جس نے میرے صحابہ پرطعن کیا اس پر اللہ کی لعنت ہو!

صحابہ پر طعن کرنے والوں پر اللہ کی لعنت
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 5]

فرمان رسولﷺ:جس نے میرے صحابہ پرطعن کیا اس پر اللہ کی لعنت ہو! 

صحابہ پر طعن کرنے پر مزمت رسولﷺ کے باب میں ایک روایت 

امام عشاری روایت کرتےہیں:
حدثنا أبو عمرو عثمان بن جعفر الجواليقي في الجانب الشرقي حدثنا محمد بن محمد بن عمرو الجارودي حدثنا محمد بن عبد الملك بن أبي الشوارب حدثنا أبو عوانة عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تسبوا أصحابي لعن الله من سب أصحابي فوالذي نفسي بيده لو أن أحدكم أنفق مثل أحد ذهبا ما بلغ مد أحدهم ولا نصيفه.
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے صحابی پر طعن مت کرو، اللہ کی اس پر لعنت ہو جو میرے صحابہ کی توہین کرے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی احد کے برابر سونا خرچ کرے تو اس کا ایک مد یا آدھے کے برابر (اجر) نہیں پا سکتا!
[ فضائل أبي بكر الصديق للعشاری برقم:۵۹ و سندہ صحیح]

رجال کا مختصر تعارف!

۱۔ عثمان بن جعفر، أَبُو عمرو الجواليقي البغدادي.
وثّقة العتيقي
[تاریخ الاسلام برقم:۲۷]
۲،محمد بْن محمد بْن عَمْرو، أبو الحسن الجاروديُّ البصريُّ
وهو من جملة من تجاوز مائة سنة.
قَالَ الخطيب: روايته مستقيمة.
[تاریخ الاسلام ، برقم:۵۷۱]
۳۔ ابْنُ أَبِي الشَّوَارِبِ مُحَمَّدُ بنُ عَبْدِ المَلِكِ القُرَشِيُّ
الإِمَامُ، الثِّقَةُ، المُحَدِّثُ، الفَقِيْهُ
[سیرا اعلام النبلاء برقم:۳۲]

نوٹ: اس روایت میں لعنت والے الفاظ  روایت کرنے میں انکا اضافہ ہے اور یہ اس درجہ کے راوی ہیں کہ انکا یہ اضافہ مقبول ہے ۔ اور سابقہ روایت کے برعکس بھی نہیں ہے ۔

جیسا کہ درج ذیل محدثین نے انکی توثیق کی ہے :
قال مسلمة بن قاسم في ” الصلة ": بصري ثقة.
وفي ” الزهرة ": روى عنه مسلم عشرة أحاديث
قال ابن الأخضر: وهو شيخ جليل صدوق.
وقال النسائي: ثقة،
ولما ذكره ابن شاهين في ” الثقات "
قال: قال عثمان بن أبي شيبة: هو شيخ صدوق لا بأس به.
[ إكمال تهذيب الكمال للمغلطائی الحنفی، برقم: ۴۱۸۱]
۴۔ امام محدث ابو عوانہ متفق علیہ ثقہ
۵۔ امام اعمش متفقہ ثقہ
نوٹ: امام اعمش کا عنعنہ مقبول ہے ابو صالح سے
۶۔ امام ابو صالح شفیق متفقہ علیہ ثقہ
۷۔ صحابی رسولﷺ ابو سعید الخدری

اس متن پر مشتمل دیگر روایات بھی ہیں جن میں ہلکہ پھلکا ضعف ہے ان سے بھی مذکورہ روایت تقویت حاصل کرتی ہے ۔
جیسا کہ امام طبرانی اپنی سند سے روایت کرتے ہیں:
حدثنا عبد الرحمن بن الحسين الصابوني قال: نا علي بن سهل المدائني قال: نا أبو عاصم الضحاك بن مخلد، عن ابن جريج، عن عطاء، عن عائشة، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا تسبوا أصحابي، لعن الله من سب أصحابي»
[المعجم الکبیر للطبرانی ،برقم: ۴۷۷۱، وسندہ حسن فی الشواھد]

اس سند میں ابن جریج کی تدلیس کا احتمال ہے باقی اس سند میں کوئی ایسا ضعف نہیں ہے۔

نیز اسکے علاوہ بھی کئی طرق ہیں جن میں کچھ میں معمولی ضعف ہے ۔
میرے خیال میں انکا مکمل احاطہ علامہ البانی صاحب نے اپنی سلسلہ الصحیحیہ میں کیا ہے جس پر میں نے نظر نہیں کی ہے بقیہ طرق کی!
یہی وجہ ہے کہ امام عقیلی کے کلام سے پتہ چلتا ہے مرفوع جتنی مرویات میں لعنت کے الفاظ ہیں نبی اکرمﷺ کی طرف سےان میں کمزوری ہے
جیسا کہ امام عقیلی کہتے ہیں:
وأما اللعن فالرواية فيه لينة، وهذا يروى عن عطاء مرسلا
اور جن روایات میں لعنت مروی ہے وہ کمزور ہیں ۔ اور یہ روایت حضرت عطاء سے مرسل مروی ہے
[الضعفاء الکبیر للعقیلی]
اس سے معلوم ہوا کہ امام عقیلی امام عطاء سے مروی روایت کے تحت یہ اشارہ کیا ہے کہ اس باب کی مرویات میں ہلکی پھلکی کمزوریاں ہیں لیکن اس متن پر مشتمل مروایات متروک یا غیر ثابت نہیں ہیں ۔
معلوم ہوا صحابہ کرامؓ  پر طعن کرنے والوں پر بقول رسولﷺ اللہ کی بھی لعنت ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے