کیا حضرت امیر معاویہؓ طلقاء صحابہؓ میں سے تھے ؟
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 5]

 امیر معاویہ طلقاء صحابہؓ میں سے تھے ؟

حضرت معاویہ صحابی رسول

امیر  معاویہ طلقاء صحابہ میں سے تھے ؟ جیسا کہ کچھ ہم نے  صحابہ کرامؓ سے بغض رکھنے والوں کی ایک تحریر دیکھی جس میں اپنی جہالت کے سبب اس نے یہ ثابت کیا ہوا ہے کہ  حضرت امیر معاویہؓ صحابہ ؓ میں سے نہ تھے بلکہ طلقاء میں سے تھے یعنی اس اجہل نے  طلقاء کو صحابہ کرامؓ کی لسٹ سے بھی اڑا دیا ۔


مخالف جہالت دکھاتے ہوئے حضرت امیر معاویہ کو طلقاء میں ثابت کرتے ہوئے لکھتا ہے:

اور اپنی دلیل میں جو روایت لایا  وہ درج ذیل ہے :

 معاویہ کا شمار صحابہ اکرام میں نہیں ہوتا بلکہ طلقاء میں ہوتا ہے.

امام ابن عساکر رضي الله عنه اپنی اسنادِ جید کے ساتھ بحوالہ امام ابوداؤد الطیاسی رضي الله عنه بیان کرتے ہیں

وقال ابن عساكر بإسناد عن أبى داود الطياسى ثنا أيوب بن جابر عن أبى إسحاق ، عن لاشود بن يزيد قال : قلت لعائشة : إلا تعجبين لرجل من الطلقاء ينازع أصحاب محمد صلى الله عليه و آله وسلم في الخلافة فقالت عائشة : وما تعجب من ذلك هو سلطان الله يوتيه البر والفاجر ، وقد ملك فرعون أهل مصر أربعمائة سنة :

حضرت اسود بیان کرتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضي الله عنه سے کہا کیا آپ اس شخص (معاويه) پر تعجب نہیں کرتی جو طلقاء میں سے ہے اور خلافت کے معاملہ میں رسول اللہ کے اصحاب (امیر المومنین علی) سے جھگڑتا ہے۔ تو عائشہ رضي الله عنه نے فرمایا : نہیں تعجب والی بات نہیں، یہ اقتدار الہی ہے وہ نیک و بد کو بھی عطا کرتا ہے اس نے فرعون کو اہل مصر پر چار سو سال تک بادشاہ بنایا اور اسی طرح دیگر کفار کو بھی :

(البداية والنهاية (ت: التركي)

الجزء الحادی عشر ، ص/ 130-131

اس روایت میں امیر المومنین علی بن ابی طالب اور آپکے گروہ کو صحابہ کہہ کر پکارا گیا ہے جبکہ جناب معاویہ کو طلقاء کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے

مندرجہ بالا روایت کا تعلق اس زمانہ سے ہے جب معاویہ رسول اللہ کی احادیث (ہر صورت خلیفہ کی بیعت کی جائے) کو جھٹلا کر خلیفہ برحق امیر المومنین علی رضي الله عنہ سے جنگیں کرنے میں مشغول تھے

ان طلقاء کو صحابہ اکرام کے بعد کے طبقہ میں شمار کیا جاتا ہے


حضرت معاویہ کا شمار کیا طلقاء صحابہ میں ہوتا ہے ؟

الجواب ( اسد الطحاوی)

اس اجہل نے ایک روایت سے باطل مطلب اخذ کرتے ہوئے یہ نتیجہ نکالا کہ طلقاء اور ہیں اور صحابہ کرامؓ اور ہیں جبکہ یہ اسکی جہالت کی سب سے بڑی دلیل ہے اور دوسری بات یہ روایت بھی باطل ہے۔ لکھتا ہے کہ ”امام ابن عساکر نے سند جید سے نقل کیا امام ابو داود طیالسی سے”

  جبکہ سند شدید ضعیف اور واھی ہے جسکی علت درج ذیل ہیں :

جیسا کہ مذکورہ روایت کی سند امام ابو داود طیالیس سے یوں ہے :

وقال ابن عساكر بإسناد عن أبى داود الطياسى ثنا أيوب بن جابر عن أبى إسحاق ، عن لاشود بن يزيد(نوٹ سند میں الاشود تحریف ہے اصل نام الاسود بن یزید ہے )

اس سند میں مذکورہ ایوب بن جابر خود ضعیف راوی ہے جس پر درج ذیل ائمہ کی جروحات ہیں :

پہلا ضعف!

قال عَبد اللَّهِ بْن أَحْمَد بْن حنبل عَن أبيه  يشبه حديثه حديث أهل الصدق.

وَقَال عَباس الدُّورِيُّ  : قلت ليحيى: كيف حديثه؟ قال ضعيف وليس بشيءٍ

وَقَال معاوية بْن صَالِح، عَنْ يحيى: ليس بشيءٍ

وَقَال أحمد بْن عصام الأصبهاني  : كان علي ابن المديني يضع حديث أَيُّوب بْن جَابِر.

وَقَال النَّسَائي  : ضعيف.

وَقَال أَبُو زُرْعَة  : واهي الْحَدِيث ضعيف، وهُوَ أشبه من أخيه.

وَقَال أَبُو حاتم: ضعيف الْحَدِيث.

[تہذیب الکمال برقم: 609]


دوسرا ضعف!

نیز یہ امام ابو اسحاق سے قبل از اختلاط سننے والے رواتہ میں سے بھی نہیں ہے جیسا کہ امام شعبہ ، امام سفیان ثوری وغیرہم تھے

یعنی اسکا سماع ابو اسحاق سے قبل از اختلاط سننا ثابت نہیں


تیسرا ضعف!

ابو اسحاق چوتھے درجہ کے مدلس ہیں جو ضعفاء و مجہولین و متروکین سے تدلیس کرتے تھے اور مذکورہ روایت عن سے روایت کر رہے  ہیں

تو یہ روایت واھی اور ضعیف جدا ہے !!!


حضرت امیر معاویہؓ کا فتح مکہ سے پہلے اسلام قبول کرنے کے دلیل!

 بَابُ جَوَازِ تَقْصِيرِ الْمُعْتَمِرِ مِنْ شَعْرِهِ وَأَنَّهُ لَا يَجِبُ حَلْقُهُ ، وَأَنَّهُ يُسْتَحَبُّ كَوْنُ حَلْقِهِ أَوْ تَقْصِيرِهِ عِنْدَ الْمَرْوَةِ

باب: عمرہ کرنے والے کے لئے اپنے بالوں کے کٹوانے کا جواز، اور سر کامنڈانا واجب نہیں ہے، اور سر کےمنڈوانے اور کٹوانے کے استحباب کا بیان

حدثنا عمرو الناقد ، حدثنا سفيان بن عيينة ، عن هشام بن حجير ، عن طاوس ، قال: قال ابن عباس : قال لي معاوية: ” اعلمت اني قصرت من راس رسول الله صلى الله عليه وسلم عند المروة بمشقص "، فقلت له: ” لا اعلم هذا إلا حجة عليك ".

‏‏‏‏ طاؤس رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ذکر کیا، مجھ سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تمہیں خبر دے چکا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کے بال کترے ہیں مروہ کے نزدیک تیر کی پیکان سے سو میں نے ان کو جواب دیا کہ یہ تو تمہارے اوپر حجت ہے۔

[صحیح مسلم برقم: 3021، صحیح بخاری ، برقم: 1730، مسند احمد برقم: 16863 وسندہ حسن]


اور حضرت محمد ﷺ نے اپنی زندگی میں صرف چار عمرے کیے تھے جنکی تفصیل درج ذیل ہے :

حدثنا حسان بن حسان، حدثنا همام، عن قتادة، سالت انسا رضي الله عنه،” كم اعتمر النبي صلى الله عليه وسلم؟ قال: اربع عمرة الحديبية في ذي القعدة حيث صده المشركون، وعمرة من العام المقبل في ذي القعدة حيث صالحهم، وعمرة الجعرانة إذ قسم غنيمة اراه حنين، قلت: كم حج؟ قال: واحدة”.

ہم سے حسان بن حسان نے بیان کیا کہ ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے تھے؟ تو آپ نے فرمایا کہ چار، عمرہ حدیبیہ ذی قعدہ میں جہاں پر مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روک دیا تھا، پھر آئندہ سال ذی قعدہ ہی میں ایک عمرہ قضاء جس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین سے صلح کی تھی اور تیسرا عمرہ جعرانہ جس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غالباً حنین کی غنیمت تقسیم کی تھی، چوتھا حج کے ساتھ میں نے پوچھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کتنے کئے؟ فرمایا کہ ایک۔

[صحیح بخاری ، برقم: 1778، صحیح مسلم : 1253]

امام ترمذی نے بھی حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے :

حدثنا قتيبة، حدثنا داود بن عبد الرحمن العطار، عن عمرو بن دينار، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم ” اعتمر اربع عمر: عمرة الحديبية، وعمرة الثانية من قابل، وعمرة القضاء في ذي القعدة، وعمرة الثالثة من الجعرانة، والرابعة التي مع حجته ". قال: وفي الباب عن انس، وعبد الله بن عمرو، وابن عمر.

حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے: حدیبیہ کا عمرہ، دوسرا عمرہ اگلے سال یعنی ذی قعدہ میں قضاء کا عمرہ، تیسرا عمرہ جعرانہ ۱؎ کا، چوتھا عمرہ جو اپنے حج کے ساتھ کیا۔

[سنن ترمذی، برقم: 816،وسندہ صحیح]

  • پہلا عمرہ

یعنی نبی اکرمﷺ نے ایک عمرہ  ۶ھ میں کرنے کے لیے گئے ۔جس سال صلح حدیبیہ ہوا تو مشرکین نے اجازت نہ دی ۔ مکہ میں ہی جانور ضبح کریے۔

  • دوسرا عمرہ 

صلح حدیبیہ  کے سال عمرہ القضاء میں جو ۷ ھجری میں ادا فرمایا

  • تیسرا عمرہ

جعرانہ غزوہ حنین کے موقع پر

  • چوتھا  عمرہ

حج کے ساتھ 

جیسا کہ امام نووی شرح مسلم میں حضور اکرمﷺ کے عمروں کی تعداد اور عرصہ کا باب قائم کرتےہیں :

(باب بيان عدد عمر النبي صلى الله عليه وسلم وزمانهن)

اور پھر فرماتےہیں :

قوله (اعتمر النبي صلى الله عليه وسلم أربع عمر كلهن في ذي القعدة إلا التي مع حجته عمرة من الحديبية و زمن الحديبية في ذي القعدة وعمرة من العام المقبل في ذي القعدة وعمرة من الجعرانة حيث قسم غنائم حنين في ذي القعدة وعمرة مع حجته؂

قول کہ حضرت نبی اکرمﷺ نے چار عمرے فرمائے ہیں اور یہ سب عمرے زی عقدہ میں فرمائے بشمول جو عمرہ انہوں نے حج کے ساتھ ادا کیا ۔ جن میں حدیبیہ  کے سال میں ہی ایک ادا کیا عقدہ میں ، اور ایک عمرہ جعرنہ کا جو کہ حنین کے دنوں میں کیا ، اور ایک عمرہ حج کے ساتھ ادا کیا۔ 

پھر فرماتےہیں :

ء وإنما اعتمر النبي صلى الله عليه وسلم هذه العمرة في ذي القعدة لفضيلة هذا الشهر ولمخالفة الجاهلية في ذلك فإنهم كانوا يرونه من أفجر الفجور كما سبق ففعله صلى الله عليه وسلم مرات في هذه الأشهر ليكون أبلغ في بيان جوازه فيها وأبلغ في إبطال ما كانت الجاهلية عليه

علماء کرام کا یہ فرمان  کہ  نبی ﷺ نے یہ عمرے ذی القعدہ کی فضیلت اوردورجاھلیت کی مخالفت کے سبب اسی مہینہ میں ادا کیے  اس لیے کہ اہل جاہلیت کا یہ خیال تھا کہ ذی القعدہ ميں عمرہ کرنا کوئی بہت بڑے فجور کا عمل ہے جیسا کہ سابقہ بیان ہو چکا ہے ، تونبی ﷺ نے اسے متعدد بار  اس لیے ادا کیا تا کہ لوگوں کے لیے  واضح دلیل عیاں ہو جائے کہ اس مہینہ میں عمرہ کرنا جائزہے اور اسکے برعکس اہل جاہلیت کا موقف  باطل ہے  واللہ تعالی اعلم ۔

[المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج،ج۳، ص ۲۳۶]

تو ثابت ہوا کہ غزوہ حنین کے موقع پر تو حضرت امیر معاویہؓ کا شامل ہونا بالکل ثابت نہیں تو باقی ۷ ھ کا عمرہ یعنی صلح حدیبیہ کے سال عمرہ القضاء میں جو عمر ہ نبی اکرمﷺ نے ادا کیا اسی عمرے میں کے سال میں حضرت امیر معاویہؓ نبی اکرمﷺ کے مروہ کے مقام پر بال کاٹے تھے اور تب وہ مسلمان تھے البتہ انہوں نے اپنے قبولیت اسلام کا اعلان فتح مکہ کے دن کیا تھا۔ انکو طلقاء صحابہ میں شمار کرنا تحقیقا بالکل غلط ہے۔

یہی وجہ ہے کہ امام ذھبی  حضرت معاویہ کے قبول اسلام کے حوالے سے فرماتے ہیں :

معاوية بن أبي سفيان أسلم قبل أبيه في عمرة القضاء، وبقي يخاف من الخروج إلى النبي صلى الله عليه وسلم، من أبيه.

حضرت معاویہ بن ابی سفیان یہ اپنے والد حضرت ابو سفیان سے پہلے اسلام قبول کر چک تھے عمرہ قضاء کے موقع پر ۔ لیکن یہ حضور اکرمﷺ کی طرف شامل ہونے سے اپنے والد سے ڈرتے تھے

[تاریخ الاسلام ، برقم:۹۵]

 اسی طرح سیر اعلام میں انکے ظہور اسلام کو فتح مکہ کا موقع بیان کیا جیسا کہ فرماتےہیں:

قيل: إنه أسلم قبل أبيه وقت عمرة القضاء، وبقي يخاف من اللحاق بالنبي -صلى الله عليه وسلم – من أبيه، ولكن ما ظهر إسلامه إلا يوم الفتح

اور کہا گیا ہے کہ انہوں نے اسلام اپنے والد سے پہلے عمرہ قضاء کے موقع پر کر لیاتھا اور اپنے والد سے ڈرنے کے سبب نبی اکرمﷺ کی طرف نہ آئے   لیکن انکا ظہور اسلام(کہ تمام لوگ انکے اسلام پر مطلع ہونا) سوائے یوم فتح کے دن نہیں ہوا

[سیر اعلام النبلاء، برقم:۲۵]

اسی طرح امام ابن عبدالبر  حضرت  امیر معاویہ کے قبول اسلام کے بارے مکمل کلام یوں کیا ہے :

، كان هو وأبوه وأخوه من مسلمة الفتح. وقد روى عن معاوية أنه قال: أسلمت يوم القضية [1] ، ولقيت النبي صلى الله عليه وسلم مسلما.

 حضرت امیر معاویہؓ  ، انکے والد ، انکے بھائی فتح کے دن کے مسلمین میں سے ہیں اور حضرت امیر معاویہؓ سے روایت ہے کہ وہ یوم قضیہ (عمرہ) کے دن اسلام قبول کر گئے تھے اور جب یہ نبی اکرمﷺ سے (عمرہ قضاء کے موقع) پر ملے تو مسلمان تھے

[الاستيعاب في معرفة الأصحاب، برقم: 2435]

 یہی موقف امام ابن اثیر نے اسد الغابہ میں بیان کیا ہے اور دیگر مورخین و محدثین کی ایک جماعت نے بھی !


امیر معاویہ ؓ  کے طلقاء میں سے نہ ہونے پر امام ابن حجر عسقلانی کی تحقیق:

امام ابن حجرعسقلانی تقریب میں فرماتےہیں :

معاوية ابن أبي سفيان صخر ابن حرب ابن أمية الأموي أبو عبد الرحمن الخليفة صحابي أسلم قبل الفتح وكتب الوحي ومات

 حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ  یہ ابن حرب بن امیہ اموی ھے انکی کنیت ابو عبد الرحمٰن تھی یہ خلیفہ اور صحابی رسولﷺ تھے یہ فتح مکہ سے قبل اسلام قبول کر چکے تھے اور حضور اکرمﷺ کی وحی کے کاتب تھے

[تقریب التہذیب ، برقم: 6758]

 نیز صابہ میں تفصیل سے بیان کرتےہیں :

وأنه كان في عمرة القضاء مسلما، وهذا يعارضه ما ثبت في الصحيح، عن سعد بن أبي وقاص، أنه قال في العمرة في أشهر الحج: فعلناها، وهذا يومئذ كافر. ويحتمل إن ثبت الأول أن يكون سعد أطلق ذلك بحسب ما استصحب من حاله، ولم يطلع على أنه كان أسلم لإخفائه لإسلامه.

وقد أخرج أحمد، من طريق محمد بن علي بن الحسين، عن ابن عباس- أن معاوية قال: قصرت عن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عند المروة، وأصل الحديث في البخاري م۔ن طريق طاوس، عن ابن عباس، بلفظ قصرت بمشقص  ، ولم يذكر المروة، وذكر المروة يعين أنه كان معتمرا، لأنه كان في حجة الوداع حلق بمنى، كما ثبت في الصحيحين، عن أنس.

   نیز یہ عمرہ قضا کے موقع پر مسلمان تھے

اور بخاری میں جو حدیث (بظاہر ) اس موقف کے مخالف ہے کہ جو حضرت سعد بن ابی وقاص نے حج کے مہینوں میں عمرہ کے بارے ارشاد فرمایا ہاں ہم نے عمرہ کیا تھا اور حضرت معاویہ ؓ  اس وقت حالت کفر میں تھے۔ اگر پہلی حدیث صحیح مانی جائے تو یہ ہو سکتا ہے کہ حضرت سعد نے انکی گزشتہ حالت پر حکم لگایا دیا اس لیے کہ ابھی تک ان کو یہ معلوم نہیں ہوا تھا  یہ اسلام لا چکے ہیں ، کیونکہ انہوں نے خود اسلام لانے کو چھپائے رکھا تھا۔

 امام احمد نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے ۔حضرت معاویہؓ نے کہا میں نے مروہ پہاڑی کے پاس نبی اکرمﷺ کے بال مبارک کاٹے۔

اصل حدیث بخاری میں طاوس کے طریق سے ابن عباس سے مروی ہے ”فصرت بمشقص” کے الفاظ یعنی استرے سے بال مبارک کاٹے ۔ یہاں مروہ پہاڑی کا ذکر نہیں ہے ۔ لیکن مروہ پہاڑی کے ذکر سے (جو کہ مسند احمد کی روایت میں تصریح ہے ) یہ بات معلوم ہو گئی ہے کہ یہ واقعہ عمرے کا ہے اس لیے حجتہ الوداع ک موقع پر تو آپﷺ نے حلق کروایاتھا ، اور وہ بھی منیٰ میں جیسا کہ بخاری و مسلم میں حضرت انس بن مالکؓ سے روایت مروی ہے

(یعنی حضرت امیر معاویہؓ نے جب حضور اکرمﷺ کے بال کاٹے تو یہ عمرہ قضا کا موقف تھا)

[ الإصابة في تمييز الصحابة، ج۶، ص۱۲۰]

پس تحقیقا ثابت ہوا کہ حضرت سیدنا امیر معاویہؓ خلیفہ المسلمین ۷ھجری میں اسلام قبول کر چکے تھے اور انکا صحیح اسناد سے عمرہ قضا کے موقع پر نبی اکرمﷺ کے ساتھ ہونا اور انکے بال مبارک کو کاٹنے کا شرف حاصل کر چکے تھے۔ انکا طلقاء میں شمار نہیں ہو سکتا ۔

اور باقائدہ اپنے والد کے ساتھ فتح مکہ کے موقع پر اپنے اسلام کے اعلان کیا اور اس دن اسلام کے ظہور پر تمام لوگ مطلع ہوئے سوائے نبی اکرمﷺ اور چند صحابہ ؓ کو پہلے معلوم تھا۔

 اور نبی اکرمﷺ کا یہ اعلان مبارک فرمانا کہ جو فتح مکہ کے دن حضرت ابو سفیانؓ کے گھر پناہ لیگا وہ بھی امان میں ہے یہ بھی اس تحقیق کو فائدہ دیتا ہے کہ حضرت امیر معاویہؓ چونکہ پہلے مسلمان تھے اورنبی اکرمﷺ کو حضرت ابو سفیان ؓ  کو مقام و عزت سے بھی نواز دیا۔

تحقیق: اسد الطحاوی الحنفی البریلوی

1 thought on “امیر معاویہؓ طلقاء صحابہؓ میں سے تھے ؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے