نبی کے محبوب صحابی
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 5]

نبی اکرمﷺ کے سب سے محبوب صحابیؓ کون ہیں؟ 

نبی کے سب سے محبوب ترین صحابیؓ حضرت ابو بکر صدیق ہیں اور اس پر صحابہ کرامؓ سے اب تک اہلسنت کا اجماع چلا آرہاہے ۔ اس پر ہم فقط چند روایات نقل کرتے ہیں۔

امام ابن حبان اپنی صحیح میں ایک باب قائم کرتے ہیں :
ذِكْرُ الْبَيَانِ بِأَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ أَحَبَّ النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

اس باب کا ذکر کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ حضوراکرمﷺ کو تمام لوگوں سے زیادہ محبوب صحابی تھے۔

پھر اپنی سند سے روایت لاتے ہیں :
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثقيف، حدثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي”1″ أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عائشة عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: كَانَ أَبُو بَكْرٍ أَحَبَّنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وكان خيرنا وسيدنا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہم سب سے زیادہ محبوب تھے، اور ہم سے بہتر اور ہمارے سردار تھے۔
اس روایت کے تحت علامہ محدث شعیب الارنووط حکم لگاتے ہیں :
إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله رجال الشيخين، غير إبراهيم بن سعيد الجوهري، فمن رجال مسلم.
[صحیح ابن حبان برقم:6862]

حضرت عمر بن خطاب وہ شخصیت ہیں جنکے دل و قلب پر صرف حق جاری ہوتا۔

اللہ تعالیٰ نے حق حضرت عمر ؓ کی زبان اور دل پر رکھاہے
امام احمد اپنی مسند میں ایک روایت لاتے ہیں :
حدثنا عبد الملك بن عمرو، حدثنا نافع بن أبي نعيم، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ” إن الله تعالى جعل الحق على لسان عمر وقلبه
صحابی رسولﷺ حضرت ابن عمر فرماتے ہیں :
نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اللہ نے حق عمر کی زبان اور دل پر رکھا ہے ۔
[مسند احمد برقم : 5145]
یہ روایت مشہور ہے اور کثیر الاسناد ہے اسکو متعدد صحابہ کرام نے بیان کیا ہے
جیسا کہ
▪︎حضرت بلال
▪︎حضرت ابی ھریرہ
▪︎حضرت ابو زر غفاری
اور
▪︎حضرت عائشہ وغیرہم سے مروی ہے

《سند کے رجال کا مختصر تعارف!》
●1۔پہلا راوی : أبو عامر عبد الملك بن عمرو القيسي
امام ذھبی انکے بارے فرماتے ہیں :
الإمام، الحافظ، محدث البصرة،
وكان من مشايخ الإسلام، وثقات النقلة.
ذكره النسائي، فقال: ثقة، مأمون.
[سیر اعلام النبلاء برقم: 173]
●2۔دوسرے راوی : نافع بن أبي نعيم أبو رويم الأصبهاني
امام ذھبی انکے بارے لکھتے ہیں :
وثقه: ابن معين.
وقال أبو حاتم: صدوق.
وقال النسائي: ليس به بأس.
ولينه: أحمد بن حنبل
[سیراعلام النبلاء برقم : 121]
●3۔تیسرا راوی تابعی امام نافع متفقہ علیہ ثقہ ہیں
●4۔ چوتھے راوی : حضرت عبداللہ بن عمر بن خطابؓ صحابی رسولﷺ ہیں ۔۔
اس روایت پر علامہ شعیب فرماتے ہیں :
حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، رجاله ثقات رجال الشيخين غير نافع بن أبي نعيم، فقد روى له ابن ماجه في "التفسير”، وهو صدوق.
[مسند احمد ایضا]

یہی قول حضرت علی فرمائیں تو تفضیلیوں کے نزدیک عاجزی اور یہی قول دیگر صحابہ کرام فرمائیں تو تفضیلیوں کے نزدیک اہل بیت سے بغض۔

نبی کے محبوب صحابی  حضرت ابو بکر صدیق ہین یہی فرمان اللہ کے رسولﷺ  کا بھی ہے۔

عن أبي عثمان قال : حدّثني عمرو بن العاص رضي الله عنه : أنّ النّبيّ صلي الله عليه وآله وسلم بعثه علٰي جيش ذات السّلاسل، فأتيته فقلت : ’’أيّ النّاس أحبّ إليک؟‘‘ قال : ’’عائشة‘‘. فقلت : ’’من الرّجال؟‘‘ فقال : ’’أبوها‘‘ قلت : ثمّ من؟ قال : ’’عمر بن الخطّاب‘‘ فعدّ رجالا.
حضرت ابو عثمان رضي اللہ عنہ سے مروی ہے : کہ مجھے حضرت عمرو ابن العاص رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے غزوہ ذاتِ السلاسل کا امیرِ لشکر بنا کر روانہ فرمایا : جب واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض گزار ہوا۔ لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبت کس کے ساتھ ہے؟
"تو ارشاد فرمایا۔ ’’عائشہ رضی اﷲ عنھا کے ساتھ۔‘‘ میں نے پھر عرض کی ’’مردوں میں سے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’اُن کے والد ( ابوبکر رضی اللہ عنہ) کے ساتھ۔”
میں نے عرض کی، پھر اُن کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ’’عمر رضی اللہ عنہ بن خطاب کے ساتھ‘‘۔ اور پھر اُن کے بعد چند دوسرے حضرات کے نام لئے
(متفق علیہ حدیث )

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے