نبی اور رسول میں فرق
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 5]

نبی  اور رسول میں کیا فرق ہے؟

نبی اور رسول میں فرق۔

نبی اور رسول میں فرق کے حوالے سے علماء کے متعدد اقوال  ہیں۔ انکے مطابق، "نبی” اور "رسول” کا فرق واضح کیا جا سکتا ہے۔ عام طور پر "رسول” اس شخص کو کہتے ہیں جو ایک نئی شریعت لے کر آیا ہو۔  جبکہ "نبی” وہ شخص ہوتا ہے جس پر وحی آتی ہو۔ چاہے وہ نئی شریعت لے کر آئے یا کسی قدیم شریعت کو دوبارہ آمادہ کر کے لائے۔


نبی اور رسول میں فرق  معنی کے اعتبار سے:

رسول کا معنی اور صورتیں:

"رسول” کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ پہلی یہ کہ انہوں نے بالکل نئی شریعت لے آئی ہو، جو کسی نبی سے پہلے پیش نہ ہوئی ہو۔ دوسری یہ کہ انہوں نے قدیم شریعت کو دوبارہ آمادہ کر کے لائی۔ لیکن اس کو ایک قوم کے لیے نئی کیا۔  مثلاً حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ذریعے جرہم قوم کے لیے نئی بنایا گیا۔

نبی کا معنی اور صورتیں:

"نبی” وہ شخص ہے جس پر وحی آتی ہو، چاہے وہ نئی شریعت لے کر آئے۔  یا کسی قدیم شریعت کو تبلیغ کرے۔ مثال کے طور پر، حضرت موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کے لیے۔  حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت کی تبلیغ کرتے تھے، لیکن وہ خود "نبی” تھے۔


رسول اور نبی  میں بنیادی فرق:

اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو ہدایت اور رہنمائی دینے کے لئے۔  جن برگزیدہ بندوں کے ذریعے اپنا پیغام حق مخلوق تک پہنچایا انہیں نبی اور رسول کہتے ہیں۔

عام طور پر نبی اور رسول یہ دونوں لفظ ایک ہی معنی میں بولے اور سمجھے جاتے ہیں، البتہ نبی اس ہستی کو کہتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی ہدایت کے لئے وحی دے کر بھیجا ہو اور رسول اس ہستی کو کہتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نئی شریعت دے کر مخلوق میں مبعوث کرتا رہا تاکہ وہ لوگوں کو اس کی طرف بلائے۔

[ قسطلاني، المواهب اللدنية، 2 : ٤٧]
[ زرقاني، شرح المواهب اللدنية، 4 : ٢٨٦]


رسول اور نبی میں فرق کے   اور شرعی دلائل:

صحیح یہ ہے کہ رسول وہ ہوتا ہے جو کافروں کی طرف بھیجا جائے جو جھٹلانے والے ہوں اور نبی وہ ہوتا ہے جو کہ ایسی قوم کی طرف بھیجا جائے جو اس سے پہلے رسول کی شریعت پر ایمان رکھتے ہوں تو وہ انہیں دین سکھائے اور ان کے درمیان فیصلے کرے ۔

جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

"ہم نے تورات نازل فرمائی ہے جس میں ہدایت ونور ہے اسی تورات کے ساتھ اللہ تعالی کے ماننے والے انبیا‏‌ء فیصلے کرتے تھے”

تو بنی اسرائیل کے انبیاء اس تورات کے ساتھ فیصلے کرتے تھے جو کہ موسی علیہ السلام پر نازل کی گئ تھی۔

اور اللہ تعالی کا یہ فرمان "وہ خاتم النبیین ہیں” اور خاتم المرسلین کیوں نہیں کہا؟ وہ اس لئے کہ رسالت کو ختم کرنے سے نبوت کا ختم ہونا لازم نہیں ہے، لیکن خاتم النبیین کہنے سے رسالت ختم ہونا لازم ہے، تو اسی لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ:(میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا) اور یہ نہیں فرمایا کہ میرے بعد کوئی رسول نہیں ہوگا۔

تو اس تحقیق سے یہ پتہ چلا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی رسول اور نبی نہیں ہے بلکہ وہ خاتم النبیین اور خاتم الرسل بھی ہیں علیہم السلام جمیعا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے