بڑے بڑے محدثین و حفاظ الحدیث امام ابو حنیفہ کے شاگرد تھے

محدث ابو حنیفہ
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 5]

 بڑے بڑے  محدثین و حفاظ الحدیث امام ابو حنیفہ کے شاگرد تھے۔

امام ابو حنیفہ کتنے بڑے محدث تھے اور علم حدیث میں انکا درجہ کیا تھا ؟ اس بات اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ انکے شاگردوں میں کتنے بڑے بڑے محدثین کا نام آتا ہے ۔ جیسا کہ امام ابو حنیفہ کی سیرت و فضائل پر کتاب لکھنے والے امام ابن ابی عوام نے ایک روایت اپنی سند سے نقل کی ہے۔

امام ابن ابی العوام اپنی سند صحیح سے فضائل ابی حنیفہ میں ایک روایت بیان کرتے ہیں

حدثني محمد بن أحمد بن حماد قال(صدوق): حدثني أحمد بن القاسم البرتي(ثقہ) قال: سمعت إسحاق بن أبي إسرائيل (ثقہ ثبت امام ) وذكر أبا حنيفة فقال: رحمه الله روى عنه الناس: حدثني عارم، عن أبي عوانة، عن أبي حنيفة،

وابن المبارك حدثنا عنه،

 وعباد بن العوام،

 وحماد بن زيد،

 وهُشيم بن بشير،

 ووكيع بن الجراح،

 وحفص بن غياث،

 ويحيى بن يمان،

 وفضل بن دكين،

 وهوذة بن خليفة،

 وعبد الله بن داود الخريبي،

 وحسان بن إبراهيم،

 وسفيان بن عيينة

ويحيى بن سليم،

 وداود الطائي،

 وجرير بن عبد الحميد،

 ورباح بن زيد

 رووا عنه مناولة.

ترجمہ:امام البرتی فرماتے ہیں : میں نے اسحاق بن ابی اسرائیل کو سنا اور امام ابو حنیفہ کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا اللہ کی ان پر رحمت ہو۔  ان سے لوگوں نے روایت کیا ہے

مجھے عارم نے حدیث بیان کی ہے امام  ابی عوانہ سے وہ ابو حنیفہ سے اور ابن مبارک نے بھی ان (امام ابی حنیفہ) سے ہمیں حدیث بیان کیا ہے۔

اور امام عباد بن العوام، وامام حماد بن زيد، وامام هُشيم بن بشير، وامام وكيع بن الجراح، وامام حفص بن غياث، وامام يحيى بن يمان، وامام فضل بن دكين، وہ ذة بن خليفة، وامام عبد الله بن داود الخريبي، وامام حسان بن إبراهيم، وامام سفيان بن عيينة وامام يحيى بن سليم،امام  وداود الطائي، امام وجرير بن عبد الحميد، امام ورباح بن زيد انہوں نے امام ابی حنیفہ سے مناولہ کے طریقے سے بیان کیا ہے .

[فضائل و مناقب ابن ابی العوام ، برقم : ۱۶۴]

نوٹ :

مناولہ دو طرح سے ہوتا ہے:کہ شیخ اپنی اصل روایات جو اس نے سنی ہو طالب کو دے اور کہے یہ میری سماع یا روایات ہے فلان سے اس کو مجھ سے روایت کر یا میں نے تم کو اس کی روایت کی اجازت دی پھر اسے اسکا مالک بنا دے۔

روایت کی اسنادی تحقیق:

سند کا پہلا راوی امام ابو بشر احمد بن حماد الدولابی الحنفی

امام ابن خلقان انکے بارے فرماتے ہیں :

   – الدولابي

أبو بشر محمد بن أحمد بن حماد بن سعد، الأنصاري بالولاء، الوراق الرازي الدولابي؛ كان عالما بالحديث والأخبار والتواريخ، سمع الأحاديث بالعراق والشام وروى عن محمد بن بشار وأحمد بن عبد الجبار العطاردي وخلق كثير؛ وروى عنه الطبراني وأبوحاتم ابن حبان البستي. وله تصانيف مفيدة في التاريخ ومواليد العلماء ووفياتهم، واعتمد عليه أرباب هذا الفن في النقل وأخبروا عنه في كتبهم ومصنفاتهم المشهورة. وبالجملة فقد كان من الأعلام في هذا الشأن وممن يرجع إليه، وكان حسن التصنيف.

امام خلکان فرماتے ہیں : ابو بشر محمد بن احمد بن حماد سعد الانصاری الدولابی یہ حدیث اور اخبار اور تاریخ علماء میں سے تھے ، انہوں نے عراق اور شام میں حدیث کا سماع کیا ہے یہ محمد بن بشر وغیرہ اور خلق کثیر سے روایت کرتے ہیںاور ان سے امام طبرانی ، امام ابو حاتم وغیرہ سے روایت کیا ہے۔انکی فائدہ بخش تصانیف ہیں  علماء کی وفات اور ملاد پران پر اعتماد کیا ہے۔ اس فن ( روایت حدیث و تاریخ کے علماء) نے  ان سے نقل اور ان سے روایت کرنے میں کتب اور تصانیف مشہورہ میں۔یہ بڑی شان والے علماء میں سے تھے اور بڑی اچھی تصانیف لکھنےوالے تھے

[وفيات الأعيان وأنباء أبناء الزمان برقم: 646، امام ابن خلکان ]

سند کا دوسرا راوی : امام احمد بن القاسم البرتی

أَحْمَد بْن الْقَاسِم بْن مُحَمَّد بْن سُلَيْمَان، أَبُو الْحَسَن الطائي البرتي :

حدث عَنْ بشر بْن الوليد الكندي، وأبي بَكْر وعثمان ابني أَبِي شيبة، وداود بْن رشيد، وعبيد بْن جناد، ومحمد بْن عَبْد الرَّحْمَن بْن سهم، ومحمد بْن عباد المكي.

رَوَى عَنْهُ أَبُو عمرو بن السماك، وَعبد الصمد بْن عَلِيّ الطستي، وَأحمد بن الفضل ابن خزيمة والقاضيان: ابْن كامل وابن قانع، وَكَانَ ثِقَةً.

امام خطیب بغدادی فرماتے ہیں یہ ثقہ تھے

[تاریخ بغداد 2460]

سند کا تیسرا راوی : امام اسحاق بن ابی اسرائیل

یہ صحیحین کے راوی ہیں

امام ذھبی انکے بارے فرماتے ہیں ؛

إسحاق بن أبي إسرائيل إبراهيم بن كامجر 

الإمام، الحافظ، الثقة.

امام اسحاق بن ابی اسرائیل یہ امام ، حافظ اور ثقہ ہیں 

[سیر اعلام النبلاء]

معلوم ہوا امام اسحاق بن اسرائیل جو اتنے بڑے جید محدث تھے بقول انکے بڑے بڑے حفاظ جیسا کہ امام عارم جو کہ شیخ بخاری ہیں ، امام ابی عوانہ ، امام ابی حنیفہ سے براہ راست روایت کرتے اور امام ابن المبارک بھی۔اور امام وکیع بن الجرح ، سفیان بن عیینہ جیسے بڑے بڑے حفاظ مناولہ کے زریعے امام اعظم سے اجازت لیکر کتب و تصنیف سے روایت کرتےاور یہ بہت بڑے فخر کی بات ہے جید اپنے وقت کے حفاظ الحدیث امام اعظم سے سند حدیث کے لیے مناولہ کا طریقہ اختیار کریں۔ جس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ بڑے بڑے محدثین بہت سی احادیث امام ابو حنیفہ سے روایت کرتے تھے۔ اور یہ محدثین کی جماعت تھی جیسا کہ صحیحین کے راوی امام اسحاق بن ابی اسرائیل نے بیان کیا ہے ۔ اور محدثین کی جماعت کا امام ابو حنیفہؓ سے روایت کرنا اس بات کا متقاضی ہے کہ انکی نظر میں امام ابو حنیفہؓ علم حدیث اور حفظ و اعتقان میں کوئی کمی نہیں تھی۔ وگرنہ علم حدیث میں اتنا اونچا مقام رکھنے والے محدثین کبھی بھی ایک ضعیف اور غلطیاں کرنے والے راوی سے مناولہ کے طریقہ سے حدیث کی اجازت نہ لیتے۔

تحقیق :  دعاگو: اسد الطحاوی الحنفی البریلوی

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے