حضرت ام حرامؓ کیا حضور اکرمﷺ کی نامحرم تھیں

حضرت ام حرام
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 1]

صحابیہ رسولﷺ حضرت ام حرامؓ کیا نبی پاکﷺ  کی نامحرم تھیں؟

کچھ لوگوں کا حال ایسا ہے کہ جو اصحاب رسولﷺ پر طعن کو محبت اہلبیت کا معیار بناتے ہیں اور یہ اپنے اس قبیح فعل میں ان تمام حدود کو بھی پار کرنے میں نہیں ڈرتے کے کہیں اللہ ایمان نہ ثلب کرلے یا کہیں ان دونوں مبارک ہستوں کی گستاخی کے سبب ایمان ضائع ہونے کا پتہ بھی نہ لگے اور موت کا فرشتہ اچک جائے۔
میں نے تھوڑی تمہید اس لیے باندھی کے روز مرہ کی زندگی اور عام لوگوں میں رہنے کے بعد فیسبک پر ایسی لا یعنی ابحاث دیکھنے سے شروع میں گھن آنے لگتی ہے کہ عام لوگوں کا ایمان واقعی ان فیسبکیوں کی با نسبت زیادہ محفوظ ہیں جنکو علم کی الٹیاں لگی رہتی ہیں خیر اللہ سب کو ہدایت دے آمین!

حضرت ام حرامؓ کے رسولﷺ کے محرم ہونے پر اشکال وارد کرتے ہوئے لکھتاہے:

مسلہ پر ہم ایک موصوف ابو شوکانی اسٹریلوی کی پوسٹ پر مطلع ہوئے کچھ ان الفاظ کے ساتھ تھی!
”صحیح بخاری 2924 جناب معاویہ کے جنتی ہونے میں پیش کی جاتی ہے۔
جان کی امان پاؤں تو عرض کروں۔
کے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ام حرام بنت ملحان کے گھر دوپہر کو کیوں جاتے تھے حالانکہ وہ غیر محرم تھیں اور رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک سے جوئیں نکال رہیں تھیں اور معاذ الله ثم معاذ الله رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ان کی گود میں سر رکھ کر سو جاتے ہیں۔
اہل علم حضرات اس پر روشنی ڈالیں”

اب یہاں متعرض کو یہ معلوم نہیں ہو رہا یا اس کا اس طرف دیہان ہی نہیں کہ وہ فضیلت امیر المومنین حضرت معاویہؓ کی فضیلت کی روایت کی نفی کے چکر میں حضور اکرمﷺ پر منسوب ایسا اعتراض جڑ رہا ہے جو کہ ملحدین اور مستشرین مسلمانوں کے خلاف پیش کرکے دو جہانوں کے سردار حضور اکرمﷺ کی شان پر سوالات پیدا کرنے کی جسارت کرتے ہیں ۔ لیکن یہ دور بھی آنا تھا کہ ایسے اعتراضات ہم مسلمانوں سے بھی سننے تھے!
خیر مذکورہ روایت میں اس روایت مشکوک کرنے کے لیے حدیث کے متن پر اعتراض جڑ دیا گیا ہے تاکہ بغیر علت اسناد کے اس روایت کو کسی کا وھم یا کسی کی خطاء ثابت کی جا سکے کیونکہ یہ محال ہے کہ نبی اکرمﷺ ایک غیر محرم کے گھر جائیں اور موصوف نے دوسری صورت میں قطعی طور پر حضرت ام حرام بنت ملحان کو نا محرم ہونے کا دعویٰ بھی کر دیا ہے۔ اب ہم اس پر اللہ و رسولﷺ کے کرم سے جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں :
سب سے پہلی بات یہ ہے۔

امام نووی ؒ علیہ رحمہ نے اس مسلہ پر اتفاق لکھا ہے علماء کا کہ یہ حضور پر نورﷺ کی محرم تھی لیکن اختلاف اس پر ہے کہ انکا حتمی رشتہ کیا تھا ؟

■جیسا کہ وہ فرماتے ہیں:
●》اتفق العلماء على أنها كانت محرما له صلى الله عليه وسلم واختلفوا فى كيفية ذلك فقال بن عبد البر وغيره كانت إحدى خالاته من الرضاعة وقال آخرون بل كانت خالة لأبيه أو لجده لأن عبد المطلب كانت أمه من بني النجار
▪︎امام نووی فرماتے ہیں :
کہ اس مسلہ پر علماء کا اتفاق ہے کہ یہ حضور اکرمﷺ کی محرم تھیں۔ لیکن اختلاف اس امر پر ہے کہ یہ کیفیت یعنی رشتہ کیا تھا ؟ جیسا کہ امام ابن عبد البر علیہ رحمہ نے فرمایا ہے کہ یہ حضور اکرمﷺ کی رضاعی خالہ تھیں، اور انکے بعد والے ائمہ نے کہا بلکہ یہ انکے والد کی رضاعی خالہ تھیں یا انکے دادا عبد المطلب انکی والدہ بنی نجار میں سے تھیں۔
[شرح مسلم للنوی ،ج۱۳، ص۵۸]
اور یہی بات محدث و فقیہ امام شارح صحیح البخاری عمدتہ القاری علامہ بد ر الدین عینی علیہ رحمہ نے بھی فرمائی ہے لیکن انہوں نے یہ اضافہ فرمایا ہے کہ امام دیامطی کا امام نووی کے قول پر انکار کرنا نقل کیا اور دیگر ایک قول بھی۔
■جیسا کہ وہ شرح میں فرماتے ہیں:
●》وأنكر الحافظ الدمياطي هذا القول، وذكر أن هذه خؤلة بعيدة لا تثبت حرمة ولا تمنع نكاحا. قال: وفي (الصحيح) أنه، صلى الله عليه وسلم، كان لا يدحل على أحد من النساء إلا على أزواجه إلا على أم سليم، فقيل له في ذلك، قال: أرحمها، قتل أخوها حرام معي، فبين تخصيصها بذلك، فلو كان ثمة علة أخرى لذكرها، لأن تأخير البيان عن وقت الحاجة لا يجوز، وهذه العلة مشتركة بينها وبين أختها أم حرام. قال: وليس في الحديث ما يدل على الخلوة بها، فلعله كان ذلك مع ولد أو خادم أو زوج أو تابع، وأيضا فإن قتل حرام كان يوم بئر معونة في صفر سنة أربع، ونزول الحجاب سنة خمس، فلعل دخوله عليها. كان قبل ذلك، وقال القرطبي: يمكن أن يقال: إنه صلى الله عليه وسلم كان لا تستتر منه النساء لأنه كان معصوما، بخلاف غيره.
▪︎امام دمیاطی علیہ رحمہ نے ان (امام نووی)کے اس دعویٰ کا انکار کیا ہے اور کہا کہ یہ بعید قیاس ہے جو محرم ہونے یا نکاح سے روکنے کا ثبوت نہیں دیتا۔ انہوں نے مزید یہ کہا کہ :صحیح حدیث میں ذکر ہے کہ نبی کریم ﷺ عورتوں کے پاس نہیں جاتے تھے صرف اپنی بیویوں کے علاوہ ،لیکن سوائے امّ سلیم ؓکے پاس جاتے تھے۔ جب انﷺ سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوںﷺ نے فرمایا”وہ مجھ پر رحم (خدمت )کرتی تھی، اس کے بھائی کوشہید کر دیا گیا جب وہ میرے ساتھ تھا۔
حافظ عینی مزید امام دیامطی کے حوالے سے کہتے ہیں: لہٰذا، انہوں نے اس بارے میں انﷺ کی خصوصیت بتائی۔ اگر کوئی دوسری وجہ ہوتی تو وہ ضرور بتاتے، کیونکہ ضرورت کے وقت بیان کی تأخیر جائز نہیں ہے، اور یہ وجہ ان کی بہن امّ حرام کی طرح ایک واضح وجہ ہے۔ امام نے مزید کہا کہ : حدیث میں ایسا متن کچھ بھی نہیں ہے جو اس بات کی طرف اشارہ کرے کہ وہﷺ اکیلے ان کے ساتھ ہوتے تھے۔ شاید ان کے پاس بچہ، نوکر، شوہر یاغلام ہوتے تھے۔ علاوہ ازیں، نا جائز قتل و غارت بئیر معونہ کے دن چار سال کے طور پر ہوا تھا اورپردے کاحکم پانچویں سال میں ہوا تھا، لہٰذامام القرطبی نے اس بارے میں کہا ہے کہ شاید یہ ممکن ہے کہ حضرت پیغمبر ﷺ نے پانچویں سال کے پہلے ان (ام حرام) سے ملاقات کی ہو۔ انہوں نے کہا کہ حضرت محمد ﷺ کے سامنےدوسری عورتوں کا پردہ نہ کرنے کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ حضور اکرمﷺ معصوم تھے اور وہ دوسروں کی طرح نہ تھے
[عمدة القاري شرح صحيح البخاري، ج۱۱، ص۹۹]
یعنی امام دیامطی نے بھی بھی متقدمین ائمہ کا رد فقط قیاس سے ہی کیا ہے اورقرائن کے طور پر دیگر احادیث کو لائے نیز امام قرطبی نے یہ تاویل کی ہے کہ مذکورہ واقعہ پردہ کے حکم سے پہلے کا ہو اور عورتوں کا ان سے پردہ نہ کرنا حضور اکرمﷺ کے معصوم ہونے کی نص کے سبب ہو۔
البتہ انکا قیاس جو بھی ہے کسی بھی امام نے اس سبب مذکورہ روایت کا رد نہیں کیا بلکہ احسن تاویل فرمائی ہے کیونکہ روایت متفق علیہ اور متعدد اسناد کے ساتھ ہے ہم کو نہیں معلوم موصوف کا اس روایت پر متن کے اعتبار سے اعتراض کرنا کس سوچ کا نتیجہ ہے

برحال ان میں سب سے مضبوط موقف یہی ہے کہ حضرت ام حرام نبی اکرمﷺ کی رضاعی خالہ تھیں اور اسکے کچھ دلائل ہیں۔

■جیسا کہ حافظ ابن حجر عسقلانی علیہ رحمہ نے صابہ ●》فی تیز الصحابہ میں انکے تعلق سے لکھتے ہیں:
وفي بعض طرقه في البخاري، عن أنس، عن أم حرام بنت ملحان، وكانت خالته- أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال في بيتها فاستيقظ وهو يضحك، وقال: «عرض علي أناس من أمتي يركبون ظهر البحر الأخضر كالملوك على الأسرة»۔۔۔ الخ
▪︎اور صحیح بخاری کے بعض نسخاجات یا طرق اسناد میں یہ روایت حضرت انسؓ کے حوالے سے (اس متن) سے مروی ہے کہ انہوں نے ام حرام بنت ملحان سے روایت کیا وہ حضور اکرمﷺ کی (رضاعی) خالہ تھیں ۔۔۔۔ الخ
[الإصابة في تمييز الصحابة، ج۸، ص ۳۷۶]
حافط ابن حجر عسقلانی نے بخاری شریف کے بعض طرق کا ذکر کیا ہے جس میں خود حضرت انس بن مالکؓ جنکی یہ خالہ لگتی تھیں انہوں نے بھی واضح طور پر کہا ہے کہ یہ حضور اکرمﷺ کی (رضاعی) خالہ تھیں اور امام ابن حجر عسقلانی نے اس بات کا انکار نہیں کیا کیونکہ انکا بعض طرق بخاری کا ذکر کرنے کا مقصد ہی یہی تھا
■اس پر مزید دلائل درج ذیل ہیں :
امام ابن اثیر نے اپنی مشہور و معروف تصنیف اسد الغابہ میں جو سند نقل کی ہے اسکا متن میں بھی یہی ہے بقول حضرت انسؓ یہ نبی اکرمﷺ کی (رضاعی) خالہ تھیں۔
●》أخبرنا أبو ياسر، بإسناده عن عبد الله بن أحمد، حدثني أبي، أخبرنا عبد الصمد، حدثني أبي، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثني محمد بن يحيى بن حبان، حدثني أنس بن مالك، عن أم حرام بنت ملحان، وكانت خالته، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم۔۔۔الخ
[أسد الغابة في معرفة الصحابة، برقم: ۲۴۲۱]
■امام قسطلانی نے جو صحیح بخاری کی شرح فرمائی ہے انہوں نے بھی یہی نقل کیا ہے۔
●》(حدّثنا عبد الله بن يوسف) التنيسي قال: (أخبرنا مالك) الإمام (عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة) الأنصاري (أنه سمع أنس بن مالك) -رضي الله عنه- (يقول كان رسول الله -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يدخل على أم حرام) بالحاء والراء المهملتين المفتوحتين (بنت ملحان) بكسر الميم وسكون اللام بعدها حاء مهملة
”وكانت خالته -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- من الرضاع”
[إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري برقم:۷۰۰۱]
■مزید امام ابن عساکر اس روایت کو بیان کرتے ہیں جن میں یوں الفاط ہیں :
●》أخبرناه أبو محمد إسماعيل بن أبي القاسم بن أبي بكر أنا عمر بن أحمد بن عمر بن مسرور أنا أبو طاهر بن خزيمة نا أبو العباس الثقفي نا عبد العزيز الدراوردي ح۔۔۔
أخبرناه أبو الفضل محمد بن إسماعيل أنا أبو مضر محلم بن إسماعيل بن مضر الضبي أنا أبو سعيد الخليل بن أحمد بن محمد بن الخليل أنا أبو العباس نا قتيبة نا عبد العزيز بن محمد عن عبد الله بن عبد الرحمن عن أنس بن مالك: أن رسول الله (صلى الله عليه وسلم) وضع رأسه في بيت أم ملحان وهي إحدى خالاته۔۔۔الخ
▪︎امام ابن عساکر نے مذکورہ روایت کو دو اسناد سے بیان کیا جو ابو عباس ثقفی تک مل جاتی ہیں وہ قتیبہ وہ عبداللہ وہ حضرت انس ؓ سے روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ حضر ت ام ملحان کے گھر آرام کے لیے جاتے جو کہ انکیﷺ خالہ میں سے ایک تھیں ۔۔۔ الخ
[تاريخ دمشق، ج۷۰، ص ۲۱۴]
■ حنفی محدث امام ابی یعلی صاحب مسند وہ اپنے طریق سے بھی اس متن پر مشتمل روایت نقل کرتےہیں:
●》حدثنا عبد الأعلى، حدثنا بشر بن السري، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عبد الله بن عبد الرحمن بن معمر بن حزم، عن أنس بن مالك، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم وضع رأسه في بيت ابنة ملحان، وهي إحدى خالاته۔۔۔الخ
▪︎حضرت انس ؓ سے روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ حضر ت ام ملحان کے گھر آرام کے لیے جاتے جو کہ انکیﷺ خالہ میں سے ایک تھیں ۔۔۔ الخ
[مسند ابی یعلی برقم:۳۶۷۷،وسندہ صحیح]

اتنے دلائل سے ان ائمہ کا موقف واقعی بہت مضبوط ہے جنکے بارے امام نووی نے ذکر کیا ہے عمومی علماءیعنی ائمہ سلف کا اتفاق ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ کی محرم تھیں اور یہ وہ انکی رضاعی خالہ تھیں یہ رشتہ متفقہ نہیں اور جن روایات میں اسکی تصریح ملتی ہے اسکے بعد حافظ ابن عبد البر کا موقف مضبوط نظر آتا ہے اور جمہور ائمہ کرام جن میں محدثین و شارحین ہیں انہوں نے اسی موقف کو ہی اپنایا ہے کیونکہ اس پر روایت کے الفاظ ملتے ہیں۔


قسط نمبر 2:

حضرت ام حرامؓ اور انکی بہن حضرت ام انسؓ کا نبی اکرمﷺ کے لیے محرم ہونااور اس پر وارد کچھ اشکالات کا جواب!

ہم نے سابقہ تحریر میں روایات کے ساتھ تصریحا اور محدثین و شارحین سے دلائل دیے تھے کہ حضرت ام حرامؓ نبی اکرمﷺ کی رضاعی خالہ یا انکے والد یا دادا کی رضاعی خالہ تھیں کیونکہ کسی کے پاس تصریح نہیں کہ محرم والا صریحا رشتہ کون سا تھا ؟
اس پر مزید کچھ دلائل دینگے لیکن اس سے پہلے مسلے کی جڑ کو ختم کرتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو اصل تکلیف یہ ہے کہ حضرت ام حرامؓ وہ روایت بیان کرتی ہیں کہ جس میں یہ تصریح ہے کہ پہلا سمندری بیڑہ جو جنگ کریگا اس نے اپنے اوپر مغفرت واجب کر لی۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ بیڑہ حضرت امیر معاویہؓ کی نگرانی میں حضرت عثمانؓ کے دور میں گیا تھا جو کہ حضرت امیر معاویہؓ اور ان کے ساتھیوں کی فضیلت خاص کی دلیل ہے ۔۔۔
اب جب کبھی یہ لوگ ثور بن یزید کا بہانہ بناتے ہیں کہ وہ ناصبی تھا تو اس پر امام یحییٰ بن معین کی تصریح دیتے ہیں کہ وہ تو فرماتے تھے کہ لوگ انکو پاوں سے کھینچتے تھے مگر یہ حضرت علی ؓ پر شتم نہیں کرتے تھے اور پھر یہ بھی کہ یہ اس مذکرہ روایت میں منفرد بھی نہیں بلکہ انکی متابعت متعدد ثقات سے بھی مروی ہے ۔۔۔
تو پھر آ جا کر یہ ایک اعتراض جو ملحدین وغیرہ سے چرا لیا گیا کہ جی مذکورہ روایت میں حضرت ام حرام نبی اکرمﷺ کے بال مبارک میں ہاتھ لگا رہی ہیں اور نبی اکرمﷺ کیسے ایک نا محرم عورت کے گھر جا سکتے ہیں تو لہذا یہ روایت ہی جھوٹی ہے (معاذاللہ )
سب سے پہلے ہم اس تعصب بھرے موقف کا جواب دیتے ہیں :
پہلی بات یہ ہے کہ یہ روایت نہ ہی منفرد سند سے ہے اور نہ ہی منفرد متن سے کیونکہ یہ روایت مختصر بھی آئی ہے اور طویل بھی ۔ اگر کسی روایت کے متعدد طریق کے متن میں کوئی ایک سند سے اضافی متن ایسا ہو جو روایت کے شاذ ہونے کو مستلزم ہو تو مختصر روایت جس میں وہ متن نہ ہو اسکو مقدم کیا جاتا ہے ۔ اب ہم انکے اصول پر مذکورہ متن جو کے انکے بقول غیر شرعی اور دوسرے الفاظ میں شاذ ہے۔
■تو ہم اسکا مختصر متن امام بخاری کے طریق سے نقل کرتے ہیں :
●》حدثني إسحاق بن يزيد الدمشقي، حدثنا يحيى بن حمزة، قال: حدثني ثور بن يزيد، عن خالد بن معدان ان عمير بن الاسود العنسي، حدثه انه اتى عبادة بن الصامت وهو نازل في ساحل حمص وهو في بناء له ومعه ام حرام، قال عمير: فحدثتنا ام حرام انها سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول:” اول جيش من امتي يغزون البحر قد اوجبوا”، قالت: ام حرام، قلت: يا رسول الله انا فيهم، قال:” انت فيهم” ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم:” اول جيش من امتي يغزون مدينة قيصر مغفور لهم”، فقلت: انا فيهم يا رسول الله، قال:” لا”.
▪︎عمیر بن اسود عنسی نے بیان کیا کہ وہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ کا قیام ساحل حمص پر اپنے ہی ایک مکان میں تھا اور آپ کے ساتھ (آپ کی بیوی) ام حرام رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ عمیر نے بیان کیا کہ ہم سے ام حرام رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا
”کہ میری امت کا سب سے پہلا لشکر جو دریائی سفر کر کے جہاد کے لیے جائے گا، اس نے (اپنے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت) واجب کر لی”
۔ ام حرام رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے کہا تھا یا رسول اللہ! کیا میں بھی ان کے ساتھ ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، تم بھی ان کے ساتھ ہو گی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے پہلا لشکر میری امت کا جو قیصر (رومیوں کے بادشاہ) کے شہر (قسطنطنیہ) پر چڑھائی کرے گا ان کی مغفرت ہو گی۔ میں نے کہا میں بھی ان کے ساتھ ہوں گی یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔
[صحیح البخاری برقم: 2924]

اب مذکورہ روایت میں نہ ہی گھر جانے والا متن ہے اور نہ ہی سر میں ہاتھ پھیرنےوالا متن ہے تو اس روایت کو اب کسی اصو ل سے رد نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ اب انکو اگر اصل مسلہ مذکورہ متن سے تھا تو وہ اس روایت میں نہیں تو اس روایت کو تسلیم کرنا پڑے گا اور جس متن پر انکو اعتراض ہے اسکو منکر قرار دیکر رد کر دیں اسکے علاوہ انکے پاس کوئی چارہ نہیں ۔

■دوسری بات :
حضرت ام حرامؓ اور حضرت ام سیلم جو کہ حضرت انس بن مالکؓ کی والدہ تھیں یہ دونوں آپس میں بہنیں تھیں ۔ اور اگر فقط روایات اس وجہ سے اڑانی ہیں کہ نبی اکرمﷺ انکے گھر نہیں جا سکتے جبکہ وہ نا محرم ہیں تو یہ روایت جھوٹی ہوگئیں یوں پھر یہ ایک نہیں دیگر روایات بھی صحیحین کی انکو اڑانی پڑینگی۔
جیسا کہ صحیح مسلم میں ام سلیم جو نبی اکرمﷺ کی خادمہ اور حضرت انس کی والدہ تھیں اور نبی اکرمﷺ انکے گھر بھی نہ صرف جاتے بلکہ گھر میں کوئی نہ ہوتا تو نبی اکرمﷺ حضرت ام سلیم ؓ یعنی حضرت انس ؓ کی والدہ کے بستر پر سوجاتے تھے
■جیسا کہ امام مسلم روایت کرتے ہیں :
●》عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ النَّبِيُّ صلی الله عليه واله وسلم يَدْخُلُ بَيْتَ أُمِّ سُلَيْمٍ رضي اﷲ عنها فَيَنَامُ عَلٰی فِرَاشِهَا، وَلَيْسَتْ فِيْهِ. قَالَ: فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَنَامَ عَلٰی فِرَاشِهَا. فَأُتِيَتْ، فَقِيْلَ لَهَا: هٰذَا النَّبِيُّ صلی الله عليه واله وسلم نَامَ فِي بَيْتِکِ، عَلٰی فِرَاشِکِ. قَالَ: فَجَائَتْ وَقَدْ عَرِقَ، وَاسْتَنْقَعَ عَرَقُه عَلٰی قِطْعَةِ أَدِيْمٍ، عَلَی الْفِرَاشِ. فَفَتَحَتْ عَتِيْدَتَهَا فَجَعَلَتْ تُنَشِّفُ ذَالِکَ الْعَرَقَ فَتَعْصِرُه فِي قَوَارِيْرِهَا. فَفَزِعَ النَّبِيُّ صلی الله عليه واله وسلم فَقَالَ: مَا تَصْنَعِيْنَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ؟ فَقَالَتْ: يَا رَسُوْلَ اﷲِ، نَرْجُوْ بَرَکَتَه لِصِبْيَانِنَا. قَالَ: أَصَبْتِ
▪︎حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم حضرت اُمّ سُلیم رضی اﷲ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے اور اُن کےبستر پر سو جاتے جبکہ وہ گھر میں نہیں ہوتی تھیں۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم تشریف لائے اور اُن کے بستر پر سو گئے، اُن کے پاس جا کر اُنہیں بتایا گیا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم تمہارے گھر میں بچھونے پر آرام فرما ہیں۔ یہ سن کر وہ (فورًا) گھر آئیں تو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم (محو استراحت ہیں اور جسدِ اقدس) پسینے میں شرابور ہے اور وہ پسینہ مبارک چمڑے کے بستر پر جمع ہو گیا ہے۔ حضرت اُمّ سُلیم نے اپنی (خوشبو کی) بوتل کھولی اور پسینہ مبارک پونچھ پونچھ کر بوتل میں جمع کرنے لگیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اچانک اُٹھ بیٹھے اور فرمایا: اے اُمّ سُلیم! کیا کر رہی ہو؟ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم اس (پسینہ مبارک) سے اپنے بچوں کے لئے برکت حاصل کریں گے (اور اسے بطور خوشبو استعمال کریں گے)۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: تو نے ٹھیک کیا ہے۔‘‘ اِس حدیث کو امام مسلم اور احمد نے روایت کیا ہے۔
اس صحیح مسلم میں دیگر طریق سے حضرت ام سلیمؓ کا نبی اکرمﷺ کے جسم مبارک سے پسینہ جمع کرنے کے بھی الفاظ ہیں ۔
[صحیح مسلم برقم: 1815]
تو کیا یہ روایت خود اس بات کی متقاضی نہیں ؟ کہ حضرت ام سلیمؓ نبی اکرمﷺ کی محرم تھیں وگرنہ ایک نبیﷺ جو یہ کہے کہ کسی کے گھر دروازہ بجاتے ہوئے اندر نہ جھانکو وہ نبیﷺ کیسے کسی نا محرم کے گھر چلا جائے ؟ اور نا محرم کے بستر پر سو جائے ؟ یہ بات خود اتنی بڑی دلیل ہے کہ ضرور حضرت ام سلیم ؓ نبی اکرمﷺ یا انکے ولد کی رضاعی خالہ تھیں

جیسا کہ امام نووی سے بھی پہلے کے ایک اور محدث شارح بخاری امام مھلب المتوفیٰ 435هـ سے بھی امام ابن بطال المتوفیٰ 449ھ نے بھی یہی نقل کیا ہے اپنی شرح میں :

●》قال المهلب: وقوله: (لم يكن يدخل بيتًا غير بيت أم سليم) يعنى: من بيوت النساء غير ذوى محارمه؛ فإنه كان يخص أم سليم للعلة التى ذكر، ولأنها كانت أختها أم حرام خالته من الرضاعة
▪︎امام المہلب فرماتے ہیں: "جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا کہ وہ کسی غیر عورت کے گھر میں داخل نہیں ہوتا تھے سوائے ام سلیم کے اور ام سلیم گھر کو انہوںﷺ نے مستثناء قرار دیا ، کیونکہ اس کی وجہ سے اور یہ کہ ام سلیم اور انکی بہن ام حرام یہ نبیﷺ کی رضاعی خالہ تھیں
[شرح صحيح البخارى لابن بطال، ج۵، ص۵۲]
■یہی وجہ ہے کہ امام نووی علیہ رحمہ نے انکے بارے بھی یہی فرمایا ہے :
●》وكانت أم سليم هذه هى وأختها خالتين لرسول الله – صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – من جهة الرضاع، وكانت من فاضلات
▪︎کہ یہ ام سلیم اور انکی بہن (ام حرامؓ) یہ دونوں نبی اکرمﷺ کی خالائیں تھیں ۔ رضاعت کے سبب اور یہ فاضل خواتین میں سے تھیں۔
[تهذيب الأسماء واللغات، ج۲، ص ۳۶۳]

اور یہی بات انہی کے دور کے دوسرے مورخ امام ابن المستوفي الإِربلی جو کہ 637ھ میں فوت ہونے والے ہیں وہ بھی امام نووی کے اس قول کو نقل کرکےان سے اتفاق کرتے ہیں۔

■ اپنی معرو ف تصنیف تاریخ اربل میں :
●》 ام سليم بنت ملحان انها خالة النبي- ص- اما من النسب او من الرضاع.
▪︎ام سلیمؓ (ام حرام کی بہن) یہ نبی اکرمﷺ کی خالہ تھیں رضاعی یا نسب کے اعتبار سے
[تاريخ إربل، ج۲، ۲۴۶]
اب یہ تصریح نہیں کہ خالہ نسب کے اعتبار سے تھیں یا رضاعت کے اعتبار سے اور ان میں سے کس بہن سے رضاعی رشتہ تھا ؟ کیونکہ اگر ایک بہن سے بھی رضائی رشتہ ہو تو دوسری بہن سے وہ رشتہ خود بخود شریعت بنا دیتی ہے۔ اس وجہ سے علماء کو تصریح نہیں مل سکی محرم رشتہ کی
اور پھر امام ابن وھب جو کہ 196ھ میں فوت ہونے والے دوسری صدی کے متقدمین ائمہ میں سے ہیں انکے قول کو اڑانے کی کوشش کی گئی سند کے اعتبار سے جو کہ کچھ یوں وارد ہے ؟
أخبرنا الحسين بن عبد الله، قال: قال لنا أبو بكر الفهري، قال أبو موسى يعني يونس، قال لنا عبد الله بن وهب «أم حرام إحدى خالات النبي صلى الله عليه وسلم من الرضاعة،
ابن وھب کہتے ہیں کہ ام حرام نبی اکرمﷺ کی رضاعی خالہ رشتہ میں سے تھیں
[مسند الموطأ للجوهري ، برقم:۲۷]
کہا گیا جی کہ اسکی سند میں ایک راوی ابو بکر فھری مجہول ہے ۔
■جبکہ یہ راوی روایات کا راوی نہیں بلکہ قرات کا عالم تھا۔ جسکی وجہ سے اسکے ترجمہ میں توثیقی کلمات نہیں ملتے ۔ البتہ اس کی ایک اور سند امام ابن عبدالبر نے بھی نقل کی ہے جو کہ درج ذیل ہے :
●》أخبرنا غير واحد من شيوخنا عن أبي محمد الباجي عبد الله بن محمد بن علي أن محمد بن فطيس أخبره عن يحيى بن إبراهيم بن مزين قال إنما استجاز رسول الله صلى الله عليه وسلم أن تفلي أم حرام رأسه لأنها كانت منه ذات محرم من قبل خالاته لأن أم عبد المطلب بن هاشم كانت من بني النجار
وقال يونس بن عبد الأعلى قال لنا ابن وهب أم حرام إحدى خالات النبي صلى الله عليه وسلم من الرضاعة
▪︎اسکی سند متصل ہے امام ابن عبدالبر کہتے ہیں مجھے میرے ایک سے زائد شیوخ نے روایت کیا ہے ابو محمد باجی (متفقہ ثقہ) سے انکو محمدبن فطیس(ثقہ) روایت کرتے ہیں یحییٰ بن ابرہایم سے وہ کہتے ہیں نبی اکرمﷺ سے صرف حضرت ام حرام کو اجازت اس لیے دی تھی کیونکہ وہ انکے لیے محرم تھیں ۔
اسکے بعد امام ابن عبدالبر وقال کے صیغہ سے یونس بن عبد الاعلیٰ کا قول روایت کرتے ہیں جسکی سند پیچھے سے ہے اور عبدالاعلیٰ سے یہ قول محمد بن فطیس روایت کرتے ہیں
کہ نبی اکرمﷺ کی رضاعی خالہ میں سے ام حرام تھیں
[التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد]
اسکے بعد امام ابن عبدالبر ؓ نے وہ روایات نقل کیں حضور اکرمﷺ کی کہ جن میں وہ خو د نا محرم عورتوں سے ملنا نہ پسند کرتے ہیں بلکہ عمومی حکم بھی دیتے ہیں۔تو اتنے سارے دلائل اور ائمہ کو رد کر دینا کہ انہوں نے کیا دلیل دی ؟ تو عرض ہے موضوف نے کونسی نص پیش کی کہ نا محرم تھیں ام حرام؟ امام نووی علیہ رحمہ سے پہلےگزرے ائمہ کا یہی موقف تھا اس لیے امام نووی نے اس پر اتفاق لکھا کیونکہ امام نووی سے پہلے کسی نے اس مسلہ میں اختلاف نہیں کیا اور متقدمین کے بعد متاخرین کا اختلاف کوئی معنی نہیں رکھتا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے