نور محمدی ﷺ اور حدیث قدسی مع سند تحقیق

نور محمدی ﷺ
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 5]

نور محمدی  ﷺ  اور حدیث قدسی مع سند تحقیق

نور محمدی ﷺ  کے تعلق سے کچھ لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ کو نور ماننا انکے بشریت  کی ضد ہے جبکہ یہ موقف بالکل قرآن و حدیث کے خلاف ہے۔ نور اور بشر آپس میں کوئی ضد نہیں ہے۔  اور نبی اکرمﷺ کو حسی طور پر نور ماننے سے انکی بشریت کا انکار بالکل ثابت نہیں ہوتا ہے ۔ جیسا کہ اسکی تفصیل آگے پیش کرینگے۔ سب سے پہلے حدیث نور محمدﷺ پیش کرتے ہیں۔

 

لما خلق الله آدم فرأى نورا

حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے جب مجھے تخلیق فرمایا تو حضرت آدم علیہ السلام نے مجھے نور دیکھا۔

[دلائل النبوہ للیبھقی ، الاوائل ابن ابی عاصم]

نور و بشر

 


نور محمدی  حدیث  صحیح پر کچھ اعتراضات وارد کیے ہیں جنکا جواب ہم بلترتیب پیش کرتے ہیں :

معترض کا پہلا اعتراض:

نور حمد کی یہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ اس روایت کی سند کے شروع میں امام بیہقیؒ فرماتے ہیں:

أخبرنا أبو الحسن علی بن أحمد بن سيماء المقرئ قدم علينا حاجا

ہمیں ابولحسن علی بن احمد بن سیماء المقری نے خبر دی، وہ ہمارے پاس حج کے لئے جاتے ہوئے تشریف لائے تھے۔

[دلائل النبوۃ ج ۵ ص ۲۸۳]

اس میں امام بیہقیؒ کا استاد ابوالحسن علی بن احمد بن سیماء مقریء مجہول الحال ہے۔ ابن سیماء کا ذکرالمنتخب من السياق لتاریخ نیسابور (۱۲۴۹) میں بغیر کسی توثیق کے کیا گیا ہے۔؎

مجموع في كشف حقيقة الجزء المفقود شائع ہے ،اس کے صفحہ 107 پر دلائل النبوۃ کی اس روایت کے متعلق لکھا ہے :

قلت: إسناده ضعيف.

وفضالة فيه لين على صدقه، ونص ابن المديني أن له مناكير عن عبيد الله، وهو شيخه هنا، وتفرُّد فضالة بالحديث في طبقته ومرتبته وعزة مخرجه يوحي بأن هذا الحديث منها.

وشيخ البيهقي له ذكر في المنتخب من السياق لتاريخ نيسابور (1249) ولم أجد فيه جرحاً ولا تعديلا.


نور محمد ﷺ حدیث پر اعتراض کا جواب الجواب (اسد الطحاوی)

امام بیھقی کہ یہ شیخ بھی ثقہ ہیں لیکن اس بحث میں پڑنے کی بجائے ہم امام ابن ابی عاصم سے اسکی مختصر سند بیان کرتے ہیں جس میں امام بیھقی کے شیخ  ہیں ہی نہیں تو  انکا یہ اعتراض رفع ہوا۔ جیسا کہ امام ابن ابی عاصم روایت کرتے ہیں :

حدثنا يحيى بن محمد بن السكن، ثنا حبان بن هلال، ثنا مبارك بن فضالة قال: حدثني عبيد الله بن عمر، عن خبيب بن عبد الرحمن، عن حفص بن عاصم، عن أبي هريرة، رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ” لما خلق الله آدم فرأى نورا ساطعا فقال: «من هذا؟» فذكره

[الكتاب: الأوائل لابن أبي عاصم، برقمؒ:۵ ،المؤلف: أبو بكر بن أبي عاصم الشيباني (المتوفى: 287هـ)]

نور محمدﷺ

اس روایت کے بارے میں زبیر زئی اپنے ماہنامہ الحدیث ، شمارہ 40 اور ص 47 پر لکھتا ہے :

یہ روایت ابن ابی عاصم کی کتاب الاوئل اور کتاب السنہ میں موجود ہے  اور اسے ابو طاہر المخلص نے الفوائد میں لیا ہے۔اس روایت کی سند حسن ہے اور شیخ البانی نے اسکو صحیح قرار دیا ہے

[ ماہنامہ الحدیث ، شمارہ 40]

حدیث نور نبوی

یعنی اس روایت کی سند غیر مقلدین کے نزدیک بھی حسن و صحیح درجہ کی ہے ۔


حدیث قدسی نور محمد ﷺ پر اگلا اعتراض:

وفضالة فيه لين على صدقه، ونص ابن المديني أن له مناكير عن عبيد الله، وهو شيخه هنا، وتفرُّد فضالة بالحديث في طبقته ومرتبته وعزة مخرجه يوحي بأن هذا الحديث منها.

یعنی یہ روایت ضعیف ہے اس روایت کا راوی فضالہ کمزور راوی ہے ،یہ عبیداللہ نامی راوی سے منکر روایتیں بیان کرتا ہے ، اور یہاں اس روایت میں اس نے یہ روایت عبیداللہ سے ہی نقل کی ہے ، اور امام بیہقی کا شیخ ابوالحسن علی بن احمد بن سیماء بھی مجہول ہے ،لہذا یہ روایت قابل استدلال نہیں ۔


نور محمد ی ﷺ پر اعتراض کالجواب (اسد الطحاوی)

  معلوم نہیں انہوں نے کس کا  حاشیہ اٹھا کر یہاں لگا دیا اور مبارک بن فضالہ راوی  کومنکرات روایت کرنے والا بنا  دیا جبکہ یہ ثقہ ثبت راوی ہے۔

اور  امام علی بن مدینی کی جرح  کا حوالہ بھی پیش نہیں کیا نہ ہی انکے قول کی سند پیش کی ہے  تو جب تک حوالہ اور سند پیش نہیں کرینگے تو ہم کیسے اسکا اصولی رد کرینگے نیز ابن مدینی تو بہت متشدد امام ہیں  اور کیا اس جرح میں انکا متابع کوئی ہے ؟

جبکہ مبارک بن فضالہ عندالجمہور ثقہ ثبت راوی ہے ہم اسکی تفصیل پیش کرتے ہیں۔

امام ابن ابی حاتم اپنی تصنیف الجرح وا لتعدیل میں انکے ترجمے میں فرماتے ہیں :

سألت شعبة عن مبارك بن فضالة والربيع بن صبيح، فقال: مبارك أحب إلى منه

امام  شعبہ سے پوچھا گیا مبارک بن فضالہ اور بریع بن صیح کے بارے تو کہا کہ مجھے مبارک بن فضالہ اس سے زیادہ پسند ہے

نا محمد بن ابراهيم ناعمرو بن علي قال سمعت يحيى يعنى ابن سعيد  ذكر مباركا فأحسن عليه الثناء

امام ابن ابی حاتم محمد بن ابراہیم کے واسے عمرو بن علی سے بیان کرتے ہیں امام یحییٰ بن سعید  کے سامنے مبارک کا ذکر ہو اتو انہوں نے اسکی تعریف کی  اور اچھی رائے دی

نا عبد الرحمن نا علي بن الحسين بن الجنيد قال سمعت أبا حفص يعني عمرو بن على قال سمعت عفان يقول: كان مبارك ثقة وكان وكان.

امام عمرو بن علی عفان سے بیان کرتے ہیں کہ مبارک ثقہ ہے

نا عبد الرحمن قال سألت ابى عن مبارك بن فضالة فقال: هو أحب إلي من الربيع بن صبيح.

امام ابن ابی حاتم فرماتے ہیں میں نے والد سے مبارک بن فضالہ کے بارے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ مجھے ربیع بن صبیح سے زیادہ محبوب ہے

نا عبد الرحمن قال سئل أبو زرعة عن مبارك بن فضالة فقال: يدلس كثيرا فإذا قال حدثنا فهو ثقة

امام ابن ابی حاتم فرماتے ہیں امام ابو زرہ سے مبارک بن فضالہ کے بارے پوچھا گیا تو فرمایا وہ کثرت سے تدلیس کرتے تھے جب حدثنا سے بیان کریں تو ثقہ ہیں

[الجرح والتعدیل  برقم: 1557]

اتنے متشدد محدثین نے مبارک بن فضالہ کو ثقہ قرار دیا ہوا ہے جناب کو معلوم نہیں کہاں سے اس میں کمزوری نظر آگئی ایک دو متشدد محدثین کا کلام پکڑ کر بیٹھ گئے لگتا ہے

اسی طرح امام عجلی بھی انکو اثقات میں درج کرتے ہیں

مبارك بن فضَالة بصرى لَا بَأْس بِهِ

[الثقات برقم: 1681]

امام ذھبی نے سیر اعلام میں انکی تعدیل کرتے ہوئے انکو صدق امام قرا ردیا ہے

مبارك بن فضالة بن أبي أمية القرشي

الحافظ، المحدث، الصادق، الإمام،

مبارک بن فضالہ یہ حافظ اور صدوق محدث امام ہیں

[سیر اعلام النبلاء ، برقم: ۸۴]

تعدیل اور بھی بہت ہے امید ہے اتنی کافی ہوگی  ثقہ صدوق راوی پر  مبہم جرح کر کے روایت کو ضعیف قرار دینا کہاں کا انصاف ہے۔

یہ تو جواب ہو گیا روایت کی فنی حیثیت کا ۔


نور محمد  کے حوالے سے اس حدیث قدسی پر اب  متن  اور دیگر اعتراضات کا جواب 

پہلا اعتراض:

لیکن فرض کر لیں کہ ضعیف نہیں تو اس کا یہ مطلب کیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نور ہیں

کیونکہ حقیقی/ذاتی طور پر یا تو بشر ہیں یا نور ہیں یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی کہے کہ آپ کی ذات نور بھی ہے اور بشر بھی


الجواب (اسد الطحاوی)

اگلا اعتراض جو کیا گیا ہے  کہ نبی کریم ﷺحقیقی یا ذاتی طور پر یا تو بشر ہیں یا نور ہیں یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی کہے کہ آپ کی ذات نور بھی ہے اور بشر بھی تو ہم کہتے ہیں کہ کس نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ نبی کریم نور بھی ہیں اور بشر بھی  ایک وقت میں ہوسکتے ہیں ؟

کیا اللہ نے قرآن میں نور اور بشر کو ایک دوسرے کی ضد قرار دیا ہے ؟ بالکل نہیں  کیا قرآن میں یا حدیث میں کہیں آپ نے یہ ثابت کیا ہے کہ بشر نورانیت کی ضد ہے ؟ یا جو نور ہوگا وہ بشر نہیں ہو سکتا یا جو بشر ہو گا وہ نور نہیں ہو سکتا  کیا اس پر کوئی ایک صریح آیت یا حدیث پیش کی ہے ؟

جیسا کہ اللہ فرماتا ہے :

ولا الضلمت ولا النور

نہ تاریکی اور یوشنی یکساں ہے  

(الفاطر : 20)

تو اللہ نے نور کی ضد ظلمت بتائی ہے نہ کہ بشریت کو  جیسا کہ قرآن کی نص سے ثابت ہے  کہ اللہ اپنی چاہت پر قادر ہے اور وہ اپنی مخلوق کو ایک ہی وقت میں نور انیت اور بشریت کو اکٹھا کر سکتا ہے یہ اللہ کے لیے محال نہیں ہے۔

جیسا کہ قرآن میں اللہ فرماتا ہے :

فاتخذت من دونھم حجابا فارسلنا، الیھا رو حنا فتمثل لھا بشر اسویا

تو ان سے ادھر ایک پردہ کر لیا ، تو اس کی طرف ہم نے اپنا روحانی (روح الامین) بھیجا وہ اس کے سامنے ایک تندرست آدمی کے روپ میں ظاہر ہوا

(سورہ مریم : ١٧)

اللہ اپنے ایک خاص فرشتہ جسکو نور سے پیدا کیا ہے اسکو بشریت  کی شکل میں  روپ دے کر نورانیت و بشریت  جو خضائص جو ایک ہی وقت میں جمع کر سکتا ہے مخلوق میں تو نبیﷺ کے لیے اللہ کا ایسا کرنا کیسے محال ہے ؟

اگر کوئی سوال کرے کہ فرشتہ حقیقی طور پر  تو نور سے بنا ہوا ہے اور اس دنیا میں بشریت کی شکل میں آیا تھا۔

تو اسکا جواب بھی ہم فرمان رسول ﷺ ہی سے پیش کرینگے اور یہ تصریح کر دیں کہ ہم جب کہتے ہیں نبی پاک حقیقی اعتبار سے  اور ذاتی اعتبار سے بشر بھی ہیں اور نور بھی نہ ہم بشریت کا انکار کرتے ہیں نہ نورانیت کا کیونکہ بشریت کا انکار کفر ہے اور نورانیت کا انکار کھلی گمراہی ہے اللہ نے سب سے پہلے نبیﷺ کو جب تخلیق کیا تو کیا تب بشریت کو بھی تخلیق کیا تھا یا نہیں ؟

جیسا کہ  مستدرک الحاکم و ترمذی میں سند صحیح سے روایت آتی ہے :

البانی صاحب نے السلسلہ الصحیحہ  میں بھی یہ روایت لائے ہیں :

حدیث نمبر : 1856: کتبت نبیا و آدم بین الروح والجسد

یعنی میں تب بھی نبی تھا جب آدم کی تخلیق روح اور گارے میں تھی

[سلسلہ الصیحیہ ، وسنن الترمذی]

اس  حدیث کو  امام احمد نے اپنی مسند  ، ابن ابی عاصم نے بھی السنہ میں ،  اور امام بخاری نے اپنی تاریخ میں روایت کیا ہے۔

اسکی اسناد کو البانی نے صحیح قرار دیا ہے۔

یعنی جب اللہ نے بشریت پیدا ہی نہیں کی تھی اور نبی پاک ﷺ اس وقت بھی نبوت کے منسب  پر قائم تھے۔ تو اس وقت نبی بشری شکل میں تو تھے ہی نہیں بلکہ جس خاصیت میں انکو نبوت سے سر فراز کیا گیا اسی وقت بھی انکو نبوت دی جا چکی تھی تو وہ کیا نبیﷺ کی غیر حاضری میں نبیﷺ کو نبوت عطا کر دی گئی تھی کیا ؟  نبوت تو ایک مقام ہے اسکے لیے نبیﷺ کا ہونا لازم ہے اور نبیﷺ جب تھے انکو نبوت اس وقت بھی مل چکی تھی جب آدم یعنی بشریت کی تو تخلیق ہی نہیں ہوئی تھی


اس پر کچھ لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ وہ نبی سے پوچھا گیا کہ نبوت واجب کب ہوئی تھی ؟ تو نبی نے یہ بات کہی تھی نبی پاک اس وقت موجود تو نہیں تھے  (استغفار )

 جب کہ یہ روایت میں واجب کے الفاظ بھی آئے ہیں اور اسکے بغیر بھی یہ روایت صحیح سند سے آٗئی ہے جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے۔ لیکن واجب کے الفاظ کے ساتھ بھی اسکا وہ باطل معنی نہیں بنتا جو اہل حدیث کے دعوے داروں نے لیا ہوا ہے۔

کیونکہ انکا کہنا ہے فقط نبوت کے واجب ہونے کا جواب دیا نبی پاک نے صحابہ کو جبکہ ہمارا کہنا ہے کہ نبی ﷺپاک سے یہ پوچھا گیا کہ آپکے لیے نبوت واجب کب ہوئی ؟

اگر اس سے مراد خبر ہے  اور نبی ﷺ کو نبوت ملنے کا مطلب نہیں تو یہ سیدھا سدھا اعتراض اللہ کے علم پر جاتا ہے  کیونکہ اللہ کی ذات جیسے ازل سے ہے ویسے ہی اللہ کا علم بھی ازل سے ہے اور نہ اللہ کا علم بڑھتا ہے نہ کم ہوتا ہے بلکہ اسکا علم لا محدود ہے۔

اور اگر بقول غیر مقلدین یہ کہا جائے کہ نبی ﷺنے فقط نبوت کے واجب ہونے کا کہا تھا اللہ کے ہاں تو اسکا مطلب اس وقت سے پہلے اللہ کے علم میں معاذاللہ یہ بات نہ تھی ؟

یا صحابہ ؓکو یہ معلوم نہ تھا کہ نبیﷺ کی نبوت کا واجب ہونا پہلے نہ تھا اللہ کے ہاں بعد میں ہوا ؟

جبکہ صحابہؓ اور رسول ﷺکا بالکل نہ یہ عقیدہ تھا نہ ہی صحابہؓ کا پوچھنے کا یہ مقصد تھا  جیسا کہ اوپر صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ نبی پاکﷺ اس وقت نبوت سے سرفراز تھے جب بشریت ابھی مٹی اور گارے کے درمیان تھی اور بے شک اس وقت نبی پاکﷺ نور بھی تھے جیسا کہ  حدیث رسول ﷺہم ایک پیش کر چکے ہیں۔

اور ساتھ ہمارا یہ بھی عقیدہ ہے کہ نبی پاک ذاتی اور حقیقی طور پر بشر بھی ضرور ضرور ہیں جب اس دنیا میں اللہ نے انکو بھیجا تو بشر بنا کر بھیجا ، انکو والدین کے زریعے پیدا فرمایا اور ہمارا یہ بھی ایمان ہے کہ نبی پاک ﷺجنس کے اعتبار سے ہماری طرح انسان ہیں  یعنی انکا ایک سر ، دو ہاتھ ، دو پاوں ہیں اور بس۔ باقی نبی پاک بشریت میں بھی  مکمل ہماری طرح نہیں بلکہ اللہ نے انکو بے شمار اختیارات ، اور ایسی نعمتیں عطاء کر رکھی تھیں کہ جو عام کسی بشر میں نہیں ہو سکتی ہیں۔


نور محمد پر اگلا اعتراض:

فرض کریں کہ یہ حدیث ضعیف نہیں بلکہ صحیح ہے تو بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم جنس کے اعتبار سے ذات کے اعتبار سے نور نہیں بلکہ بشر ہی ہیں جو بلند ہوتے نور کی بات کی گئی اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ روشنی یعنی ہدایت مراد ہے جو آپ کے دنیا میں آنے سے پھیل گئی اندھیرے چھٹ گئے ظلمتیں مٹ گئی۔

لیکن اس سے ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جنس نور ہے۔

کیونکہ درج ذیل آیات سے واضح ہوتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی جنس انسان ہی تھی حقیقی یعنی ذاتی اعتبار سے وہ سب انسان تھے یہ نہیں کہ حقیقی اعتبار سے وہ انسان نہ ہوں نور ہوں یا نور بھی ہوں اور بشر بھی ہوں بلکہ ان کو نور اس اعتبار سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ ہدایت کی روشنی لے کر آئے جیسا کہ کفر کو اندھیرے کہا گیا تو اس کے برعکس ایمان یعنی ہدایت روشنی/نور کہلائے گی کہ جب وہ نور لے کر آئے تو دنیا روشن ہو گئی اور اس حدیث کا مطلب یہ ہو گا کہ ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نور یعنی ہدایت کی روشنی سب سے زیادہ پھیلے گی اور وہ الحمداللہ پھیلی بھی ہے ہدایت کی روشنی لے کر آیے اندھیرے چھٹے ظلمتیں دور ہوئیں نور پھیل گیا


نور محمد  ی ﷺ پر س اعتراض کا جواب (اسد الطحاوی)

جبکہ اس پر ہم پہلے متفق تھے کہ نبی پاک ﷺ ذاتی طور پر حقیقی طور پر بشر ہیں ، اور نور ہدایت بھی ہیں۔

لیکن اختلاف اس پے ہےکہ نبی پاک ﷺ حسی طور پر بھی نور ہیں یعنی نور نظر آنے والے بھی ہیں نوری بھی ہیں ؟تو  نور ہدایت  ایک قلبی کیفیت  ایمانی کا نام ہے جسکا تعلق آنکھوں سے نظر آنے والے نور سے نہیں ہوتا ہے    قلب میں جیسے ایمان کا نور ہے اسکو آنکھوں سے نہیں دیکھا جا سکتا ہے جبکہ  ہم نے جو روایت پیش کی ہے اس میں صریح واضح فرآنی نورا کے الفاظ ادا کیے ہوئے ہیں رسول  ﷺخدا نے  کہ آدم نے مجھے نور دیکھا ، مجھے یعنی میری ذات کو نور دیکھا  جو نور ہوتا ہے اسی کو نور دیکھا جاتا ہے

نبیﷺ نے یہ تو نہیں فرمایا کہ آدم نے میرے دل میں نور یا ایمان کا نور دیکھا بلکہ انہوں نے مطلق ذات کے بارے نور کہا تو نور ہدایت کے دلائل دیکر نور حسی کی نفی کرنا یہ نہ ہی کوئی علمی منہج ہے اور نہ ہی اصولی بات ہے


 اگلا اعتراض :

وَ مَا  قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدۡرِہٖۤ اِذۡ قَالُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ  عَلٰی بَشَرٍ مِّنۡ شَیۡءٍ ؕ قُلۡ مَنۡ اَنۡزَلَ  الۡکِتٰبَ الَّذِیۡ جَآءَ بِہٖ مُوۡسٰی نُوۡرًا وَّ  ہُدًی لِّلنَّاسِ

ترجمہ:اورانہوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرنہیں پہچانی جیسا اس کی قدرپہچاننے کاحق ہے،جب انہوں نے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے کسی انسان پرکچھ بھی نازل نہیں کیا،آپ کہیں وہ کتاب کس نے اُتاری تھی جوموسیٰ لے کرآئے تھے؟جوانسانوں کے لیے روشنی اورہدایت تھی.

  1. فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِہٖ مَا نَرٰىکَ اِلَّا بَشَرًا مِّثۡلَنَا

ترجمہ:تواس کی قوم میں سے سرداروں نے کہاجنہوں نے کفرکیا:  ہم تمہیں اپنے جیسا انسان ہی دیکھتے ہیں

 

  1. قَالَتۡ رُسُلُہُمۡ اَفِی اللّٰہِ شَکٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ یَدۡعُوۡکُمۡ لِیَغۡفِرَ لَکُمۡ مِّنۡ ذُنُوۡبِکُمۡ وَ یُؤَخِّرَکُمۡ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ قَالُوۡۤا اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُنَا ؕ تُرِیۡدُوۡنَ  اَنۡ تَصُدُّوۡنَا عَمَّا کَانَ یَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاۡتُوۡنَا بِسُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۱۰﴾

ترجمہ : اُن کے رسولوں نے کہا کہ کیا اُس اللہ تعالیٰ کے بارے میں بھی شک ہے جوآسمانوں اورزمین کو پیداکرنے والاہے؟وہ تمہیں بلاتاہے تاکہ تمہارے گناہوں کومعاف کردے اور تمہیں ایک مدتِ مقررہ تک مہلت دے۔ انہوں نے کہا کہ تم اور کچھ نہیں مگرہمارے جیسے انسان ہی ہو،تم چاہتے ہو کہ ان سے ہمیں روک دو،جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے تھے چنانچہ تم ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لاؤ۔

  1. وَ لَئِنۡ اَطَعۡتُمۡ بَشَرًا مِّثۡلَکُمۡ اِنَّکُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ﴿ۙ۳۴﴾

ترجمہ :اور اگر تم نے اپنے ہی جیسے ایک انسان کی اطاعت کی تب تم بلاشبہ ضرورخسارہ اُٹھانے والے ہی ہو گے۔

  1. مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُنَا ۚ ۖ فَاۡتِ بِاٰیَۃٍ  اِنۡ  کُنۡتَ مِنَ  الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۱۵۴﴾

ترجمہ :تم ہمارے ہی جیسے ایک انسان ہوپس کوئی معجزہ لاؤ اگرتم سچوں میں سے ہو۔

6.وَ مَاۤ  اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ  مِّثۡلُنَا وَ  اِنۡ  نَّظُنُّکَ لَمِنَ  الۡکٰذِبِیۡنَ

ترجمہ :اور تم نہیں ہو مگر ہم جیسے ہی ایک انسان اور بےشک ہم تمہیں یقینا جھوٹوں میں سے سمجھتے ہیں

  1. قُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ  مِّثۡلُکُمۡ  یُوۡحٰۤی  اِلَیَّ اَنَّمَاۤ  اِلٰـہُکُمۡ  اِلٰہٌ  وَّاحِدٌ فَاسۡتَقِیۡمُوۡۤا اِلَیۡہِ وَ اسۡتَغۡفِرُوۡہُ ؕ وَ وَیۡلٌ  لِّلۡمُشۡرِکِیۡنَ ۙ﴿۶﴾

ترجمہ:آپ کہہ دیں کہ میں تم جیسا ہی ایک انسان ہوں،میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ یقیناًتمہارامعبود بس ایک ہی معبود ہے ،سوتم اُسی کی طرف سیدھے رہو اور اُسی سے بخشش مانگو اور مشرکوں کے لئے بڑی ہلاکت ہے۔


الجواب (اسد الطحاوی)

ان تمام آیات میں نبی پاک ﷺ کے جنس کے اعتبار سے بشر ہونے کے دلائل ہیں جس پر ہم اتفاق ظاہر کر چکے اختلاف نبی ﷺ کے نور حسی ہونے کا ہے تو کیا ان تمام آیات میں کہیں ہے کہ نبی پاکﷺ نور نہیں ہیں ؟  بشریت کا ذکر ہے بشریت کا تو موضوع ہی نہیں موضوع ہے نبیﷺ کے نور ہونے کا اور نو ر حسی ہونے کا جسکا انکار ا پیش کردہ کسی ایک آیت میں بھی نہیں ہے  اور نبی پاک  کو بشر بااعتبار جنس یعنی خدوخال اور جسم کے حصے انکے بھی بشریت والے وہی ہیں جس طرح اللہ نے ہمارے بنائے ہیں۔

لیکن اللہ نے نبی ﷺ کو بشر جیسا بنایا ہے ہم نبی کو بالکل اپنے جیسا بشر بھی نہیں مانتے بلکہ نبی پاک کو ایسی صلاحتیں اللہ نے نوازی تھیں کہ جسکی وجہ سے نبی پاک کو اپنے جیسا بشر کہنا بھی بد ترین گستاخی اور نبی پاکﷺ و صحابؓہ کے تعلیمات کی خلاف ورزی ہے جسکے دلائل آگے آئیں گے۔


جناب کا اگلا اعتراض آیات پیش کرنے کے بعد :

یہ جتنی بھی آیات میں نے لکھی ہیں ان سب میں کفار کا ایک ہی اعتراض تھا کہ تو انسان ہے ہم کسی انسان کی بات کیسے مان سکتے ہیں۔

یعنی ان کا بھی یہی عقیدہ بنا ہوا تھا کہ نبی انسان نہیں ہو سکتا اس کو تو کوئی الگ مخلوق ہونا چاہیےـ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کیا چاہتے تھے کہ جو بار بار وہ یہی اعتراض کرتے کہ تم انسان ہو تو جواب یہ ہے کہ ان کا عقیدہ تھا کہ جو اللہ کا نبی ہوتا ہے اس کے پاس تو بہت سارے اختیارات ہونے چاہییں جو اس کا دل کرے وہ کر سکتا ہو

وہ ہر مطالبہ پورا کر سکتا ہو اس کے پاس غیر مرئی طاقتیں ہونی چاہیے۔

ہم جو اس سے مطالبہ کریں وہ پورا کر سکتا ہو اور یہ مطالبے کئی قوموں نے کیے اور اللہ نے کئی قوموں کے مطالبات کو پورا بھی کیا جیسا کہ حضرت صالح کی قوم کہنے لگی کہ ہمیں پہاڑ سے اونٹنی پیدا کرکے دکھاؤ اگر واقع ہی اللہ کے سچے نبی ہو

لیکن انبیاء کرام علیہم السلام کا جواب کیا ہوتا تھا؟؟؟

ہونا تو یہ چاہیے تھا نہ کہ وہ کہتے۔کہ بھئی ہم کونسا انسان ہیں یا ہم تو انسان ہونے کے ساتھ ساتھ نورانی مخلوق بھی ہیں لیکن انہوں نے ایسا نہیں کہا بلکہ کہا کہ ہم فقط اللہ کے بندے ہیں تمہارے ہی جیسے انسان ہیں۔

یہاں انبیاء کا اپنے آپ کو ان جیسے انسان کہنے کا مطلب جنس یعنی ذات کے اعتبار سے تھا کہ بشر ہونے میں تو ہم تم جیسے ہی ہیں /طاقت و اختیارات کے اعتبار سے ہم تم جیسے ہی ہیں اگلی آیت سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ کے حکم کے بغیر ممکن نہیں کہ ہم کوئی معجزہ لائیں۔

حالانکہ ان کے پاس معجزے تھے بھی لیکن کفار اپنی مرضی کے معجزے چاہتے تھے تو وہ کہتے کہ ہم وہی معجزہ لا سکتے ہیں جو رب العالمین ہمیں عطا فرماتا ہے۔

جیسا کہ درج ذیل آیات میں انبیاء کرام علیہم السلام نے کفار کو جوابات دیئے

  1. قَالَتۡ لَہُمۡ رُسُلُہُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَمُنُّ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ ؕ وَ مَا کَانَ لَنَاۤ  اَنۡ نَّاۡتِیَکُمۡ بِسُلۡطٰنٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ عَلَی اللّٰہِ  فَلۡیَتَوَکَّلِ  الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۱﴾

ترجمہ :ان کے رسولوں نے ان سے کہاکہ ہم کچھ نہیں مگرتمہارے ہی جیسے انسان ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پرچاہتاہے احسان فرماتاہے اورہمارے لیے ممکن نہیں کہ ہم تمہارے پاس اذنِ الٰہی کے بغیرکوئی دلیل لائیں اور اللہ تعالیٰ ہی پرتولازم ہے کہ ایمان والے بھروسہ کریں۔

  1. قُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ  یُوۡحٰۤی  اِلَیَّ اَنَّمَاۤ  اِلٰـہُکُمۡ  اِلٰہٌ  وَّاحِدٌ ۚ فَمَنۡ کَانَ یَرۡجُوۡا لِقَآءَ رَبِّہٖ فَلۡیَعۡمَلۡ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشۡرِکۡ بِعِبَادَۃِ  رَبِّہٖۤ  اَحَدًا 

ترجمہ : آپ کہ دیجئے کہ میں تو تم جیسا ہی ایک انسان ہوں   ( ہاں )  میری جانب وحی کی جاتی ہے کہ سب کا معبود صرف ایک ہی معبود ہے ،   تو جسے بھی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو ہو اسے چاہیے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت  میں کسی کو   بھی شریک نہ کرے ۔


الجواب (اسد الطحاوی)

یہاں جناب نے آیات کی تشریح کرتے ہوئے شدید دھو کا کھایا جو لائن انکی  گستاخی اور گمراہی پر مبنی ہے ہم اسکو نقل کر کے رد پیش کرتے ہیں۔

موصوف نے ایک جگہ یوں لکھا :

یہاں انبیاء کا اپنے آپ کو ان جیسے انسان کہنے کا مطلب جنس یعنی ذات کے اعتبار سے تھا کہ بشر ہونے میں تو ہم تم جیسے ہی ہیں /طاقت و اختیارات کے اعتبار سے ہم تم جیسے ہی ہیں۔

یہ ا لائن اتنی گمراہی پر مبنی ہے کہ مجھے لگتا ہے یا تو  موصوف کا مطالعہ حدیث بہت ہی قلیل ہے یا تو پھر موصوف  نے سیرت مصطفیٰ کا مطالعہ کیا ہی نہیں آج تک کہ ایسا انسان جسکا عقیدہ یہ ہو کہ نبی پاک ﷺطاقت و اختیارات کے اعتبار سے کفار بشروں جیسے تھے تو اسکو قیامت کے دن نبی کی کیا شفاعت  نصیب ہوگی ؟؟؟

جبکہ صحابہ سمیت ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ نبی پاک تھے تو حقیقی بشر لیکن اپنی بشریت میں بھی وہ یکتا تھے انکی طاقت و اختیار بھی بشریت میں ایسے تھے جو کسی اور بشر کے پاس نہیں بلکہ صحابہ بھی بشریت میں نبیﷺ کے جیسے نہیں تھے آپ نے تو یہ ظلم کیا کہ کفار کے ساتھ اختیارات او ر طاقت میں نبی کو ایک جیسا کر دیا

امام بخاری کی یہ روایات

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ :    نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ    ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ : إِنَّكَ تُوَاصِلُ

 يَاسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : وَأَيُّكُمْ مِثْلِي ،

 إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ ، فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنِ الْوِصَالِ ، وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا ، ثُمَّ يَوْمًا ، ثُمَّ رَأَوْا الْهِلَالَ ، فَقَالَ : لَوْ تَأَخَّرَ لَزِدْتُكُمْ ، كَالتَّنْكِيلِ لَهُمْ حِينَ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا .

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلسل  ( کئی دن تک سحری و افطاری کے بغیر )  روزہ رکھنے سے منع فرمایا تھا۔ اس پر ایک آدمی نے مسلمانوں میں سے عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تو وصال کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مثل تم میں سے کون ہے؟ 

مجھے تو رات میں میرا رب کھلاتا ہے، اور وہی مجھے سیراب کرتا ہے۔ لوگ اس پر بھی جب صوم وصال رکھنے سے نہ رکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دو دن تک وصال کیا۔ پھر عید کا چاند نکل آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر چاند نہ دکھائی دیتا تو میں اور کئی دن وصال کرتا، گویا جب صوم و صال سے وہ لوگ نہ رکے تو آپ نے ان کو سزا دینے کے لیے یہ کہا۔

[صحیح بخاری حدیث نمبر :  1965]

نبی پاکﷺ تو صحابہ کو فرما رہے ہیں تم میں میری مثل کون ہے ؟ کسی صحابیؓ نے تو نہیں فرمایا کہ یا رسول اللہ ہم بھی تو آپ جیسے بشر ہیں آپ بھی قرشی ہیں ہم بھی  ساتھ حضرت علی تھے اہلبیت کے وہ کہہ دیتے آپ تو ہم ایک جیسے ہیں لیکن کسی صحابیؓ نے ایسا جواب نہ دیا کیونکہ مشہور مقولہ ہے کہ صحابی صحابی ہوتا ہے وہابی نہیں  (بطور مزاح)۔تو جناب نے یہ بات بالکل نبی پاکﷺ اور صحابہ کرام ؓکے عقیدے کے بر خلاف لکھی اور چند اور احادیث رسولﷺ بھی پیش کردیتے ہیں کہ نبیﷺ کی بشریت بالکل ہم جیسی نہیں تھی طاقت و اختیارات میں۔

امام بخاری اپنی صحیح میں ایک اور روایت بیان کرتےہیں:

جس میں نبی پاکﷺ حضرت عائشہ سے فرامتے ہیں ـ

اے عائشہ! بے شک میری آنکھیں سوتی ہیں میرا دل نہیں سوتا

اسی وجہ سے انبیاء کا وضوبھی نیند میں نہیں ٹوٹتا ہے

[صحیح بخاری حدیث نمبر : 1096]

کیا اب بھی نبی پاک ﷺبشریت میں طاقت و اختیارات میں کفار کے جیسے تھے ؟ (معاذاللہ)

اور صحیح مسلم  کی روایت میں ہے  

ایک دن رسول نے نماز پڑھائی پھر سلام پھیرا اور فرمایا اے فلاں ! تم اپنی نماز اچھی طرح نہیں پڑھ سکتے ؟

کیا نمازی نماز پڑھتے وقت یہ نہیں دیکھتا کہ وہ نماز کیسے پڑھتا ہے ؟ وہ اپنے لیے نماز پڑھتا اللہ کی قسم! میں اپنے پیچھے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جس طرح سامنے دیکھتا ہوں

[صحیح مسلم حدیث نمبر : 957]

یہی نبی پاک فرماتے ہیں اے عائشہ میں چاہوں تو یہ پہاڑ میرے ساتھ سونا بن کرچلیں

[السلسلہ الصیحیہ، البانی]

الغرض نبی پاک ﷺنے جہاں بھی قرآن میں  اللہ نے انکو فرمایا کہ ان سے کہو میں تم جیسا ہوں اس سے مراد نبی پاکﷺ فقط جنس اور خدوخال میں عام بشریت جیسے ہی ہیں

پھر اسی روایت کے آگے ہیں کہ مجھ پروحی آتی ہے جب وحی آتی ہے تو بالکل ان بشروں جیسے کیسے ہوگئے ؟

جبکہ نبی پاک تو صحابہؓ کو یہ کہتے کہ تم میں میری مثل بھلا کون ہے ؟

ہم کو قرآن یا حدیث سے یہ پیش فرمائیں کہ نبی پاک ﷺنور حسی نہیں یعنی انکو دیکھیں تو نور نظر آئے ایسی نورانیت نبی ﷺمیں نہیں  تھی بس قلبی نورانیت ایمانی تھی اس طرح صریح حدیث پیش کریں  ورنہ ہماری پیش کردہ روایت پر موصوف نے جو باطل تاویل کی ہے اسکا رد ہم نے کر دیا۔

آخر میں موصوف نے کہا کہ : قیامت کے دن مومنین کے ماتھے وغیرہ چمک رہے ہونگے تو جناب من یہاں مومنین کے عضو کی بات ہے کہ وہ چمک رہے ہونگے۔

یہ نہیں کہ مومنین فی ذات نور ہونگے  اگر مومنین کے عضو کا چمکنا اور نبیﷺ کا نور ہونا ایک بات تھی تو نبی کا یہ فرمانے کا مقصد ہی کیا رہا کہ آدم نے مجھے نور دیکھا تو پوچھا یہ کون ہے ؟جب نبی پاکﷺ باقی سب سے جدا تھے اور نور تھے توتبھی  حضرت آدم ؑنےاللہ سے پوچھا کہ یہ کون ہے اسی نور کواللہ نے کہا یہ احمدﷺ ہے یہ نہ کہا کہ یہ نبیﷺ کا دل ہے جس میں نور ایمانی چمک رہا ہے۔

اللہ کے کرم سے ہم نے اس مسلے پر غیر مقلدین اور دیوبندیوں کے عمومی طور پر سب دلائل کا جائزہ تحقیقی طور پر لیا اور اسکا مدلل جواب دیا ہے۔

تحقیق:دعاگواسد الطحاوی الحنفی البریلوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے