نبی کو قبر میں روح لٹا دی جاتی ہے مذکورہ روایت پر تحقیق

قبور میں زندہ
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 2 Average: 3]

نبی کو قبر میں روح لٹا دی جاتی ہے۔  اس پر ایک غیر مقلد کے اعتراضات کے مدلل جوابات

تحقیق: اسد الطحاوی الحنفی البریلوی

نبی کو قبر میں روح  لٹا دی جاتی ہیں:  اور وہ  دنیاوی زندگی سے زیادہ طاقتور زندگی جیتے ہیں۔ اور یہ اہلسنت کے عقائد میں سے ہے۔ کہ اللہ انبیاء کو انکی روحیں قبور میں واپس لٹا دیتا ہے۔ اور وہ اللہ کی عبادت کرتے ہیں ۔ اور ان پر انکے امتیوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔ جیسا کہ فرمان رسول ﷺ ثابت ہے۔

وہابی مذکورہ صحیح روایات ”نبیﷺ کو قبر میں روح  لوٹا دی جاتی ہے” پر جو فضول اعتراضات کرتے ہیں ان شاء اللہ ہم ان سب اعتراضات کے مدلل تحقیقی جواب پیش کرینگے۔

سلفی نے جو اعتراضات نقل کیے ہیں ا س روایت پر وہ ہم باری باری نقل کر کے رد کرتے ہیں :

اعتراض:

مذکورہ بالا حدیث ضعیف ہے اور اس میں کچھ علتیں ہیں :

اول: روایت ابو داؤد جلد۱ ص ۳۸٤ میں محمد بن عوف سے مروی ہے– ذہبی کہتے ہیں کہ یہ محمد بن عوف سلیم بن عثمان سے روایت کرتا ہے اور یہ مجہول الحال ہے۔ میزان الاعتدال جلد ۳ ص ۳۸٦:

الجواب (اسدالطحاوی) :

 محمد بن عوف جو کہ شیخ ہے امام ابو داود اور امام ابن ابی حاتم و ابو زرعہ اور امام ابو حاتم  وغیرہ  کااور  یہ ثقہ صدوق راوی ہے اس کی تعدیل درج ذیل ہے

جناب نے پہلے یہ دھوکا دینے کی کوشش کی ہے کہ امام ذھبی نے اسکو مجہول الحال قرا ر دیا جبکہ یہ محمد بن عوف اور ہے وہ نہیں

  محمد بن عوف.

عن سليم بن عثمان.

مجهول الحال.

[میزان الاعتدال برقم: 8030]

جبکہ امام ذھبی نے محمد بن عوف الطائی جو کہ مذکورہ روایت ” نبی کو قبر میں روح لٹا دی جاتی ہے” کا راوی ہےاسکی توثیق و مداح درج ذیل ہے:

۱۔امام ذھبی العبر میں انکے بارے فرماتے ہیں :

وفيها محمد بن عوف بن سليمان بن سفيان، أبو جعفر الطائي الحافظ، محدث حمص، سمع محمد بن يوسف الفريابي وطبقته. وكان من أئمة الحديث

کہ محمد بن عوف ائمہ حدیث میں سے ہیں

[العبر للذھبی  ، جلد ۱ ، ص ۳۹۳]

الکاشف میں فرمایا :

محمد بن عوف الطائي الحافظ سمع الفريابي وعبيد الله بن موسى وعنه أبو داود وأبو زرعة وخيثمة توفي 272 د

یہاں امام ذھبی نے فرمایا کہ ان سے امام ابو داود  ، امام ابو زعہاور اما م خثیمہ نے روایت کیا ہے

[الکاشف برقم: 5098]

نبی کو قبر میں روح لٹا دی جاتی ہے مذکورہ روایت کے مرکزی راوی کو تذکرہ الحفاط میں امام ذھبی درج کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

 محمد بن عوف بن سفيان الحافظ الإمام أبو جعفر الطائي الحمصي محدث الشام:

سمع عبيد الله بن موسى والفريابي وأبا المغيرة وأبا مسهر وآدم بن أبي إياس وعبد السلام بن عبد الحميد السكوني وخلقا. حدث عنه أبو داود وابن جوصاء وعبد الرحمن ابن أبي حاتم وخيثمة بن سليمان وعبد الغافر بن سلامة وآخرون. قال ابن عدي: هو عالم بحديث الشام الصحيح منه والضعيف وعليه كان اعتماد ابن جوصاء ومنه يسأل حديث أهل حمص خاصة قلت: قد وثقه غير واحد وأثنوا على معرفته ونبله وقد سمع منه أحمد بن حنبل حديثا حدثه به عن والده. توفي في وسط سنة اثنتين وسبعين ومائتين

امام ذھبی کہتے ہیں : کہ امام ابن عدی کہتے ہیں یہ شام کے حدیث کے عالم تھے اور میرے نزدیک صحیح ہیں ان میں ضعف کی بات کی  گئی ہے (صیغہ مجہول)آگے امام ذھبی لکھتے ہیں اور ان پر اعتماد کیا ہے ابن جوصا   نے اور میں کہتا ہوں (امام ذھبی)  انکو بے شمار لوگوں نے ثقہ قرار دیا ہے اور انکی تعریف کی ہے اور ان سے امام احمد نے روایت بیان کی ہے (انکے شیوخ عام طور پر ثقہ ہوتے ہیں )

[تذکرہ الحفاظ للذھبی برقم: 606- 58/ 9]

اور سیر اعلام النبلاء میں انکی زبردست توثیق کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

محمد بن عوف

ابن أحمد بن محمد بن عبد الرحمن، الإمام المحدث الحجة، أبو الحسن المزني الدمشقي. وكان تكنى قديما بأبي بكر، فلما منعت الدولة العبيدية من التكني بذلك، تكنى بأبي الحسن.

محمد بن عوف الامام ، المحدث الحجتہ  یعنی یہ امام محدث اور حجت ہیں

[سیر اعلام النبلاء للذھبی برقم: 3998]

یہ جواب ہو گیا امام ذھبی سے انکو مجہول قرار دینے کے جواب  اب انکی تعدیل مذید بیان کرتے ہیں جمہور محدثین سے۔ یعنی غلط راوی کا تعین کرکے جان بوجھ کر مذکورہ روایت ”نبی کو قبر میں روح لٹا دی جاتی ہے” کو ضعیف ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔

۲۔ امام خلیلی سے توثیق:

– حَدَّثَنِي جَدِّي، وَعَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْفَقِيهُ، وَالْقَاسِمُ بْنُ عَلْقَمَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْحُنَيْنِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ طَحْلَاءَ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ بُيُوتِكُمْ بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ مُكْرَمٌ» تَفَرَّدَ بِهِ الْحُنَيْنِيُّ , عَنْ مَالِكٍ , وَالْحَدِيثُ صَحِيحٌ

امام خلیلی نے امام ابن ابی حاتم سے محمد بن عوف کی روایت بیان کر کے کہتے ہیں یہ حدیث صحیح ہے

اور یادرہے امام ابن ابی حاتم اپنے نزدیک صرف ثقہ سے روایت کرتے ہیں مذید انکی صریح توثیق آگے آرہی ہے

[الإرشاد في معرفة علماء الحديث برقم ۱۱۱، امام خلیلی]

۳۔ امام ابن حبان سے توثیق:

محمد بن عوف بن سفيان الطائي أبو عبد الله من أهل حمص يروي عن أبي عاصم وعبيد الله بن موسى وأهل الكوفة حدثنا عنه بن فضيل وأهل الشام وكان صاحب حديث يحفظ

ابن حبان کہتے ہیں : محمد بن عوف وہ صاحب حدیث اور حفظ کرنے والے تھے۔

[الثقات لا ابن حبان برقم ۱۵۶۵۹]

۴۔ امام ابن ابی حاتم  

۶۔ امام ابو زرعہ سے توثیق:

– محمد بن عوف بن سفيان الحمصى الطائى روى عن مروان بن محمد الطاطرى واسماعيل بن عبد الكريم الصنعانى وعبد الله بن يزيد المقري واسحاق بن ابراهيم الحنينى وعصام بن خالد روى عنه أبي وأبو زرعة وكتبت عنه.

نا عبد الرحمن قال سئل أبي عنه فقال: صدوق

[الجرح والتعديل لا ابن ابی حاتم برقم: 241]

۸:امام  صلاح الدين خليل بن أيبك

۹:امام  الکنانی سے توثیق :

ابْن عَوْف

الْحَافِظ الطَّائِي مُحَمَّد بن عَوْف الْحِمصِي الْحَافِظ أَبُو جَعْفَر الطَّائِي روى عَنهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ وَكَانَ عَلَيْهِ اعْتِمَاد ابْن جوصاء وَأثْنى عَلَيْهِ غير وَاحِد توفّي سنة اثْنَتَيْنِ وَسبعين وَمِائَتَيْنِ

قَالَ أَحْمد بن حَنْبَل مَا كَانَ بِالشَّام مُنْذُ أَرْبَعِينَ سنة مثله حدث عَن هِشَام بن عمار وطبقته وَاتَّفَقُوا على فَضله وَصدقه وثقته

الْمُزنِيّ مُحَمَّد بن عَوْف بن أَحْمد بن عبد الرَّحْمَن أَبُو الْحسن الْمُزنِيّ الدِّمَشْقِي كَانَ يكنى قَدِيما بِأبي بكر فَلَمَّا منعت الدولة التكني بِأبي بكر تكنى بِأبي الْحسن قَالَ الْكِنَانِي كَانَ ثِقَة نبيلاً توفّي سنة إِحْدَى وَثَلَاثِينَ وَأَرْبع مائَة

امام ابن ایبک نے ثقہ قرار دیا اور امام الکنانی سے بھی ثقہ بیان کیا اور امام احمد انکی تعریف کرتے انکے علم اور جلالت کی وجہ سے

[الوافي بالوفيات امام ابن ائبک برقم:۳]

امام ابن ابی حاتم کہتے ہیں ان سے میرے والد یعنی امام ابی حاتم اور امام ابو زرعہ نے لکھا ہے میرے والد سے پوچھا گیا انکے بارے میں فرمایا یہ صدوق ہے

(یاد رہے امام ابی حاتم متشدد ناقدین میں سے ہیں )

۱۰ محدثین سے توثیق پیش کرنے پر جناب اسکو مجہول قرار دینے سے رجوع کرتے ہوئے عوام سے معافی مانگنی چاہیے کہ انہوں نے فقط رجال میں مہارت نہ ہونے پر ایک ثقہ راوی کو مجہول قرار دے دیا

جس سے وہابیہ کا یہ اعتراض کہ نبی کو قبر میں روح لٹا دی جاتی ہے اسکا راوی مجہول ہے ۔ یہ اعتراض باطل ہوا جبکہ جمہور محدثین نے مرکزی راوی کی توثیق کر رکھی ہے۔ تو الحمداللہ سندا مذکورہ روایت کہ نبی کو قبر میں روح لٹا دی جاتی ہے ۔ بالکل صحیح اور ثابت ہے۔


اب چلتے ہیں اسکے اور اعتراضات پر :

سلفی میاں لکھتا ہے:

دوم: صلوٰۃ وسلام دراصل اللہ سے نبیؐ کریم کیلئے رحمت کی دعا ہے اور دعا جس کیلئے بھی کی جائے وہ اللہ کے حضور ہی جاتی،جس کے حق میں دعا کی جاتی ہے اسکے پاس کبھی دعا نہیں جاتی۔ دعا ایک عبادت ہے جیسے ہم نماز میں تشہد کے دوران پڑھتے ہیں(جیسا کہ نبی مکرم نے سکھایا) -التحیات للہ والصلوٰت و الطیبٰت: تمام زبانی عبادتیں اور تمام بدنی عبادتیں اور تمام مالی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں

الجواب(اسد الطحاوی):

اس  میں کوئی اعتراض ہے ہی  نہیں اوردعا دو قسم کی ہوتی ہے ایک بمعنی عبادت اور دوسری بعمنی التجا یا پکار جو کہ عبادت نہین ہوتی ہے جیسا کہ قرآن میں آتا ہے –

ھاانتم ھولاءتدعون لتنفقوافی سبیل اللہ

[محمد  ۴۷:۳۸]

یادرکھو  تم وہ لوگ ہو جنہیں  اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے پکاراجاتا ہے۔

قرآن میں یہاں مخلوق کے لیے تدعون استعمال ہوا جو دعا کے ماخذ ہے اب کیا یہاں تدعون سے مراد وہابی عبادت لے گیں ؟

بالکل نہیں جب کفار و مشرکین کے لیے بتوں کی مذمت میں تدعون لفظ استعمال ہوگا تو اسکا مطلب پکارنا بمعنی عبادت و پوجا ہے لیکن جب غیر اللہ کے لیے مسلمین یا صحابہ سے خطاب ہوگا تو وہاں تدعون اور دعا کا مطلب پکارنا بمعنی التجا یا بلانا ہوتا ہے


اگلا اعتراض:

سوم: مذکورہ روایت میں الفاظ نبوی "فعل حال” کے طور پر پیش کیے گئے ہیں- کہ”مجھ پر جب بھی کوئی سلام بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ میری روح مجھے لوٹا دیتا ہے یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں”بالفرض اگر یہ روایت صحیح ہوتی تو الفاظ”فعل مستقبل” پر مبنی ہونے چاہیے تھے نا کہ فعل حال پر- یعنی کہنا یہ ہوتا کہ”میری وفات کے بعد مجھ پر جب بھی کوئی سلام بھیجے گا تو اللہ تعالیٰ میری روح مجھ پر لوٹانے گا یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا سن کر اس کا جواب دونگا”

الجواب(اسد الطحاوی):

یہ جواب جہالت بھرا ہے ۔ یعنی معاذاللہ نبی پاک کے مبارک منہ سے نکلے الفاظ جنکے بارے میں نبی پاک خود فرماتے ہیں کہ میرے منہ سے سوائے حق کے کچھ نہیں نکلتا (حدیث صحیح متفقہ علیہ )یہ وہابی اپنا چورن بیچتے ہوئے نبی کےالفاظ پر جہالت دکھا رہا ہے کہ الفاظ یہ ہونے چاہئیے تھے یہ نہیں

استغفار یہ طریقہ منکرین حدیث کا نہیں ہے تو کس کا ہے ؟


اگلا اعتراض اس سے بھی جہالت بھر ااس جاہل نے کیا ہے۔

چہارم: یہ روایت قرآن کے نص صریح سے متصادم ہے – قرآن میں الله کا فرمان ہے :
وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ – أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ ۖ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ سوره النحل ٢٠-٢١
ترجمہ:

اور جنہیں یہ الله کے سوا پکارتے ہیں (یعنی انبیاء و اولیاء وغیرہ) وہ کچھ بھی پیدانہیں کرتے اور وہ خود پیدا کیے ہوئے ہیں- وہ تو مردے ہیں جن میں جان نہیں اور انھیں شعور نہیں کہ وہ کب زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے-

جب کہ سلام سن کر سلام کا جواب دینا شعور کے بغیر ممکن نہیں-

الجواب (اسد الطحاوی):

میرا اسکو چیلنج ہے کہ کسی بھی ایک متفقہ محدث مفسر چاہے ابن تیمیہ یا ابن قیم کسی ایک محدث یا مجتہد یہ پیش کر دے کہ اس آیت میں مردہ سے مراد معاذ اللہ  انبیا اور اولیا ہیں۔

یا کسی ایک محدث و مفسر و مجتہد سے یہ استدلال پیش کرے جس نے اس روایت کو قرآن کی نص کے خلاف کہہ کر رد کیا ہو؟ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ حدیث قرآن کی عین نص قطعی کی تائید کرتی ہے جسکا ثبوت آگے آرہا ہے۔لیکن اس نے ترجمہ میں جو اتنی بڑی خیانت کرتے ہوئے بریکٹ میں انبیا و اولیا کا زکر کیا ہے اب یہ دیکھتے ہیں بقول اسکے  کیا واقعی یہ آیت انبیا ءو اولیا کے لیے بھی ہے ؟

وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ – أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ ۖ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ سوره النحل ٢٠-٢١
ترجمہ: اور جنہیں یہ الله کے سوا پکارتے وہ کچھ بھی پیدانہیں کرتے اور وہ خود پیدا کیے ہوئے ہیں- وہ تو مردے ہیں جن میں جان نہیں اور انھیں شعور نہیں کہ وہ کب زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے

اس آیت میں اللہ نے کفار سے خطاب کیا ہے اورفرماتا ہے :

جنکو (یعنی معبود باطل) کو یہ لوگ  پوجتے ہیں (یہاں یدعون لفظ ہے جس سے مراد عبادت ہوتا ہے کیونکہ یہ با معنی  عبادت  ہے کیونکہ مشرکین بتوں کی پوجا کرتے تھے نہ کہ انکو انسانوں کی طرح فقط پکارتے  عام زندگی میں )۔ اب اللہ فرماتا ہے کہ یہ مردے ہیں یعنی یہ بت جو خود زندہ نہیں ہیں اور جان نہین ان میں تو یہ مردے ہیں انکو یہ شعور ہی نہیں ہے کہ اللہ انکو کب زندہ کرے گا ؟ تو یہ مشرکین کی عبادت کا کیا جواب دیں گے ؟

کیونکہ اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ  ان تما م بتوں کو قیامت کے دن اللہ زندہ کریگا اور یہ بت گواہی دیں کہ  ہم نے انکو نہیں کہا تھا کہ ہماری پوجہ کرو پھر اللہ تعالیٰ مشرکین کو بتوں سمیت جہنم میں ڈال دیگا (القرآن)

بقول اسکے اگر ان بتوں میں انبیاء اولیا ہیں تو اللہ قرآن میں فرماتا ہے (   مشرکین کو خطاب کرتے ہوئے کہ جنکو یہ پوجتے ہیں ان سمیت یہ جہنم میں جائیں گے

اب اس سلفی کے مطابق معاذاللہ ہم انبیاء کو قبور میں زندہ مان رہے ہیں جبکہ اس کے بقول اللہ نے انبیا ء کو قرآن میں مردہ کہا ہے (معاذاللہ) تو اب ہمارا انبیاء سے استغاثہ کرنا بتوں کی طرح ہو گیا جیسے مشرکین بتوں کی عبادت کرتے تھے

(استغفراللہ )

اب  پہلے ہم اس آیت کی تفسیر امام ابن کثیر سے پیش کرتے ہیں اور مزے کی بات ترجمہ بھی انکے وہابی  جوناگڑھی کا پیش کرتے ہیں۔

اس آیت  کی تفسیر کرتے ہوئے امام ابن کثیر فرماتے ہیں :

اللہ خالق کل : (آیت ۱۹۔۲۱) میں فرماتا ہے

چھپا کھلا سب کچھ اللہ جانتا ہے دونون اس پر یکساں ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ قیامت کے دن دے گا۔

نیکون کو جزا اور بدو ں کو سزا۔۔جن معبودان باطل سے  یہ لوگ اپنی حاجتیں طلب کرتے ہیں ، وہ کسی چیز کے خالق نہیں ہیں بلکہ خود مخلوق ہیں جیسا کہ خلیل الرحمن حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا : تم نہیں پوجتے ہو جنہیں خود بناتے ہو ، درحقیقت تمہارا اور تہارے کاموں کا خالق صرف اللہ ہے  بلکہ تمہارے معبود جو اللہ کے سوا جمادات بے روح چیزیں ہین (یعنی بت میں اللہ نے کبھی روح نہیں ڈالی یہ مردہ ہیں )  سنتے سیکھتے اور شعور نہیں رکھتے ، انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ قیامت کب ہوگی ؟ تو ان سے نفع کی امید اور ثواب کی توقع کیسےرکھتے ہو ؟ یہ امید تو اس اللہ سے ہونی چاہئیے جو ہر چیز کا عالم اور تمام کائنات کا خالق حقیقی ہے

[تفسیر ابن کثیر ]

اب  واضح ہو گیا کہ یہ کفار کی مذمت میں اتری ہے جن مردہ بتوں (روح سے خالی )  معبود باطل کو یہ پوجتے تھے وہ تو خود بے روح مردہ تھے وہ کیا نفع دینگے۔کیا کفار و مشرکین کی مذمت میں اتری ہوئی آیاتا مسلمانوں پر چسپاں  کر سکتے ہیں ؟ اسکا فتویٰ ہم

مجتہد امت  حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے بیان کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں : خارجیوں کی نشانی یہ ہے کہ وہ کفار و مشرکین کی مذمت میں نازل ہونے والی آیات کو مسلماونوں پر چسپاں کرتے ہیں

[ صحیح بخاری]

معلوم ہوا جہ آیات عام مسلمانوں پر چسپاں نہیں کر سکتے بتوں والی آیات وہ یہ وہابی انبیاء  اور اولیا کے اوپر فٹ کر رہا ہے۔اب خود پڑھنے والے پڑھ سکتے ہیں کہ یہ کتنی گمراہی کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔اب ہم پیش کرتے ہیں اس جیسی ایک حدیث جس میں مردہ کے سننے کا بیان ہے جبکہ اس نے قرآن کے بقول اس کے نص قطعی پیش کر دی کہ مردہ (انبیاء و اولیا) مطلق سنتے ہی نہیں اسکا مطلب ہے بقول اسکے جوحدیث جس میں قبور میں انبیاء و اولیا کی زندگی کی روایت وارد ہوگی وہ شاز یا قرآن کی نص کے مخالف ہوکر باطل قرا رپائے گی

اب ایک روایت ہم صحیح بخاری سے پیش کرتے ہیں :

امام بخاری ایک باب قائم کرتے ہیں جسکا نام  رکھتے ہیں

:::::::::::::::مردوں کا لوٹ کر جانے والوں کی آواز سننا :::::::::::::::::::::

بقول اسکے پہلے گمراہ امام بخاری ثابت ہوتے ہیں کیونکہ انہوں نے مردہ کے سننے پر باب قائم کیا ہے اور باب ہر محدث کا استدلال ہوتا ہے

جبکہ بقول اسکے مردہ چاہے انبیاء و اولیا ہوں وہ سننے کا شعور ہی نہیں رکھتے :

حدیث : امام بخاری اپنی سند سے روایت نقل کرتے ہیں کہ جب مردوں کو دفنا کر لوگ واپس پلٹتے ہیں تو مردہ انکے جوتوں کی آواز سنتا ہے۔

اب اس وہابی میاں کو چاہیے کہ یہ حدیث بقول اسکے منگھڑت و باطل ہے کیونہ بقول اسکے۔قرآن میں نص قطعی ہے کہ انبیاو اولیا مردہ ہیں انکو شعور ہی نہیں سننے کا تو اب اس حدیث کی تاویل ہی نہیں کر سکتا یہ وہابی کیونکہ قرآن میں اس نے نص قطعی پیش کی ہے مطلق سماع کی نفی کی تو اب مردہ کے جوتوں کی آواز سننے میں استثناء بھی نہیں ہےاب دیکھتے ہیں۔

انکے مجتہد مطلق  ابن تیمیہ مردوں کے بارے میں کیا عقیدہ رکھتے تھے ؟

اما سوال السائل ھل یتکلم المیت فی قبرہ ، فجوابہ انہ یتکلم  وقد یسمع ایضا من کلمہ : کما ثبت فی الصحیح عن النبی انہ  قال : ایھم یسمعون   قذع نعالہم

ابن تیمیہ سے سوال ہوا کہ کیا میت قبر می ں کلام کرتی ہے ؟

ابن تیمیہ اسکا جواب لکھتا ہے

پس اسکا جواب یہ ہے بے شک وہ بولتی ہے اور سنی ہے جو اس  سے کلام کرے جیسا کہ صحیح  بخاری میں ہے کہ نبی پاک نے فرمایا بے شک مردہ جوتوں کی آواز سنتا ہے۔

[ابن تیمیہ مجموع الفتاوی جلد ۳، ص ۲۷۳]

اسکے بقول ابن تیمیہ بھی گمراہ ہے کہ قرآن کی نص قطعی اسکو معلوم نہیں ہے کہ مردہ تو مطلق سنتا ہی نہیں بقول اس وہابی کےاب ہم قرآن کی نص پیش کرتے ہیں کہ اللہ نے شہدہ کو مردہ کہنے سے روک دیا کہ وہ رزق حاصل کر رہے ہیں جبکہ شہدہ کا مقام تو انبیاء سے بہت نیچے ہیں تو انبیاء کا مقام کیا ہوگا ؟؟

اس پر وہابیہ کے مجتہد مطلق علامہ شوکانی  کا اجتیہاد پیش کرتے ہیں :

وہ قرآن کی اس آیت کے تحت لکھتے ہیں :

سورت بقرہ: آیت ۱۵۴:

اور مت کہو مردہ جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں ، بلکہ وہ زندہ ہیں مگر تمہیں اسکا شعور نہیں

قاضی شوکانی لکھتا ہے :

شہدا کےبارے میں قرآن کی نص وارد ہہے و ہ زندہ ہیں  رزق دیئے جاتے ہیں۔

اور انکی زندگی جسمانی ہے انبیاو مرسلین کا کیا مقام ہوگا؟

حدیث سے ثابت ہے انبیاء اپنی قبور میں زندہ ہیں اور امام بیھقی نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔

یہ ہو گیا جواب کہ یہ روایت نص قرآنی کے تحت ہے نہ کہ اسکے خلاف جیسا کہ اس وہابی میاں نے جہالت دیکھائی !


اب دیکھتے ہیں اس روایت کو کس کس محدث نے صحیح قرار دے رکھا ہے بقول اسکے وہ بھی گمراہ ہونگے :

امام زرقانی نے شرح موطا میں اس روایت کی توثیق کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

فَقَدْ ثَبَتَتْ حَيَاةُ الْأَنْبِيَاءِ، لَكِنْ يُشْكِلُ عَلَيْهِ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ: ” «مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ إِلَّا رَدَّ اللَّهُ عَلَيَّ رُوحِي حَتَّى أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ» ” أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ

یعنی حیات انبیاء ثابت ہے لیکن اسکی حیت ایسے ہے جیسا کہ حضرت ابو ھریرہ سے مروی ہے کہ نبی پاک نے فرمایا کہ جب مجھ پر درود سلام بھیجا جاتا ہے تو اللہ میری روح میرے جسم میں لوٹا دیتا ہے .

[شرح الزرقاني على موطأ الإمام مالك]

امام ابن حجر عسقلانی کی توثیق:

وَأَصَحُّ مَا وَرَدَ فِي ذَلِكَ مَا رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد مِنْ طَرِيقِ أَبِي صَخْرٍ حُمَيْدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا "مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ إلَّا رَدَّ اللَّهُ عَلَيَّ رُوحِي حَتَّى أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ” 3 وَبِهَذَا الْحَدِيثِ صَدَّرَ الْبَيْهَقِيُّ الْبَابَ.

 یعنی جو صحیح ترین روایت ہے وہ امام احمد اور امام ابو داود نے  حضرت ابو ھریرہ سے روایت کی ہے الخ۔۔۔۔

اب امام ابن حجر عسقلانی بھی گمراہ ہو گئے بقول اسکے کیونکہ امام ابن حجر نے اس روایت کو اصح قرار دیا ہے۔

اسی طرح امام ابن حجر نے حیات النبیاء کا عقیدہ بیا ن کیا ہے فتح الباری میں وہ لکھتے ہیں :

اسکا احسن جواب یہ ہے : بے شک آپﷺ کی قبر میں زندگی پر موت نہیں آتی  ، بلکہآپ مسلسل  زندہ ہیں اور انبیاء زندہ ہیں انی قبور میں اور نمازیں پڑھتے ہیں

[فتح الباری ]

اسی طرح امام ابن کثیر اپنی تفسیر ابن کثیر سورت الروم کی آیت نمبر ۶۲ تا ۵۳ کے تحت فرماتے ہیں :

حضور ﷺ سے امت کے لیے حکم ثابت ہے کہ اہل قبور کا سلام کرے تو اس طر حسلام کرے جس طرح مخاطب سے سلام  کیا جاتا ہے ، سو سلام کہنے والا کہے اے ممنوں کی بستی میں رہنے والو تم پر سلام ہو اور یہ خطاب اسکو ہے جو سنتا ہے جانتا ہے ، اگر یہ خطاب ان کو نہ ہوتا تو وہ ایسے ہوتے جیس ےمعدوم  جماد اور اور سلف صالحین کا اس پر اجماع ہے اور تواتر کے ساتھ اثار مروی ہیں جب کوئی زندہ مردہ کی زیارت کے لیے آتا ہے مردہ اسکو پہچان لیتا ہے اور آمد سے خوشی محسوس کرتا ہے

اسکے بعد امام ابن کثیر نے اپنے دعوے کے اثبات میں کئی روایات و اثار نقل ک کے لکھتے ہیں :

بے شک مردوں پر سلام کہنا مشروع کیا گیا ہے  اور ایسے شخص  کو سلام کہنے کا نہ تو شعور رکھتا ہو اور نہ علم تو یہ محال ہے

پس سلام و خطاب اور نداء اس موجود کو ہے جو سنتا ہے اور اس سے خطاب کیا جا سکتا ہے اور جو سمجھتا ہے اور سلام کا جواب دے سکتا ہے ۔ اگرچہ سلام کہنے ولا میت کا جواب کو نہیں سنتا واللہ اعلم!

[تفسیر ابن کثیر آیت نمبر ۵۳]

اس طرح وہابیہ کے اس فتنے کو ختم کرنے کے لیے اما م بیھقی نے پوری کتاب لکھی جسکا نام ہے

احیاء النبیاء فی القبور

جسکا ذکر کرتے ہوئے امام ابن حجر عسلانیؒ فتح الباری میں لکھتے ہیں :

امام ابن حجر لکھتے ہیں :  کہ اما م بیھقی ؒ نےانبیاء علیہمالسلام کے اپنی قبروں میں زندہ ہونے کے بارے میں ایک خوبصورت کتاب لکھی ہے جس میں حضرت انس کی یہ حدیث بھی وارد کی ہے کہ انبیاء اپنی قبور میں زندہ ہوتے ہیں اور صلاتہ بھی ادا کرتے ہیں ۔ یہ حدیث انہون نے یحٰیٰ بن ابی کثیر کے طریق سے روایت کی ہے اور وہ سحیح حدیث کے روا تہ میں سے ہیں

مزید اس روایت کو کس کس محدث نے صحیح قرار دیا ہے

امام سخاوی:

– حَدِيث: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ إِلا رَدَّ اللَّه عَلَيَّ رُوحِي حَتَّى أَرُدَّ عَلَيْهِ، أحمد وأبو داود عن أبي هريرة به مرفوعا، وهو صحيح، وفي توجيه معناه أوجه بينتها في القول البديع.

[المقاصد الحسنہ برقم: 984]

امام عراقی :

حَدِيث «لَيْسَ أحد يسلم عَلّي إِلَّا رد الله عَلّي روحي حَتَّى أرد عَلَيْهِ السَّلَام»

أخرجه أَبُو دَاوُد من حَدِيث أبي هُرَيْرَة بِسَنَد جيد.

[الكتاب: المغني عن حمل الأسفار في الأسفار، في تخريج ما في الإحياء من الأخبار برقم:۱]

امام العجلونی الحربی

ا من مسلم يسلم علي إلا رد الله علي روحي حتى أرد عليه.

رواه أحمد وأبو داود عن أبي هريرة رفعه وهو صحيح.

[كشف الخفاء  برقم: 2247]

[حكم الألباني]

 (حسن) انظر حديث رقم: 5679 في صحيح الجامع(البانی  نے بھی حسن قرار دیا ہے )۔

علامہ البانی

” ما من أحد يسلم علي، إلا رد الله علي روحي حتى أرد عليه السلام ".

[السلسلہ الصحیحیہ برقم: 2266]

امام التبریزی

 (حَسَنٍ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ إِلَّا رَدَّ اللَّهُ عَلَيَّ رُوحِي حَتَّى أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ

[مشكاة المصابيح 925 ]

اور امام ابن حجر عسقلانی کا حوالہ پہلے دے دیا گیا ہے۔


اسکے علاوہ اور کئی محدثین نے اس روایت کی توثیق و  تعدیل کی ہے

اگلا اعتراض:

پنجم: امّت محمدیہ تو ہر وقت ہر لمحہ الله سے نبی کریم محمّد مصطفیٰ صل اللہ علیہ و آ له وسلم پر درود و سلام بھیجنے کی درخواست کرتی رہتی ہے- سوال ہے کہ ایسی صورت میں بار بار روح محمّدی کو جسم مبارک میں لوٹانے کا کیا جواز باقی رہتا ہے؟ جب کہ امّت کی طرف سے بھیجے گئے دررود و سلام کا ایک لمحہ بھی خالی نہیں جاتا ؟؟

الجواب (اسدالطحاوی):

یہ اعتراض بھی جہالت بھرا ہے

کیونکہ نبی پاک ﷺکی زندگی قبر شریف میں مسلسل ہے  کیونکہ نبی پاک ﷺنے روح مبارک لوٹانے کا فرمایا ہے نکلنے کا ذکر نہیں کیا۔

امام الحافظ ابن حجر عسقلانی اسکے تحت کہتے ہیں ـ

اسکا احسن جواب یہ ہے : بے شک آپﷺ کی قبر میں زندگی پر موت ہی نہیں (یعنی روح نکالی ہی نہیں جائے گی تا قیامت )  بلکہ آپ مسلسل زندہ ہیں انبیاء زندہ ہیں انی قبروں میں نماز پرھتے ہیں۔

آخر میں وہابی میں نے یہ صریح جھوٹ پتہ نہیں کیوں بولا ہے کہ امام احمد بن حنبل نے ضعیف قرار دی اس روایت کو معلوم نہیں اس نے کہاں سے یہ حکم پڑھا  ہے ؟

جیسا کہ لکھتا ہے :

امام أحمد بن حنبل رحمه الله (المتوفى241)نے کہا:
ضعيف
یہ ضعیف ہے[الضعفاء الكبير للعقيلي: 1/ 270 واسنادہ صحیح]۔

اب ہم پیش کرتے ہیں ابن تیمیہ سے کہ اس روایت کو احمد بن حنبل نے ضعیف قرار دیا ہے یا نہیں ؟

ابن تیمیہ مجموع فتاوی میں لکھتا ہے :

. فَاعْتَمَدَ الْإِمَامُ أَحْمَد عَلَى الْحَدِيثِ الَّذِي فِي السُّنَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: {مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ إلَّا رَدَّ اللَّهُ عَلَيَّ رُوحِي حَتَّى أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ}

کہ امام احمد نے اس روایت پر اعتماد کیا ہے جو سنن میں واقع ہے حضرت ابو ھریرہ سے  آگے یہی روایت نقل کی ہے

[مجموع الفتاوى ابن تیمیہ]

ہم نے اس وہابی کے جھوٹ یا اسکی غلط بات کو ثابت کر دیا ہے تمام دلائل کے ساتھ اور اسکے اعتراض کا مدلل رد محدثین سے کر دیا اپنی طرف سے کوئی بات نہیں لکھیاسکو تا قیامت چیلنج ہے کہ اس  روایت کو قرآن کی نص کے مخالف کسی متفقہ محدث و مفسر سے ثابت کر دے۔

اور مذکورہ روایت ” نبی کو قبر میں روح لٹا دی جاتی ہے” یہ سندا اور متنا بھی ثابت ہو گئی ہے۔

دعاگو:اسد الطحاوی الحنفی البریلوی

قبر میں روح لٹا دی جاتی ہے

One thought on “نبی کو قبر میں روح لٹا دی جاتی ہے مذکورہ روایت پر تحقیق

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے