مردوں پر اعمال پیش ہونا
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 3 Average: 3.7]

قبر والوں  پر اعمال پیش ہونا  اور انبیاء  پر امت  کے اعمال پیش ہوتے ہیں؟ اور فوت شدہ اپنے زندہ رشتے داروں کے حال پر مطلع ہوتے ہیں؟

قبر والوں پر اعمال پیش ہونا زندہ لوگوں کے  ۔ اور یہ عقیدہ تابعین سمیت جید سلف و صالحین کا تھا اور اہلسنت کے جید ائمہ نے اس بات کی تصریح اپنی تفاسیر اور کتب حدیث مین کی ہے۔

اللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہے:
وَ قُلِ اعْمَلُوْا فَسَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الْمُؤْمِنُوْنَؕ-وَ سَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ
▪︎ترجمہ: کنزالعرفان
اور تم فرما ؤ: تم عمل کرو ،اب اللہ اور اس کے رسول اور مسلمان تمہارے کام دیکھیں گے اور جلد ہی تم اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے جوہر غیب اور ظاہر کو جاننے والاہے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال بتائے گا۔
[سورہ توبہ105]

قبر والوں  پر اعمال پیش ہونا اس کے تعلق سے  امام ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ:

●》قَدْ وَرَدَ: أَنَّ أَعْمَالَ الْأَحْيَاءِ تُعرَض عَلَى الْأَمْوَاتِ مِنَ الْأَقْرِبَاءِ وَالْعَشَائِرِ فِي الْبَرْزَخِ
▪︎بے شک یہ آیا ہے کہ زندوں کے اعمال مردہ رشتہ داروں پر برزخ میں پیش ہوتے ہیں –
[تفسیر القرآن العظیم ، جلد ٤ ، صفحہ ٢٠٩]

قبر والوں پر اعمال پیش ہونا اور اس تعلق  سے  علامہ ابن تیمیہ اپنی تصنیف میں فرماتے ہیں :

●》وقد روي أن أعمال الأحياء تعرض على الموتى، وأنهم إن وجدوا شيئًا استغفروا لصاحبه،
وروي أن أعمال الأمة تعرض على الرسول كذلك، كما رواه الطبري عن أبي هريرة قال: «إِنَّ أَعْمَالَكُمْ تُعْرَضُ عَلَى أَقْرِبَائِكُمْ مِنْ مَوْتَاكُمْ، فَإِنْ رَأَوْا خَيْرًا فَرِحُوا بِهِ، وَإِنْ رَأَوْا شَرًّا كَرِهُوهُ، وَإِنَّهُمْ يَسْتَخْبِرُونَ الْمَيِّتَ إِذَا أَتَاهُمْ مَنْ مَاتَ بَعْدَهُمْ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَسْأَلُ عَنِ امْرَأَتِهِ: أَزَّوَّجَتْ أَمْ لَا؟ وَحَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَسْأَلُ عَنِ الرَّجُلِ، فَإِذَا قِيلَ قَدْ مَاتَ، [قَالَ] : هَيْهَاتَ، ذَهَبَ ! فَإِنْ لَمْ يُحِسُّوهُ
▪︎روایت میں آیا ہے کہ زندہ لوگوں کے اعمال مردہ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اور اگر انہیں کوئی ایشی شے ملے تو اس کے مالک سے استغفار کرتے ہیں۔
روایت ہے کہ امت کے اعمال بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیے جاتے تھے، جیسا کہ طبری نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک تمہارے اعمال تمہارے مرنے والوں میں سے تمہارے رشتہ داروں کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں، اگر وہ بھلائی دیکھیں۔ وہ اس پر خوش ہوتے ہیں اور اگر برائی دیکھتے ہیں تو اس سے ناپسند کرتے ہیں، جب ان کے بعد کوئی مرنے والا ان کے پاس آتا ہے تو وہ مردوں کے بارے میں پوچھتے ہیں، یہاں تک کہ آدمی اپنی بیوی کے بارے میں پوچھے گا: کیا اس نے شادی کی یا نہیں؟ اور یہاں تک کہ اگر ایک آدمی سے دوسرے آدمی کے بارے میں پوچھا جائے، جب کہا جائے کہ وہ مر گیا ہے، [وہ کہتا ہے]: نہیں، وہ چلا گیا! اگر ان کو احساس نہ ہو۔
[قاعدة عظيمة في الفرق بين عبادات أهل الإسلام والإيمان وعبادات أهل الشرك والنفاق صفح ۱۲۹]

اہل قبر  پر اعمال پیش ہونے کے تعلق سے یہی تفسیر امام مفسر محدث امام الجلال الدین سیوطی ؒ نے بھی یہ بات فرمائی ہے۔

وہ اپنی تصنیف میں لکھتے ہیں :
●》قد بَلغنِي أَن أَعمال الْأَحْيَاء تعرض على أقاربهم من الْمَوْتَى فَانْظُ
▪︎کہ یہ بات مجھے پہنچی ہے کہ زندوں کے اعمال فوت ہونے والے رشتے داروں پر پیش کیے جاتے ہیں
[شرح الصدور بشرح حال الموتى والقبور صفح ۲۵۸]

نیز علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں کہ:

●》ولما كانت أعمال الأحياء تعرض على الموتى كان أبو الدرداء يقول : ” اللهم إني أعوذ بك أن أعمل عملا أخزى به عند عبد الله بن رواحة
▪︎ چونکہ زندوں کے اعمال مردوں پر پیش کیے جاتے ہیں اس لیے صحابی رسول حضرت ابو الدرداء فرمایا کرتے تھے کہ: اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں ایسے عمل سے جس سے عبد اللہ بن رواحہ کی نظر میں میری رسوائی ہو –
[مجموع فتاوى ابن تيمية: الفقه: كتاب النكاح: باب أركان النكاح وشروطه: فصل ما ينعقد به النكاح: مسألة هل يصح عقد أئمة القرى النكاح لمن لها ولي]

قبور والوں پر پر اعمال  کے اعمال پہنچنا ایسی روایت  سندا صحیح سے  کتب احادیث میں موجود ہے۔

امام ابن ابی الدنیا روایت کرتے ہیں:
●》حدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثني مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ، كَانَ يَقُولُ: إِنَّ أَعْمَالَكُمْ تُعْرَضُ عَلَى مَوْتَاكُمْ فَيُسَرُّونَ وَيُسَاءُونَ وَكَانَ أَبُو الدَّرْدَاءِ، يَقُولُ عِنْدَ ذَلِكَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَعْمَلَ عَمَلًا يُخْزَى بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ –
امام ابو دردا کہتے تھے کہ میں اللہ سے پناہ مانگتا ہوں کہ جب میرے اعمال پر عبداللہ بن رواح مطلع ہوں۔
[المنامات لابن ابی الدنيا: صفحہ ٩ ، رقم ٤ وسندہ صحیح]

اب ہم اور روایت سے اس کی تائید پیش کرتے ہیں کہ اعمال تو پوری امت کے نبی پاک کو بھی پیش کیے جاتے ہیں جیسا کہ علامہ ابن تیمیہ نے تصریح کی ہے۔

امام بزار روایت کرتے ہیں:
●》حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: نا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَيَاتِي خَيْرٌ لَكُمْ تُحَدِّثُونَ وَنُحَدِّثُ لَكُمْ، وَوَفَاتِي خَيْرٌ لَكُمْ تُعْرَضُ عَلَيَّ أَعْمَالُكُمْ ، فَمَا رَأَيْتُ مِنَ خَيْرٍ حَمِدْتُ اللَّهَ عَلَيْهِ، وَمَا رَأَيْتُ مِنَ شَرٍّ اسْتَغْفَرْتُ اللَّهَ لَكُمْ
▪︎حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ نبی پاک ﷺنے فرمایا کہ میری حیات بھی تمہارے لیے بہتر ہے اور میری وفات بھی تمہارے لیے بہتر ہے تمہارے اعمال مجھ پر پیش کیے جاتے ہیں اگر نیک اعمال ہوں تو میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں اور اگر برے ہوں تو میں تمہارے لیے مغفرت طلب کرتا ہوں
[مسند البزار ص 309، وسندہ صحیح]
اس روایت پر متعدد متفقہ جید محدثین کی توثیق درج ذیل ہے۔
■1۔امام ابن عراقیؒ
اس روایت کو نقل کرنے سے پہلے لکھتےہیں :
وروی ابو بکر البزار فی مسندہ باسناد جید عن اب مسعود ؓقال رسولﷺ الخ۔۔۔۔
[کتاب طرح التثریب فی شرح التقریب امام ین الدین ابی الفضل عبدالرحیم بن الحسین االعراق ، ص ۲۹۶]

■2۔ امام جلال الدین سیوطیؒ
امام سیوطی اسی روایت کے بارے فرماتے ہیں:
اوخرج البزار بسند صحیح من حدیث ابن مسعود مثله
[الخصائص الکبریٰ ص ۴۹۱]

■3۔ امام ہیثمیؒ
امام الحافظ نور الدین علی بن ابو بکر الہیثمی مجمع الزوائد میں اس روایت کو نقل کرنے سے پہلے ایک باب قائم کرتے ہیں :
(باب مایحصل لا مته ﷺمن استغفار بعد وفاتة)
یعنی نبی پاکﷺ کا بعد از وصال استغفار کرنا اپنی امت کے لیے
پھر اس روایت کو حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت نقل کر کے فرماتے ہیں:
رواہالبزار ورجالہ رجال الصحیح
[مجمع الزوائد ص ۹۳]

اسی طرح اس روایت کی شاہد اور ایک مرسل روایت بھی موجود ہے جسکے سارے رجال ثقات میں سے ہیں
اسکی توثیق ابن الھادی و البانی نے بھی کر رکھی ہے
●》وقال بكر بن عبد الله المزني، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ((حياتي خير لكم تحدثون ويحدث لكم، فإذا أنا مت كانت وفاتي خير لكم تعرض علي أعمالكم، فإن رأيت خير لكم تحدثون ويحدث لكم، فإذا أنا مت كانت وفاتي خير لكم تعرض علي أعمالكم، فإن رأيت خيراً حمدت الله وإن رأيت غير ذلك استغفرت الله لكم)) .
قلت: هذا خبر مرسل رواه القاضي إسماعيل بن إسحاق في كتاب فضل الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم (3) ، عن سليمان بن حرب، عن حماد بن زيد، عن غالب القطان عنبكر بن عبد الله، وهذا إسناد صحيح إلى بكر المزني، وبكر من ثقات التابعين وأثمتهم
[الصَّارِمُ المُنْكِي في الرَّدِّ عَلَى السُّبْكِي، ص ۲۰۴]

اسی طرح اس باب میں ایک اور روایت جسکو امام ابن حبان نے روایت کیا ہے جسکی سند بالکل صحیح مسلم کی شرط پر صحیح ہے
●》 أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، بِبُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ هِشَامًا، عَنْ وَاصِلٍ، مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «عُرِضَتْ عَلَيَّ أُمَّتِي بِأَعْمَالِهَا حَسَنَةٍ وَسَيِّئَةٍ، فَرَأَيْتُ فِي مَحَاسِنِ أَعْمَالِهِمُ الْأَذَى يُمَاطُ عَنِ الطَّرِيقِ، وَرَأَيْتُ فِي مَسَاوِئِ أَعْمَالِهِمِ النُّخَاعَةَ فِي الْمَسْجِدِ لَا تُدْفَنُ».
▪︎ نبی پاکﷺ نے فرمایا : میری امت کے اچھے اور برے اعمال میرے سامنے پیش کیے گئے ، تو میں نے ان میں سب سے بہتر عمل راستے سے تکلیف دہ چیز کے ہٹانے اور سب سے برا عمل مسجد میں تھوکنے اور اس پر مٹی نہ ڈالنے کو پایا ہے
3 إسناده صحيح على شرط مسلم
[محقق شعیب الارنووط الحنفی ، صحیح ابن حبان برقم 1640]

¤¤خلاصہ تحقیق¤¤
قرآن میں جن بتوں کے بارے فرمایا گیا ہے کہ وہ مردہ ہیں وہ اس ضمن میں کہ ان میں کبھی روح ڈالی ہی نہیں گئی تھی۔ یعنی انکا زندہ وجود عدم سے اثبات کی طرف کبھی تھا ہی نہیں تو وہ مردہ ہمیشہ سے بے جان ہیں یعنی انکا حقیقی زندہ وجود ہے ہی نہیں۔
اور جن کو اللہ نے زندگی دی اور جب وہ فوت ہوتے ہیں تو موت کا مزہ چکھنے کے بعد اپنی قبور میں تمام مومنین و مشرکین زندہ کر دیے جاتے ہیں جو اپنے اپنے اعمال کے مطابق سزا یا جزا حاصل کرتے ہیں
بلکہ شہداء کو تو مردہ کہنے سے ہی اللہ نے منع کیا کہ وہ عالم برزخ میں ایسی زندگی جی رہے ہیں جسکی ہم کو تمیز نہیں۔
جبکہ شہدا کا درجہ رسل ، انبیاء و صحابہ سے کم ہے!
تو اولیاء اللہ صحابہ و انبیاء کے بارے یہ عقیدہ بنانا کے انکے فوت ہو جانے پر اب یہ معاذاللہ ویسے مردہ ہیں کہ جیسے بت کہ جنکا اس کائنات میں کوئی زندہ وجود تھا ہی نہیں جنکو زندگی عطاء کی ہی نہیں گئی تو زندہ بھی فوت ہو جانے کے بعد ان بتوں کی مثل مردہ ہیں
یہ عقیدہ نہ ہی متقدمین میں تھا نہ ہی متاخرین میں اور ہم نے علامہ ابن تیمیہ و امام ابن کثیر سے خاص کر اہتمام سے تصریحات دیں تاکہ جنکی نظر میں یہ شیخ الاسلام ہیں تو وہ عقائد میں فحش خطا پر نہیں ہو سکتے۔
اور بیشک اہل حق ہی نصیحت سمجھنے والے ہوتے ہیں۔
تحقیق:اسدالطحاوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے