محدثین کا بغیر وضو روایات بیان کرنے سے اجتناب کرنا

بغیر وضو حدیث
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 3 Average: 3.7]

محدثین کا بغیر وضو روایات بیان کرنے سے اجتناب کرنا

محدثین بغیر وضو کے روایات و حدیث کو بیان کرنے سے اجتناب کرتے تھے۔ متقدمین میں چند ایک محدثین کا یہ منہج و اسلوب رہا ہے ادب رسولﷺ کے لیے! جس پر ہم کچھ اثار اور انکی تحقیق پیش کرتے ہیں۔

امام ابن عبدالبر رحمہ اللہ اپنی مشہور کتاب جامع بیان العلم میں ایک باب قائم کرتے بنام :

باب ذكر بعض من كان لا يحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا وهو على وضوء

اس باب کا بیان کہ بعض محدثین بغیر وضوءکے حدیث رسولﷺبیان نہ کرنا

اس باب میں چند روایات لاتے ہیں جسکی اسنادی حیثیت بیان کرینگے،ایک روایت جو امام ابن عبدالبر نے نقل کی ہے اسکی سند و متن درج ذیل ہے :

أخبرنا عبد الله بن محمد بن عبد المؤمن بن يحيى، ثنا أبو الحسن عبد الباقي بن قانع، ببغداد قال حدثنا مطين، ثنا محمد بن إسماعيل بن سمرة، قال: ثنا إسحاق بن الربيع العصفري، عن الأعمش، عن ضرار بن مرة، قال: ” كانوا يكرهون أن يحدثوا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم وهم على غير وضوء، قال إسحاق: فرأيت الأعمش إذا أراد أن يتحدث وهو على غير وضوء تيمم "

امام ضرور بن مرہ فرماتے ہیں : سلف صالحین بغیر وضوء حدیث رسولﷺ کو بیان کرنے کو مکرہ سمجھتے تھے۔اور راوی اسحاق فرماتے ہیں : میں نے امام الاعمش کو دیکھا وہ بے وضوء ہوتے تو تیمم کر کے حدیث رسولﷺ بیان کرتے۔

[جامع بیان العلم ، برقم۲۳۹۰]

سند کے رجال کا مختصر تعارف؂

۱۔ عبد الله بن محمد بن عبد المؤمن بن يحيى

امام ذھبی فرماتے ہیں کہ یہ صدوق ہیں ان شاءاللہ

وكان كثير الحديث، مسندا، صحيح السماع، صدوقا إن شاء الله،

[تاریخ الاسلام الذھبی ، الناشر: دار الغرب الإسلامي، برقم:۳۸۸]

۲۔ عبد الباقي بن قانع بن مرزوق بن واثق،

امام خطیب انکے بارے فرماتے ہیں : عبدالباقی اہل علم اور درایت و فھم والے تھے اور میں نے عمومی طور پر شیوخ کو انکی توثیق کرتے ہی دیکھا ہے

كان عبد الباقي من أهل العلم والدراية والفهم، ورأيت عامة شيوخنا يوثقونه.

[تاریخ بغداد ، الناشر: دار الغرب الإسلامي – بيروت، جلد ۱۲، ص ۳۷۵]

نوٹ:ان پر یہ جرح ہے کہ انکو اختلاط ہوگیا تھا جسکی وجہ سے ان سے منکر روایات ہیں جرح ابن حزم وغیرہ نے کی ہے۔جسکا رد کرتے ہوئے امام ابن حجر عسقلانی لسان المیزان میں فرماتے ہیں :

علامہ ابن حزم کہتے ہیں انکو اختلاط ہو گیا تھا قبل مو ت اور یہ منکر الحدیث ہے اور اصحاب الحدیث نے اسکو ترک کر دیا تھا.

وقال ابن حزم: اختلط ابن قانع قبل موته بسنة هو منكر الحديث تركه أصحاب الحديث جملة.

اسکا رد کرتے ہوئے امام ابن حجر فرماتے ہیں میں کہتاہوں میرے علم میں نہیں کسی نے انکو ترک کیا ہو بلکہ صحیح یہ ہے کہ اختلاط میں یہ روایت بیان کرنے سے رک گئے تھے

قلت: ما أعلم أحدا تركه وإنما صح أنه اختلط فتجنبوه.

اسکے بعد امام ابن حجر امام خطیب بغدادی کا انکے بارے توثیق کا موقف نقل کرتے ہیں (جو اوپر بیان کیا جا چکا ہے ) اسکو نقل کرنے کے بعد موافقت کرتے ہوئے فرماتے کہ

یہی راجح موقف ہے

وهذا هو الراجح.

[لسان المیزان ، الناشر: دار البشائر الإسلامية ، برقم : ۴۵۳۸]

۳۔مطين أبو جعفر محمد بن عبد الله الحضرمي

امام ذھبی فرماتے ہیں کہ یہ حافظ محدث و صدوق ہیں

الشيخ، الحافظ، الصادق، محدث الكوفة، أبو جعفر محمد بن عبد الله بن سليمان الحضرمي، الملقب: بمطين.

[سیر اعلام النبلاء ، الناشر : مؤسسة الرسالة جلد ۱۴ ، ص ۴۱]

۴۔ محمد بن إسماعيل بن سمرة، أبو جعفر الأحمسي

امام ذھبی فرماتے ہیں امام نسائی نے انکو ثقہ قرار دیا ہے

قال النسائي: ثقة.

[تاریخ الاسلام الذھبی ، الناشر: دار الغرب الإسلامي، برقم: ۴۱۱]

۵۔ إسحاق” بن الربيع العصفري أبو إسماعيل الكوفي

امام ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ میں نے امام ذھبی کا لکھا ہوا خط دیکھا ہے جس میں انہوں نے فرمایا کہ یہ صدوق ہے ان شاءاللہ

وقرأت بخط الذهبي: "هو صدوق -إن شاء الله تعالى

[تہذیب التہذیب ، الناشر: مطبعة دائرة المعارف النظامية، برقم:۴۳۱]

اور

امام ذھبی نے اس راوی کی یہ توثیق میزان الاعتدال میں کی ہے جسکا ذکر امام ابن حجر نے تہذیب میں بیان کیا ہے

إسحاق بن الربيع العصفري الكوفي.

وإسحاق صدوق إن شاء الله.

[میزان الاعتدال،الناشر: دار المعرفة للطباعة والنشر، برقم:۷۵۵]

۶۔ ضرار بن مرة أبو سنان الشيباني

امام یحییٰ بن سعید القطان فرماتے ہیں کہ یہ ثقہ ہے

نا عبد الرحمن نا صالح ابن أحمد بن حنبل نا علي يعني ابن المديني – قال سمعت يحيى بن سعيد القطان قال: كان ضرار بن مرة ثقة.

امام ابی حاتم فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں

نا عبد الرحمن قال سألت أبي عن أبي سنان ضرار بن مرة فقال: لا بأس به.

[الجرح والتعديل، الناشر: طبعة مجلس دائرة المعارف العثمانية ، برقم: ۲۰۴۴]

اسی طرح ایک اور روایت امام ابن عبدالبر نقل کرتے ہیں :

وأخبرنا أحمد بن قاسم بن عيسى المقرئ، ثنا عبيد الله بن محمد بن حبابة البغدادي، ببغداد ثنا عبد الله بن محمد البغوي، ثنا علي بن الجعد ثنا شعبة، قال: «كان قتادة لا يحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا وهو على طهارة»

امام شعبہ فرماتے ہیں کہ قتادہ جب تک بغیر وضوء ہوتے تو حدیث رسولﷺ بیان نہ کرتے تھے۔

سند کے رجال کا مختصر تعارف:

۱۔ أحمد بن قاسم بن عيسى أبو العباس المقرئ

اما م ابو جعفر الضبی فرماتے ہیں کہ یہ فاضل و ثقہ ہیں

وهو ثقة فاضل

[بغية الملتمس في تاريخ رجال أهل الأندلس، الناشر: دار الكاتب العربي ، برقم: ۴۶۰]

۲۔أبو القاسم عبيد الله بن محمد بن حبابة البزاز

امام ابن ماکولا فرماتے ہیں کہ یہ ثقہ تھے

وكان ثقة

[الإكمال في رفع الارتياب عن المؤتلف والمختلف في الأسماء والكنى والأنساب، امام ابو نصر بن ماکولا ، الناشر: دار الكتب العلمية، جلد ۲، ص ۳۷۲]
۳۔ امام أبو القاسم عبد الله بن محمد بن عبد العزيز البغوي

امام خلیلی فرماتے ہیں کہ یہ کبیر محدث اور ثقہ تھے

ثقة كبير

[الإرشاد في معرفة علماء الحديث، امام ابی یعلی خلیلی ، الناشر: مكتبة الرشد، جلد ۲، ص ۶۱۰]

۴۔ امام علي بن الجعد بن عبيد البغدادي

امام ذھبی فرماتے ہیں کہ یہ حافظ حجت امام ہیں

الإمام، الحافظ، الحجة، مسند بغداد، أبو الحسن البغدادي،

[سیر اعلام النبلاء، الناشر : مؤسسة الرسالة، جلد ۱۰، ص ۴۵۹]

۵۔ یہ امام شعبہ ہیں جنکی شخصیت انکی ثقاہت بیان کرنے کی محتاج نہیں ہے

اسکے بعد امام ابن عبدالبر نے لا باس بہ اسناد سے یہی امر امام مالک بن انس ، امام سعید بن مسیب و امام جعفر بن محمد وغیرہم کا بھی بیان کیا ہے۔


نتیجہ!!!!

نبی کریمﷺ نے تو کبھی یہ بیان نہیں فرمایا تھا کہ بغیر وضوء کے میری حدیث بیان نہ کرنا ، اور نہ ہی کسی صحابی رسولﷺ سے یہ شرط ملتی ہے۔

لیکن کیا بات ہے کہ کبیر تابعین اور تابع تابعین نے اس منہج کو اپنایا نہ صرف بلکہ اسکو خود پر لازم کر لی۔یہ بات فقط ادب رسولﷺ اور عشق کی ہے اسی لیے بابا جی کہتے ہیں کہ عشق اپنے فیصلے کرنے میں دلیر ہوتا ہے۔

اوردوسراس امر سے یہ بھی ثبوت ملا کوئی عمل جسکو مستحب مانتے ہوئے بھی خودپر لازم کر لیا جائے بغیر اس عقیدے کے کہ یہ نہ ہی فرض ہے اور نہ ہی واجب ہے تو یہ بدعت نہ بن جائے گا باقائدہ کرنے سےاسی طرح ہم اہلسنت بھی میلاد شریف کو نہ فرض کہتے ہیں نہ ہی واجب لیکن اسکومناتے احتمام اور باقائدہ ہیں۔

اور
اسی طرح اذان سے پہلے یا بعد درود سلام پڑھتے ہیں مستحب مانتے ہوئےلیکن کچھ علم سے عاری لوگ یہ اعتراض کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ اگر یہ امر آپ لوگوں کے نزدیک فرض یا واجب نہیں تو کبھی کبھار اسکو ترک کیوں نہیں کرتے ؟ اسکو ترک نہ کرنا ہی اسکو دین کا حصہ بنانے جیسا ہے۔لیکن سلف صالحین کسی بھی عمل کو مستحب کے درجے میں رکھتے ہوئے اسکو کبھی ترک نہ کرتے تھے معلوم ہو کسی امر کو باقائدہ کرنا اور ترک نہ کرنے سے وہ عمل دین کا حصہ یا فرض یا واجب کے مرتبے میں نہیں آجاتا

بس عقیدہ یہ ہو کہ یہ امر فقط مستحب ہے۔

تحقیق: دعاگو اسد الطحاوی الحنفی سہروردی بریلوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے