مشرکین مکہ
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 5]

مشرکین مکہ کے شرکیہ اعتقاد اور انکی مذمت میں نازل آیات  کا پس منؓظر 

مشرکین مکہ کی مذمت میں اللہ نے جو آیات نازل کی اور انکے شرکیہ اعتقاد کو عیاں کرکے انکا جو رد کیا اس پر ہم اس مقالہ میں تفصیل پیش کرینگے۔

الہٰ کا معنی و مفہوم!

سب سے پہلے اس بات کو سمجھنا لازمی ہے کہ مشرکین مکہ اللہ کو مانتے بھی تھے اور اسکی عبادت بھی کرتے تھے لیکن اس عقیدے کے باوجود انہوں نے اللہ کے سوا اور معبود و مستحب عبادت بت، اپنے بزرگ اور دیگر غیر اللہ کو الہٰ بھی مان رکھا تھا جو کہ صریح شرک اکبر ہے۔
الہٰ کا معنی شریعت میں مستحق عبادت کو کہتے ہیں۔
یعنی جب ہم کلمہ پڑھتے ہیں” لا الہٰ” کوئی نہیں مستحق عبادت ،” الا اللہ ” سوائے اللہ کے۔
اور لغوی طور پر اسکا معنی بلندی اور اونچائی کے ہے کہ وہ مقام جسکی سمجھ انسان سمجھ سے ماورا ہو۔

مشرکین مکہ کے شرکیہ افعال و اعتقاد کا جائزہ قرآن سے:

مشرکین مکہ کے شرکیہ اعتقاد و امور کا جائزہ لینگے کہ مشرکین مکہ کون کون سے شرکیہ افعال کرتے اور کس اعتقاد کے ساتھ وہ وہ یہ شرکیہ امور کرتے تھے ۔ تاکہ ہم کو پتہ چلے کہ جب اہلسنت پر کوئی وہابی یا دیوبندی قرآنی آیات کو پیش کرکے اہلسنت کو استغاثہ غیر اللہ کے سبب مشرک قرار دیتے ہیں تو کیا وہ قرآن کے احکامات کی پیروی میں یہ بات کر رہے ہوتے ہیں یا قرآن کی آیات کا سہارہ لیکر مشرکین کے شرکیہ افعال و اعتقاد کی مذمت میں مروی آیات کو اپنی نفس پرستی کے سبب ہم اہلسنت پر چسپاں کرکے وہابی و دیوبندی خوارج کی باقیات کا کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں۔
اللہ نے مشرکین مکہ جنہوں نے اپنے بتوں کو معبود اور خالق بنا رکھا تھا اپنے کاموں کے لیے انکی مذمت میں فرماتا ہے :
اَمِ اتَّخَذُوۡۤا اٰلِہَۃً مِّنَ الۡاَرۡضِ ہُمۡ یُنۡشِرُوۡنَ
کیا انہوں نے زمین میں سے معبود بنا لیے جو (کچھ) پیدا کرتے ہیں؟
[الانبیآء:21]

مشرکین مکہ کے بارے میں اللہ نے فرما دیا کہ انہوں نے زمین پر اپنی طرف سے عبادت کے مستحق بتوں کو بنا لیا ہے ۔ اور چونکہ وہ بت تخلیق شدہ ہیں یعنی مخلوق ہیں تو اللہ ان سے الزامی سوال کرتا ہے کہ کیا ان پیدا شدہ بتوں کے پاس کچھ تخلیق کرنے کا اختیار ہے ؟
اس آیت سے پتہ چلا کہ مشرکین مکہ شرک اکبر پر مبنی یہ عقیدہ تھا کہ انکے بنائے ہوئے بت مستحق عبادت اور تخلیق کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔

جیسا کہ اللہ فرماتا ہے :
وَیَعْبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ مَا لَایَضُرُّہُمْ وَ لَایَنۡفَعُہُمْ
وہ ا للہ کے سوا ان چیز وں کو پوجتے ہیں جو نہ انہیں نقصان دے نہ نفع ۔
[یونس:18]
اگلی آیت:
وَاتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اٰلِہَۃً لَّا یَخْلُقُوۡنَ شَیْـًٔا وَّ ہُمْ یُخْلَقُوۡنَ وَلَا یَمْلِکُوۡنَ لِاَنۡفُسِہِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِکُوۡنَ مَوْتًا وَّلَا حَیٰوۃً وَّ لَا نُشُوۡرًا
انہوں نے اللہ کے سوا اور خدا(الہٰ) بنا لیے جو کچھ نہیں پید اکرتے اور خود پیدا کئے جاتے ہیں اور نہیں مالک ہیں اپنی جانوں کیلئے نقصان ونفع کے اور نہیں مالک ہیں مرنے جینے کے اور نہ اٹھنے کے۔
[الفرقان:3]

یہاں اللہ نے مشرکین مکہ کے اس عقیدے کی نفی کی ہے کہ ایک تو الہٰ یعنی خدا جو مستحق عبادت ہے اسکا معیار یہ ہے کہ وہ کبھی تخلیق شدہ نہیں ہو سکتا۔ اور اسکے پاس کائنات و مخلوق کو تخلیق کرنے کی طاقت ہوتی ہے ۔
جبکہ مشرکین مکہ کے بت چونکہ خود بنائے ہوئے تھے اور ازل سے بے جان اور بے روح تھے تو یہ اپنے کسی فعل اور نقصان و فائدہ کے مالک نہیں تو یہ مشرکین مکہ کس چیز کا فائدہ دے سکتے ہیں؟ جبکہ مشرکین مکہ نے الٹا انکو الہٰ کا درجہ دے دیا۔

اب چونکہ اللہ کے نزدیک بت تخلیق شدہ ہیں اور کسی فائدے یا نقصان کے مالک ہی نہیں پھر اللہ نے الہٰ کی صفات بتاتا ہے قرآن میں :
اَللہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَۚ اَلْحَیُّ الْقَیُّوۡمُ ۬ۚ لَا تَاۡخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّلَا نَوْمٌ ؕ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرْضِ ؕ
اللہ کے سوا کوئی معبود (مستحق عبادت) نہیں وہ خود سے (ازلی طور پر )زندہ ہے اور وں کو قائم (زندہ) رکھنے والا ہے اسے نہ اونگھ آوے نہ نیند اس کی ہی وہ چیزیں ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں
[البقرۃ:255]

اب یہاں اللہ نے اپنی صفات بیان کی ہے صرف وہی ہے جو کائنات میں زمین و آسمان میں ہر چیز کا مالک ہے، اور مستحق عبادت ہے۔ اور ازل سے زندہ یعنی قائم ہے اور اپنی مخلوق کو زندگی بخشنے والا ہے ۔
اسی طرح عیسائیوں کے شرک کے بارے فرماتا ہے : کہ جس میں ان مشرکین نے اپنے جھوٹے عالموں کی اطاعت رب کے مقابل کی اور یوں یہ اپنے دین سے ہٹ کراپنے شرکیہ بنائے گئے اعتقاد میں پھنس گئے۔

اللہ فرماتا ہے:
اِتَّخَذُوۡۤا اَحْبَارَہُمْ وَرُہۡبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللہِ وَالْمَسِیۡحَ ابْنَ مَرْیَمَ ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوۡۤا اِلٰـہًا وَّاحِدًا
عیسائیوں نے اپنے پادریوں اور جو گیوں کو اللہ کے سوا خدا بنالیا او رمسیح بیٹے مریم کو او رانہیں حکم نہ تھا مگر یہ کہ ایک خدا کو پوجیں۔
[10،التوبۃ:31]
چونکہ یہ کام یہ مشرکین اپنی نفس پرستی کے سبب کر رہے تھے اپنی طرف سے بنائے گئے معیار پر کر رہے تھے تو اللہ نے ان سے فرمایا:
اَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ ؕ اَفَاَنۡتَ تَکُوۡنُ عَلَیۡہِ وَکِیۡلًا
تو دیکھوتو جس نے اپنی ہی خواہش نفسانی کو اپنا الٰہ بنالیا تو کیا تم اس کی نگہبانی کے ذمہ دار ہوگئے ۔
[الفرقان:43]

مشرکین مکہ کا اگلا شرکیہ عقیدہ کہ ہمارے بت جو مستحق عبادت ہیں وہ ہم کو اللہ کے مقابل بچا لینگے :
اللہ فرماتا ہے :
اَمْ لَہُمْ اٰلِہَۃٌ تَمْنَعُہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِنَا ؕ لَا یَسْتَطِیۡعُوۡنَ نَصْرَ اَنۡفُسِہِمْ وَ لَا ہُمۡ مِّنَّا یُصْحَبُوۡنَ
کیا ان کے کچھ (الہٰ) خدا ہیں جو ان کو ہمارے مقابل ہم سے بچالیں وہ تو اپنی جانوں کو نہیں بچاسکتے اور نہ ہماری طر ف سے ان کی مدد کی جائے ۔
[الانبیآء:43]

اس آیت میں اللہ مشرکین مکہ کے اس عقیدے کی حقیقت بیان کر رہا ہے کہ تمہارے بنائے گئے بت جنکو تم نے الہٰ کا درجہ دے رکھا ہے یہ تو قیامت والے دن خود کو نہیں بچا سکتے تم نے الٹا انکو میرے مقابل سفارشی بنا رکھا ہے کہ میں تم کو عذاب دینا چاہوں گا تو یہ مجھے اپنی طاقت سے روک لینگے (معاذاللہ)
جیسا کہ دوسری آیت میں اسکی تصریح واضح فرماتا ہے اللہ:
اَمِ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللہِ شُفَعَآءَ ؕ قُلْ اَوَ لَوْ کَانُوۡا لَا یَمْلِکُوۡنَ شَیْـًٔا وَّ لَا یَعْقِلُوۡنَ قُلۡ لِّلہِ الشَّفَاعَۃُ جَمِیۡعًا
کیا انہوں نے اللہ کے مقابل سفارشی بنا رکھے ہیں فرمادو کہ کیا اگر چہ وہ کسی چیز کے مالک نہ ہوں اور نہ عقل رکھیں فرمادو کہ شفاعت تو سب اللہ کے ہاتھ میں ہے [24،الزمر:43،44]

اب اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ نے سفارش کا اختیار بھی مکمل اپنے ہاتھ میں رکھا ہے ۔ اللہ کی رضا کے مقابل کوئی سفارش کا حق نہیں رکھ سکتا ہے۔
اب چونکہ اسلام میں بھی انبیاء، رسل اور اولیاء اللہ کے سفارش کرنے کا عقیدہ ہے تو کیا ہم فقط یہ عقیدہ میں مماثلت کے سبب مشرکین مکہ جیسے مشرک ہو جائیں گے ؟
بالکل نہیں ۔ کیونکہ ہم انبیاء و اولیاء اللہ کو اللہ ہی رضا سے سفارشی مانتے ہیں اپنا۔ یہ اللہ کے حکم سے ہی ہماری سفارش کرینگے تو چونکہ تمام اللہ کے مقرب بندے اللہ کے حکم سے سفارش کرینگے تو ساری کی ساری سفارش و شفاعت اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔

معلوم ہوا مسلہ اس امر میں نہیں تھا بلکہ اعتقاد میں خرابی تھی۔
جیسا کہ کوئی ہم کو درج ذیل آیت پیش کرکے کہے کہ سفارشی بنانا اور یہ شفاعت کا عقیدہ رکھنا باطل ہے اللہ ایسوں کی مذمت کرتا ہے :
مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَشْفَعُ عِنْدَہٗۤ اِلَّا بِاِذْنِہٖ
وہ کو ن ہے جو رب کے پاس اس کی اجازت کے بغیر شفاعت کر سکے ۔
[3البقرۃ:255]

اسکا جواب یہی دیا جائے گا کہ یہ اعتراض اللہ نے مشرکین مکہ سے کیا ہے نہ کہ مومنین سے کیونکہ مومنین کا یہ عقیدہ ہی نہیں کہ کوئی اللہ کے مقابل شفاعت کرنے کی طاقت رکھ سکتا ہے تو یہ خطاب اللہ کا فقط مشرکین مکہ سے ہے ۔ جب تک مومنین میں سے کوئی اس عقیدے شرک پر نہیں آجاتا اس وقت تک حالت ایمان میں وہ اس آیت کا مستحق نہیں۔
مشرکین کا مکہ کا فعل فقط یہاں تک نہ تھا کہ وہ اپنے بتوں کو اللہ کے مقابل سفارشی بنائے ہوئے تھے ۔ بلکہ ان بتوں کو خوش کرنے کے لیے پوجا کرتے تھے ۔

جیسا کہ اللہ فرماتا ہے :
وَیَعْبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ مَا لَایَضُرُّہُمْ وَ لَایَنۡفَعُہُمْ وَ یَقُوۡلُوۡنَ ہٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنۡدَ اللہِ
اور وہ اللہ کے سواا ن چیزوں کو پوجتے ہیں جو نہ انہیں نقصان دے نہ نفع اور کہتے ہیں کہ یہ ہمارے سفارشی ہیں اللہ کے نزدیک۔
[11،یونس:18]
جیسا کہ اللہ نے مشرکین کو اپنے مقابل نفع و نقصان دینے والے عقیدہ رکھنے کی مذمت کی ہے :
وَ اِنۡ یَّمْسَسْکَ اللہُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَہٗۤ اِلَّا ہُوَ ؕ وَ اِنۡ یَّمْسَسْکَ بِخَیۡرٍ فَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ
اگر تجھے اللہ سختی پہنچائے تو اس کے سوا کوئی دور کرنیوالا نہیں اور جو تجھے بھلائی پہنچائے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
[الانعام:17]

معلوم ہوا کہ اللہ کے مقابل جو کسی کو مددگار سمجھے اور نفع و نقصان کا مالک سمجھے تو وہ شرک میں مبتلا ہے ۔ کہ اس نے الہٰ کے مقابل غیر اللہ کو اپنا سفارشی اور مددگار بنا لیا۔
مشرکین مکہ کا اگلا شرکیہ عقیدہ:
وَ جَعَلُوۡا لِلہِ شُرَکَآءَ الْجِنَّ وَخَلَقَہُمْ وَ خَرَقُوۡا لَہٗ بَنِیۡنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیۡرِ عِلْمٍ
اور بنایا ان مشرکین نے جنات کو اللہ کا شریک حالانکہ اس نے انہیں پیدا کیا اور بنایا اس کے لئے بیٹے اوربیٹیاں
[الانعام:100]
یعنی مشرکین مکہ نے جنوں کو اللہ کا بیٹا بنا دیا اور بیٹا بنانے کے ساتھ ہی یہ اللہ کے ساتھ شراکت کر دی اور انکو بھی اللہ ہی کے جیسا الہٰ سمجھتے تھے ۔

اب ہم اس بات کی طرف آتے ہیں کہ اللہ نے مشرکین مکہ کے معیار الہٰ اور معبود کا رد کن وجوہات پر کیا ہے ؟ کہ الہٰ میں کیا صفات ہوتی ہیں اور انکے بنائے گئے بت چونکہ ان میں یہ خامیاں ہیں اس لیے یہ معبود نہیں ۔

اللہ مشرکین مکہ کے بارے فرماتا ہے :
مَا کَانَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُ ؕ سُبْحٰنَ اللہِ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوۡنَ
اور ان کے لئے کوئی اختیار نہیں اللہ پاک اور برتر ہے اس سے جو شرک کرتے ہیں۔
[القصص:68]
اب یہاں اللہ نے غیر اللہ بتوں کے بارے جو فرمایا ہے کہ انکے پاس تو سرے سے کوئی اختیار ہے ہی نہیں کیونکہ یہ تو پتھر تھے نہ کبھی ان میں روح پھونکی گئی اور نہ ہی یہ کبھی زندہ تھے تو یہ بے جان تھے اور بے جان چیز اپنے لیے کوئی محدود اختیار بھی نہیں ہوتا تو یہ بت مشرکین مکہ کو کیا فائدہ دے سکتے ہیں۔
اور مذکورہ آیت میں محدود اختیار کی نفی نہیں بلکہ دیگر آیات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ تخلیق اور پیدا کرنے کی نفی ہے :
جیسا کہ اللہ فرماتا ہے ؛
وَ رَبُّکَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ ؕ مَا کَانَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُ ؕ
تمہارا رب جو چاہے پیدا کرے اور اختیار فرمائے انہیں کوئی اختیار نہیں ۔[،القصص:68]

اب ہم اللہ کا مشرکین مکہ سے ان سوالات کا جائزہ لینگے کہ اللہ نے مشرکین مکہ کے بتوں کو مخلوق سے موازنہ کرکے مشرکین مکہ کے اعتقاد کی نفی کی ہے ۔ کہ انکے بتوں کا معیار تو میری تخلیق کردہ مخلوق سے بھی نیچے ہے تو تم اگر کسی کو الہٰ بناتے بھی تو کم سے کم وہ میری تخلیق کردہ مخلوق جیسی محدود ہی صحیح لیکن صفات تو رکھتے ۔

جیسا کہ اللہ فرماتا ہے :
اَلَہُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوۡنَ بِہَاۤ ۫ اَمْ لَہُمْ اَیۡدٍ یَّبْطِشُوۡنَ بِہَاۤ ۫ اَمْ لَہُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوۡنَ بِہَاۤ ۫
کیا ان بتوں کے پاؤں ہیں جن سے وہ چلیں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑیں یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھیں ۔
[الاعراف:195]

اس آیت میں اللہ نے مشرکین مکہ کے زہنی پستی کا حال بیان کیا ہے۔ نہ کہ اس کا یہ مطلب لے لیا جائے کہ اگر واقعی بت چل سکتے ، اور انکی آنکھیں ہوتی یا وہ کسی چیز کو پکڑ سکتے تو پھر مستحق عبادت ہو جاتے ۔
یہاں تک یہ معلوم ہو گیا کہ مشرکین مکہ کے کیا اعتقاد تھے۔
وہ اللہ کے مقابل بتوں کو پوجتے تھے انکی عبادت کو جائز سمجھتے تھے ۔
وہ اللہ کے مقابل بتوں کو سفارشی سمجھتے تھے۔
وہ بتوں کو الہٰ بناتے تھے جبکہ بت تو زندہ مخلوق سے بھی بد تر ہیں کہ یہ نہ چل سکتے ہیں ، نہ سن سکتے ہیں نہ کچھ پکڑ سکتے ہیں بلکہ بے جان پتھر سے بنائے گئے ہیں جن میں کبھی جان تھی ہی نہیں ۔ اور اگر ان میں جان ہوتی بھی تب بھی یہ اللہ کے مقابل الہٰ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے کیونکہ یہ تخلیق کردہ تھے اور الہٰ کا معیار یہ ہے کہ وہ وہ کسی کا پیدا کرتا نہیں ہوتا ۔

اب ہم ان آیات کا احاطہ کرینگے کہ قرآن میں جہاں بھی اللہ نے ”یدعون، تدعون” کا ذکر کیا ہے اس سے مراد عبادت ہے نہ کہ فقط پکارنا

جیسا کہ اللہ قرآن میں فرماتا ہے :
ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَاَنَّ مَا ”يَدْعُوْنَ” مِنْ دُوْنِهِ هُوَ الْبَاطِلُ وَاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ
یہ اس لئے کہ اﷲ ہی حق ہے، اور یہ لوگ اُسے چھوڑ کر جن چیزوں کی ”عبادت” کرتے ہیں ، وہ سب باطل ہیں ، اور اﷲ ہی وہ ہے جس کی شان بھی اُونچی ہے، رُتبہ بھی بڑا
[الحج:۲۲]
ان آیات میں وہابی و دیوبندی ”ید عون” کا ترجمہ ”پکارنا” کر دیتے ہیں کہ جس سے استغاثہ کی نفی کر سکیں ۔
جبکہ یہاں محض پکارنے کی تو مذمت ہی نہیں بلکہ یہاں پوجا و عبادت کی نفی ہے ۔
جیسا کہ قرآن میں ”دعا” تین معنی میں استعمال ہوا ہے ۔
  • دعا بمعنی عبادت
  • دعا بمعنی التجا
  • دعا بمعنی دعوت
(اس پر تفصیل اگلی قسط میں پیش کرینگے)
جہاں بھی قرآن میں اللہ نے مشرکین مکہ کو غیر اللہ کی عبادت سے روکا ہے وہاں ”یدعون، تدعون، دعا” جیسے الفاظ استعمال کیے ہیں اس سے مراد عبادت اور پوجا ہے ۔
اور اسکے علاوہ جہاں مومنین یا دیگر امور کے تحت یہ الفاظ استعمال ہوئے ہو آیت کے متن کے مطابق یاتو بطور دعوت ہیں یا التجا کے وہاں ان الفاظ کا مطلب عبادت نہ ہوگا۔

جن آیات میں ”یدعون و تدعون” جیسے الفاظ بطور عبادت کے اللہ نے استعمال کیے ہیں وہ آیات درج ذیل ہیں :
قُلْ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ.
فرما دو کہ مجھے اس بات سے روک دیا گیا ہے کہ میں ان (جھوٹے معبودوں) کی ”عبادت ”کروں جن کی تم اللہ کے سوا” پرستش” کرتے ہو
[الانعام، 6 : 56]
قُلْ ”أَنَدْعُواْ” مِن دُونِ اللّهِ مَا لاَ يَنفَعُنَا وَلاَ يَضُرُّنَا.
فرما دو : کیا ہم اللہ کے سوا ایسی چیز کی ”عبادت” کریں جو ہمیں نہ (تو) نفع پہنچا سکے اور نہ (ہی) ہمیں نقصان دے سکے۔
[الانعام، 6 : 71]
إِنَّ الَّذِينَ” تَدْعُونَ” مِن دُونِ اللّهِ عِبَادٌ أَمْثَالُكُمْ.
بے شک جن (بتوں) کی تم اللہ کے سوا ”عبادت” کرتے ہو وہ بھی تمہاری ہی طرح (اللہ کے) مملوک ہیں۔‘‘
[الاعراف، 7 : 194]

اب ان جیسی آیات کا ترجمہ وہابی و دیوبندی پکارنا کر دیتے ہیں ۔ جس سے پڑھنے والے کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ غیر اللہ کو چاہے التجا ، یا نیت توسل و استغاثۃ ”پکارنا” بھی شرک ہے ۔ کیونکہ آیت میں غیر اللہ کو پکارنے کی نفی آگئی ۔
جبکہ ان آیات کا ترجمہ ایمان داری سے ”عبادت” ”پوجنا” ”پرستش” کیا جائے گا تو بات بالکل واضح ہو جائے گی۔ کیونکہ مشرکین مکہ بتوں کو اللہ کے ماتحت اور عبادت کے بغیر بنیت استغاثہ کے تحت پوجا کرکے مدد کے لیے نہیں بلاتے تھے ۔
بلکہ انکو عین الہ سمجھ کر اللہ کے مقابل مدد گار سمجھ کر اپنا سفارشی بنا کر پکارتے تھے۔

قرآن میں مشرکین کی مذمت میں جن آیات میں ”تدعون ، یدعون من دون اللہ” آیا ہے اس سے مراد پوجا ، عبادت ، اور پرستش ہیں ۔

اس پر اہل تفسیر ائمہ سلف اور اصحاب رسولﷺ کا موقف:
سب سے پہلے ایک اثر پیش کرتے ہیں:
اب ہم صحیح مسلم کی ایک روایت کا ترجمہ وہابیہ کی طرف سے پیش کرتے ہیں تاکہ انکی ڈنڈی و واردات واضح ہو جائے ۔
امام مسلم روایت بیان کرتے ہیں:
حدثنا حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا عبد الله بن إدريس ، عن الاعمش ، عن إبراهيم ، عن ابي معمر ، عن عبد الله ” في قوله عز وجل اولئك الذين
”يدعون”
يبتغون إلى ربهم الوسيلة ايهم اقرب سورة الإسراء آية 57، قال: كان نفر من الجن اسلموا، وكانوا ”يعبدون” فبقي الذين كانوا ”يعبدون” على عبادتهم وقد اسلم النفر من الجن.
عبداللہ بن ادریس نے اعمش سے، انھوں نے ابراہیم سے، انھوں نے ابو معمر سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان کے متعلق روایت کی: "وہ لوگ جنھیں یہ (کافر) ”پکارتے” ہیں وہ خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں سے کو ن زیادہ نزدیک ہوگا۔”
(ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: جنوں کی ایک جماعت مسلمان ہوگئی تھی اور (اس سے پہلے) ان کی ”پوجا” کی جاتی تھی، تو جو ان کی ”عبادت” کیاکرتے تھے، ان کی ”عبادت” پرقائم رہے جبکہ جنوں کی یہ جماعت خود اسلام لے آئی۔
[صحیح مسلم ، برقم:۷۵۵۴]

اب یہاں دیکھا جا سکتا ہے کہ جس قرآنی آیت میں ”یدعون” یعنی عبادت و پوجا کی مذمت تھی اسکا لفظی ترجمہ وہابیوں نے ”پکارنا” کر دیا جبکہ حضرت عبداللہ بن مسعود واضح فرما رہے ہیں کہ یہ وہ جنوں کی جماعت تھی جسکی پوجا و عبادت کی جاتی تھی ۔ نہ کہ محض پکارنا اسکا مطلب ہے ۔
مفسرین قرآن سے ثبوت کہ ”یدعون ، تدعون ، دعا ، من دون اللہ” سے مراد عبادت و پوجا ہے۔
سب سے پہلے ہم امام ابن کثیر علیہ الرحمہ سے یہ ثبوت پیش کرتے ہیں کیونکہ عمومی طور پر انکی تفسیر اہل حدیث و دیوبندیوں کے نزدیک زیادہ معبتر سمجھی جاتی ہیں۔


امام ابن کثیر سورہ ھود کی آیت نمبر ۱۰۱ کے تحت:

الَّتِي يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ
کے بارے فرماتے ہیں:
فَما أَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمُ أوثانهم التي يَعْبُدُونَهَا وَيَدْعُونَهَا مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ مَا نَفَعُوهُمْ وَلَا أَنْقَذُوهُمْ لَمَّا جَاءَ أَمْرُ اللَّهِ بِإِهْلَاكِهِمْ
”فَمَا اَغْنَتْ عَنْھُمْ اٰلِھَتُھُمْ” سے مراد اوثانھم ان کے بت ہے جن کی وہ ”عبادت” کرتے اور دعا کرتے (مِنْ دُوْنِ اﷲِ مِنْ شَئٍْ) کا معنی ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے سوا انہوں نے کبھی بھی انہیں نفع پہنچایا اور نہ وہ انہیں اس وقت بچا سکے جب اﷲ تعالیٰ نے ان کی ہلاکت کا فیصلہ فرمایا۔
[تفسیر ابن کثیر سورہ ھود :۱۰۱]

امام بغوی بھی تدعون من دون اللہ کے تحت عبادت بیان کیا ہے :

كُنَّا نَدْعُوا مِنْ دُونِكَ، أَرْبَابًا وَنَعْبُدُهُمْ،
اسکا مطلب یہ ہے کہ ہم تیرے علاوہ جھوٹے خداوں کی عبادت کرتے تھے
[تفسیر بغوی، سورہ نحل :۹۰]
اور اسی تسفیر میں دوسرے مقام پر امام بغوی درج ذیل آیت:
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْداداً
اور کچھ لوگ اللہ کے سوا اور معبود بنالیتے ہیں
اسکے تحت فرماتے ہیں:
قَوْلُهُ تَعَالَى: وَمِنَ النَّاسِ، يعني: المشركين، مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْداداً، أَيْ: أَصْنَامًا يَعْبُدُونَهَا
کہ اللہ کا یہ فرمان اور ان لوگوں میں سے یعنی مشرکین مراد ہین ۔ اور جنہوں نے اللہ کے سوا معبود بنا لیے یعنی بتوں کی پوجا کرنے والے
[تفسیر بغوی، البقرہ:۱۶۵]

امام نسفی علیہ الرحمہ درج ذیل آیت:

إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ عِبَادٌ أَمْثَالُكُمْ
جنکی تم عبادت کرتے ہو۔ تمہاری طرح ہیں
(بقول وہابی جنکو تم پکارتے ہو)
اسکی تفسیر میں فرماتے ہیں:
أي تعبدونهم وتسمونهم آلهة
اسکا معنی یہ ہے کہ جنکی تم عبادت کرتے ہو جنکو تم معبود (الہٰ) مانتے ہو
[تفسیر نسفی ، الاعراف:۷]
اسی تفسیر میں ایک مقام پر امام نسفی علیہ الرحمہ ”من دون اللہ” کے تحت فرماتے ہیں:
{مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ الله أَندَادًا} أمثالاً من الأصنام
اور کچھ لوگ اللہ کے سوا اور معبود بنالیتے ہیں سے مراد بتوں کی اقسام ہیں
[تفسیر نسفی ،القبرہ:۱۶۵]

اسی طرح تفسیر جلالین جو کہ ہر مسالک کے مدارس میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے تفاسیر کے حساب سے اس میں

مذکورہ آیت:
يَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُ وَمَا لَا يَنْفَعُهُ
جنکی تم عبادت کرتے ہو اللہ یے سوا یہ تم کو کوئی نقصان اور نہ نفع پہنچا سکتے ہیں
(بقول وہابیہ جنکو تم پکارتے ہو)
اسکے تحت مفسر فرماتےہیں:
يَدْعُو} يَعْبُد {مِنْ دُون اللَّه} مِنْ الصَّنَم
یدعو کا معنی عبادت کرنا ہے اللہ کے سوا سے مراد ”بت” ہیں


خلاصہ تحقیق:
یہاں تک ہم نے مشرکین مکہ کی مذمت میں نازل شدہ آیات کا جائزہ لیا جس میں اللہ نے مشرکین مکہ کے شرکیہ اعتقاد کو ظاہر کیا اور ان پر سوال قائم کیے ۔
کہ یہ بتوں کو الہٰ بنا لیا
انہوں نے بتوں کی پوجا و پرستش کی
انہوں نے میرے مقابل بتوں کو سفارشی بنا لیا کہ چونکہ یہ انکی پوجا کرکے انکو خوش کرتے ہیں
انہوں نے بتوں کو میرے مقابل نفع و نقصان کا مالک بنا لیا۔
انہوں نے بے جان بتوں کو جو نہ چل سکتے ہیں ، نہ بول سکتے ہیں نہ پکڑ سکتے ہیں بے جان اشیاء سے تراش کر ان بے روح اور بے جان بتوں سے مدد طلب کرتے ہیں
یعنی کہ انکے بنائے گئے بت جاندار مخلوق سے بھی گئے گزرے ہیں کہ انکا معیار الوہیت اتنا گرا ہوا ہے ۔
جبکہ اللہ اپنے بارے فرماتا ہے
کہ کائنات کا مالک اللہ ہے ، اسکے ہاتھ میں تمام شفاعت ہے ۔ اسے نہ نیند آتی ہے نہ تھکاوٹ ہوتی ہے
وہ ازل سے قائم یعنی زندہ ہے ۔
اسی کو سب اختیار ہے ۔
لیکن اللہ نے کہیں
انبیاء کے محدود اختیار کی نفی نہیں کی
نہ انبیاء سے استغاثہ کی نفی کی کہ انبیاء کو اللہ کا ولی مان کر اللہ ہی کے تابع سمجھ کر اللہ کی طرف سے شفاعت و مدد کے اعتقاد رکھ کر استغاثہ کرنے کو شرک قرار نہیں دیا کہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے