کیا یزید نے امام حسینؓ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا تھا؟ سنابلی کا رد

یزید اور امام حسین
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 5]

کیا یزید نے امام حسینؓ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا تھا؟ سنابلی کا رد

ازقلم: اسدالطحاوی الحنفی 

سنابلی ہندی  کی اس کتاب کا علم مجھے کئی سالوں سے ہے لیکن میں نےاسکو پڑھا نہیں  کبھی اور ویسے اب بھی نہیں پڑھا تھا ۔ لیکن اس کتاب میں موجود ایک روایت کی تحقیق کے حوالے سے مجھے کل ایک دوست نے ٹیگ کیا تو میں نے سوچا اس پر تحقیق کر لی جائے اور جیسے ہی میں نے اس رویت کی سند کو دیکھااور سنابلی کے تعین کردہ رواتہ کی تحقیق کی تو سنابلی کی ایک باریک واردات پکڑی  ۔ لیکن مجھے حیرانی یہ تھی کہ بہت سے لوگوں نے اس تحریر پر سنابلی کا رد کیا ہے لیکن کسی  نے مذکورہ روایت میں یہ علت پر پکڑ کیوں نہ کی۔ خیر اب آتے ہیں مضمون کی طرف!!!

سنابلی نے اپنی مشہور کتاب ”یزید پر الزامات کا تحقیقی جائزہ میں صفحہ نمبر ۳۳۷ پر  لکھتا ہے :قاتل حسین ؓ  اولاد حسینؓ کی نظر میں!

پھر لکھتاہے:

امام ذھبؒی نے امام المدائنی سے معن سند روایت ننقل کرتے ہوئے کہا :

وقال المدائني، عن إبراهيم بن محمد، عن عمرو بن دينار: حدثني محمد بن علي بن الحسين، عن أبيه قال:

 لما قتل الحسين دخلنا الكوفة، فلقينا رجل، فدخلنا منزله فألحفنا، فنمت، فلم أستيقظ إلا بحس الخيل في الأزقة، فحملنا إلى يزيد، فدمعت عينه حين رآنا، وأعطانا ما شئنا، وقال لي: إنه سيكون في قومك أمور، فلا تدخل معهم في شيء، فلما كان من أهل المدينة ما كان، كتب مع مسلم بن عقبة كتابا فيه أماني، فلما فرغ مسلم من الحرة بعث إلي، فجئته وقد كتبت وصيتي، فرمى إلي بالكتاب، فإذا فيه: استوص بعلي بن الحسين خيرا، وإن دخل معهم في أمرهم فأمنه واعف عنه، وإن لم يكن معهم فقد أصاب وأحسن..

علی بن حسینؒ ( زین العابدین ) کہتے ہیں کہ جب حسینؓ نے قتل کر دیئے گئے تو ہم کوفہ پہنچے، ہم سے ایک آدمی نے ملاقات کی تو ہم اس کے گھر داخل ہوئے اس نے ہمارے سونے کا بندوبست کیا اور میں سو گیا۔ پھر گلیوں میں گھوڑوں کی آواز سے میری نیند کھلی، پھر ہم یزید بن معاویہ کے پاس پہنچائے گئے تو جب یزید بن معاویہؓ نے ہمیں دیکھا تو ان کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں یعنی وہ رو پڑے، پھر انھوں نے ہمیں وہ سب کچھ دیا جو ہم نے چاہا اور مجھ سے کہا کہ آپ کے یہاں کچھ معاملات پیش آئیں گے آپ ان لوگوں کے کسی معاملے میں شرکت مت کیجئے گا۔ پھر جب اہل مدینہ کی طرف سے یزیدؒ کی مخالفت ہوئی تو مسلم بن عقبہ کو یزید بن معاویہؓ نے خط لکھا جس میں اُنھوں نے مجھے امان دی اور جب مسلم حرہ کے واقعے سے فارغ ہوئے تو مجھے بلوایا تو میں ان کے پاس حاضر ہوا اور میں وصیت لکھ گیا تھا، انھوں نے مجھے وہ خط دیا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ علی بن حسینؒ کے ساتھ خیر کا معاملہ کرنا۔ اگر وہ اہل مدینہ کے معاملے میں شریک ہو جائیں تو بھی انھیں امان دینا اور انھیں معاف کر دینا اور اگر وہ ان کے ساتھ شریک نہ ہوئے تو یہ انھوں نے بہت اچھا اور بہتر کیا۔ 

{ تاریخ السلام 583/2، نقلا عن المدائنی و اسنادہ صحیح}

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الجواب (اسد الطحاوی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مذکورہ روایت کا جواب دننے اس بحث کی طرف نہیں جاتے کہ امام ذھبی کا ماخذ امام المدائنی کی اصل کتاب ہےیا نہیں بلکہ جو سند امام ذھبی نے نقل کی ہےامام مدائنی سے یہ سند ہی سخت ضعیف ہے ۔

ہمارا دعویٰ!

اور اس روایت میں جو علت ہے وہ امام مدائنی کا شیخ ہے جو کہ ”ابراھیم بن محمد ہے”یہ متروک الحدیث راوی ہے اسکا مکمل نام ابراھیم بن محمد بن سمعان ابی یحیی الاسلمی  ہے۔ جو کہ امام شافعی کا مشہور شیخ ہے اور متروک ہے  لیکن سنابلی ہندی نے چالاکی اس مدائنی کے اس شیخ

”ابراھیم بن محمد” کا تعین ‘‘ابراھیم بن محمدبن علی بن عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب جیسے ثقہ راوی پر کر دیا!!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہمارے دعویٰ کے دلائل:

سب سے پہلے ہم سنابلی کی تحقیق پیش کرتے ہیں کہ اس نے کونسی اسناد پیش کرکے یہ دعویٰ کیا ہے ؟

اور ہم اسی کی پیش کردہ اسناد سے ہی اپنادعویٰ پیش ٘مضبوط دلائل سے پیش کرینگے!

سنابلی کی تحقیق لکھتا ہے :

ابراھیم بن محمدبن علی بن عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب

آپ سنن ابن ماجہ کے رجال میں سے ہیں آ پ پر بھی کسی محدث نے کوئی جرح نہیں کی اور ابن حبان نے آپکو ثقہ کہا ہے ۔چناچہ امام ابن حبان نے کہا

ابراہیم بن محمد بن علی بن عبداللہ

[الثقات 4/6]

حافظ ابن حجر نے کہا ”صدوق

[تقریب التہذیب239]

فائدہ اس سند میں ابراھیم بن محمد سے مراد ”ابراہیم بن محمد بن علی بن عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب ہی ہیں۔

اس بات کی دلیل یہ ہے اس سند میں امام مدائنی کے استاذ ہیں اور امام مدائنی کےاستاذہ میں آنے والے ‘ابراھیم بن محمد’ وہی ہیں جو اپنے والد سے روایت کرتے ہیں چناچہ امام احمد بن یحییٰ البلازری نے کہا

المدائني عن ”إبراهيم بن محمد عن أبيه” قال: اتخذ عبد الله بن أبي ربيعة أفراسا بالمدينة، فمنعه عمر بن الخطاب، فكلموه في أن يأذن له فقال: لا آذن له إلا أن يجيء بعلفها من غير المدينة، فكان يحمل علفها من أرض له باليمن

[جمل من أنساب الأشراف، 373/10]

ابراہیم بن محمد کے نام سے جو راوی اپنے والد کے شاگرد ہیں وہ ابراہیم بن محمد بن علی بن عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب ہی ہیں

چناچہ امام بخاری نے کہا

ابراہیم بن محمد بن علی بن عبداللہ بن جعفر الھاشمی القرشی عن ابیه سمع عائشه ان النبی۔۔۔الخ

[التاریخ الکبیر للبخاری ، 318/1] 

مزید تسلی کے لیے عرض ہے امام ابن سعد نے کہا:

 اخبرنا علی بن محمد عن ابراھیم بن محمد عن زید ابن اسلم  قال دخل الرجل علی الحسن بل مدینة الخ۔۔۔۔۔

[طبقات الکبریٰ 332/1]

یہ روایت بھی امام علی بن محمد المدائنی عن ابراھیم بن محمد کے طریق سے ہے اور اس روایت کی سند کو طبقات ابن سعد کے محقق نے ”اسنادہ حسن” کہا ہے

اور

اسکے رجال کا تعارف کرتےہوئے لکھا ہے

علی بن محمد  وھو المدائنی

ابراہیم بن محمد  وھو بن علی بن عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب ”صدوق”

[طبقات الکبریٰ 332/1]

اس تفصیل سے معلوم ہوا اس سند میں ”ابراہیم بن محمد” یہ ”ابراہیم بن محمد بن علی بن عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب ہی ہیں اور ثقہ ہیں

[یزید پر الزامات کا تحقیقی جائزہ ص 341]

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الجواب (اسد الطحاوی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سنابلی نے مذکورہ تحقیق میں جس امام مدائنی کے شیخ ”ابراہیم بن محمد ” کا تعین کیا اسکی بنیادی دلیل یہ دی تھی کہ ،وہ اپنے والد سے روایت کرتا ہے۔

تو ہم بھی اسی دلیل کو پہلے لیتے ہیں

امام مدائنی کا یہ شیخ ”ابراھیم بن محمد بن سمعان ابی یحیی الاسلمی”  ہے۔اس راوی کا مکمل نام و کنیت امام مزی نے یوں لکھی ہے:

 : إِبْرَاهِيم بْن مُحَمَّد بْن أَبي يحيى – واسمه سمعان – الأَسلميّ، مولاهم، أبو إسحاق المدني

رَوَى عَن أبيه مُحَمَّد بْن أَبي يحيى الأَسلميّ

یہ ابراہیم بن محمد بن ابی یحییٰ (یعنی اسکے والد محمد بن ابی یحییٰ کا نام سمعان ہے) اور اس راوی کی کنیت  ”الاسلمی” ہے یہ غلام تھا ابو اسحاق مدنی کا

اور یہ اپنے والد ” محمد بن ابی یحییٰ الاسلمی” سے روایت کرتا ہے

[تهذيب الكمال في أسماء الرجال، 236]

تو یہ وہ  راوی  جو امام مدائنی کا استاذ ہے اور اپنے والد سے بھی روایت کرتا ہے جس دلیل کو سنابلی نے پہلے نمبر پر رکھا تھا۔

بلکہ اسکے راوی کے والد کے ترجمہ میں بھی امام مزی نے تصریح کی ہے:

مُحَمَّد بن أَبي يحيى الأَسلميّ ، أَبُو عَبد الله المدني، أخو أنيس بْن أَبي يحيى، ووالد إبراهيم بن محمد ابن أَبي يَحْيَى

رَوَى عَنه: ابنه إِبْرَاهِيم بْن مُحَمَّد بْن أَبي يحيى،

محمد بن ابی یحییٰ الاسلمی ، یہ ابو عبداللہ مدنی ہے ۔ یہ انیس کا بھائی ہے ۔ اور  والد ہے ابراہیم بن محمد بن ابی یحییٰ (مدائنی کے استاذ) کا ۔اور ان سے اسکا بیٹا ”ابراہیم بن محمد بن ابی یحیییٰ’ روایت کرتا ہے۔

[تهذيب الكمال في أسماء الرجال، 5696]

یعنی امام مدائنی اپنے اس شیخ جسکو ”ابراھیم بن محمد ” کے نام سے روایت کرتے تھے اسکو ”ابراھیم بن ابی یحیی” کے نام سے بھی روایت کرتے تھے۔

جیسا کہ امام تقي الدين المقريزي (المتوفى: 845هـ)

قال أبو الحسن المدائني، عن إبراهيم بن أبى يحيى، عن حسين بن عبد اللَّه ضمرة- مولى النبي صلّى اللَّه عليه وسلم الخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[: إمتاع الأسماع،۶،۵۳]

اب یہاں سے دلیل مل گئی کہ امام مدائنی کے شیخ ”ابراہیم بن محمد جو کہ ”ابراہیم بن ابی یحییٰ تھے” 

اس تعین کے مذید دلائل بھی ہم سنابلی کی طرف سے پیش کردہ اسناد سے دینگے۔ جیسا کہ اپنی دلیل میں طبقات ابن سعد کی سند پیش کی تھی جو کہ درج ذیل ہے:

اخبرنا علی بن محمد عن ابراھیم بن محمد عن ”زید ابن اسلم”  قال دخل الرجل علی الحسن بل مدینة الخ۔۔۔۔۔

[طبقات الکبریٰ 332/1]

اس سند میں قابل غور بات یہ ہے کہ علی بن محمد المدائنی اپنے جس شیخ ”ابراہیم بن محمد ” سے روایت کررہے ہیں وہ ”زید بن اسلم” کا شاگرد ہے

 اور یہی ابراہیم بن محمد بن ابی یحییٰ ہی امام زید بن اسلم کا شاگرد ہے۔

جسکی دلیل درج ذیل ہے :

امام عبدالرزاق روایت کرتےہیں:

  عن الأسلمي، عن زيد بن أسلم قال: حدثني عبد الله بن سيلان أنه سأل أبا هريرة عن الكلب العقور؟ فقال: «هو الأسد»

[مصنف عبد  الرزاق، برقم: 8378] 

اور یہ امام عبدالرزاق کا استاذ ”الاسلمی” یہ ابراہیم بن محمد بن ابی یحییٰ ہے جو امام مدائنی کا استاذ ہے ۔ 

جیسا کہ اس روایت کو نقل کرنے کے بعد امام ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں:

وقال عبد الرزاق في مصنفه أنا الأسلمي عن زيد بن أسلم الخ۔۔۔

وهذا ضعيف والأسلمي هو إبراهيم بن محمد بن أبي يحيى

اور عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں بیان کیا میں نے الاسلمی سے سنا  وہ زید بن اسلم سے روایت کرتے ہیں اور یہ اثر ضعیف ہے ۔ اور الاسلمی یہ ”ابراہیم بن محمد بن ابی یحییٰ ہے

[التلخيص الحبير برقم:،1173]

مزید تعین کی ایک اور دلیل:

امام ابن کثیر اپنی مشہور تصنیف البدائیہ میں نقل کرتے ہیں امام مدائنی سے ایک سند:

وروى المدائني عن إبراهيم بن محمد، عن جعفر بن محمد: أن مروان الخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[البداية والنهاية،8،283]

اس میں قابل غور بات یہ ہے کہ امام مدائنی کا شیخ ”ابراہیم بن محمد” اپنے جس شیخ سے روایت کر رہا ہے وہ امام جعفر بن محمدہیں جو کہ امام باقر کے بیٹے ہیں۔

اور ”ابراھیم بن محمد بن ابی یحییٰ” امام جعفر سے بھی روایت کرتاتھا جسکی دلیل یہ ہے :

امام عبد الرزاق روایت کرتے ہیں:

 عن الأسلمي، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، وذكره ابن جريج، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، أن عليا قال: «إذا ضربت بذنبها أو رجلها، أو طرفت بعينها فهي ذكي»

[المصنف برقم: 8634]

امام امام عبدالرزاق اپنے استاذ الاسلمی جو کہ ”ابراہیم بن محمد بن ابی یحییٰ ہیں جیسا کہ امام ابن حجر عسقلانی نے تصریح کی ہے بلکہ کوئی بہانہ بنائے تو اسی کتاب سے بھی تصریح امام عبد الرزاق سے پیش کر دیتے ہیں:

عبد الرزاق، عن إبراهيم بن محمد، عن جعفر

[مصنف برقم: 273]

اور یہ الاسلمی اسکی کنیت ہے اور اسکا وہی نام لیا ہے امام عبدالرزاق نے جو امام مدائنی نے لیا تھا یعنی ”ابراہیم بن محمد”

اب جبکہ اتنے مضبوط اور جید دلائل سے تعین ثابت ہوگیا کہ یہ راوی ابراھیم بن محمد بن ابی یحیییٰ ہے تو اس پر ائمہ کی جروحات درج ذیل ہیں: 

إبراهيم بن أبي يحيى هو أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن أبي يحيى الأسلمي المدني، أحد العلماء الضعفاء

وقال يحيى بن معين: سمعت القطان يقول: إبراهيم بن أبي يحيى كذاب.

وروى أبو طالب عن أحمد بن حنبل قال: تركوا حديثه. قدري، معتزلي،يروى أحاديث ليس لها أصل.

وقال البخاري: تركه ابن المبارك والناس.

وقال البخاري أيضا: كان يرى القدر، وكان جهميا.

وروى عبد الله بن أحمد، عن أبيه، قال: قدري جهمي، كل بلاء فيه، ترك الناس حديثه.

وروى عباس عن ابن معين: كذاب رافضي.

وقال محمد بن عثمان بن أبي شيبة: سمعت عليا يقول: إبراهيم بن أبي يحيى كذاب، وكان يقول بالقدر. 

وقال النسائي والدارقطني وغيرهما: متروك.

اسکی توثیق صرف امام شافعی اور امام ابو صبھانی کرتے ہیں لیکن جمہور ائمہ کا اتفاق ہے اسکی شدید ضعیف ہونے پر تو امام ذھبی اسکا جواب دیتے ہوئے آگے لکھتے ہیں:

وقد وثقه الشافعي وابن الأصبهاني.

قلت: الجرح مقدم.

اور اسکی توثیق امام شافعی اور ابن صبھانی نے کی ہے

میں کہتا ہوں اس پر جرح مقدم ہے

[میزان الاعتدال برقم:189]

اور امام ابن حجر بھی اسکو متروک قرار دیا ہے

– إبراهم بن محمد بن أبي يحيى الأسلمي، أبو إسحاق المدني: متروك

[تقریب التھذیب برقم: 241] 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خلاصہ تحقیق:

ان مذکورہ دلائل سے معلوم ہوا کہ امام مدائنی نے اپنے جس شیخ ”ابراہیم بن محمد” سے روایت کرتے ہیں اسکا مکمل نسب بیان کیا ہے ایک سند میں

وہ ہے ”ابراہیم بن ابی یحییٰ”اور یہی راوی اپنے والد سے بھی روایت کرتا ہے جیساکہ امام مزی سے تصریح دی۔

اسکی دلیل بھی دے دیتے ہیں:

عبد الرزاق قال: أخبرنا الأسلمي، عن أبيه قال: سمعت ابن المسيب

[مصنف عبدالرزاق برقم: 8166]

اور یہی راوی امام زید بن اسلم کا بھی شاگرد ہے جیسا کہ امام ابن سعد نے امام مدائنی سے انکے شیخ ابراہیم سے زید بن اسلم سے روایت کیا تھا ۔اور یہی راوی امام جعفر بن محمد سے بھی بیان کرتا ہے جسکو امام ابن کثیر نے امام مدائنی سے نقل کیا اور امام عبدالرزاق بھی اسکی روایت امام جعفر سے نقل کر رکھی ہے ۔

جبکہ طبقات کے حاشیہ میں اسکے محقق نے بغیر دلیل کے منہ اٹھا کر اس راوی ”ابراہیم بن محمد ابی یحییٰ ” کو ابراہیم بن محمد بن عبداللہ بن جعفر بن علی بنا دیا اور سنابلی نے اسکی جامد تقلید کر لی

یا تو سنابلی علم جرح و تعدیل میں کمزور ہے یا اس نے یہاں جان بوجھ کر دھوکہ دیا ہے۔
تحقیق: اسد الطحاوی

 مزید تحریر: امام حسین کا یزید کی بیعت کے حوالے فضل چشتی صاحب کی پیش کردہ روایت کا تحقیقی جائزہ

 

 

 

 

 

One thought on “کیا یزید نے امام حسینؓ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا تھا؟ سنابلی کا رد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے