فاسق ہے اپنی اس بدعت کی وجہ سے لہذا ہم اسکی روایت کو قبول نہیں کریں گے۔

تدریب الراوی في شرح تقریب النواوی جلد اوّل صفحہ ٣٨٤۔


 میری (اسد الطحاوی) کی رائے:

جبکہ  ان روایتوں میں اختلاف اس چیز کا بیان کیا گیا ہے کہ بدعتی راوی کی مطلق روایت یا تو رد کی جائیں گی سماع ہی نہیں کیا جائے گا یا اسکی روایت مطلق سنی جائیں گی اور روایت کی جائیں گی۔

لیکن  مسلہ خاص کہ جس میں بدعتی فقط اپنے مذہب کی تائید میں روایت بیان کریگا اسکا ذکر نہیں ہے۔

تو یہ دلائل غلط ہیںؕ اوراس پر دوسرے موصوف کا جواب بھی فضول اور غلط ہے جو کہ اس  نے بھی مسلہ خاص بدعت کی تقویت میں بدعتی راوی کی روایت کو بیان کرنے کے  مسلہ پر خاموش تھ۔

دوسسرا بندہ  اسکے رد میں جو لکھتا ہے اسکے دلائل جو کہ ابن حجر سے پہلے نقل کرتا ہے :

فتح الباری جلد ۱ صفحہ ۳۸۵۔

امام ابنِ حجر العسقلانی رحمہ الله لکھتے ہیں: ثم البدعة1: وهي السبب التاسع من أسباب الطعن في الراوي: وهي إما أن تكون بمكفر:

1- كأن يعتقد ما يستلزم الكفر.

2- أو بمفسق.

فالأول: لا يقبل صاحبها الجمهور.

وقيل: يقبل مطلقا.

وقيل: إن كان لا يعتقد حل الكذب لنصرة مقالته قبل.

والتحقيق أنه لا يرد كل مكفر ببدعة1؛ لأن كل طائفة تدعي أن مخالفيها مبتدعة، وقد تبالغ فتكفر مخالفها، فلو أخذ ذلك على الإطلاق لاستلزم تكفير جميع الطوائف.

فالمعتمد أن الذي ترد روايته من أنكر أمرا متواترا من الشرع معلوما من الدين بالضرورة، وكذا من اعتقد عكسه، فأما من لم يكن بهذه الصفة وانضم إلى ذلك ضبطه لما يرويه، مع ورعه وتقواه، فلا مانع من قبوله.

ترجمہ: 1) ایسی بدعت جس سے کفر لازم آتا ہے۔

2) ایسی بدعت جو کہ فاسق کردے۔

پہلی قسم جو راوی کو کافر کردیتی ہے اس پر جمہور کا اتفاق ہے کہ اسکی روایت کو قبول نہیں کیا جائے گا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسکی روایت کو بھی قبول کرلیا جائے گا اور اگر وہ اپنے مذہب کو تقويت پہنچانے کی غرض سے جھوٹ نہیں بولتا تو بھی اس کی بات کو قبول کیا جائے گا۔

تحقیق قول یہ ہے کہ ہر اس بدعتی راوی کی روایت کو ترک نہیں کیا جائے گا جسکی تکفیر اس کی بدعت کی وجہ سے لازم آتی ہے کیونکہ اسکی وجہ یہ ہے کہ ہر گروہ دوسرے کو بدعتی کہتا ہے اور معاملہ یہاں تک پہنچ جاتا ہے ایک دوسرے کی تکفیر کی جاتی ہے اور اگر علی الاطلاق اس قاعدے کو نافذ کردیا جائے تو لازم آئے گا کہ تمام کے تمام لوگوں کی تکفیر کردیں بہر حال اعتماد اس میں یہ کہ اسی کی تکفیر کی جائے جو کسی متواتر امر دین کا منکر ہو البتہ جو اس صفت کا حامل نہ ہو اور اسکا حافظہ بھی قوی ہو تو کوئی شے مانع نہیں کہ اسکی روایات کو قبول نہ کیا جائے۔

نزھة النظر في توضيح نخبة الفكر في مصطلح أهل الاثر صفحہ ۱۲۲ تا ۱۲۳۔

یہاں تک تو ہم نے انکے اس بھونڈے اصول کی تردید اصول سے کی لیکن اب متقدمین کے فہم وعمل کو سامنے رکھتے ہوئے


ان دونوں کے نقل کردہ دلائل پر میرا ( اسد الطحاوی )  کا موقف !

امام ابن حجر عسقلانی کے کلام میں شیعہ کو بھی کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ امام ابن حجر عسقلانی کے درج ذیل الفاظ قابل غور ہیں اور اگر علی الاطلاق اس قاعدے کو نافذ کردیا جائے تو لازم آئے گا کہ تمام کے تمام لوگوں کی تکفیر کردیں”

یہاں بات اس موقف کے رد  کی ہو رہی ہے کہ مطلق ہر قسم کے بدعتی کی روایت مطلق طور پر رد کر دی جائیں چاہے وہ بدعت صغریٰ ہو یا  کبریٰ  تو یہ بات  تو ہم بھی کہتے ہیں کہ شیعہ ثقہ راویان کی مطلق روایت ردنہ ہوگی بلکہ فضائل اہل بیت اور مذمت اصحاب رسولﷺ میں انکا تفرد رد ہوگا !!

تو یہ مذکورہ دلیل فضول ثابت ہوئی

بلکہ امام ابن حجر عسقلانی  سے خاص کہ جب راوی  ثقہ و صدوق ہونے ساتھ ساتھ اپنے دین کا داعی ہو (یعنی اپنے عقیدے کا پر چار کرے  روایات بیان کرے اپنے عقیدے کی تقویت مین ) تو اس پر امام ابن حجر عسقلانی کا کلام درج ذیل ہے :

فالتشيع في عرف المتقدمين هو اعتقاد تفضيل علي على عثمان, وأن عليا كان مصيبا في حروبه وأن مخالفه مخطئ مع تقديم الشيخين وتفضيلهما, وربما اعتقد بعضهم أن عليا أفضل الخلق بعد رسول الله -صلى الله عليهآله وسلم-, وإذا كان معتقد ذلك ورعا دينا صادقا مجتهدا فلا ترد روايته بهذا, لا سيما إن كان غير داعية, وأما التشيع في عرف المتأخرين فهو الرفض المحض فلا تقبل رواية الرافضي الغالي ولا كرامة,

عرف متقدمین میں تشیع سے مراد شیخین  (حضرت ابو بکر ؓ و عمرؓ) کو دیگر صحابہ پر فضیلت دینے کے ساتھ حضرت علیؓ کی حضرت عثمانؓ پر فضیلت ماننے والے کو کہاجاتا تھا ، اگرچہ حضڑت علی اپنی جنگوں میں مصیب اور انکا مخالف  خطاء پر تھا ۔ بعض کا یہ نظریہ بھی  ہے کہ حضرت  علی رسولﷺ کے بعد سب مخلوق سے افضل ہیں ، اگر اس طرح کا اعتقاد رکھنے والا متقی ، دیندار  اور سچا ہو تو محض اس وجہ (عقیدہ) کے سبب اسکی روایت ترک نہیں کی جائے گا جبکہ وہ  اپنے اعتقاد کا داعی نہ ہو (یعنی اپنے عقیدے کے موافق روایات بیان نہ کرتا ہو اسکا پرچار نہ کرتا ہو)

جبکہ عرف متاخرین میں تشیع سے مراد محض رفض ہے ۔ لہذا غالی رافضی کی روایت (مطلق) مقبول نہیں اور نہ ہی اس کے لیے کی قسم کی کوئی کرامت (بزرگی و تعظیم) ہے ۔۔الخ

[تھذیب التھذیب ، ج۱، ص ۹۴]

امام ابن حجر نے بھی وہی موقف رکھا ہے جو امام ذھبی کا تھا کہ شیعہ جو اصحاب رسولﷺ پر طعن نہ کرتا ہو اور اتقان کے حوالے سے مضبوط اور عدالت کے اعتبار سے سچا ہو تو محض شیعت کے سبب اسکی روایات رد نہ ہونگی جب تک وہ داعی نہ ہو یعنی اپنے عقیدے کے موافق روایات بیان کرتا ہوں اور پر چار کرتا ہوں اور داعی ہو

اور یہی ہمارا موقف ہے جو ابن حجر نے  بیان کیا ہے۔

لیکن موصوف جو اپنے نزدیک ایک ناصبی کا رد کر رہا ہے وہ امام ابن حجر عسقلانی کا کلام بطو ر مقدمہ پیش کر رہاہے جبکہ موصوف کا خود حال  یہ ہے کہ وہ مسلہ نفس میں امام ابن حجر عسقلانی کی تصریح پر مطلع ہی نہیں اور مطلق بدعتی روایت کو قبول کرنے کے مسلہ کو بیان کر رہا ہے جسکا مسلہ مذکورہ سے کوئی تعلق نہیں ہے!!!


میری (اسد الطحاوی) کی رائے:

اسکے  بعدموصوف نے  ناصبی کے ر د میں یہ مقدمہ کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے کہ  پھر اہلسنت کے ناقدین  نے کیوں بدعتی راویوں کی روایات قبول کی ہیں جبکہ انہوں نے ان سے مطلق نہ لکھنے کا فتویٰ دیا ہے فلاں فلاں جبکہ انکی کتب میں بدعتیوں سے روایتیں موجود ہیں ۔

موصوف نے سب سے پہلے امام مالک سے مثال پیش کی کہ انہوں نے مطلق کہا ہے کہ بدعت راویوں سے روایت بیان نہ کی جائے اور یہ بات امام خطیب نے امام مالک کی طرف منسوب کی ہے کہ انکا موقف تھا کہ مطلق اہل بدعت سے روایت نہ کیا جائے کیونکہ اس سے انکے عقیدے کی تشہیر ہوتی ہے

اور پھر امام مالک کے قول اور عمل میں تضاد پیش کرنے کے لیے جو دلیل دی موضوف نے وہ درج ذیل ہے :

پہلی مثال:

شروعات امام مالک رحمہ اللہ سے کرنے کا یہ بھی مقصد ہے کہ بدعتی راوی کے حوالے سے جو اقوال پیش کیئے جاتے ہیں انہیں امام مالک رحمہ اللہ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے لہٰذا امام مالک رحمہ الله سے شروع کرتے ہیں۔

حدثنا أبو مصعب، قال: حدثنا مالك، عن ثور بن زيد الديلي، عن ابن لعبد الله بن سفيان الثقفي، عن جده سفيان بن عبد الله، أن عمر بن الخطاب صلى الله عليه وسلم بعثه مصدقا , فكان يعد على الناس بالسخل، ولا يأخذ منه شيئا فقالوا: تعد علينا بالسخل ولاتأخذه؟ فلما قدم على عمر بن الخطاب , ذكرذلك له، فقال عمر: نعم نعد عليهم بالسخلة، يحملها الراعي، ولا نأخذها , ولا تأخذ الأكولة، ولا الرباء , ولا الماخض , ولا فحل الغنم، ونأخذ الجذعة , والثنية , ذلك عدل بين غذاء المال وخياره.

المؤطا للامام مالک صفحہ ٤٨٣ ورقم الحدیث ۵۷۵۔

یہاں امام مالک نے ثور بن زید سے روایت لی ہے جو کہ بدعتی( متھم بالقدر) ہے چناچہ امام ابنِ حجر العسقلانی رحمہ الله اسکے ترجمہ میں لکھتے ہیں:

أتهمه بن البرقي بالقدر ولعله شبه عليه بثور بن يزيد انتهى والبرقي لم يتهمه بل حكى في الطبقات أن مالكا سئل كيف رويت عن داود بن الحصين وثور بن زيد وذكر غيرهما وكانوا يرمون بالقدر فقال كانوا لأن يخروا من السماء إلى الأرض أسهل عليهم من أن يكذبوا كذبة وقد ذكر المزي أن مالكا روى أيضا عن ثور بن يزيد الشامي فلعله سئل عنه.

ترجمہ: امام مالک سے داؤد اور ثور بن یزید/ ثور بن زید سے متعلق سوال کیا گیا کہ یہ لوگ قدری ہیں وغیرہ وغیرہ۔ امام مالک نے فرمایا: اگرچیکہ ان پر یہ الزام ہے لیکن یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیئے یہ معانی رکھتا ہے کہ یہ آسمان سے گر جائیں لیکن رسول اللہﷺ پر کسی قسم کا جھوٹ باندھیں۔

اس سے امام مالک رحمہ الله کا نظریہ مؤطا میں ایسے بدعتی راویان سے روایت لینے جو انکے منہج پر اصح ترین ہیں سے ان کا فہم و عمل بھی معلوم ہوا جبکہ خطیب بغدادی نے جو امام مالک کی طرف منسوب کیا، امام مالک کا قول وعمل دونوں اسکے سخت مخالف ومعارض ہے۔


    ::::::::::::::::::الجواب (اسد الطحاوی)         ::::::::::::::::::

امام مالک اور ان جیسے دیگر ناقدین شیوخ سے روایت کرنے کے معاملے میں محتاط اور متنعت شمار ہوتے ہیں  جیسا کہ امام مالک ، امام شعبہ ، امام ابو زرعہ وغیرہم  انکا مکمل موقف موصوف سمجھنے قاصر رہاہے اور پھر ایک مثال پیش کرکے امام خطیب کی طر ف یہ طعن کر دیا کہ انہوں نے امام مالک کے موطاکے عمل کے خلاف انکی طرف  بدعتیوں سے مطلق روایت نہ لینے کا منسوب کر دیا ہے جبکہ موطا میں انکا طریقہ کار بالکل اسکے برعکس ہے

تو عرض ہے امام خطیب بغدادی کا قصور نہیں ان تک امام مالک کا جو قول پہنچا انہوں نے اسکو ظاہر پر محمول کر کے ویسے انکا منہج بیان کر دیاہے جیسا کہ امام خطیب نے  اپنی سند سے امام مالک کا قول بھی بیان کیا ہے جو کہ کچھ یوں ہے :

وأخبرنا محمد بن عمر، ثنا أبو بكر بن سلم , (ح)

وأخبرني ابن الفضل، أنا دعلج , أنا , وقال ابن سلم: ثنا أحمد بن علي الأبار , (ح)

 وأخبرنا أحمد بن أبي جعفر، ثنا محمد بن عثمان النفري، ثنا عبد الله بن محمد بن زياد النيسابوري , قالا ثنا يونس بن عبد الأعلى، ثنا ابن وهب , قال: سمعت مالك بن أنس , يقول: «لا يصلى خلف القدرية ولا يحمل عنهم الحديث»

امام مالک کہتے ہیں قدری کے پیچھے نماز مت پڑھو  اور نہ ہی ان سے روایت لو

[الكفاية في علم الرواية، ص۱۲۴]

یہ قول مطلق ہے کہ نہ ہی انکے پیچھے نماز پڑھو اور نہ ہی انکی طرف روایت لینے کے لیے جاو  تاکہ یہ لوگ مشہور نہ ہوں اور نہ ہی انکے عقائد کی مشہوری ہو یہ تھا اصل مقصد لیکن اسکا مطلب یہ نہیں کہ ان سے روایت مطلق لی ہی نہ جائے بلکہ اس میں تخصیص ہے کہ کونسا بدعتی داعی ہے اور کونسا داعی نہیں ہے۔

امام مالک کے اس فرمان کا مطلب امام یحییٰ بن معین علیہ رحمہ نے بیان کیا ہے اور متقدمین کا منہج بھی کہ بعض اوقات محدث کسی بدعتی سے روایت لکھنے سے منع کرتا ہے اور پھر وہ خود اس سے لکھ بھی رہا ہوتا ہے اور بیان بھی کر رہا ہوتا ہے  اور یہ عمل بظاہر تضا د معلوم ہوتا ہے لیکن محدثین کے منہج و اسلوب سے نا واقف ہونے کے سبب ہی یہ تضاد لگتا ہے لیکن حقیقت میں ہوتا نہیں ہے جیسا کہ امام یحییٰ بن معین سے مروی ہے  :

أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الواحد بن محمد بن جعفر، أنا محمد بن العباس الخزاز، أنا أحمد بن سعيد بن مرابا السوسي , قال: ثنا عباس بن محمد , قال:

 سمعت يحيى بن معين , يقول: ” ما كتبت عن عباد بن صهيب , وقد سمع عباد من أبي بكر بن نافع وأبو بكر بن نافع قدري يروي عنه مالك بن أنس. قلت ليحيى: هكذا تقول في كل داعية , لا يكتب حديثه إن كان قدريا أو رافضيا , أو كان غير ذلك من الأهواء , ممن هو داعية؟ قال: لا يكتب عنهم إلا أن يكونوا ممن يظن به ذلك , ولا يدعو إليه كهشام الدستوائي وغيره , ممن يرى القدر ولا يدعو إليه "

امام عباس الدوری کہتے ہیں میں نے امام یحییٰ بن معین کو کہتے سنا عباد بن صھیب سے  میں نے نہیں لکھا  اور  عباد نے ابی بکر بن نافع سے  سنا ہے ۔ اور ابو بکر بن نافع قدری ہے اور ان سے امام مالک روایت کرتے ہیں

تو میں (عباس) نے امام یحییٰ بن معین سے کہ آپ کا ہی قول ہے کہ جو بھی (بدعت) کا داعی ہے اس سے حدیث مت لکھو  کہ وہ قدری ہے یا رافضی ہے یا انکے علاوہ  یا  خارجی   تو ان میں سے داعی کون ہیں ؟(یعن جو اپنے عقائد کا پرچار کریں اور اپنے عقیدے کی روایات کی تشہیر کریں )  تو امام یحییٰ بن معین نے کہا ان سے نہ لکھو سوائے اسکے کہ جب تم کو یہ یہ مناسب لگے کہ  یہ ویسے ہے جیسا آپکا ظن ہے اور یہ داعی نہیں (اپنی بدعت کا پرچار نہیں کرنے والا نہ ہی روایات بیان کرنے والا ہے اپنی بدعت کی تقویت میں ) جیسا کہ ھشام الدستائی ہے  کہ یہ قدری نظریات رکھتا تھا لیکن کبھی اسکی دعوت نہیں دی

[الكفاية في علم الرواية، ۱۲۷ و سندہ صحیح]

معلوم ہوا کہ ناقدین جو کہتے ہیں کہ بدعتیوں سے نہ لکھو انکا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کون داعی ہے کون نہیں یہ تحقیق تو بعد کی ہے لیکن جب ہو بدعتی ہے تو اس سے اس وقت تک نہیں لکھا جائے گا جب تک یہ تسلی نہ ہو کہ یہ داعی نہیں ہے کیونکہ داعی کی روایت (اسکے تفرد یا اجتہاد میں ) نہیں لی جائے گی !! اسی طرح امام مالک نے بھی اس احتیاط کے سبب یہ مسلک بیان کیا کہ بدعتیوں سے روایت ہی نہ کرو  کیونکہ اگر ہر عام لوگوں کو ان سے روایت لکھنے کی اجازت ہوتی تو پھر انکے عقائد کی تشہیر ہونے لگ جاتی  اس لیے جب  یہ معلوم ہو جائے کہ راوی بدعتی ہونے کے ساتھ داعی نہیں ہیں تو پھر اسکی روایت لکھنے میں حرج نہیں جیسا کہ امام مالک نے ان سے سماع بھی کیا ہے اور اپنی موطا میں روایت بھی لی ہے ابو بکر بن نافع سے۔

تو جو ایسے قدری ، مرجئ  راویان جو داعی نہ ہوں اور نیک ہوں تو انکی روایت رد نہیں ہوگی کیونکہ یہ لوگ جھوٹ نہیں بولتے تھے رافضیوں کی طرح 

نوٹ: ابو بکر بن نافع کو قدری کہنے میں امام یحییٰ بن معین کا تفرد ہے نیز اور کسی ناقد نے یہ ان پر جرح نہیں کی تو امام ابن معین کے برعکس یہ بھی راجح ہو سکتا ہے کہ امام مالک کے نزدیک یہ قدری ہو ہی نہ ۔ کیونکہ امام مالک کے عمل میں تضاد تب ثابت ہوگا جب وہ خود کسی راوی پر جرح کریں بدعت کی اور اسکو داعی بھی قرار دیں اور پھر اس سے روایت لیں ۔ مگر ابو بکر بن ابی داود کو تو امام ابن  معین نے بھی ان رواتہ میں شامل کیا جو داعی نہیں تھے ھشام دستوائی کی مثال دیکر ۔

اور جو مثال اوپر ثور بن زید کے حوالے سے پیش کی کہ اس پر قدری ہونے کا الزام ہے۔تو عر ض ہے یہ ابن برقی جو امام مالک کے بعد کا ناقد ہے اسکی جرح سے امام مالک پر کیسا کلام ؟

کیونکہ امام ذھبی نے  بھی تصریح کی ہے :

[صح] ثور بن زيد [خ، م] الديلى.

شيخ مالك.

ثقة.

اتهمه محمد بن البرقى بالقدر، وكأنه شبه عليه بثور بن يزيد.

ثور بن زید یہ  امام مالک کے شیخ ہیں اور ثقہ ہے

اور اس پر قدریت کی تہمت ابن برقی نے لگائی ہے اور  لگتا ہے  وہ (ابن برقی) اسکو ثور بن یزید سمجھے ہیں (جو کہ اور راوی ہے اور وہ قدری تھا )

[میزان الاعتدال]

تو یہی وجہ ہے کہ یہ موطا کا راوی ثور بن زید ہے نہ کہ ثور بن یزید کیونکہ ثور بن یزید مشہور قدری را وی ہے جبکہ ثور بن زید پر تو کسی قسم کی کوئی  جرح ہی نہیں۔

بلکہ اسکے برعکس امام  ابن ابی حاتم نقل کرتے ہیں :

قرئ على العباس بن محمد  الدوري قال سمعت يحيى يعني ابن معين يقول: ثور بن زيد الديلي ثقة يروى عنه مالك ويرضاه.

الدوری کہتے ہیں میں نے امام یحییٰ بن معین کو کہتے سنا کہ ثور بن زید ثقہ ہے اور ان سے امام مالک روایت کرتے ہیں او ر وہ ان سے راضی  ہیں

[الجرح والتعدیل ]

اسکے بعد موصوف نے دوسری دلیل امام مالک سے دی :

اسی طرح امام مالک سے ایک اور مثال۔

حدثنا أبو مصعب، قال: حدثنا مالك، عن داود بن الحصين قال أخبرني مخبر أن عبد الله بن عباس كان يقول دلوك الشمس إذا فاء الفيء وغسق الليل اجتماع الليل وظلمته.

المؤطا للامام مالک صفحہ ٢٨٧حدیث ۲۱۔

اس میں داؤد بن الحصین یہ بھی بدعتی راوی تھا۔

امام ابنِ حجر العسقلانی رحمہ الله لکھتے ہیں: وعاب غير واحد على مالك الرواية عنه وتركه الرواية عن سعد بن ابراهيم.

ترجمہ: امام مالک پر بہت سے لوگوں نے عیب لگایا ہے کہ انہوں نے اس سے روایت لی ہے جبکہ سعد بن ابراھیم کی روایات کو ترک کردیا۔

تہذیب التہذیب جلد ۲ صفحہ ۱۸۲۔

امام جمال الدین المزی لکھتے ہیں: وَقَال أَبُو حاتم: ليس بالقوي، ولولا أن مالكا روى عنه لترك حديثه.

ترجمہ: ابو حاتم کہتے ہیں: یہ راوی قوی نہیں ہے اور اگر مالک انسے روایت نہ لیتے تو ہم اسے ترک کردیتے۔

تہذیب الکمال فی اسماء الرجال جلد ۸ صفحہ ۳۸۱۔

داود بن حصین پر کسی قسم کی حفظ کے حوالے سے کوئی جرح نہیں یہ ثقہ ہے سوائے عکرمہ کے کیونکہ عکرمہ سے اسکی روایت  ضعیف ہوتی تھی۔ اور امام عکرمہ پر بہت خطر ناک جروحات تھیں جسکی وجہ سے امام مالک  داود بن حصین کی روایت عکرمہ سے روایت کرنا پسند نہیں کرتے تھے یہ بات اس چیز کی متقاضی ہے کہ امام مالک رواتہ کی بدعت کے حوالے سے کتنی احتیاط کرتے تھے اور داود بن حصین سے امام مالک نے تفرد میں روایت نہیں لی بلکہ اسکی شاہد بھی ثابت ہیں۔

اور امام مالک عکرمہ کا نام لیے بغیر اسکی روایت کیوں بیان کرتے تھے داود بن حصین سے اسکی وجہ بھی امام ابن معین نے بیان کی ہوئی ہے جیسا کہ امام الدوری بیان کرتے ہیں :

محمد الدوري عن يحيى بن معين أنه قال: داود بن حصين ثقة وإنما كره مالك له لأنه كان يحدث عن عكرمة، وكان يكره مالك عكرمة.

محمد الدوری بیان کرتے ہیں یحییٰ بن معین سے کہ داود بن حصین ثقہ ہے۔اور اسکو اسکے لئے نا پسند کیا ہے امام مالک نے.. کیونکہ وہ عکرمہ سے روایت بیان کرتے ہیں مگر امام مالک عکرمہ کو نا پسند کرتے ہیں

[الجرح والتعدیل ]

نیز امام مغلطائی نے تصریح لکھی ہے کہ یہ داعی نہیں تھا بدعت کا جیسا کہ لکھتے ہیں :

وذكر البرقي في «باب من تكلم فيه من الثقات لمذهبه ممن كان يرمى منهم بالقدر»: داود بن حصين، وثور بن زيد، وصالح بن كيسان. يقال: إنهم جلسوا إلى غيلان القدري ليلة، فأنكر عليهم أهل المدينة، ولم يكونوا يدعون إلى ذلك.

البرقی نے ذکر کیا ہے کہ  باب قائم کر کے کہ وہ ثقات جنکے مذہب کے سبب ان پر قدریت کی طرف منسوب کیا گیا ہے ۔

داود بن حصین ، ثوربن زید (یہ ثور بن یزید تھا جیسا کہ امام ذھبی نے تصریح کی میزان میں )، اور صالح بن کیسان  کہا گیا یہ غییلان قدری کے ساتھ بیٹھے توان پر اہل مدینہ نےاس بات پر انکا نکار کیا، لیکن  یہ داعی نہیں تھے اس میں

[إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال]

نیز دوسری بات یہ راویان جن پر قدری و مرجئ ہونے کی جروحات ہیں لیکن اگریہ ثقہ ہوں تو یہ روایت میں جھوٹ بولنے کے قائل نہیں تھے کیونکہ  یہ لوگ عبادت گزار  تھے اور یہ جھوٹ کو تقیہ سمجھ کر بولنے کو جائز نہیں سمجھتے تھے اور اگر یہ داعی نہ ہوں تو انکی روایت  مقبول ہوتی ہیں کیونکہ روافض اور شیعوں کا مسلہ اس سے الگ ہے۔

جیسا کہ امام ذھبی علیہ  پہلے ایک غالی شیعہ کے ترجمہ میں امام بخاری و ابن حبان کا کلام نقل کرتے ہیں  :

قال البخاري: كان هو وأبوه غاليين في مذهبهما.

وقال ابن حبان: غال في التشيع.

روى المناكير عن المشاهير.

امام بخاری نے کہ یہ اور اسکا والد غالی بد مذہبوں (کھٹملوں ) میں سے تھے

اور امام ابن حبان نے کہا یہ تشیع میں غالی تھا اور اس نے مشہور ثقات سے مناکر بیان کی ہیں۔

اسکو نقل کرنے کے بعد امام ذھبی فرماتے ہیں :

قلت: ولغلوه ترك البخاري إخراج حديثه، فإنه يتجنب الرافضة كثيرا، كأنه يخاف من تدينهم بالتقية ولانراه يتجنب القدرية ولا الخوارج ولا الجهمية، فإنهم على بدعهم يلزمون الصدق، وعلى بن هاشم، قال أحمد: سمعت منه مجلسا واحدا.

میں (ذھبی) کہتا ہوں : اسکے غلو کی وجہ سے امام بخاری نے اس سے حدیث نقل نہیں کی ، کیونکہ وہ رافضیوں* سے بہت زیادہ اجتناب کرتےتھے ، انہیں انکے مسلک میں تقیہ کا بہت اندیشہ تھا ، ہم نے انہیں نہیں دیکھا کہ انہوں نے قدریوں یا خارجیوں یا جہمیوں سے اجتناب کیا ہو ، لیکن ان کی بدعت کے باوجود یہ لوگ سچ کو اختیار کرتے تھے (کیونکہ انکے نزدیک جھوٹ گناہ تھا اور کوئی تقیہ والا عقیدہ انکا نہ تھا )

[میزان الاعتدال ،برقم:۵۹۶۱]

یہ ہے اصل اختلاف جو لوگوں کو سمجھ نہیں آرہا ہے کہ تشیع غالیوں اور کھٹمل راویان سے انکے مذہب کی تقویت میں روایات میں تفرد کتنا خطر ناک ہوتا ہے۔


اب آتے ہیں موصوف کی شیعہ راویان کے بارے دی گئی مثالوں کی طرف!

عدی بن ثابت۔

ان سے بھی امام مالک نے روایت لی۔

حدثنا أبو مصعب، قال: حدثنا مالك، عن يحيى بن سعيد، عن عدي بن ثابت الأنصاري، عن البراء بن عازب، أنه قال: صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم العتمة فقرأ فيها {بالتين والزيتون} .

المؤطا صفحہ ۳٤٢ حدیث ۱۸٦.

امام ابو حاتم الرازی فرماتے ہیں: صدوق، وكَانَ إمام مَسْجِد الشيعة وقاصهم.

ترجمہ: یہ صدوق تھا اور شیعہ کا امام مسجد تھا۔

قال عَبد الله بْن أحمد بْن حنبل ، عَن أبيه: ثقة.

وكَذَلِكَ أَحْمَد بْن عَبد الله العجلي والنَّسَائي.

ترجمہ: احمد بن حنبل کہتے ہیں ثقہ، امام عجلی اور نسائی بھی ثقہ کہتے ہیں۔

تہذیب الکمال فی اسماء الرجال جلد ۱۹ صفحہ ۵۲۳۔

اسکے بعد موصوف نے امام دارقطنی و جوزقانی سے اسکے رفض پر جروحات پیش کی جو ہم نے سابقہ تحریر میں کچھ جھٹملوں کے رد میں الزامی تحریر میں لگا چکے ہیں

موصوف نے یہاں امام مالک سے اسکو رافضی یا غالی شیعہ ثابت کرنا تھا پھر امام مالک کے قول و عمل میں تضاد ثابت ہوتا مگر امام مالک نے تو اس پر کوئی کلام ہی نہیں کیا

بلکہ امام بخاری جو غالی اور رافضیوں سے اجتناب کرنے والے تھے انہوں نے بھی تاریخ الکبیر میں اس پر کوئی جرح نہیں کی بلکہ یہ لکھا کہ ان سے سماع کرنے والے امام یحییٰ بن سعید ، امام شعبہ  اور امام مسعر جیسے نقاد ہیں۔

 اور امام بخاری نے بھی ان سے اپنی صحیح میں روایت لی ہے یہ بالکل اس جیسے ہیں جیسے امام اعمش ، امام ابو نعیم وغیرہم ہیں  نہ یہ غالی ہیں اور نہ ہی  یہ داعی ہیں

اور ہم نے امام ذھبی و ابن حجر عسقلانی سے  یہی موقف ثابت کیا کہ راجح یہ ہے کہ داعی بدعتیوں سے روایت نہ لی جائے گی یعنی انکے مذہب کے تقویت میں

اور رافجیوں سے تو بالکل روایت لی ہی نہیں جائےگی۔

بلکہ یہ اس روایت کے راوی ہیں کہ انصار صحابہ سے بغض سوائے کافر کے نہیں رکھ سکتا۔

أخبرنا محمد بن المثنى قال أنا معاذ بن معاذ عن شعبة عن عدي بن ثابت عن البراء بن عازب أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال في الأنصار لا يحبهم إلا مؤمن ولا يبغضهم إلا كافر من أحبهم أحبه الله ومن أبغضهم أبغضه الله

قال شعبة قلت لعدي أنت سمعت هذا من البراء قال إياي حدث

امام شعبہ نے عدی سے پوچھا کہ کیا یہ روایت آپ نے خود  براء سے سنی ہے تو انہوں نے کہا مجھے بیان کی ہے

[فضائل صحابہ للنسائی]

نیز اس میں عدی بن ثابت کو امام مالک کی زبانی جب داعی ثابت نہیں کیا گیا تو پھر انکے عمل و قول میں تضا د اخذ کرنا احمقو ں کا کام ہے  


اس کے بعد موصوف امام احمد سے ایک مثال پیش کرتا ہے

اب آتے ہیں امام احمد بن حنبل کی مسند پر۔

حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن الحكم، سمعت سيفا، يحدث، عن رشيد الهجري، عن أبيه: أن رجلا قال لعبد الله بن عمرو: حدثني ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم، ودعني وما وجدت في وسقك يوم اليرموك. قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ” المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده "

مسند احمد جلد ۱۱ صفحہ ٤٢٧ ورقم الحدیث ٦٨٣٤.

اس روایت میں موجود راوی رشید الھجری رافضی تھا اور اپنے رفض میں غالی تھا لیکن امام احمد ابنِ حنبل رحمہ الله نے اس کی روایت کو اپنی مسند میں قبول کیا جو کہ انکے منہج پر اصح ترین ہے


    ::::::::::::::::::الجواب (اسد الطحاوی)         ::::::::::::::::::

یہ مثال فضول ہے دینا  کیونکہ یہ روایت  کی ۱۰ سے زیادہ طریق بیان کیے ہیں امام احمد نے اور دوسری بات امام احمد کی مسند میں ہر روایت صحیح ہے اس پر کسی کا اتفاق نہیں خود امام احمد نے اپنی مسند کے رجال پر جروحات کر رکھی ہیں اور اس میں ضعیف و معلل مروایات موجود ہیں

یہاں اختلاف ہے بدعتی  شیعہ کا داعی ہونے کی صورت میں تفرد سے استدلال کرنا اور دلیل کیا دی جا رہی ہے  اندھیرے میں پتھر مارے جا رہے ہیں ک کہیں تو تکہ لگا جائے گا


موصوف کی اگلی مثال :

اب امام بخاری رحمہ الله کا منہج دیکھا جائے۔

حدثنا عبيد الله بن موسى، قال: أخبرنا حنظلة بن أبي سفيان، عن عكرمة بن خالد، عن ابن عمر، رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ” بني الإسلام على خمس: شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله، وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، والحج، وصوم رمضان "

صحیح البخاری جلد ۱ صفحہ ۱۲ ورقم الحدیث ۸۔

امام بخاری نے یہاں اپنے شیخ عبیداللہ بن موسیٰ سے حدیث لی جو کہ سخت شیعہ تھا۔

یہ اپنے تشیع میں اس حد تک سخت تھے کہ یہ معاویہؓ پر لعنت کیا کرتے تھے۔

سمعت محمد بن عبيد الله بن يزيد المنادي، يقول: كنا بمكة في سنة تسع، وكان معنا عبيد الله بن موسى، فحدث في الطريق فمر حديث لمعاوية، فلعن معاوية، ولعن من لا يلعنه،

السنة لآبي بكر بن الخلال جلد ۳ صفحہ ۵۰۳ ورقم الروایت ۸۰۵۔

 فقال: هو على مذهب أهل بلده، ولو رأيتم عبيد الله بن موسى، وأبا نعيم، وجماعة مشايخنا الكوفيين، لما سألتمونا عن أبي غسان.

ترجمہ: امام بخاری سے سوال کیا گیا ابی غسان کے تشیع کے حوالے سے۔ امام بخاری نے جواب دیا: وہ اپنے شہر والوں کے مذہب پر ہے اور اگر تم عبیداللہ بن موسیٰ، ابو نعیم اور ہمارے کوفی مشائخ کی ایک جماعت کو دیکھتے تو تم ابو غسان سے متعلق سوال ہی نہ کرتے۔

سیئر اعلام النبلاء جلد ۱۰ صفحہ ٤٣٢.


    ::::::::::::::::::الجواب (اسد الطحاوی)         ::::::::::::::::::

 پہلی بات امام بخاری نے اسکو متابعت میں لیا ہے احتجاج میں نہیں لیا

اوردوسر ی بات یہ دلیل ہماری ہے نہ کہ موصوف کی  کیونکہ ہم اوپر امام ذھبی سے نقل کر آئے ہیں کہ امام بخاری رافضیوں سے نہ لکھنے میں کتنی احتیاط کی اور سیر اعلام سے امام بخاری کا جو قول موصوف نے نقل کیا ہے اس میں بھی واضح ہے کہ امام بخاری کہتے ہیں اگر تم ہمارے تشیع مشائخ کو دیکھ لیتے جیسا کہ ابو نعیم فضل بن دکین اور عبید اللہ بن موسیٰ کہ وہ (داعی نہیں یا غالی نہیں ) تو ابو غسان کے بارے سوال نہ کرتے۔

یعنی امام بخاری بھی عبیداللہ بن موسیٰ کے تقیہ میں دھوکا کھا بیٹھے جبکہ یہ راوی حضرت امیر معاویہ پر طعن کرتا تھا  اور جبکہ  یہ خود ایسی روایات بھی بیان کرتا تھا جو اہلسنت کے دلائل میں سے ہیں

اور اس نے صحابہ کی ترتیب پر پہلی مسند لکھی تھی

جیسا کہ امام ذھبی کہتے ہیں :

أَوَّلُ مَنْ صَنَّفَ (المُسْنَدَ) عَلَى تَرتِيْبِ الصَّحَابَةِ بِالكُوْفَةِ

[سیر اعلام النبلاء]

 لیکن اسکے باوجود اس خبیث کی ورادت امام احمد کے شاگرد کو پتہ چل گئی اور امام احمد اسکے رفض پر مطلع ہو گئے اور اسکو ترک کر دیا باوجود اسکی ثقاہت کے اور یہی ہمارا مسلک ہے

اور رفض کی جب دلیل مل جائے   کہ وہ لعن و طعن کرتا ہوں صحابہ کرامﷺ پر تو اسکی روایت سرے سے لینی ہی نہیں۔

اور اگر وہ غالی شیعہ ہو اور اسکے ساتھ داعی ہو تو اسکے  مذہب کے موافق روایت نہیں لینی

 یہ ہے آسان سا اصول !!!


 اب موصوف کی منافقت اور جہالت اور دو  رخی ثابت کرنے کا وقت  اگیا ہے   مجھے لگتا ہے یہ روایت موصوف نے کسی رافجی  کھٹمل سے اخذ کی ہے کیونکہ ایسے پاگل اور مضطرب التحریر لکھنے والے ایسے ہی ہوتے ہیں اور موصوف نے مکھی پر مکھی مار کر لگتا ہے ساری چھاپ دی ہے۔

 وہ یوں کہ آخر میں اس نے یہ خلاصہ نکالا :

نوٹ: اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ حدیث میں سب سے زیادہ احتیاط کرنے والے شیخین یعنی امام بخاری وامام مسلم کے نزدیک بھی بدعتی(شیعہ) راوی کی روایات قابل قبول ہیں بشرطیکہ وہ عادل اور قوی حافظے کا مالک ہو۔

دوئم یہ بھی واضح ہوگیا کہ راوی کے بدعتی ہونے سے راوی کی عدالت یا حافظے پر کوئی اثر پڑتا ہے۔

اسکے خلاصہ میں پہلا نقص یہ ہے کہ امام بخاری نے اپنے نزدیک جسکو فقط تشیع تسلیم کیا اسکی روایت لی اور مذکورہ شیخ  کی روایت جو پیش کی گئی ہے وہ تو متابعت میں اور نہ بھی ہوتی تو اسکا تقیہ ثابت کیا ہے کہ پہلے اس نے ترتیب صحابہ پر مصنف لکھی اور معتدل  انسان ثابت کیا اور پھر اس نے حضرت معاویہ پر طعن شروع کر دیا  جس سے امام بخاری کا اس سے تقیہ سے دھوکا کھانا ثابت ہوتا ہے فقط

اور دوسی سطر میں کہتا ہے :

بس یہ ثابت ہوا کہ بدعتی  (یعنی رافضی ، وغیرہ) ہونے سے راوی کی عدالت یا حافظے پر اثر نہیں پڑتا ہے اچھایہ سطر لکھ کر

آگے پھراپنے مقدمہ کی ساری عمارت گرا دی یہ لکھ کر ۔۔۔۔

اب رہی آخری بات امام جوزجانی کی جسنے یہ بدعتی راوی داعی اور غیر داعی کا سارا ڈھونگ رچایا ہے۔

یہ شخص امام جوزجانی بیشک متقدمین میں سے ایک عظیم امام تھا لیکن یہ ایک خبیث شیطان اور بغض علی میں مبتلا ایک ناصبی تھا۔

امام عبد الرحمٰن المعملی رحمہ لکھتے ہیں: هذا وأول من نسب إليه هذا القول إبراهيم بن يعقوب الجوزجاني وكان هو نفسه مبتدعاً منحرفاً عن أمير المؤمنين علي متشدداً في الطعن على المتشيعين۔

ترجمہ: سب سے پہلے جس شخص کی طرف یہ قول منسوب کیا جاتا ہے جسنے یہ بات بیان کی ہے وہ جوزجانی ہے جو خود بدعتی تھا اور وہ منحرف تھا امیر المومنین علی سے اور بہت متشدد تھا اور آپکے رفقاء پر طعن کیا کرتا تھا۔

اسکو پڑھ کر موصوف کی بے بسی پر ہنسی آتی ہے۔معلمی یمانی سے نقل کرتا ہے اپنا مقدمہ کہ سب سے پہلے  جس بندے نے یہ اصول قائم کیا کہ بدعتی داعی  کا ڈھونگ رچایا  وہ جوزجانی تھا پھر اسکو خبیث ، شیطان اور بغض علی والا کہتا ہے۔

تو عرض ہے جب بدعتی راوی کے حافظے اور عدالت سے کوئی فرق نہیں پڑتا تو علامہ جوزجانی  کااصول رد یہ کس علت قادعہ  سے رد کر رہا ہے ؟

ناصبی ہونے کی ؟

ناصبی ، رافضی  ہونا تو اسکے نزدیک علت ہی نہیں جب راوی ثقہ اور یہ خود بھی مان رہا ہے کہ جوزجانی  متقدمین میں اعظیم امام تھا تو بس پھر ناصبی ہونے سے اسکا بیان کردہ اصول کیسے ٹوٹ گیا ؟؟؟؟؟؟

یعنی ہم کہہ رہے ہیں بدعتی داعی  کی روایت اسکے عقیدے کی تقویت میں قبول نہیں اور موصوف اسکا رد  کرتے کرتے۔

آخر میں خود تسلیم کر بیٹھا کہ یہ اصول بیان کرنے والا بقول اسکے جوزجانی ہے اور وہ خود چونکہ ناصبی تھا بوجود امام ہونے کے تو ہم اسکا یہ اصول ڈھونگ سمجھتے ہیں۔

یعنی انکی کتی چاروں نال ملی ہے   اسکی تمام دلائل فضول اور دلیل سے متابقت نہیں رکھتے تھے اور جن میں کچھ بات تھی  بھی تو  اسکا جواب ہم نے دلائل سے دے دیا اور داعی اور بدعت کی روایت سے بچنے کا منہج ہم نے جوزجانی کے علاوہ امام ابن  مین سے ثابت کیا

پھر  ا مام ابن معین کے بقول امام مالک کا بھی یہی منہج تھا

اور یہی امام احمد کا منہج ہے

اور اس سے سابقہ تحریر میں یہی منہج امام ابو حنیفہ کا ثابت کیا

اور پھر متاخرین میں یہی راجح مذہب امام ذھبی و ابن حجر عسقلانی کا ثابت کیا !!!

تحقیق: اسد الطحاوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے