نبی کریمﷺ نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے تھے۔

نماز کے بعد دعا کرنا سنت
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 5]

نبی کریمﷺ  نمازسے فارغ ہونے کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے، امام طبرانی کی اس روایت پر غیر مقلدین کے اعتراضات کا مدلل رد

ازقلم : اسد الطحاوی الحنفی البریلوی

نبی اکرم جب نماز سے فارغ ہوتے تو دعا کرتے

نبی اکرمﷺ نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کیا کرتے تھے۔ اور یہ رسولﷺ کی عمومی سنت ہے۔ اور یہی سنت متقدمین سے متاخرین تک چلی آرہی ہے۔ کہ لوگ باقائدہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے ہیں۔ لیکن کچھ اجہل قوم ایسی بھی پیدا ہو گئی ہے جو اس امر پر بھی بدعت کا اطلاق کرتی ہے۔ 

یعنی اللہ سے مانگنا بھی انکے نزدیک بدعت ہے۔ تو پھر یہ توحید کس منہ سے بیان کرتےہیں؟

امام طبرانی المعجم الکبیر میں اپنی سند سے بیان کرتے ہیں  :

حدثنا سليمان بن الحسن العطار، قال: حدثنا أبو كامل الجحدري، قال: حدثنا الفضيل بن سليمان، قال: حدثنا محمد بن أبي يحيى، قال: رأيت عبد الله بن الزبير ورأى رجلا رافعا يديه بدعوات قبل أن يفرغ من صلاته، فلما فرغ منها، قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يكن يرفع يديه حتى يفرغ من صلاته

امام محمد بن ابی یحییٰ فرماتے ہیں : میں نے عبداللہ بن زبیر کو دیکھا اور ایک آدمی دیکھا جو نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ہاتھ آٹھائے ہوئے تھے اور دعا کر رہا تھا چنانچہ جب وہ نماز سے فارغ ہوگیا تو اسے عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: یقینن نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے یہاں تک کہ نماز سے جب فارغ ہو جاتے ۔

[المعجم الکبیر للطبرانی برقم: 324 ]

یعنی نماز سے فارغ ہونے کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے تھے ۔

اس حدیث پر غیر کے مقلدین کے دو اعتراضات وارد ہیں :

  1محمد بن ابی یحیی اور عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے درمیان  انقطاع ہے، کیونکہ غالب گمان یہی ہے کہ محمد نے ابن زبیر سے سنا ہی نہیں ہےاس لیے کہ محمد بن ابی یحیی کی وفات 144 ھ میں ہے، اور عبد اللہ بن زبیر کی وفات 72 ھ میں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ حافظ ابن حجر  نے "التهذيب” (5/310) میں یہ کہا ہے کہ : محمد بن ابی یحیی  کی ایک روایت کی نسبت عبد اللہ  بن زبیر  یا کسی اور صحابی سے کی جاتی ہے، پھر ابن حجر نے یہ بالجزم کہا ہے کہ  محمد بن ابی یحیی  تابعین سے ہی روایت  کرتا ہے، پھر  کچھ تابعین کے نام ذکر بھی کیے۔

اس سے یہ بات مزید پختہ ہو جاتی ہے کہ سند میں انقطاع ہے، اور کچھ راویوں نے درمیان میں سے راوی کو گرا دیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ شیخ بکر ابو زید رحمہ اللہ کہتے ہیں:

اس حدیث کی سند میں محمد بن ابی یحیی اسلمی اور  عبد اللہ بن زبیر کے درمیان انقطاع ہے” انتہی

(تصحیح الدعاء ص/440)

  2فضیل بن سلیمان کو بہت سے ائمہ کرام نے ضعیف قرار دیا ہے، مثلاً:  ابن معین، عبد الرحمن بن مہدی، نسائی، اور دیگر ائمہ کرام۔

انکی گفتگو جاننے کیلئے  دیکھیں

(تهذيب التهذيب4/481)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ  نے اپنی کتاب "تقريب التهذيب” (5462) میں علمائے کرام کی گفتگو کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے اسے ضعیف ہی لکھا ہے، چنانچہ کہا: ” صدوق له خطأ كثير ” [یہ راوی صدوق ہے لیکن اس کی غلطیاں بہت زیادہ ہیں] انتہی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الجواب (اسد الطحاوی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پہلے اعتراض کا جواب :

جب روایت میں محمد بن ابی یحییٰ نے خود تصریح کر رکھی ہے کہ انہوں نے حضرت زبیر اور دوسرے شخض جو نماز پڑھ رہا تھا اسکو دیکھا اور اس روایت کے بنیادی راوی اس واقعے کا مشاہدہ کرنے والے ہیں

جب ثقہ راوی خود رائت کہہ کر تصریح کر رہا ہے پھر یہ کہنا کہ غالب گمان یہ ہے کہ سنا نہیں زبیر سے یہ اصول حدیث سے جہالت اور سینہ زوری ہے اور دوسری کسی نے اگر انکا صحابہ سے سماع ہونے کی نفی کی ہے تو یہ بات بھی دلائل کے خلاف ہے جیسا کہ امام ابن حجر سے یہ بات منسوب کی گئی ہے

جبکہ ہم خود امام ابن حجر سے ثبوت پیش کرتے ہیں کہ انکا صحابی سے سماع ثابت ہے

محمد” بن أبي يحيى الأسلمي أبو عبد الله المدني واسم أبي يحيى سمعان روى عن أبيه وأمه ويزيد الأعور و* يوسف بن عبد الله بن سلام* وعباس بن سهل بن سعد وعكرمة مولى بن عباس وسالم بن عبد الله بن عمر وغيرهم وعنه أبناه إبراهيم وعبد الله الملقب بسحيل وحفص بن غياث وأبو ضمرة ويحيى القطان وابن وهب وغيرهم قال العجلي مدني ثقة وقال الآجري سألت أبا داود عن سحيل فقال ثقة وسئل أبو داود عن أبيه فقال أبوه ثقة وعمه أنيس ثقة ذكره ابن حبان في الثقات وقال مات سنة سبع وأربعين ومائة وقال أبو نعيم الأصبهاني مات سنة ست وأربعين ومائة قلت وقال أبو حاتم تكلم فيه يحيى القطان وقال بن شاهين فيه لين قاله في ترجمة محمد بن عبد الله بن جحش من كبار الصحابة وقال الخليلي ثقة

[تہذیب التہذیب برقم: 856]

 

امام ابن حجر عسقلانی امام محمد بن ابی یحییٰ الاسلمی کے شیوخ میں یزید الاعور ، اور صحابی یوسف بن عبداللہ بن سلام  کا نام لکھا ہے اسکے علاوہ کبیر تابعین کا نام لکھا ہے جو ۱۰۰ ھ کے آس پاس فوت ہوئے حضرت یوسف بن عبداللہ بن سلام کے صحابی ہونے کی دلیل بھی امام ابن حجر سے پیش کرتے ہیں ـ

امام ابن حجر عسقلانی الاصابہ میں لکھتے ہیں :

يوسف بن عبد اللَّه بن سلام بن الحارث الإسرائيلي رأى النبيّ صلّى اللَّه عليه وآله وسلّم وهو صغير، وحفظ عنه، وحديثه عنه في سنن أبي داود وجامع الترمذي، من طريق يزيد بن الأعور، قال: رأيت النبيّ صلّى اللَّه عليه وآله وسلّم وضع تمرة على كسرة، وقال: هذه إدام هذه .وعند التّرمذيّ من وجه آخر عنه، قال: سمّاني رسول اللَّه صلّى اللَّه عليه وآله وسلّم يوسف. روى يوسف أيضا عن أبيه وعثمان وعمر وعليّ وغيرهم. ونقل ابن أبي حاتم أنه قال لأبيه: ذكر البخاري أنّ ليوسف صحبة، فقال أبي: لا، له رؤية. انتهى.

وكلام البخاريّ أصحّ. وقد قال البغويّ: روى عن النبيّ صلّى اللَّه عليه وآله وسلّم.

وذكره ابن سعد في الطّبقة الخامسة من الصّحابة. وذكره جماعة ممن ألف في الصّحابة،

یعنی یوسف بن عبداللہ بن سلام یہ انہوں نے نبی پاک کو دیکھا ہے اور امام بخاری نے فرمایا کہ یہ نبی پاک کی زندگی میں پیدا ہوئے

اور امام ابو زرعہ کہتے ہیں یہ صحابی نہیں۔

لیکن امام ابن حجر کہتے ہیں امام بخاری کی بات صحیح ہے اور حضرت یوسف بن عبداللہ بن سلام صحابی رسول ﷺ ہے۔

[الاصابہ فی تمیز صحابہ برقم: 9396]

تو ہم نے تو صحابی سے انکا سماع ثابت کر دیا تو حضرت عبداللہ بن زبیر سے انکا سماع کیسے نا ممکنات میں سے ہے ؟ جبکہ وہ خود دعویٰ کر رہے ہیں حضرت عبداللہ بن زبیر کو دیکھنے کا ورنہ ثقہ راوی پر کذب بیانی ثابت ہو جائے گی

اور امام ابن حجر نے امام محمد بن یحییٰ کی وفات 144ھ لکھی ہے۔

اور صحابی رسول حضرت عبداللہ بن زبیر کی وفات 82ھ ہے اسکا مطلب اگر امام محمد بن ابی یحییٰ 60ھ میں بھی پیدا ہوئے ہوں تو انکی وفات کی تاریخ 144ھ کے مطابق انکی عمر 84 سال بنتی ہے یعنی جب حضرت عبداللہ بن زبیر 72ھ کو فوت ہوئے ہوں تو اس وقت12سال عمر بنتی ہے

تو سماع تو ثابت ہوتا ہے۔

کیونکہ محدثین کے نزدیک کم سے  کم عمر 5سال متعین کی گئی ہے۸۴ سال کوئی اتنی عمر زیادہ نہیں ہے جو ممکن نہ ہو ایک راوی کی عمر۔ اس سے مذکورہ باب”نبی کریمﷺ نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے تھے۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۔ دوسرا اعتراض کہ اس سند میں موجود راوی فضیل بن سلیمان الاسلمی پر ابن حجر نے تقریب میں صدوق کہہ کر کثیر الخطاء کی جرح کر رکھی ہے تو راوی ضعیف ہے جسکی وجہ سے مذکورہ روایت نبی کریم نمازسے فارغ ہونے کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے تھے ثابت نہیں ہوتی۔

الجواب(اسد الطحاوی)

امام ذھبی تاریخ الاسلام میں فضیل راوی پر جروحات لکھ کر آخر میں انکا رد کرتے ہوئے کہتے ہیں میں کہتا ہوں : فضیل سے ایک جماعت نے احتجاج کیا ہے

فضيل بن سليمان النّميريّ

أبو سليمان البصريّ.روى عن: أبي حازم الأعرج، وعمرو بن أبي عَمْرو، وموسى بن عُقْبة، وخَيْثم بن عراك، وطبقتهم.

وعنه: عليّ بن المدينيّ، وخليفة بن خيّاط، وأحمد بن عَبْدة، وأحمد بن المقدام، ونصر الْجَهْضَميّ، والفلاس، ومحمد بن موسى الحَرَشيّ، وآخرون.

قال أبو حاتم: ليس بالقوي.وقال ابن معين: ليس بثقة، رواه عبّاس الدُّوريّ، عنه.وقال أبو زُرْعة: لين وقال النَّسائيّ : بصري، ليس بالقويّ.

قلت: قد احتجّ به الجماعة

مات سنة إحدى أو اثنتين وثمانين، وقيل سنة ستٍّ وثمانين ومائة

[تاریخ السلام ، امام ذھبی  برقم: 293]

متشدد امام ابن حبان کی توثیق

(یہ یاد رہے امام ابن حبان مجہولین کی توثیق میں اپنے منہج کی وجہ سے متساہل ہیں جبکہ معروف راویان کی توثیق مین متشدد ہیں تو انکی توثیق معروف راویان میں حجت ہے )

فضيل بن سليمان النميري كنيته أبو سليمان من أهل البصرة يروي عن أبي حازم وموسى بن عقبة روى عنه أهل البصرة مات سنة

[لثقات ، ابن  حبان برقم: 10248]

امام ذھبی نے فضیل راوی کو اپنی مشہور تصنیف ذکر اسما؍ء من تکلم فیہ  ھو موثق میں بھی درج کر کے صدوق قرار دیا ہے۔

کیونکہ اس کتاب کے مقدمے میں تصریح کی ہے کہ اس کتاب میں ایسے راویان ہیں جن پرجروحات ہیں لیکن انکی حدیث صحیح کے درجے میں تو نہیں آتی لیکن حسن درجے سے کم بھی نہیں ہے

فضيل بن سليمان النميري

وثق ولينه أبو زرعة وقال يحيى ليس بثقة

[ذكر أسماء من تكلم فيه وهو موثق،  برقم: 275 امام ذھبی ]

امام ذھبی میزان الاعتدال میں فرماتے ہیں کہ فضیل کی روایات کتب ستہ میں موجود ہے اور یہ صدوق درجے کا راوی ہے۔

فضيل بن سليمان النميري البصري.

عن منصور بن صفية، وعمرو بن أبي عمرو، وموسى بن عقبة.وعنه ابن المديني، والفلاس، وعدة.وحديثه في الكتب الستة، وهو صدوق.وقال أبو حاتم: ليس بالقوي.وقال ابن معين: ليس بثقة.

رواه عباس الدوري عنه.

وقال أبو زرعة: لين، وساق ابن عدي له أحاديث فيها غرابة.

[میزان الاعتدال ،  برقم: 6767الذھبی]

امام ابن حجر کا اسکی توثیق کی طرف فیصلہ!

امام ابن حجر لسان المیزان میں  اسکے نام کے ساتھ (صح) کا صیغہ استعمال کرتے ہوئے یہ فیصلہ دیا ہے کہ اس پر جو بھی جرح کی گئی ہے بغیر دلیل کے کی گئی ہے

(ع) (صح) فضيل بن سليمان النميري (3: 361/ 6767)

=========

[مفتاح رموز الأسماء التي حذف ابن حجر ترجمتها من الميزان اكتفاءً بذكرها في تهذيب الكمال]

رموز التهذيب: (خ م س ق د ت ع 4 خت بخ ف فق سي خد ل تم مد كن قد عس)، ثم (صح) أو (هـ):

******* (صح): ممن تكلم فيه بلا حجة.* ***

(هـ): مختلف فيه والعمل على توثيقه.

-ومن عدا ذلك: ضعيف على اختلاف مراتب الضعف.

-ومن كان منهم زائدا على من اقتصر عليه الذهبي في "الكاشف” ذكر ابن حجر ترجمته مختصرة لينتفع بذلك من لم يحصل له تهذيب الكمال.

[لسان الميزانب برقم: 2210 ]

امام ذھبی کی امام مسلم سے توثیق :

– فضيل بن سليمان النميري: قال ابن معين: ليس بثقة، وقال أبو زرعة: لين الحديث، وقال النسائي: ليس بالقوي،

 ووثقه مسلم.

امام ذھبی فرماتے ہیں امام ابن معین نے ثقہ کی نفی کی ہے اور ابو زرعہ نے معمولی کمزور قرار دیا امام نسائی نے بھی اور امام مسلم نے ثقہ قرار دیا ہے۔

[دیوان الضعفاء ،  برقم: 3389امام ذھبی ]

امام ابن حجر نے مقدمہ ہدی الساری میں ان پر تعدیل اورجروحات دونوں نقل کرتے ہیں پہلے :

فُضَيْل بن سُلَيْمَان النميري أَبُو سُلَيْمَان الْبَصْرِيّ

قَالَ السَّاجِي كَانَ صَدُوقًا وَعِنْده مَنَاكِير

 وَقَالَ عَبَّاس الدوري عَن بن معِين لَيْسَ بِثِقَة

وَقَالَ أَبُو زرْعَة لين الحَدِيث

 روى عَنهُ عَليّ بن الْمَدِينِيّ وَكَانَ من المتشددين

وَقَالَ أَبُو حَاتِم يكْتب حَدِيثه وَلَيْسَ بِالْقَوِيّ

وَقَالَ النَّسَائِيّ لَيْسَ بِالْقَوِيّ

 قلت روى لَهُ الْجَمَاعَة

 

امام ابن حجر فرماتے ہیں :

کہ امام ساجی نے کہا صدوق ہے

(لیکن مناکیر ہیں اس میں )

امام ابن معین (متشدد) کہتے ہیں ثقہ نہیں

امام ابو زرعہ کہتے ہیں حدیث مین معمولی کمزوری ہے

پھر امام ابن حجر کہتے ہیں

ان سے امام علی بن مدینی نے روایت کیا ہے اور وہ متشددین میں سے ہیں

یعنی ابن حجر یہاں ابن مدینی سے ضمنی توثیق پیش کر رہے ہیں

امام نسائی سے نقل کرتے ہیں کہ وہ اسکو قوی (یعنی ثبت ) نہیں کہتے۔

یہ یاد رہے امام نسائی کا لیس بالقوی کسی کو کہنا اسکی مطلق تضعیف نہیں ہوتی بلکہ وہ ایسے راوی کی اعلیٰ درجے کی توثیق کی نفی کرتے ہیں۔

یعنی امام نسائی کے نزدیک جو راوی صدوق ہو اسکو لیس بالقوی کہہ دیتے ہیں کیونکہ وہ بھی متشدد امام تھے

امام نسائی نے اپنی صحیح سنن میں کئی روات جنکو لیس بالقوی بولا ہے اس سے روایت لی ہے نیز یہ ہلکی پھلکی جرح ہے جیسا کہ خود امام ابن حجر ہدی الساری مقدمہ فتح الباری میں فرماتے ہیں :

ایک راوی کے ترجمے میں :

الْحسن بن الصَّباح الْبَزَّار أَبُو عَليّ الوَاسِطِيّ

وَثَّقَهُ أَحْمد وَأَبُو حَاتِم

وَقَالَ النَّسَائِيّ صَالح وَقَالَ فِي الكنى لَيْسَ بِالْقَوِيّ قلت هَذَا تليين هَين

ایک راوی الحسن بن صباح کے بارے ابن حجر امام نسائی سے اسکے بارے میں نقل رکتے ہیں صالح یعنی نیک تھا اور الکنی میں امام نسائی فرماتے ہیں کہ یہ قوی نہیں تھا

اس جرح کو نقل کرنے کے بعد امام ابن حجر فرماتے ہیں :

قلت یعنی میں کہتا ہوں امام نسائی کا لیس بالقوی کہنا یہ بہت ہلکی پھلکی جرح ہے یعنی ترک کرنے کے لائق نہیں ہے۔

[ہدی الساری مقدمہ فتح الباری ، ص ۳۹۷]

اسکے بعد وہابیہ کا امام ابن حجر سے تقریب میں صدوق لا خطاء کثیرہ پر استدلال کرنا جہالت ہے۔

کیونکہ کئی ثقات صحیحین کی راویان پر محدثین نے کثیر الخطاء کی جروحات کی ہوئی ہیں ہر جگہ کثیر الخطاء جرح کو قبول نہیں کیا جاتا۔اور یہ جرح متقدمین میں سے کسی نے بھی نہیں کی ہے سوائے ابن حجر کے جبکے اسکے مخالف اپنی دو تصانیف میں توثیق پر فیصلہ دیا ہوا ہے امام ضیاء المقدسی نے بھی فضیل بن سلیمان کی روایات کی تخیریج کی ہے اپنی مشہور تصنیف :

الأحاديث المختارة أو المستخرج من الأحاديث المختارة مما لم يخرجه البخاري ومسلم في صحيحيهما

میں :اصول اور تحقیقا یہ راوی صدوق ہی ہے جیسا کہ امام ذھبی نے اپنا فیصلہ دیا ہے

اسی طرح اس راوی کی توثیق کی ہے

  1. امام ابن حبان (متشدد ) نے

  2. امام نسائی نے صدوق درجے کی توثیق کی ہے لیس بالقوی کہہ کر

  3. امام علی بن مدینی نے ان سے روایت کیا ہے

  4. امام مسلم نے اسکو ثقہ قرار دیا ہے (بقول امام ذھبی )

  5. امام ذھبی نے اسکو ثقہ قرار دیا ہے

  6. امام ساجی نے صدوق قرار دیا ہے

  7. امام ضیاء المقدسی نے اسکی روایت کی تخریج کی ہے امام مسلم  (نے احتجاج میں )اور امام  بخاری نے متابعت میں روایت لی ہے ۔

  8. امام ہیثمی نے مجمع الزوائد میں انکی توثیق کی ہے۔

اس تحقیق سے معلوم ہوا یہ راوی صدوق کے درجے سے بالکل نیچے نہیں گرتا اور وہابیہ کا امام ابن حجر کے تسامع پر اس راوی کو ضعیف قرار دینا انکی کم علمی ہے۔

اب آتے ہیں اس حدیث کی تصحیح کی طرف :

امام ضیاء المقدسی نے اسی حدیث کو اپنی تصنیف المختارہ میں تخریج کر کے تصحیح کی ہے

۱۔ امام ضیاء المقدسی

مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى الأَسْلَمِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ

– وَبِهِ أبنا سُلَيْمَانُ الطَّبَرَانِيُّ ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ ثَنَا أَبُو كَامِل الجحدري ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى قَالَ رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَرَأَى رَجُلا رَافِعًا يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلاتِهِ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْهَا قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ صلَاته

[لأحاديث المختارة أو المستخرج من الأحاديث المختارة مما لم يخرجه البخاري ومسلم في صحيحيهما برقم: 303]

۲۔ امام ہیثمی کی تصحیح

– وعن محمد بن [أبي] يحيى قال: رأيت عبد الله بن الزبير، ورأى رجلا رافعا يديه يدعو قبل أن يفرغ من صلاته، فلما فرغ منها قال: «إن رسول الله – صلى الله عليه وسلم – لم يكن يرفع يديه حتى يفرغ من صلاته» . رواه الطبراني، وترجم له فقال: محمد بن أبي يحيى الأسلمي، عن عبد الله بن الزبير، ورجاله ثقات.

[مجمع الزوائد ،  برقم: 17345 امام ہیثمی ]

۳۔ امام جلال الدین السیوطی

انہوں نے پورا رسالہ لکھا ہے اس مسلے پر اور اس مطلوبہ روایت کو بیان کرکے فرماتے ہیں وہ رجالہ ثقات :

حَدِيث عبد الله بن الزبير رَضِي الله عَنهُ قَالَ ايضا

عَن مُحَمَّد بن يحيى الْأَسْلَمِيّ قَالَ رَأَيْت عبد الله بن الزبير وَرَأى رجلا رَافعا يَدَيْهِ يَدْعُو قبل أَن يفرغ من صلَاته فَلَمَّا فرغ مِنْهَا قَالَ ان رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم لم يكن يرفع يَدَيْهِ حَتَّى يفرغ من صلَاته رجال ثِقَات

[فض الوعاء في أحاديث رفع اليدين بالدعاء، امام جلالد الدین السیوطی برقم : ۴۲]

۴۔ غیر مقلد مباکپوری کی تصحیح :

هو في الصلاة ألا ترى أن عبد الله بن الزبير رأى رجلا رافعا يديه يدعو قبل أن يفرغ من صلاته فلما فرغ منها قال إن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يكن يرفع يديه حتى يفرغ من صلاته رواه الطبراني ورجاله ثقات

[تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي جلد ۲، ص ۱۰۰، المبارکپوری ]

ان میں سے کسی بھی شارح نے اس روایت میں نہ ہی انقطاء کی علت پیش کی ہے اور نہ ہی اصولا علت ثابت ہوتی ہے۔

اس تحقیق سے ثابت ہوا کہ نبی پاک اپنی نماز سے فارغ ہونے کے بعد ہاتھ آٹھا کر اللہ سے دعا کرتے تھے اور یہی عمل صحابی رسول ﷺ عبداللہ بن الزبیر نے نبی پاک کا عمل بیان کیا ہے۔

پس مذکورہ روایت ”نبی کریمﷺ نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے تھے۔” صحیح ہے اور ائمہ کی تحسین و تصحیح پر اتفاق ہے۔

لیکن وہابی کی قسمت دیکھو یہ مسلمانوں کو دعا کے بعد بھی اللہ سے نہیں مانگنے دیتے اور ہم مفت میں انکو اولیا اللہ سے استغاثہ پر دلائل دیتے ہیں جب یہ اللہ سے مانگنے کو بدعت قرار دیتے ہو تو انکو اولیا اللہ سے کیا سروکار
اللہ سب مسلمین کو ان غیر کے جاہل مقلدوں کے فتنے سے بچائے آمین۔
تحقیق : دعاگو اسد اطلحاوی الحنفی البریلوی

 

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے