سیرت امام محمد بن حسن الشیبانی : امام الشافعی امام محمد کی فقہی بصیرت کا مداح ہونا

امام شافعی اور امام محمد کی فقہی بصیرت
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 5]

سیرت امام محمد بن حسن الشیبانی اور  امام الشافعی کا امام محمد بن حسن شیبانی کی فقہی بصیرت کا اعتراف و مداح

امام محمد امام ابو حنیفہ رضی اللہ کے مشہور تلامذہ میں سے دوسرے نمبر پر ہیں۔ آپ نے امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے باقائدہ علم فقہ و حدیث حاصل کیا ۔ اور پھر آپ امام ابو یوسف کی رفاقت میں فقہ حنفی کی تدوین میں اپنا حصہ ملایا۔

امام شافعی امام محمد کی فقہی بسیرت کے مداح تھے:

امام خطیب بغدادی اپنی سند صحیح سے امام شافعی کے مشہور و معروف شاگرد جو خود بہت بڑے فقیہ اور اہل رائے میں سے تھے  امام المزنی (امام الطحاوی کے ماموں ) امام شافعیؒ سے انکا موقف بیان کرتے ہیں فرماتے ہیں میں نے امام شافعیؒ سے سنا کہ  :

حَدَّثَنِي الحسن بن محمد الخلّال قال أنبأنا علي بن عمرو الجريري أن علي بن محمد النخعي حدثهم قال نا أحمد بن حماد بن سفيان قَالَ سمعت المزني يقول سمعت الشافعي يقول: أمن الناس علي في الفقه محمد بن الحسن.

امام مزنی فرماتے ہیں میں نے امام شافعی علیہ رحمہ کو کہتے سنا : وہ فرماتے ہیں کہ مجھ پر فقہ کے باب میں سب سے زیادہ احسان امام محمد بن الحسن الشیبانیؒ نے کیا ہے۔

 [تاریخ بغداد ووسندہ  صحیح]

سیرت امام محمد امام شافعی مداح

یعنی امام شافعی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ اپنی زندگی میں جتنے بھی شیوخ سے علم کا فیض حاصل کیا ہے لیکن ان پر فقہ میں امام محمد بن الحسن سے زیادہ احسان کسی اور نے نہیں کیا سوائے امام محمد بن الحسن الشیبانی مجتہد کے۔

سند کی تحقیق:

۱۔ پہلارا وی: ابو علی الخلال یہ ثقہ ہیں اور خطیب کے شیوخ میں سے ہیں

الحسن بن علي، أبو محمّد، ويقال: أَبُو عَلِيّ الخلال، المعروف بالحلواني

وكان حافظا ثقة، وورد بغداد.

[تاریخ بغداد ، برقم: ۳۸۸۴]

۲۔ سند کا دوسرا راوی : ابو الحسن الحریری ہے

(نوٹ : تاریخ بغداد میں  انکے نام میں کافی جگہ غلطی و تحریف ہے ابو الحسن الجریری لکھا ہوا ہے لیکن انکا نام الحریری ہے نہ کہ الجریری )

یہ بھی ثقہ راوی ہیں امام خطیب بغدادی انکی توثیق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں

عليّ بن عمرو بْن سهل، أَبُو الحسن الحريري

وكان ثقة.

[تاریخ بغداد ، برقم:۶۳۸۴]

 ۳۔ تیسرا راوی :  علی بن محمد النخعی 

یہ بھی ثقہ راوی ہیں امام خطیب بغدادی انکی توثیق اور مداح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ ثقہ فاضل اور فقہ ابی حنیفہ کے مذہب پر تھے اور فقہ اور قرآن کی قرآت میں اعلیٰ درجے پر تھے

علي بْن مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَن بْن مُحَمَّدِ بْنِ عمر بن سعيد بن مالك بن يحيى بْن عَمْرو بْن يَحْيَى بْن الحارث، أَبُو القاسم النخعي القاضي المعروف بابن كاس:

، وكان من المقدمين فِي الفقه من الكوفيين الثقات

[تاریخ بغداد ، برقم:۶۴۶۹]

۴۔ چوتھا راوی: احمد بن  حماد بن سفیان 

 امام خطیب بغدادی نے انکو بھی ثقہ بیان کیا ہے

أَحْمَد بْن حَمَّاد بْن سُفْيَان، أَبُو عَبْد الرَّحْمَن الْكُوفِيّ الْقُرَشِيّ مولاهم

َكَانَ ثِقَةً. ولي قضاء المصيصة، وذكره الدَّارَقُطْنِيّ فَقَالَ: لا بأس به.

[تاریخ بغداد، برقم: ۲۱۱۳]

 ۵۔ پانچوے راوی : امام المزنی جو فقہ شافعی کے مشہور و معروف فقیہ تھے جو اہل رائے میں سے تھے نہ کہ محدثین میں سے  کیونکہ انکو فقہ میں معرفت فقہ شافعی میں سب شوافع پر مقدم تھی اور فقہ شافعی کی تدوین میں انکا بنیادی قردار ہے ۔اور یہ امام ابو جعفر الطحاوی کے ماموں تھے اور انکے اعظیم بھانجے امام طحاوی اپنے دور کے محدثین اور فقہا میں یکتا اور بے مثل تھے۔

امام ذھبی انکا ترجمہ یوں بیان کرتے ہیں

المزني أبو إبراهيم إسماعيل بن يحيى بن إسماعيل

الإمام، العلامة، فقيه الملة، علم الزهاد، أبو إبراهيم، إسماعيل بن يحيى بن إسماعيل بن عمرو بن مسلم، المزني ، المصري، تلميذ الشافعي.

وهو قليل الرواية، ولكنه كان رأسا في الفقه.

امام ذھبیؒ سیر اعلام میں انکا ترجمہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

الامام ، علامہ فقیہ  عالم ذھاد  المصری تلمیذ امام شافعی تھے۔

لیکن یہ بہت کم روایات بیان کرنے والے تھے لیکن فقہ میں علم کا سمندر تھے۔

نوٹ: اس سے ایک یہ نقطہ بھی ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ جو محدثین  فقیہ ہوتے ہیں وہ قلیل الروایات ہوتے ہیں اکثر کیونکہ انکا شغف  روایات کو لکھنا یا یاد کرکے آگے بیان کرنا نہیں ہوتا بلکہ روایات کو سننا ، اور ان سے مسائل کا استنباد کرنا ہوتا ہے۔

اس لیے فقیہ محدث بظاہر قلیل الروایت تو ہوتا ہے لیکن فی نفسی قلیل الحدیث نہیں ہوتا یعنی احادیث کا تو حافظ  ہوتا ہے لیکن روایت کرنے میں بہت کم ہوتا ہے۔جس طرح امام ابو حنیفہ قلیل الروایات تھے لیکن فی نفسی امام المحدثین تھے۔امام ابن معین الحنفی یہ بھی قلیل الروایات تھے لیکن فی نفسی امام العلل اور امیر المومنین فی حدیث تھے

اور امام المزنی الشافعی بھی فقیہ  تھے جو تھے قلیل الروایات لیکن چونکے اپنی ساری محنت مسائل کا استنباد کرنے میں صرف کرتے تو یہ بھی قلیل الروایات قرار پائے

لیکن کچھ جاہل جیسا کہ غیر مقلدین طوفان بد تمیزی اختیار کرتے ہیں اور قلیل الروایت کو ایک جرح یا نقص سمجھ لیتے ہیں یہ انکی جہالت اور علم رجال  اور منہج محدثین سے جہالت کا نتیجہ ہے۔

مزیدفرماتے ہیں:

حدث عن: الشافعي، وعن علي بن معبد بن شداد، ونعيم بن حماد، وغيرهم.

حدث عنه: إمام الأئمة أبو بكر بن خزيمة، وأبو الحسن بن جوصا، وأبو بكر بن زياد النيسابوري، وأبو جعفر الطحاوي، وأبو نعيم بن عدي، وعبد الرحمن بن أبي حاتم، وأبو الفوارس بن الصابوني، وخلق كثير من المشارقة والمغاربة

[سیر اعلام النبلا، برقم: ۱۸۰]


اسی طرح امام ابن حجر عسقلانی امام شافعی کے شیوخ کا ذکر کرتےہوئے فرماتے ہیں :

وانتهت رياسة الفقه بالمدينة إلى مالك بن أنس فرحل إليه ولازمه، وانتهت رياسة الفقه بالعراق إلى أبي حنيفة، فأخذ عن صاحبه محمد بن الحسن حمل جمل، ليس فيها شيء إلا وقد سمعه عليه، فاجتمع له علم أهل الرأي وعلم أهل الحديث

ابن حجر کہتے ہیں :

مدینہ منوہ میں علم فقہ کی ریاست امام مالک پر ختم ہوئی (جن سے امام شافعی نے علم لیا) اسی لیے امام شافعی نے انکی طرف صرف کیا ، انکے ساتھ رہے۔  ان سے استفادہ کیا ،

جبکہ عراق میں علم فقہ کی ریاست امام ابو حنیفہ پر ختم ہوئی تھی ۔ انہوں (شافعی) نے امام ابو حنیفہ کے شاگرد امام محمد سے استفادہ کیا ، ان کے پاس جو مواد موجود تا  وہ امام شافعی نے وہ سب ان سے سنا یوں امام شافعی کے پاس اہل رائے اور اہل حدیث  کا علم جمع ہو گیا ۔

[توالي التأنيس بمعالي ابن إدريس لابن حجر، ص ۱۲۳]


اس تحقیق سے معلوم ہوا امام شافعی ؒ فقہ میں اپنے تمام شیوخ جن میں امام مالک ، امام سفیان بن عیینہ ، وغیرہ جیسے بڑے بڑے محدثین فقہا اورعلمائے احادیث شامل ہیں ان میں سب پر امام محمد بن الحسن الشیبانی ؒ کو فضیلت دیتے ہوئے انکا خود پر احسان کو تسلیم کرتے اور ہمیشہ امام محمد کی مداح ، انکی ثناء اور انکی شان میں اشعار میں بھی خراج تحسین پیش کرتے امام شافعی۔

اہل علم اپنے شیوخ کا ادب اور انکا علمی فیض جو حاصل کرتے تھے تو انکا مقام اور انکی اعظمت کا اعتراف بھی سر عام کرتے تھے کیونکہ یہ امام نفس پرستی ، خود پسندی سے بالکل پاک اور متقی پرہیز گار اور امت کے امام  کے مقام تھے

اللہ ان سب اماموں کو جنت میں اعلیٰ درجہ  نصیب فرمائے امت محمدیہ کے لیے دین میں جو آسانی یہ پیدا فرماگئے اور جو خدمات سر انجام دے گئے اسکی نظیر بعد والے زمانوں میں نہیں ملتی۔لیکن زبیر  زئی نے لکھا کہ محمد بن حسن شیبانی کو فقیہ کہنا کذب و باطل ہے یعنی اسکے نزدیک امام شافعی جو امام محمد کے شاگرد تھے فقہ میں اور انکا احسان مانا ہے وہ بھی کذب و دجل سے کام لے گئے ۔

دعاگو: خادم الحدیث ؂: اسد الطحاوی الحنفی البریلوی

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے