من کنت مولاه فعلی مولاہ
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 2 Average: 5]

من کنت مولاه فعلی مولاه حدیث کے متواتر ہونے پر محدثین کی تصریحات 

من کنت مولاه فعلی مولاه حدیث  کا متواتر ہونا اور جمہور محدثین نے نا صرف صحیح کہا ہے بلکہ اس روایت کو متواتر قرار دیا ہے۔ اور جمہور محدثین کے نزدیک یہ روایت متواتر درجہ تک پہنچ گئی ہے۔ 


مذکورہ روایت من کنت مولاه پر امام ذھبی کا موقف:

اس روایت پر امام ذھبیؒ علیہ رحمہ نے مکمل رسالہ بھی لکھا ہے اور اہلسنت کے جید محدثین کے نزدیک یہ روایت متواتر ہے اور یہ محقق میاں کہتے ہیں اسکو متواتر کہنا دھوکہ و کذب بیانئ ہے۔
امام ذھبیؒ نے اپنے رسالے میں اس روایت کو جب نقل کیا تو درج ذیل حکم لگایا :
 غندر، ثنا شعبة، عن أبي إسحاق، سمعت سعيد بن وهب يقول: نشد علي الناس، فقام خمسة أو ستة من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فشهدوا أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من كنت مولاه فعلي مولاه.
هذا الحديث على شرط مسلم، فإن سعيدا ثقة.
– وكذا رواه إسرائيل عن أبي إسحاق.
[رسالة طرق حديث من كنت مولاه فعلي مولاه برقم : (22) (23)]
نوٹ: امام ذھبی نے اس رسالہ میں 125 طریق جمع کیے ہیں جن میں معمولی اور کثیر ضعف ہے انکی نشاندہی کی ہے اور جو حسن الاسناد اور صحیح الاسناد روایات ہیں انکی علیحدہ نشاندہی کی ہے اور متعدد روایات پر حسن کا حکم بھی لگایا ہے۔
امام ذھبی کہتے ہیں اس سند سے مروی اس روایت کی سند صحیح مسلم کی شرط پر ہے اگر سعید ثقہ ہے تو اور یہی روایت امام اسرائیل (صحیحین کے راوی ) نے ابی اسحاق(صحیحین پر مدلس )راوی سے بیان کی ہے۔
اب سعید کے بارے امام ذھبی سے تصریح :
سعيد بن وهب الهمداني الخيواني الكوفي من كبراء شيعة علي.
حدث عن: علي، وابن مسعود، ومعاذ بن جبل، وخباب.
أسلم في حياة النبي -صلى الله عليه وسلم- ولزم عليا -رضي الله عنه- حتى كان يقال له: القراد؛ للزومه إياه. وروى عن: سلمان، وابن عمر، والقاضي شريح. روى عنه: أبو إسحاق، وولده؛ يونس بن أبي إسحاق، وطائفة.
یہ حضرت علی کے بڑے ساتھیوں میں سے تھے
یہ حضرت علی ، حضرت ابن مسعود ، حضرت معاذ اور حضرت خباب سے روایت کرنے والے ہیں۔یہ نبی کریمﷺ کی زندگی میں اسلام قبول کیا تھا ۔ اور پھر انہوں نے حضرت علیؓ کی صحبت باقائدگی سے اختیار کی۔
اور یہ سلمان ، ابن عمر ، اور قاضی شریح سے بھی روایت کرتا ہے
اور ان سے ابو اسحاق وغیرہم روایت کرتے ہیں
وثقه: يحيى بن معين.
اور انکو امام یحییٰ بن معین نے ثقہ قراور دیا ہے
[سیر اعلام النبلاء برقم : 70]

تو معلوم ہوا امام ذھبی کے مطابق یہ سند صحیح مسلم کی شرط پر صحیح ہے

اسکے علاوہ اپنے رسالہ میں اس روایت پر متعدد مقام پر حسن کا حکم بھی لگایا ہے۔

دیگر متقدمین و متاخرین محدثین سے من کنت مولاه فعلی مولاه کی تصحیح و تحسین:

امام بیھقی نے اس روایت کی شرح امام شافعی علیہ رحمہ سے نقل کی ہے
أخبرنا أبو عبد الله السلمي، ثنا محمد بن محمد بن يعقوب الحجاجي، ثنا العباس بن يوسف الشكلي قال: سمعت الربيع بن سليمان يقول: سمعت الشافعي رحمه الله يقول في معنى قول النبي صلى الله عليه وسلم لعلي بن أبي طالب رضي الله عنه: من كنت مولاه فعلي مولاه، يعني بذلك ولاء الإسلام
امام ربیع بن سلیمان فرماتے ہیں میں نے امام شافعی سے سنا کہ نبی اکرمﷺ کے اس قول کا معنی جو انہوں نے مولا علی سے کہا جسکا میں مولا علیؓ اسکا مولا سے مولا سے مراد اسلامی بھائی چارہ ہے۔
[الاعتقاد وسند حسن]

2۔ امام حاکم  سے تصحیح:

امام حاکم نے تصحیح کی ہے مستدرک میں اور امام ذھبی نے موافقت کی ہے۔
[المستدرک برقم: 6272]

امام ترمذی:

امام ترمذی نے تحسین کی ہے اور وہ منفرد بھی نہیں

امام طحاوی:

امام ابو جعفر الطحاوی نے اس روایت کے متعدد طریق بیان کرکے اسکی شرح کی ہے۔

5۔ امام ابن حبان:

امام ابن حبان اپنی صحیح میں لائے ہیں اس روایت کو باسند حسن۔

6۔امام ابو عوانہ:

امام ابی عوانہ نےتخریج کی ہے۔

اس روایت ”جسکا میں مولا علی اسکا مولا ” کے متواتر ہونے کی تصریحات

امام ذھبی کی تصریح :
هذا حديث حسن، عال جدا، ومتنه فمتواتر.
یہ حدیث حسن ہے نہایت علیٰ ہے اور اسکا متن متواتر ہے
[سیر اعلام النبلاء جلد 8 ص 334]
اور ایک مقام پر کہتے ہیں :
فأنكر عليه أصحاب الحديث ذلك، ولم يلتفتوا إلى قوله
اصحاب الحدیث نے اسکا انکار کیا ہے لیکن انکے قول کی طرف توجہ نہیں دی جائے گی
[سیر اعلام النبلاء ترجمہ امام حاکم]

امام جلالد اللدین سیوطی نے بھی اس روایت کو متواتر احادیث میں شمار کیا ہے۔

[الأزهار المتناثرة في الأحاديث المتواترة ، برقم: 100]

نیز حافظ ابن حجر عسقلانی فتح الباری میں اس روایت کے تحت فرماتے ہیں :
جمع مناقبه من الأحاديث الجياد النسائي في كتاب الخصائص وأما حديث من كنت مولاه فعلي مولاه فقد أخرجه الترمذي والنسائي وهو كثير الطرق جدا وقد استوعبها بن عقدة في كتاب مفرد وكثير من أسانيدها صحاح وحسان
مناقب کی احادیث کو جمع کیا ہے امام نسائی نے الخصائص میں اور حدیث میں مروی ہے میں اسکا مولا ہوں جسکا علی مولا ہے اسکی تخریج کی ہے امام ترمذی اور نسائی نے اسکے بہت زیادہ طریق (اسناد) ہیں اور ابن عقدہ اسکو اپنی کتاب میں جمع کیا ہے ۔ اور اسکی کثیر اسناد صحیح کے درجہ اور حسن درجہ کی ہیں۔
[فتح الباری شرح صحیح بخاری ، ج 7 ، ص 74]
نوٹ امام ابن حجر عسقلانی کی آخری ادوار میں لکھی گئی اپنی جن کتب کو سابقہ پر مقدم کا قول بیان کیا اس میں فتح الباری شامل ہے۔

خلاصہ تحقیق:

من كنت مولاه فعلي مولاه حدیث پر جمہور ائمہ اہلسنت کی تصریحات ہیں اس روایت کے صحیح ہونے کی۔ اور ماہر فن حدیث کے ائمہ نے اس رویت کو متواتر ہونے کی تصریحات بھی بیان کی ہیں۔
تحقیق: اسد الطحاوی 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے