قربانی چار دن پر پیش کردہ ایک روایت کا علمی جائزہ!

قربانی چار دن پر پیش کردہ ایک روایت کا علمی جائزہ!
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 2 Average: 3]

قربانی چار دن پر پیش کردہ ایک روایت کا علمی جائزہ!

ازقلم: اسد الطحاوی الحنفی

جناب نے بڑی شدومد سے ایک روایت بیان کی ہے جسکی سند و متن درج ذیل ہے !

⓵ پہلی حدیث

امام ابن حبان رحمہ اللہ نے فرمایا کہ:

أخبرنا أحمد بن الحسن بن عبد الجبار الصوفي ببغداد، حدثنا أبو نصر التمار عبد الملك بن عبد العزيز القشيري في شوال سنة سبع وعشرين ومئتين، حدثنا سعيد بن عبد العزيز، عن سليمان بن موسى، عن عبد الرحمن بن أبي حسين، عن جبير بن مطعم قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "كل عرفات موقف، وارفعوا عن عرنة، وكل مزدلفة موقف، وارفعوا عن محسر، فكل فجاج منى منحر، وفي كل أيام التشريق ذبح”

جبیر بن معطم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ الله کے رسول ﷺ نے فرمایا: پورا عرفات وقوف کی جگہ ہے اور عرنہ سے ہٹ کر وقوف کرو اور پورا مزدلفہ وقوف کی جگہ ہے اور وادئ محسر سے ہٹ کر وقوف کرو اور منیٰ کا ہر راستہ قربانی کی جگہ ہے اور تشریق کے تمام دن (۱۱، ۱۲، ۱۳) ذبح یعنی قربانی کرنے کے دن ہیں۔

مصحیحین حدیث

اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ نے صحیح قرار دیا کیوں کہ انہوں نے اس حدیث کو اپنی کتاب صحیح ابن حبان میں ذکر کیا

اس حدیث کو امام ابن ملقن نے صحیح قرار دیا کیوں کہ اس حدیث کو انہوں نے اپنی کتاب تحفۃ المحتاج میں نقل کیا

اس حدیث کو امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے صحیح قرار دیا کیوں کہ انہوں نے اس حدیث کے رجال کو ثقہ اور سند کو متصل کہا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الجواب : (اسد الطحاوی )

جناب نے ایک مجہول راوی جسکی فقط توثیق ابن حبان کے علاوہ کہیں نہیں ملتی لیکن اسکو گلے لگا لیا گیا بعد کے متاخرین سےظنی طور پر حوالا جات دیکر اگرچہ یہ دلائل جو انہوں نے ابن حبان اور متاخرین سے دلائل دیکر دیے ہیں اور ابن حجر کی طرف انہوں نے رجال ثقات کے ساتھ متصل کے الفاظ منسوب کیے ہیں تو یہ جناب کی کذب بیانی ہے ورنہ جو اسکین انہوں نے لگایا ہے اس میں متصل الاسناد کہیں نہیں لکھا ہوا

اور جب انہوں نے جو روایت پوسٹ کی ہے جس سند سے اس پر تو ابن حجر کی انقطاع کی جرح ہے تو اس مذکورہ روایت پر ابن حجر کے الفاظ رجال ثقات کو نقل کرنا بھی علمی بد دیانتی ہے

اس روایت کو سب سے پہلے امام البزار نے اپنی مسند میں بیان کیا ہے

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ سَيَّارٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيَّامُ التَّشْرِيقِ كُلُّهَا ذَبْحٌ»

اس روایت کی سند میں سوید بن عبدالعزیز جو کہ متروک درجے کا راوی ہے تو اس نے اس روایت کو بیان کرنے میں بھی غلطی کی کہ اس روایت کو سلیمان بن موسی کے طریق سے نافع بن جبیر کی طرف منسوب کر کے پھر انکے والد سے مرفوع بیان کی۔

پھر  مذکورہ روایت امام البزار لاتے ہیں

جسکی سند وہی ہے جسکے بنیادی راویان صحیح ابن حبان میں ہیں :

 وَأَخْبَرَنَاهُ يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ التَّنُوخِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ  مُطْعِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ عَرَفَاتٍ مَوْقِفٌ، وَارْتَفِعُوا عَنْ عُرَنَةَ، وَكُلُّ مُزْدَلِفَةَ مَوْقِفٌ، وَارْتَفِعُوا عَنْ مُحَسِّرٍ، وَكُلُّ فِجَاجِ مِنًى مَنْحَرٌ، وَفِي كُلِّ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ذَبْحٌ»

، وَهَذَا الْحَدِيثُ لَا نَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ فِيهِ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ إِلَّا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَهُوَ رَجُلٌ لَيْسَ بِالْحَافِظِ وَلَا يُحْتَجُّ بِهِ إِذَا انْفَرَدَ بِحَدِيثٍ،

وَحَدِيثُ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ هَذَا هُوَ الصَّوَابُ وَابْنُ أَبِي حُسَيْنٍ لَمْ يَلْقَ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ، وَإِنَّمَا ذَكَرْنَا هَذَا الْحَدِيثَ لِأَنَّا لَمْ نَحْفَظْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «فِي كُلِّ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ذَبْحٌ» إِلَّا فِي هَذَا الْحَدِيثِ فَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ ذَكَرْنَاهُ وَبَيَّنَا الْعِلَّةَ فِيهِ

پھر یہ روایت با سند بیان کرتے ہیں جس میں سعید بن عبدالعزیز(جو کہ ثقہ ہیں لیکن آخر میں اختلاط ہو گیا تھا لیکن اختلاط میں ان سے روایت کا روایت کرنا ثابت نہیں )

 یہ روایت سلیمان بن موسیٰ سے نافع بن جبیر (جو کہ غلط طریق ہے) کی بجائے عبدالرحمن بن ابی حسین سے بیان کرتا ہے اور وہ جبیر بن مطعم سے  نبی کریم سے.

پھر پہلے طریق پر نقد کرتے ہوئے  امام بزار فرماتے ہیں :

یہ حدیث  میرے علم میں نہیں جس میں (سوید) نے کہا کہ نافع بن جبیر اور وہ اپنے والد سے  (بیان کیا )

سوائے سوید کے اور وہ ایسا شیخص ہے جو حافظ نہیں اور اسکے تفرد میں اس سے احتجاج نہیں کیا جائے گا

(کیونکہ نافع بن جبیر کے طریق سے فقط یہی بیان کرتا ہے )

اسکے بعد امام بزار کہتے ہیں:

جو صحیح (طریق ) حدیث کا وہ ابن ابی حسین کا

اور ابن ابی حسین جبیر بن مطعم کو نہیں ملا

یعنی اسکی سند بھی منطقع ہے

[مسند البزار برقم: 3443،3444]

اب جبکہ اس روایت پر بھی امام بزار نے منقطع کی جرح کر دی ہے لیکن ہم نے کمنٹ دیکھا جس میں  جناب نے البانی میاں کی اندھی دھند تقلید کرتے ہوئے امام بزار کی جرح کا جواب دیتے ہوئے یہ لکھتے ہیں :

سلفی صاحب لکھتے ہیں :

امام بزار نے عبد الرحمن بن ابی حسین سے جبیر رض کی ملاقات کی نفی نہیں کی

بلکہ عبد اللہ بن عبد الرحمن سے کی تھی

جس کو تغلیط کی بنا پر عبد الرحمن بن ابی حسین سمجھ لیا گیا

اور دوسرا جواب یہ ہے کہ عبد الرحمن جبیر رض کے معاصر تھے

اور محدثین نے ان کی جبیر رض سے روایت کو اتصال پر محمول کیا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الجواب  (اسد الطحاوی)

انا للہ وانا اليه راجعون

یہاں تو علم حدیث کا جنازہ نکل گیا ہے۔

یعنی روایت ہے عبد الرحمن بن حسین بیان کرتے ہیں جبیر بن مطعم سے  اور بقول اسکے امام بزار اس روایت پر نقد کرتے ہوئے جرح اسکے بیٹے پر کر دی کہ اسکے بیٹے کا سماع مطعم سے نہیں ؟یعنی کیا امام بزار کے سر میں درد تھا معاذاللہ جو ایک راوی کی حدیث بیان کریں اور جرح اسکے بیٹے پر کر دیں جسکا نہ ہی اس حدیث سے لینا دینا ہے اور نہ ہی وہ اس روایت کا راوی ہے

تو یہ فضول قسم کا اعتراض کرنا کہ جی ان سے نقل کرنے والوں سے غلطی ہوگئی

جب یہ یہ اصولا ایک چولی ہے تو اسکا الزام بغیر دلیل کے ان پر جڑ دیا جنہوں نے بالکل صحیح نقل کیا ہے

جیسا کہ امام بزار کی جرح درج ذیل وہابیہ کے محققین نے ہی نقل کی ہے :

پہلے تو وہابیہ کی پسندیدہ شخصیت ابن قیم جوزیہ صاحب ہیں وہ اس روایت کے بارے فرماتے ہیں :

ولكنَّ هذا الإسناد منقطع أيضاً، حكم عليه بذلك البزار رحمه الله، فقال: ” … ابن أبي حسين لم يلق جبير بن مطعم

لیکن اس سند پر بھی منقطع کا حکم لگایا گیا ہے امام بزار رحمہ اللہ کی طرف سے اور انہون نے کہا کہ ابن ابی حسین نے جبیر بن مطعم سے ملاقات نہیں کی

[جمال بن محمد السيد ، کتاب ابن قيم الجوزية وجهوده في خدمة السنة النبوية وعلومها]

دوسرے انکے محقق جناب مبارکپوری صاحب ہیں :

امام بزار کے تعلق سے نقل کرتے ہیں :

وأخرجه البزار من هذا الوجه، وقال: ابن أبي حسين لم يلق جبير بن مطعم، فهو منقطع،

اور اس روایت کی تخریج کی ہے امام بزار نے اور کہا کہ ابن ابی حسین نے ملاقات نہیں کی ہے جبیر بن مطعم سے اور منقطع ہے

[مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح جلد 5 ص 106، مبارکپوری]

ویسے یہ دلائل بھی دینے کی ضرورت نہیں تھی ایک عام سا اصول حدیث کا طالب علم بھی جانتا ہے کہ امام جس راوی سے روایت بیان کر کے منطقع کی جرح کر رہا ہے تو وہ اسکی بجائے اسکے بیٹے پر منطقع کی جرح کس لیے کریگا جو اس روایت میں ہے ہی نہیں نہ ہی اسکا لینا دینا ہے اس روایت سے۔

تو پس علت قادعہ ثابت ہونے کی وجہ سے یہ روایت ضعیف و منطقع ہے

اور اس میں دوسرا ضعف یہی ہے کہ اسکا راوی :

عبد الرحمن بن أبي حسين مجہول ہے

جیسا کہ علامہ شعیب الارنووط رحمہ اللہ نے حکم لگایا ہے  ابن حبان کے حاشیہ میں :

1 عبد الرحمن بن أبي حسين: لَمْ يُوَثِّقْهُ غير المؤلِّف 5/109، ولم يَروِ عنه غير سليمان بن موسى ثم هو لم يلق جبير بن مطعم،

 وباقي رجال السند رجال الشيخين، غير سليمان بن موسى، وهو الأموي الدمشقي الأشدق، فقيه أهل الشام في زمانه، فقد روى له أصحاب السنن، وهو صدوق.

[الإحسان في تقريب صحيح ابن حبان برقم: 1384]

نیز اس روایت مذکورہ کو امام ابن  عدی نے سلیمان بن موسی کی منکرات میں درج کی ہے۔

دیکھیے (الکامل ابن عدی سلیمان بن موسی کے ترجمہ میں )

خلاصہ تحقیق

متاخرین میں ابن مقلن یا یہ ان جیسے دیگر متاخرین کی تصحیح حجت نہیں ہو سکتی

اور نہ ہی ابن حجر نے اس روایت کو مذکورہ سند سے تصحیح کی ہے  بلکہ اس روایت کو منقطع قرار دیا ہے التخیص الحبیر میں اور فتح الباری میں تو یہ باطل ثابت ہوئی

اسکے علاوہ دارقطنی کا ذکر کیا ہے تو انکی بیان کردہ سند سے جب روایت بیان کرینگے تو اسکا جواب بھی اللہ کے فضل سے دینگے۔

تحقیق: دعاگو اسد الطحاوی الحنفی البریلوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے