حدیث رسول ﷺ: کل بدعت ضلالہ کی تشریح خود نبی ﷺ، خلفائے راشدین ، اصحاب رسول و سلف کی زبانی

کل بدعت ضلالہ
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 2 Average: 3]

حدیث رسول ﷺ: کل بدعت ضلالہ  کی تشریح خود نبی ﷺ، خلفائے راشدین ، اصحاب اور سلف صالحین کی زبانی

ازقلم: اسد الطحاوی

ہمارےایک دوست نے ایک حدیث رسولﷺ: كل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة وكل ضلالة في النار

کا جواب  میں اپنا یہ موقف اپنایا ہے کہ نبی پاک نے کل محدثہ، کو بدعت قرار دیا اور ہر بدعت گمراہی  ہے او ر وہ جہنم میں لے جانے والی ہے۔تو اسلام میں ہر نیا محدثہ یعنی نیا مشروع کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے تو اس سادہ الفاظ سے ہمارے فاضل دوست نے یہ موقف اپنایا جو امت مسلمہ میں فقط چند اہل ظاہر اور کچھ گمراہ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ ہر بدعت گمراہی ہی ہے اور اسکی کوئی تاویل نہیں اور اس  طرف کچھ اہل سنت کے امام بھی ہیں لیکن بہت ہی کم مٹھی برابر   سے بھی کم ہونگے۔

لیکن اہل ظاہر ، اور خارجی   اور ابن تیمیہ پارٹی جنکے بعد اسماعیل دہلوی جیسے گمراہ اور پھر دیوبند اور غیر مقلدین اس بد عقیدے کے حامل ہیں اور  اس حدیث رسول : كل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة وكل ضلالة في النار

  • جسکی تشریح خود نبی پاک نے بھی کی ہے
  • صحابہ نے بھی کی ہے
  • اور مجتدین مطلق یعنی تابع تابعین نے بھی کی ہے
  • اور قرآن سے بھی اسکی تشریح واضح ہے جسکو ہم تفصیل سے آگے پیش کرینگے۔

ان سب چیزوں کو ٹھکرا کر فقط اہل ظاہر جو خودبھی گمراہ ہوئے اور انکی تقلید کرتے ہوئے فرقہ جدیدیہ دیوبند اور غیر مقلد بھی گمراہی کی بھٹی میں جا گرے۔

تو ہمارے دوست نے کچھ یوں لکھا ہے کہ :

كل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة وكل ضلالة في النار

يہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے کب فرمایا؟

ہمارے عزیز دوست نے اسکا جواب کچھ یوں لکھا ہے :

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ آپ فرماتے ہیں :

حضور صلی الله علیہ وسلم نے ایک دن ہمیں نماز پڑھائی ، أور پھر وعظ ( خطاب) فرمایا ، أور أیسا خطاب فرمایا کہ جسکو سن کر آنکھو سے آنسو آگے ، اور دل پہ خوف کی کیفیت طاری تھی ، تو ایک صحابی نے عرض کیا:

یارسول اللہ (صلی اللہ علیک وسلم) !

أیسا لگ رہا ہے جیسے آج آخری خطاب ہے اسکے بعد ہمیں موقع نہیں ملے گا تو آپ ہمیں کیا نصیحت فرمائیں گے؟

أس وقت حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:

” أوصيكم بتقوى الله ، والسمع والطاعة وإن عبدا حبشيا ، فإنه من يعش منكم بعدي فسيرى اختلافا كثيرا فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء المهديين الراشدين ، تمسكوا بها وعضوا عليها بالنواجذ ، وإياكم ومحدثات الأمور ، فإن كل محدثة بدعة ، وكل بدعة ضلالة "

ترجمہ:میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں ،أور ( حکمرانوں) کی إطاعت و فرمانبرداری کی أگرچہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو بے شک تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا پس عنقریب وہ ( امت میں) کثیر اختلاف دیکھے گا پس ( أس وقت) میری أور خلفائے راشدین کی سنت کو أپنے أوپر لازم کرلینا ، أس ( سنت) کو مضبوطی سے تھامے رکھنا ، أور أسے أپنی داڑھوں میں دبالو ( یعنی أیسے تھامو کہ وہ سنت تم سے جدا نہ ہو) ،(دین میں) نئے نئے کام (مشروع) کرنے سے بچنا ، کیونکہ ہر نیا کام ( جسکو دین میں مشروع کردیا جائے جس پر میرا حکم نہ ہو) بدعت ہے أور ہر بدعت گمراہی ہے .

[ سنن أبي داود ، باب في لزوم السنة ، حدیث نمبر: 4607 ، حدیث صحیح ہے]

أور” کل ضلالة في النار " کے الفاظ حدیث جابر میں آئے ہیں

[ سنن نسائی ، باب کیف الخطبہ، حديث نمبر: 1578 ، حدیث صحیح ہے]

إس حدیث میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا أسلوب مبارک ملاحظہ فرمائیں کہ آپ نے کتنی سختی سے بدعات سے بچنے کا حکم فرمایا ،أور یہ بھی إشارہ کردیا کہ بدعات ہی أمت میں اختلاف کا سبب بنیں گی أور یہ عقلی بات ہے جب بھی کوئی بدعت شروع کرے گا تو لوگ أسے منع کریں گے پھر اختلاف بڑھے گا تو إسی لیے حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا أس وقت میری سنت کو اور خلفائے راشدین کی سنت پہ عمل پیرا رہنا۔۔۔

إمام ابن حبان نے أپنی صحیح میں ناجی فرقہ کی نشانی بھی یہی بتائی ہے کہ ناجی فرقہ وہ ہے جو تاویلات پر مبنی آراء کو ترک کرکے سنت کو تھامے رکھے گا وہی فرقہ ناجی ہے ، أور آپ نے إسی عنوان سے باب بھی باندھا ہے.۔

لہذا حضور صلی الله علیہ وسلم نے امت میں اختلاف کا مین سبب بھی بتادیا۔۔۔۔۔

اللہ رب العزت ہمیں دین میں بدعات سے محفوظ رکھے۔

آمین یا رب العالمین


الجواب:

  جناب نے سب سے پہلے جو نبی پاک کی روایت پیش کی ہے ہم اس روایت کا لفظی ترجمہ یہاں پھر لکھتے ہیں اور انکے بریکٹ میں لکھے گئے جمہوں کو کاٹ کر محدثین و مفسرین کے مطابق اسکی تشریح لکھ کر پھر اسکے ثبوت پیش کرینگے دلائل کے ساتھ

” أوصيكم بتقوى الله ، والسمع والطاعة وإن عبدا حبشيا ، فإنه من يعش منكم بعدي فسيرى اختلافا كثيرا فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء المهديين الراشدين ، تمسكوا بها وعضوا عليها بالنواجذ ، وإياكم ومحدثات الأمور ، فإن كل محدثة بدعة ، وكل بدعة ضلالة "

ترجمہ:میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں ،أور ( حکمرانوں) کی إطاعت و فرمانبرداری کی أگرچہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو ، بے شک تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا پس عنقریب وہ ( امت میں) کثیر اختلاف دیکھے گا پس ( أس وقت) میری أور خلفائے راشدین کی سنت کو أپنے أوپر لازم کرلینا ، أس کو مضبوطی سے تھامے رکھنا ، أور أسے أپنی داڑھوں میں دبالو ( یعنی أیسے تھامو کہ وہ سنت تم سے جدا نہ ہو) ،

[ سنن أبي داود ، باب في لزوم السنة ، حدیث نمبر: 4607 ، حدیث صحیح ہے]

نئے نئے کام کرنے سے بچنا ، کیونکہ نیا  کام بدعت ہے أور ہر بدعت گمراہی ہے .أور” کل ضلالة في النار ” کے الفاظ حدیث جابر میں آئے ہیں۔

پہلے ہم اس حدیث کا وہ مفہوم لکھتے ہیں جسکو  جمہور محدثین نے بیان کیا ہے اور  اس لسٹ میں بڑے بڑے حافظ الحدیث ،  مفسرین ، مجتہدین ہیں۔

اس روایت میں جہاں نبی پاک نے ہر نئے کام سے بچنے کی تاقید کی ہے اور اسکو بدعت ضلالہ قرار دیا ہے وہ ہر نئے :برے: کام ہیں نہ کہ مطلق ہر نئے کام کو بدعت ضلالہ قرار دیا ہے کیونکہ یہ بات نبی پاک ﷺ نے اپنے خلفہ راشدین کےسامنے فرمائی تھی اور بیشک اس حدیث کی صحیح سمجھ و معرفت خلفائے راشدین ہی جانتے ہیں ۔اور ہم اس حدیث کو سمجھنے میں خلفائے راشدین ہی کی تقلید کرینگے کیونکہ خلفائے راشدین کی سنت کی اتباع کرنے کا حکم بھی نبی پاکﷺہی نے فرمایا ہے۔

اور خفائے راشدین کی سنت کو پکڑنا  فی حقیقت نبی پاک ﷺ کی سنت ہی کو پکڑنا ہے۔

اور جہاں ہماری سمجھ اور عقل  کے استدلال ہمارے خفائے راشدین کے عمل کے مخالف ہوئے انکے فیصلوں کے مخالف ہوئے تو یہ بات صاف اور سیدھی ہوگی کہ اس مسلے کو سمجھنے میں ہم نے خطاء کھائی اور پھر اپنے استدلال کو پھینک کر ہم کو اتباع خلفائے راشدین کی ہی کرنی ہوگی کیونکہ نبی پاکﷺکی احادیث اور شریعت اسلامی کو سمجھنے والے خلفائے راشدین سے بہتر و افضل کوئی ہو ہی نہیں سکتا امت مسلمہ میں !

تو کیا دین میں ہر نیا کام کرنا بدعت ہے اور ہر نیا کام بدعت ضلالہ ہے ؟

تو اسکے جواب کی شروعات ہم بخاری شریف سے خلفائے راشدین ہی سے پیش کرینگے!!!

جو کہ ایک تویل حدیث ہےجس میں صحابی رسول یوں فرماتے ہیں کہ : جنگ یمامہ میں صحابہ کی بہت بڑی تعداد شہید ہو جانے کے بعد حضرت ابو بکر ؓ  نے مجھے بلا بھیجا ، اس وقت حضرت عمرؓ میرے پاس آے اور انہوں نے کہا کہ یمامہ کی جنگ  میں بہت بڑی تعداد میں قرآن کے قاریوں کی شہادت ہو گئی ہے اور مجھے ڈر ہے کہ اسی طرح کفار کے ساتھ  دوسری جنگوں میں بھی قراء قرآن کی بڑی تعداد  میں  قتل ہو جایں گے اور یوں قرآن کے جاننے والے کی بہت بڑی تعداد ختم ہو جائے گی ۔ اس لیے میرا خیال خیال ہے (حضرت عمرؓ کے الفاظ ہیں ) کہ آپ قرآن مجید کو (باقائدہ کتابی شکل میں ) جمع کرنے کا حکم دے دیں ، میں نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ آپ ایک ایاس کام کس  طرح  کریں گے جو رسولﷺ نے (اپنی زندگی) میں نہیں کیا ؟

تو عمر ؓنے اسکا یہ جواب دیا کہ اللہ کی قسم! یہ تو کار خیر ہے  حضرت عمر یہ بات مجھے بار بار کہتے ہے یہاں تک کہ اللہ نے میرا سینہ بھی اس ملسے پر کھول دیا  ار اب میری بھی وہی رائے ہو گئی جو عمرؓکی تھی ، زیدؓنے بیان کیا کہ اللہ کی قسم اگر یہ لوگ مجھے کسی پہاڑ کو بھی اسکی جگہ سے دوسری جگہ  ہٹغانے کے لیے کہتے تو میرے لیے یہ کام اتنامشکل نہیں تھا جستنا کہ انکا یہ حکم کہ میں قرآن کو جمع کر دوں ، میں نے اس پر کہا کہ آپ لوگ ایک ایسے کام کو کرنے کی ہمت کیسے کرتے ہیں جو رسولﷺ نے خود نہیں کیا  تو حضرت ابو بکر صدیقؓ نے فرمایا اللہ کی قسم یہ تو ایک کار خیر ہے حضرت ابو بکر ؓ یہ بار بار فرماتے ہیں یہان تک کہ اللہ نے میرا بھی انکی اور حضرت عمر ؓ کی طرح سینہ کھو دیا   ۔۔۔۔۔۔۔

[صحیح بخاری حدیث نمبر 4986:]

اس حدیث کو جب ہم پڑھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ شروع میں حضرت ابو بکر صدیقؓ کی بھی  سوچ یہی تھی کہ جو کام نبی پاکﷺ نے نہ اپنی زندگی میں کیا اور نہ ہی اسکا حکم دیا تو ہم بھی نہیں کرینگے

(نوٹ: جبکہ انہی خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کے سامنے نبیﷺ نے یہ فرمایا تھا کہ میرے بعد میرے خلفائے راشدین کی سنت کی اتباع کرنا)

لیکن یہاں افضل  بعد از انبیاء  حضرت ابو بکر صدیقؓ پھر بھی یہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک ایسا کام کیسے کر  سکتے ہیں ؟

جس پر ہمارے نبی کی سنت یا انکا حکم نہ ہو؟

تو اس پر اللہ نے حضرت ابو بکر صدیق کا سینا یعنی انکی سوچ کو صحیح راستے کی طرف  حضرت عمرؒ نے کے زریعے کی ہے

کیونکہ حضرت عمر کے مطلق نبی پاک نے ایک خواب جس میں تھا کہ حضرت عمر دودھ پی رہے ہیں بہت زیادہ تو نبی پاک نے فرمایا تھا کہ اس دودھ سے مراد علم ہے اور حضرت عمر ؓ کو علم شریعت ایسے ہی (ب پناہ) حاصل ہوگا۔انہی حضرت عمر نے حضرت ابو بکر صدیق کو فرمایا کہ  یہ عمل چونکہ نیا ضرور ہے اور اس عمل پر نبی پاک  کا حکم بھی نہیں ہے لیکن یہ کار خیر ہے یعنی اس عمل کے نتیجے میں امت مسلمہ ایک بہت بڑے نقصان سے بچ جائے گی اور امت محمدیہ میں قرآن کے ضائع ہونے کے خطرے سے بھی بچ جائیں گے تو ہم کو قرآن کو کتابی شکل دینی چاہیے

نتیجہ!

(بیشک اس پر نبی پاک کا عمل یا انکا حکم نہ بھی ہو  لیکن ایسا نیا کام جو کار خیر ہے وہ جائز ہے اور پھر اسی سوچ کو حضرت ابو بکر نے اپنا لیا اور انکے ساتھ دوسرے صحابہ نے بھی معلوم ہوا اس پر خلفائے راشدین اور اس وقت کے صحابہ کی جماعت کا اجماع ہو گیا کہ ایسا نیا کام جو نبی پاک نے نہ کیا ہو لیکن ہو کار خیر اور اس کو کرنے سے نہ ہی شریعت اسلامی کی مخالفت ہو اور نہ ہی سنت نبوی ترک ہو تو وہ عمل کار خیر ہے )

تنبیہ!

لیکن کچھ اعتراض کرنے والے یہ بھی سوچ سکتے ہیں کہ نبی پاک نے تو اپنے خلفائے راشدین کے بارے فرما چکے تھے کہ میرے بعد میرے خلفائے راشدین کی اتباع کرنا لحاظا یہ نیا کام تو خلفائے راشدین نے کیا تھا تو اس میں انکی تباع اس لیے ہوگی کہ انکے عمل کی پیروی کرنے کا حکم خود نبی پاکﷺ نے ہی فرمایا تھا

الجواب:

اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ نبی پاک نے جو فرمایاتھا کہ عنقریب میری امت میں اختلاف پیدا ہونے والے ہیں(تو خلفائے راشدین کی پیروی کرنے سے مراد جب اختلاف ہونگے تو اختلاف کی صورت میں جس طرف میرے خلفائے راشدین ہوں جو انکا فتویٰ ہو اسی پر عمل کرنا )اور جو نبی پاک نے یہ فرمایا کہ دین میں ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی جہنم مین لے جانی والی ہے۔یہ نصیحت تو نبی پاک نے خلفائے راشدین سمیت اپنے صحابہ اوار پوری امت کو کی ہے اس میں خلفائے راشدین کے لیے استثناہ تو نہیں ہے کیا شریعت اسلامی خلفائے راشدین کے لیے اور ہے اور ہمارے لیے کیا اور ہے ؟

کیا نبی پاک نے یہ فرمایا تھا کہ کہ خلفائے راشدین کے علاوہ جوبھی دین میں نیا کام کریگا تو وہ  بدعت ضلالہ ہے اور ہر بدعت جہنم میں لے جانے والی ہے ؟

 بلکل نہیں اور اگر ایسا ہوتا تو حضرت ابو بکر صدیقؓ بھلا کیوں حضرت عمر کو یہ کہتے کہ آپ مجھ سے وہ نیا کام کرنے کا کیسے حکم دے سکتے ہیں جو نبی پاک نے نہ کیا ہو۔

جبکہ انکو تو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ نبی پاک نے انکے مطلق فرمایا تھا کہ میرے بعد میرے خلفائے راشدین کی اتباع کرنا۔ اور حضرت عمر نے حضرت ابو بکر صدیق کو اسی حدیث کی تشریح بیان کر دی کہ   جس کام کے مطلق انکو مشورہ دیا گیا وہ نیا تو ہے پر ہے کارخیر۔اور اس پر حضرت ابو بکر صدیق کے دل کو تسلی بھی اللہ پاک نے فرما دی کیونکہ یہاں حضرت عمر ؓ نبی پاک کے اس فرما ن کل بدعت ضلالہ کو سمجھ گئے تھے کہ اس  میں کل سے مراد مطلق نہیں بلکہ اس میں تخصیص ہے ورنہ حضرت عمر کیسے نبی پاک کے حکم کے خلاف  یہ بات کہہ سکتے تھے ؟ اور پھر اللہ نے اس بات پر اجماع صحابہ کر لیتا ؟

تو معلوم ہوا خلفائے راشدین بھی  دین میں ہر نئے کام کو مطلق بدعت ضلالہ نہیں کہتے بلکہ اس میں تخصیص کرتے ہیں۔

اب ایسے ہی حضرت عمر ؓ کا جب اپنا دور خلافت آیا تو جب رمضان میں انہوں نے دیکھا کہ صحابہ کرام علیحدہ علیحدہ نماز تراویح ادا کر رہے ہیں تو  بخاری میں یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے

صحیح بخاری کتاب الصیام میں ہے کہ :

 میں حضرت عمر ؓ کے ساتھ رمضان کی ایک رات میں مسجد کی طرف نکلا تو لوگ متفرق تھے ۔ ایک آدمی تنہا نماز پڑھ رہ تھا اور ایک آدمی گروہ کےساتھ ۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ میرے خیال میں انہیں  ایک قاری کے پیچھے جمع کر دیا جائے تو اچھا ہو ،پس حضڑت ابی بن کعبؓ کے پیچھے سب کو جمع کر دیاگیا ۔ پھر میں ایک دوسری رات کو انکے ساتھ نکلا اور لوگ اپنے قاری کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے ۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ یہ اچھی بدعت ہے

اس حدیث سے ہمیں معلوم ہوا کہ حضرت عمرؒ کا یہی فتویٰ ہے کہ ہر بدعت گمراہی نہیں ہوتی ہے بدعت اچھی بھی ہوتی ہے وگرنہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جس ہر بدعت کو نبی پاک گمراہی سے تعبیر کر رہے ہوں اور حضرت عمر اسی لفظ بدعت کو استعمال کرتے ہوئے اچھا بھی کہہ رہے ہو ں ؟

تنبیہ!

کچھ لوگ جیسا کہ غیر مقلد اور دیوبنہ اس حدیث سے یہ  کہتے ہیں اس سے مراد بدعت شرعی نہیں بلکہ بدعت لغوی ہے۔

تو عر ض ہے کہ اس دوسر میں کونسی لغت کی کتابین لکھی جا چکی تھیں۔ اور دوسرا بڑا اہم نکتہ یہ ہے کہ اگر اس بدعت سے مراد بدعت لغوی ہے بدعت شرعی نہیں تو یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ جماعت مخالف بھی بدعت کی دو اقسام مانتی ہے ایک بدعت شرعی اور ایک بدعت لغوی اسکا مطلب پھر نبی پاک کا فرمانا کل بدعت ضلالہ !

پھر یہ کل حقیقی تو نہ ہوا اگر مخالف اسکو واقع حقیقی مانتاتو پھر کل بدعت میں تو بدعت شرعی و بدعت لغوی بھی آتی ہے۔یہ ایک باطل نظریہ ہےجو بغیر دلیل کے پیش کیا جاتا ہے۔

دوسرا اعتراض یہ بھی وارد ہو سکتا ہے کہ نبی پاکﷺ سے تراویح کی جماعت کروانا ثابت ہے تو یہ عمل بدعت ہے ہی نہیں!

الجواب:

یہ اعتراض پہلے والی بات سے بھی بڑی جہالت پر مبنی ہے حضرت عمر نے بھی نبی پاک ﷺ کے ساتھ ساری زندگی گزری انکی اقتدہ میں جماعت تراویح بھی پڑھی لیکن یہاں انہوں نے بدعت جس عمل پر استمال کیا ہے وہ ہے۔ایک خاص حکم کہ جماعت  صحابہ کو ایک صحابی کی امامت میں اکٹھے کر دینا مسجد مین اور پورا مہینے کے احتمام کے ساتھ تراویح پڑھنے کا حکم

نبی پاک نے اپنی امامت میں صحابہ کو ایک یا دو دن نماز تراویح پڑھائی لیکن پھر اسکے واجب ہونے کےڈر کی وجہ سے سب کو خود پڑھنے کا حکم دیا تھا لیکن نبی پاک نے صحابہ کو کسی ایک صحابی کے پیچھے پڑھنے کا حکم نہ دیا تھا۔اور یہی حکم اصل میں بدعت تھا جسکو حضرت عمر نے دیا تھا اور پھر اپنے اس حکم جس پر عمل صحابہ نے کیا اور اس عمل کو بدعت قرار دیتے ہوئے خوبصورت بدعت کا فتویٰ دیا۔

اسی طرح تیسرے خلیفہ امت حضرت عثمان ؓ نے بھی اپنے دور میں جمعہ کی اذان کی تعداد میں اضافہ کر کے دو کر دیں اور پھر اقامت کے ساتھ دو ازانیں ہو ا کرتی تھیں۔

جیساکہ  صحیح بخاری میں  روایت موجود ہے

عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ: «إِنَّ الأَذَانَ يَوْمَ الجُمُعَةِ كَانَ أَوَّلُهُ حِينَ يَجْلِسُ الإِمَامُ، يَوْمَ الجُمُعَةِ عَلَى المِنْبَرِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَلَمَّا كَانَ فِي خِلاَفَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَثُرُوا، أَمَرَ عُثْمَانُ يَوْمَ الجُمُعَةِ بِالأَذَانِ الثَّالِثِ، فَأُذِّنَ بِهِ عَلَى الزَّوْرَاءِ، فَثَبَتَ الأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ»

ترجمہ :سائب بن یزید رضی الله عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے عہد میں جمعہ کے روز کی پہلی اذان وہی ہوتی جس وقت امام جمعہ کے روز منبر پر بیٹھتا۔ جب عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں لوگ بڑھ گئے تو آپ رضی الله عنہ نے جمعہ کے روز تیسری اذان کہنے کا حکم فرمایا۔ پس وہ زوراء کے مقام پر کہی جاتی تھی اور یہی معمول قرار پایا

[صحیح البخاری]

یعنی اس روایت سے معلوم ہوا کہ جو اضافہ حضرت عثمان نے اپنے دوسر میں کیا اس پر کسی صحابی نے اعتراض نہ کیا اور یہ معلوم قائم ہو گیا جو آج تک قائم ہے۔

لیکن کیسی بد بختی ہے غیر مقلدین کی کہ وہ اس اضافے کو بدعت ضلالہ سمجھتے ہوئے اپنی مساجد میں سنت عثمانی کو ترک کرتے ہوئے نبی کی حدیث کی مخالفت کر دی جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ میرے بعد میں خلفائے راشدین کی سنت کی اتباع کرنا۔کیونکہ نبی پاک کو معلوم تھا کہ کہ امت میں جب اختلاف پیدا ہوگا تو ہر کوئی نعرہ قرآن و حدیث ہی کا لگائے گا لیکن سچا وہی ہوگا جو خلفائے راشدین کی اتباع و تقلید پر ہوگا !

ہم خلفائے راشدین میں حضرت ابو بکر صدیقؓ اور حضرت عمرؓ  اور حضرت عثمان ؓ کا استدلال پیش کر دیا ہے  کہ ہر بدعت بری نہیں ہوتی ہے

اب ہم چوتھے صحابی حضرت عبداللہ بن عمرؓ جو صحابی رسول اور بہت بڑے فقیہ تھے  ان سے بدعت کا مفہوم سمجھتےہیں :

سنن ابی داود میں ایک صحیح حدیث ہے :

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْقَتَّاتُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُجَاهِدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَثَوَّبَ رَجُلٌ فِي الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ،‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اخْرُجْ بِنَا فَإِنَّ هَذِهِ بِدْعَةٌ .

کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا کہ ایک شخص نے ظہر یا عصر میں تثویب ۱؎ کی، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہمیں یہاں سے لے چلو، اس لیے کہ یہ بدعت ہے

[سنن ابی داود : الحدیث ٥٣٩]

معلوم ہوا کہ صحابی رسول  حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بھی ایک ایسا عمل جو کہ شریعت کے خلاف ہے اور جسکو کرنے سے سنت نبوی ترک ہو رہی ہے وہ عمل بھی بدعت ہے لیکن کیونکہ حضرت ابن عمر نے اس عمل سے نفرت ظاہر کی ہے تو معلوم ہوا ایسا عمل بدعت ضلالہ ہوتا ہے اور اس بدعت سے اصحاب رسول نفرت کرتے تھے اور ایسی  بدعات کو نبی پاک کے فرمان کل بدعت ضلالہ پر محمول کرتے جن میں بری بدعات اور مخال سنت عمل ہوں۔

اب ہم انہی سے یعنی حضرت عبداللہ بن عمر ؓ ہی سے بدعت کی تعریف اور مداح کرنا بھی پیش کرتے ہیں :

حدثنا قتيبة ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا جرير ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن منصور ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن مجاهد ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال دخلت أنا وعروة بن الزبير المسجد ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فإذا عبد الله بن عمر ـ رضى الله عنهما ـ جالس إلى حجرة عائشة ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإذا ناس يصلون في المسجد صلاة الضحى‏.‏ قال فسألناه عن صلاتهم‏.‏ فقال بدعة‏.‏

میں اور عروہ بن زبیر مسجد نبوی میں داخل ہوئے، وہاں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، کچھ لوگ مسجد نبوی میں اشراق کی نماز پڑھ رہے تھے۔انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے عبداللہ بن عمر سے ان لوگوں کی اس نماز کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ بدعت ہے،

[صحیح البخاری : الحدیث ١٧٧٥]

اور اس روایت کو امام ابن ابی شیبہؒ نے بھی روایت کیا ہے  اور ان میں یہ الفاظ بھی شامل ہیں : بدعة و نعمت البدعة

یعنی یہ بدعت ہے اور بڑی اچھی بدعت ہے

[مصنف ابن ابی شیبہ حدیث نمبر ۷۸۵۹]

اب یہاں حضرت ابن عمرؓ بدعت کو اچھا بیان کر رہے ہیں معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کے نزدیک ہر نیا عمل کو پرکھنے کا کچھ معیار تھا جسکی وجہ سے وہ ایک کام کو بدعت سمجھتے ہوئے اسکی مخالفت اور اسکو ممنوع قرا ردیتے۔اور ایک قسم کے نئے کام کو بدعت قرار دیتے ہوئے اسکی تحسین کرتے تھے۔


تنبیہ!

کوئی یہ اعتراض وارد کر سکتا ہے کہ نماز چاشت تو نبی پاکﷺ سے ثابت ہے تو یہاں حضرت ابن عمر کا لوگوں کی نماز کو بدعت قرار دینا انکا تسامع ہے

الجواب:

یہ اعتراض بھی بالکل غیر علمی ہے جب حضرت ابن عمر روضہ رسول کے ساتھ ٹیگ لگائے بیٹھ کر یہ الفاظ فرما رہے ہیں  اور وہ نبی کی سنت کو ہی بدعت قرار دے رہے ہیں ؟

لیکن اگر یہ بات مان بھی لی جائے کہ یہ انکا تسامع ہے انکو معلو م نہ تھا کہ یہ سنت نبوی ہے پھر تو انکو اسکو بدعت قرار دیتے ہوئے اس پر غضب کرنا چاہیےتھا الٹا وہ بدعت کہہ کر اسکو خوبصورت بدعت قرار دے رہے ہیں یہ کیا وجہ ؟

اصل میں اس حدیث کی تشریح  بھی ہم شارح مسلم امام محدث النوویؒ الشافعی ؒ سے بیان کرتے ہیں :

وہ اس روایت کو شرح مسلم میں بیان کر کے اسکی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

حضرت ابن عمرؓ کی مراد یہ ہے کہ چاشت کی نماز کو مسجد میں ظاہر کر کے اور اجتماع و احتمام کر کے پڑھنا بدعت ہے نہ کہ اصل نماز ضحیٰ یعنی نماز چاشت بدعت ہے

[شرح صحیح  مسلم النووی  ، کتاب الحج ، باب ۳۵، صفح ۳۲۶]

یعنی اس سے ہم کو صحابہ سے یہ اصول معلوم ہو گیا کہ ایک عمل جو نبی پاک سے ثابت ہو لیکن اسکو ایسے احتمام ، اور ایسے طریقے کے ساتھ ادا کیا جائے جس پر نبی پاک کا حکم نہ ہو لیکن اسکو کرنے سے سنت نبوی ترک بھی نہ ہو تو وہ عمل بہترین عمل ہے۔اور وہ عمل کہلائے گا بھی بدعت  لیکن  اچھا یا یا برا سکو فی نفسی دیکھا جائے گا شریعت اسلامی کے تحت داخل ہے تو بدعت حسنہ  اور اگر اسکے مخالف ہے تو بدعت ضلالہ!

صحابہ کرام کے بعد اب ہم مجتہد مطلق  محدث و فقیہ الامام الشافعیؓ سے بدعت  کی اقسام اور انکی دلیل پیش کرتے ہیں :

امام بیھقی: اپنی سند صحیح کےساتھ امام شافعی سے فتویٰ نقل کرتے ہیں :

 – أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ , ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الْمُحْدَثَاتُ مِنَ الْأُمُورِ ضِرْبَانِ: أَحَدُهُمَا: مَا أُحْدِثَ يُخَالِفُ كِتَابًا أَوْ سَنَةً أَوْ أَثَرًا أَوْ إِجْمَاعًا , فَهَذِهِ لَبِدْعَةُ الضَّلَالَةِ. وَالثَّانِيةُ: مَا أُحْدِثَ مِنَ الْخَيْرِ لَا خِلَافَ فِيهِ لِوَاحِدٍ مِنْ هَذَا , فَهَذِهِ مُحْدَثَةٌ غَيْرُ مَذْمُومَةٍ وَقَدْ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي قِيَامِ شَهْرِ رَمَضَانَ: «نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هَذِهِ» يَعْنِي أَنَّهَا مُحْدَثَةٌ لَمْ تَكُنْ , وَإِنْ كَانَتْ فَلَيْسَ فِيهَا رَدٌّ لِمَا مَضَى

امام شافعیؒ فرماتے ہیں :محدثات میں دو قسم کے امور شامل ہیں : پلی قسم میں تو وہ نئے امور ہیں جو قرآن و سنت یا اثر صحابہ یا اجماع امت کے خلاف ہوں وہ بدعت ضلالہ ہے ، اور دوسری قسم میں وہ نئے امور ہیں جن کو بھلائی کے لیے انجام دیا جائے اور کوئی ان میں سے کسی (امر شریعت) کی مخالفت نہ کرتا  ہو پس یہ امور یعنی نئے محدثہ غیر مذمومہ ہیں

اسی لیے حضرت عمر فاروقؓ نے رمضان میں تراویح کے قیام کے موقع پر فرمایا تھا کہ یہ کتنی اچھی بدعت ہے یعنی یہ ایک ایسا محدثہ ہے جو پہلے نہ تھا اور اگر یہ پہلے ہوتا تو پھر مردود نہ ہوتا

[المدخل إلى السنن الكبرى :253، امام بیھقیؒ]

نتیجہ!

امام شافعی جو ائمہ اربعہ میں سے ایک مجتہد مطلق ہیں انہوں نے حضرت عمرفاروقؓ کے ہی الفاظ سے استدلال کرتے ہوئے محدثہ کی دو اقسام میں تقسیم کرتے ہوئے یہی فتویٰ دیا کہ جو امر شریعت کے اصول کے مطابق داخل ہوگا وہ بدعت حسنہ اور جو اسکے مخالف ہوگا وہ بدعت ضلالہ ہوگا۔اور یہاں تو امام شافعیؓ نے غیر مقلدین اور دیوبنہ کے تمام جھوٹے و باطل مفہوم کو رگڑا لگا کر وہی موقف اختیار کیا جو خلفائے راشدین کا تھا جو صحابہ کا تھا جو امام شافعی کے دور میں تابعین و تابع تابعین کا تھا اور یہی مسلک انکے بعد والے محدثین و مفسرین کا تھا اور یہی مسلک اللہ کے کرم سے ہمارا ہے جو متواتر سے چلا آرہا ہے۔

امام ابن رجب نے جو امام شافعی کا قول بیان کیا ہے اس کی تفسیر کرتے ہوئے جو لکھا ہے وہ مکمل عبارت یہ ہے :

وَمُرَادُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ مَا ذَكَرْنَاهُ مِنْ قَبْلُ: أَنَّ الْبِدْعَةَ الْمَذْمُومَةَ مَا لَيْسَ لَهَا أَصْلٌ مِنَ الشَّرِيعَةِ يُرْجَعُ إِلَيْهِ، وَهِيَ الْبِدْعَةُ فِي إِطْلَاقِ الشَّرْعِ، وَأَمَّا الْبِدْعَةُ الْمَحْمُودَةُ فَمَا وَافَقَ السُّنَّةَ، يَعْنِي: مَا كَانَ لَهَا أَصْلٌ مِنَ السُّنَّةِ يُرْجَعُ إِلَيْهِ، وَإِنَّمَا هِيَ بِدْعَةٌ لُغَةً لَا شَرْعًا، لِمُوَافَقَتِهَا السُّنَّةَ.

امام شافعی کی مراد یہ ہے :  وہ بدعات جو مذمومہ ہیں جنکی کوئی اصل نہیں ہے  شریعت میں  اور یہ مرجع نہ ہو اور شریعت میں اسکا اطلاق بدعت پر ہوتا ہے  اور جو بدعت محمود یعنی اچھی ہے  وہ سنت کے موافق ہوتی ہے  جسکی دین مین کوئی اصل ہوتی ہے  اسکو بدعت لغوی طور پر کہا جاتا ہے کیونکہ یہ وسنت کے موافق ہوتی ہے ۔

(نوٹ:امام ابن رجب نے امام شافعی کی طرف سے بدعت کی تقسیم مذموم اور محمود  کی تعریف کر دی ہے  ۔احادیث مین جس بدعت کے لفظ سے نبی پاک نے روکا ہے یا جسکی مذمت آئی ہے اصل مین وہ بدعت وہی ہوتی ہے جسکی کوئی اصل نہ ہو دین میں اور موافق بھی نہ ہو سنت کے ۔اور جو محمود یعنی جو بدعت جائز اور اچھی ہوتی ہے اسکی شریعت اسلامی میں کوئی نہ کوئی اصل ہوتی ہے تو چونکہ اسکی کوئی نہ کوئی اصل ہوتی ہے یا جس بنیاد پر بدعت کی جا رہی ہوتی ہے وہ اصول شریعت اسلامی مین ثابت ہوتا ہے تو اسکو لغوی طور پر بدعت کہا جاتا ہے کیونکہ اسکی اصل ہوتی ہے ۔)

امام ابن رجب آگے لکھتے ہیں :

وَقَدْ رُوِيَ عَنِ الشَّافِعِيِّ كَلَامٌ آخَرُ يُفَسِّرُ هَذَا، وَأَنَّهُ قَالَ: وَالْمُحْدَثَاتُ ضَرْبَانِ: مَا أُحْدِثَ مِمَّا يُخَالِفُ كِتَابًا، أَوْ سُنَّةً، أَوْ أَثَرًا، أَوْ إِجْمَاعًا، فَهَذِهِ الْبِدْعَةُ الضَّلَالُ، وَمَا أُحْدِثَ فِيهِ مِنَ الْخَيْرِ، لَا خِلَافَ فِيهِ لِوَاحِدٍ مِنْ هَذَا، وَهَذِهِ مُحْدَثَةٌ غَيْرُ مَذْمُومَةٍ. وَكَثِيرٌ مِنَ الْأُمُورِ الَّتِي حَدَثَتْ وَلَمْ يَكُنْ قَدِ اخْتَلَفَ الْعُلَمَاءُ فِي أَنَّهَا بِدْعَةٌ حَسَنَةٌ حَتَّى تَرْجِعَ إِلَى السُّنَّةِ

اور امام شافعی سے جو کلام آخر میں مروی ہے اسکی تفسیر یہ ہے : اور رہے وہ  محدثات(امور) جو مخالف ہو قرآن یعنی کتاب  یا سنت یا اثر کے   یا اجماع کے  یہی بدعات ضلالہ ہیں  ۔اور وہ محدثات (امور ) جن میں خیر ہے جو خلاف نہیں ان امور کے جو اوپر ہیں  تو یہی محدثہ (عمل) برے نہیں ہین  اور کثیر امور اور محدثات جن میں علماء نے کبھی اختلاف نہیں کیا ہے جو بدعت حسنہ ہیں یہاں تک کہ سنت کو ترجیح ہے ۔

[جامع العلوم والحكم،ص109]

یہاں تک تو ہم نے فرمان رسول ، خلفائےراشدین ، اصحاب کا عمل بیان کیا۔اور پھر انکے بعد  مجتہد مطلق سے بدعت کی اقسام بیان کی ہیں کو وہ اہل ظاہر کی طرح نہیں تھے جو ظاہر الفاظ سے دھوکا کھا کر عمل رسول ، عمل خلفائے راشدین اور عمل صحابہ و مجتہدین کو چھوڑ  اپنی عقل و نفس کے پجاری بن جاتے (معاذاللہ)۔

اب ہم آتے ہیں اس مشہور روایت کل بدعت ضلالہ اور اسکی تشریح پیش کرتے ہیں شارح مسلم الامام النوویؒ سے:

اور یہ بھی ثابت کرینگے کہ اس حدیث میں لفظ :کل: یہ عام خاص ہے  نہ کہ  بالکل عام جیساکہ اہل ظاہر و وہابیہ دیوبنہ نے سمجھ رکھا ہے

شارح مسلم امام النووی  کل بدعت ضلالہ  کی شرح میں لکھتے ہیں :

قال العلماء البدعة خمسة أقسام واجبة ومندوبة ومحرمة ومكروهة ومباحة فمن الواجبة نظم أدلة المتكلمين للرد على الملاحدة والمبتدعين وشبه ذلك ومن المندوبة تصنيف كتب العلم وبناء المدارس والربط وغير ذلك ومن المباح التبسط في ألوان الأطعمة وغير ذلك والحرام والمكروه ظاهران وقد أوضحت المسألة بأدلتها المبسوطة في تهذيب الأسماء واللغات فإذا عرف ما ذكرته علم أن الحديث من العام المخصوص وكذا ما أشبهه من الأحاديث الواردة ويؤيد ما قلناه قول عمر بن الخطاب رضي الله عنه في التراويح نعمت البدعة ولا يمنع من كون الحديث عاما مخصوصا قوله كل بدعة مؤكدا بكل بل يدخله التخصيص مع ذلك كقوله تعالى تدمر كل شيء 

حضورﷺ کا یہ فرمان کہ :ہر بدعت ضلالت ہے  عام مخصوص ہے عام طور پر اس سے مراد بدعت سیئہ لیا جاتا ہے  اہل لغت نے کہا ہے کہ ہر وہ چیز جس کی مثال سابق کے بغیر عمل کیا جائے وہ بدعت ہے ۔ علماء نے بدعت کی پانچ اقسام

  • ۱۔ بدعت واجبہ

  • ۲۔ بدعت  مندوبہ

  • ۳۔ بدعت محرمہ

  • ۴۔بدعت مکروہ

  • ۵۔بدعت مباحہ

پھر امام النوویؒ ان بدعات کی اقسام مثالوں سے بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

  • بدعت واجبہ کی مثال متکلمین کے دلائل کو ملحدثٰن ، مبتدعین  اور اس جیسے دیگر امور کے رد کے لیے استعمال کرنا ہے

  • بدعت مستحبہ کی مثال جیسے کتب تصنیف کرنا ، مدراس ، سرائے اور اس جیسی دیگر چیزیں تعمیر کرنا ہے

  • بدعت مباح کی مثال یہ ہے کہ  مختلف انواع کے کھانے اور اس جیسی چیزوں کو اپنانا ہے

  • جبکہ بدعت حرام

  • اور مکروہ واضح ہیں۔

اور اس مسعلہ کو تفصیلی دلائل کےساتھ میں نے تہذیب الاسماء والغات میں واضح کیا ہےجو کچھ میں نےھ بیان کیا ہے اگر اسکی پیچان ہو جاے گی تو پھر یہ سمجھا آسان ہے کہ حدیث  اور دیگر ایسی احادیث جو ان سے مشابہت رکھتی ہیں عام مخصوص میں سے تھیں اور جو ہم نے کہا اسکی تائید حضرت عمر فاروقؓ کے قول نعمت البدعہ کرتا ہے اور یہ بات حدیث  کو عام مخصوص کے قاعدے سے خارج نہیں کرتی ہے

اب اس حدیث کی دلیل بھی امام نووی نے دی ہے قرآن سےامام نووی آگے فرماتے ہیں :

قول کل بدعتہ  لفظ کل کے ساتھ مئوکد ہے لیکن اس کے باوجود اس میں تخصیص شامل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا ہے

تدمر کل شئی (الاحقاف ۵۲:۴۲)وہ ہرچیز کو اکھاڑ پھینکے گی جیسا کہ اس میں تخصیص شامل ہے

[شرع النووی علی مسلم ،ج۶، ص۱۵۵]

اسی طرح قرآن میں ایک اور جگہ سے بھی اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ ہر جگلہ لفظ کل  مطلق عام طور پر استعمال نہیں ہوتا بلکہ اس میں تخصیص شامل ہوتی ہے جیسا کہ

سورة البقرہ کی آیت نمبر ۲۶۰ میں اللہ فرماتا ہے:

اور جب عرض کی ابراھیم نے  اے رب میرے مجھے دکھا دے تو کیونکر مردے جلائے گا (یعنی زندہ کریگا)

فرمایا کیاتجھے یقین نہیں عرض کی یقین کیوں نہیں مگر میں یہ چاہتا ہوں کہ میرے دل کو قرار آجاے  فرمایا تو اچھا چار پرندے لے ک اپنے ساتھ ہلالے پھر انکا ایک ایک ٹکڑا :::::ہر پہاڑ پر رکھ دے ::::::پھر انہیں بلا وہ تیرے پاس چلے آئیں گے پاوں سے دورٹے اور جان رکھ اللہ غالب حکمت والا ہے

اب یہاں اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ :::اجعل علی کل جبل:::

یعنی گوشٹ کا ٹکڑا ہر پہار  پر رکھ یہاں بھی اللہ نے کل کا لفظ استعمال کیا ہے پہاڑ کے لیے کیا اس سے کوئی یہ سمجھے گا کہ اللہ نے حضرت ابراھیمؑ کو پوری قائنات کے ہر  ہر پہاڑ پر گوشت ڈالنے کا حکم دیا تھا ؟بالکل نہیں بلکہ اللہ نے اپنے نبی کو انہی کے علاقے کے جتنے پہاڑ تھے اس کی تخصیص کے ساتھ کہا کہ ہر پہاڑ پر گوشٹ کا ٹکڑا ڈال دو۔جیسا اس آیت میں تخصیص ہے کل لفظ کے ساتھ ویسے ہی  نبی پاک کی حدیث میں کل لفظ کے ساتھ تخصیص ہے کہ ہر بری بدعت  گمراہی ہے اور جہنم میں لے جانے والی ہے۔

اب ہم امام  شافعی کے بعد سلف میں امام نووی سے بدعات کی ۵ اقسام بیان کی ہیں جسکو جمہور نے تسلیم کیا ہے

جن میں

  • ۱۔امام شافعی

  • ۲۔ امام النووی

  • ۳۔ امام ابن حجر عسقلانی

  • ۴۔امام قسطلانی

  • ۵۔امام جلال الدین سیوطی

  • ۶۔امام ابن اثر الجزری

  • ۷۔ امام السلمی الشافعی

  • ۸۔امام عبدالروف المانوی

  • ۹۔ امام المحدث دہلوی عبدالحق

  • ۱۰۔ وہابیہ کے مجتہد علامہ شوکانی بھی بدعت کی ۵ اقسام کو ماننے والوں میں سے ہیں

انکے علاوہ جمہور محدثین کی بے شمار تعداد ہے جن میں امام عینی ، امام قرطبی ، اور بہت سے محدثین شامل ہیں۔جنکے نام لکھنا محال ہے۔آخر سے  کل بدعت ضلالہ کی تشریح اب نبی پاک کی ایک مرفوع روایت سے بھی پیش کر تے  :

رسولﷺ نے فرمایا جو ہمارے دین میں کوئی ایسی نئی بات پیدا کرے جو اس میں نہیں ہے تو وہ مردود ہےابن عیسیٰ کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم نے فرمایا جو کوئی ایسا کام کریگا جو ہمارے طریقے کے خلاف ہو تو وہ مردود ہے

[سنن ابی داود: حدیث ۴۶۰۶]


نتیجہ!

نبی پاکﷺ نے فرمایا جس نے دین میں کوئی نئی بات پیدا کی جو اس میں نہیں (یعنی اسکی اصل دین مین نہیں ہے تو ) پھر وہ مردود ہے  لیکن دوسرے الفاظ میں اسکا مطلب یہ بھی ہے کہ اگر کسی نے دین میں کوئی ایسی نئی بات پیدا کی جو اس میں ہے۔ (یعنی اسکی اصل دین میں موجود ہے)  تو پھر وہ مردود نہیں ہے کیونکہ نبی پاک نے ہر نئی چیز جسکو دین میں شروع کیا جائے مطلق مردود نہیں کہا بلکہ اسکے ساتھ قید لگائی کہ اگر اسکی اصل دین میں نہ ہو تو پھر مردود ہوگی۔

اور اسی کے ساتھ اسی روایت میں نبی پاک نے دوسرا اصول یہ بھی بیان کیا کہ ایسا عمل جو ہمارے طریقے کے خلاف ہو ۔یعنی جسکو کرنے سے سنت نبوی ترک ہوتی  تو وہ بھی مردود ہے۔معلوم ہوا ایسا نیا عمل دین میں جسکی اصل شریعت اسلامی میں موجود ہو اور وہ شریعت اسلامی کے اصولوں کے موافق ہو تو وہ محدثہ مشروع کام بدعت تو ہے پرحسنہ ہے۔اور جسکو کرنے سے سنت نبوی ترک ہوتی ہو یا جو شریعت اسلامی کے اصولوں کے مخالف ہو تو وہ رد ہوگا وہ بدعت ضلالہ ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو سلف صالحین اور اماموں کی اتباع میں دین کو سمجھنے کی توفیق عطافرمائے
اس مضمون کو لکھنے میں مجھ سے کوئی خطاء ہوئی ہوتو مجھے معاف فرمائے آمین

دعاگو:خادم الحدیث اسد الطحاوی الحنفی البریلوی!

 

 

 

 

 

 

2 thoughts on “حدیث رسول ﷺ: کل بدعت ضلالہ کی تشریح خود نبی ﷺ، خلفائے راشدین ، اصحاب رسول و سلف کی زبانی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے