اہل بیت نسب
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 5]

اہل بیت کا نسب تا قیامت قائم رہے گا فرمان رسولﷺ کے مطابق!

اہل بیت ہونا ایک ایسی جزوی فضیلت ہے کہ اس نسب کا فائدہ یہ ہے کہ جب قیامت والے دن تمام رشتے منقطع ہو جائیں گے تب بھی اہل بیت کا حضور سے رشتہ قائم ہو دائم رہے گا۔ 

کچھ لوگ صحیح  بخاری سے اہل بیت کے حوالے سے ایک روایت بخاری سے پیش کرتے ہیں:

يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ، فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكِ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا، إِلَّا أَنَّ لَكِ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبَلَالِهَا

جس میں حضور اکرمﷺ کا فرمان ہے ”کہ اے فاطمہؓ خود کو جہنم کی آگ سے محفوظ کرو میں آخرت کے دن تمہارے لیے کسی نفع یا نقصان کا بائث نہیں

[صحیح بخاری]


اہل بیت کے حوالے سے اس روایت کے تعلق سے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے حضرت فاطمہ کو بھی فرما دیا کہ قیامت والے دن میں کام نہ آونگا تو اہل بیت کی کیسی خصوصیت نسب کے حوالے سے ؟ 

امام ابن حبان سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کے تعلق سے مروی روایت کو منسوخ کہنے کا ثبوت :
امام ابن حبان اپنی صحیح میں جب مذکورہ روایت لاتے ہیں
يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ، فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكِ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا، إِلَّا أَنَّ لَكِ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبَلَالِهَا»
جس میں حضور اکرمﷺ کا فرمان ہے ”کہ اے فاطمہؓ خود کو جہنم کی آگ سے محفوظ کرو میں آخرت کے دن تمہارے لیے کسی نفع یا نقصان کا بائث نہیں ۔۔۔’
اسکو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: هَذَا مَنْسُوخٌ، إِنَّ فِيهِ أَنَّهُ لَا يَشْفَعُ لِأَحَدٍ، واخْتِيَارُ الشَّفَاعَةِ كَانَتْ بِالْمَدِينَةِ بَعْدَهُ.
امام ابن حبان کہتے ہیں: یہ حدیث منسوخ ہے کیونکہ اس میں نبی اکرمﷺ کی شفاعت کی نفی ہے جبکہ انکو مدینہ میں شفاعت کا اختیار مل گیا تھا

[صحیح ابن حبان ، برقم:646]


مزید کچھ اجہل یہ بھی کہہ رہے ہوتے ہیں کہ نبی کرمﷺ کا اہل بیت ہونا یعنی فقط رشتے دار ہونا آخرت میں کوئی نفع نہ دیگا۔

تو یہ بات بھی مطلق غلط ہے
کیونکہ جس طرح نبی اکرمﷺ کے اہل بیت ہونے سے عمل و شریعت کا پابند ہونا اور سزا جزا اس پر لاگو ہے اور اسکا مطلق انکار گمراہی ہے۔ویسے ہی نبی اکرمﷺ کے اہل بیت ہونے کی فضیلت کو بخشش کا زریعہ نہ سمجھنا بھی بالکل جہالت و گمراہی ہے۔
جیسا کہ حضرت عمرؓ سے مروی ہے :
امام الآجری ایک روایت بیان کرتے ہیں اپنی سند صحیح مرسل سے :
أنبأنا ابن أبي داود قال: حدثنا إسحاق بن منصور الكوسج قال: حدثنا عبيد الله بن موسى , عن إسرائيل , عن عثمان بن المغيرة , عن محمد بن علي قال: خرج عمر رضي الله عنه إلى الناس فقال: رفئوني بابنة رسول الله صلى الله عليه وسلم , قال: فكأنهم قالوا له , فقال: لقد كانت لي صحبتي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم , ولكني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «كل سبب ونسب منقطع يوم القيامة إلا سببي ونسبي»
امام محمد باقر فرماتے ہیں :
حضرت عمرؓ بن خطاب لوگوں کے پاس آئے اور بولے : نبی اکرمﷺ کی صاحبزادی (یعنی نواسی) سے شادی کے حوالے سے مجھے مبارکباد دیں ۔ لوگوں نے انہیں اس حوالے سے کچھ کہا تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا :میں نے نبی اکرمﷺ کے ساتھ رہاہوں میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت کے دن ہر رشتہ و نسب منطقع ہو جائے گا البتہ میرے رشتہ اور میرے نسب کا معاملہ مختلف ہوگا۔
اس روایت کے سارے رجال ثقہ ہیں امام محمد باقر تک ۔ لیکن انہوں نے حضرت عمر کا دور نہیں پایا لیکن امام محمد باقر سے ثابت ہو گیا کہ وہ نسب اور نبی اکرم کے باقی رشتہ داوروں کے بھی فضیلیت کے قائل تھے۔
اس روایت کو متصل اور صحیح سند سے امام طبرانی نے بیان کیا ہے جو درج ذیل ہے :
حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي، ثنا الحسن بن سهل الحناط، ثنا سفيان بن عيينة، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جابر، قال: سمعت عمر بن الخطاب رضي الله عنه يقول: ” سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «ينقطع يوم القيامة كل سبب ونسب إلا سببي ونسبي»
]المعجم الكبير برقم: 2635[
اور امام ہیثمی اس روایت کے باے حکم لگاتے ہوئے کہتے ہیں :
رواه الطبراني في الأوسط والكبير باختصار، ورجالهما رجال الصحيح، غير الحسن بن سهل وهو ثقة.
[مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، برقم: 15019]

اس سے معلوم ہوا کہ نبی اکرمﷺ کے اہل بیت کی طرح نبی اکرمﷺ کے رشتہ دار جو بنے انکو بھی فضیلت حاصل ہوگی اور اسکا فائدہ انکو قیامت کے دن بھی ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے