حضرت امیر معاویہ پر بغاوت کے اطلاق میں اہلسنت کا موقف

حضرت معاویہ پر بغاوت کا اطلاق
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 5]

حضرت امیر معاویہ پر بغاوت کے اطلاق میں اہلسنت کا اختلاف اور عرفی بغاوت (غیر فاسق)کے اطلاق پر اتفاق اور عرفی بغاوت کا اطلاق بھی فقط صلح حسن کے بعد ناجائز۔

کیا حضرت معاویہ باغی تھے ؟ کچھ فیسبکی ائمہ اہلسنت سے یہ پیش کرتے ہیں کہ مولا علی کے مقابل سب نے حضرت امیر معاویہ اور انکے گروہ پر بغاوت کا اطلاق کیا ہے۔ لیکن یہ آدھی بات بتاتے ہیں لیکن یہ نہیں بتاتے کہ بغاوت کا اطلاق تو کیا لیکن کس قسم کی بغاوت ؟

باغی یعنی بغاوت اصطلاحی کا اطلاق ؟

یا

باغی یعنی عرفی بغاوت کا اطلاق؟

کیونکہ عرفی بغاوت میں نہ ہی فسق ہوتا ہے اور نہ ہی طعن بلکہ اس پر اجر ہوتا ہے۔

جبکہ اصطلاحی بغاوت پر فسق گناہ ہوتا ہے۔

اب ہم پورا موقف بیان کرتے ہیں اہلسنت کا :

اب ائمہ اہلسنت ابو المعین النسفی ماتریدی (المتوفیٰ ۵۰۸ھ) فرماتے ہین:

ثم اختلف متکلمو اھل السنہ فی تسمیة من خالف علیا باغیا ، فمنھم من امتنع عن ذالک فلا یجوز اطلاق اسم الباغی علی معاویه ، ویقول :لیس اذا من اسماء من اخطا فی اجتھادہ، و منھم من یطلق ذالک الاسم ویستدل بقوله تعالیٰ (وان طائفتان من المومنین اقتلوا) الایة وبقول النبی علیہ السلام لعمار : تقتلک الفئتہ الباغیة وبقول علی : اخواننا بغواعلینا ، غیرانھم یمتنعون عن تسمیتھم فساقا لما مر۔

امام نفسفی ماتریدی فرماتے ہیں :

متکلمین اہلسنت و جماعت کا ان حضرات کو باغی کہنے میں اختلاف ہے جنہوں نے حضرت علیؓ سے جنگ کی، ان میں سے بعض وہ ہیں جنہوں نے اس سے منع کیا ہے لہذا حضرت امیر معاویہؓ پر باغی کا اطلاق کرنا جائز نہیں ، وہ یہ کہتے ہیں باغی کا نام ان کا نہیں ہوتا جو اپنے اجتہاد میں خطاء کریں ، اور بعض وہ ہیں جو اس نام کا طلاق کرتے ہیں انکی دلیل یہ آیت ہے (ترجمہ: اگر دو مومن گروہ آپس میں قتال کریں) اور نبی اکرمﷺ کا حضرت عمار کو یہ فرمانا ”تم کو باغی گروہ قتل کریگا ” نیز حضرت علیؓ  کا انکے بارے فرمانا ” یہ ہمارے بھائی ہیں جنہوں نے ہمارے ساتھ بغاوت کی ” بھی ان پر فاسق کا اطلاق کرنے سے منع کرتے ہیں

[تبصرہ الدلہ ج۲، ص ۱۱۷۳]

معاویہ باغی اطلاق

حضرت معاویہ کے باغی ہونے یا نہ ہونے پر امام نسفی سے پہلے تو تصریح کی ہے:

کہ ائمہ تکلمین اہل سنت کا اس میں اختلاف ہے کہ امیر معاویہ پر اصطلاحی بغاوت کا اطلاق بالکل جائز نہیں ہے کیونکہ اجتہاد میں خطاء کرنا بغاوت (شرعی) نہیں ہوتا ہے۔

اور جن ائمہ اہلسنت نے بغاوت کا اطلاق کیا ہے انہوں نے عرفی یعنی لغوی بغاوت کا اطلاق کیا ہے کہ جس میں مجتہد کو خطاء کے ساتھ اجر ملتا ہے لیکن یہ ظالم و فاسق نہیں ہوتے جیسا کہ شرعی باغی ہوتے ہیں

جیسا کہ امام نووی سے مولا علی کو حق پر ہونے تصریحات تو پیش کی جاتی ہیں اورحضرت معاویہ کے باغی یعنی  بغاوت کا اطلاق بھی پیش کیا جاتا ہے لیکن کس قسم کی بغاوت کا اطلاق اہلسنت کرتے ہیں اسکی تفصیل امام نووی دیتے ہوئے لکھتے ہیں :

واعلم أن الدماء التي جرت بين الصحابة رضي الله عنهم ليست بداخلة في هذا الوعيد ومذهب أهل السنة والحق إحسان الظن بهم والإمساك عما شجر بينهم وتأويل قتالهم وأنهم مجتهدون متأولون لم يقصدوا معصية ولامحض الدنيا بل اعتقد كل فريق أنه المحق ومخالفه باغ فوجب عليه قتاله ليرجع إلى أمر الله وكان بعضهم مصيبا وبعضهم مخطئا معذورا في الخطأ لأنه لاجتهاد والمجتهد إذا أخطأ لا إثم عليه وكان علي رضي الله عنه هو المحق المصيب في تلك الحروب هذا مذهب أهل السنة

امام نووی فرماتے ہیں :

جان لو وہ جنگیں جو صحابہ کے درمیان ہوئیں وہ اس وعید (بغاوت شرعی) میں داخل نہیں ، اور اہلسنت و حق کا مذہب صحابہ کے ساتھ حسن ظن رکھنا ہے ۔ آن کے آپ کے معاملات میں خاموشی اختیار کرنا ہے ، اور ان کے قتال کی تاویل کرنا ہے ۔ اور یہ حضرات (سیدنا امیر معاویہ و مولا علی) مجتہدین تھے ، ااپنے معاملات میں انکی تاویلات تھیں ، انہوں نے نہ تو ممعصیت (گناہ) کا قصد کیا اور نہ ہی محض دنیا کا (دنیاوی لالچ سے پاک تھے)

بلکہ ان میں سے ہر ایک اپنے حق ہونے اور مخالف کے باغی ہونے کا اعتقاد رکھا جس وجہ سے اس پر قتال واجب تھا تاکہ فریق مخالف اللہ کے امر کی طرف لوٹ آئے ، ان میں بعض مصیب تھے اور بعض کطا کرنے والے لیکن خطا میں معذور تھے ۔ اس لیے یہ خطاء، اجتہاد کے سبب تھی اور مجتہد خطاء کرے تو اس پر گناہ نہٰں ہوتا

حضرت علی ان جنگوں میں حق پر تھے اور یہی اہلسنت کا مذہب ہے۔

[شرح النووی علی مسلم ۱۸ ، ص ۱۱]

یہی بات امام ملا علی قاری نے تصریحا فرمائی ہے جن سے فیسبکی مولا علی کے حق پر ہونے کی تصریحات اور انکے مخالف کو باغی ہونے پر عبارات نقل کرتے رہے ہیں۔

وہ فرماتے ہیں :

وأما معاوية ; فهو من العدول الفضلاء، والصحابة الأخيار، والحروب التي جرت بينهم كانت لكل طائفة شبهة اعتقدت تصويب أنفسها بسببها، وكلهم متأولون في حروبها، ولم يخرج بذلك أحد منهم من العدالة ; لأنهم مجتهدون اختلفوا في مسائل، كما اختلف المجتهدون بعدهم في مسائل، ولا يلزم من ذلك نقص أحد منهم.

امام ملا علی فرماتے ہیں :

حضرت معاویہ عادل فاضل اور بہترین صحابہ کرام میں سے تھے ، وہ جنگیں جو ان کے درمیان ہوئیں ، ان میں سے ہر ایک گروہ کو شبہ تھا جس کے سبب وہ اپنے آپ کو صواب پرہونے کا اعتقاد رکھتا تھا ، اور یہ تمام اپنی جنگوں میں تاویل (شرعی اجتہاد) کرنے والے تھے ، اس سبب ان میں سے کوئی بھی عدالت سے خارج نہیں ہوا (یعنی کسی پر بھی شرعی بغاوت کا اطلاق نہیں ہوگا) اس لیے کہ یہ تمام صحابہ مجتہد تھے اور انہوں نے مسائل میں اختلاف کیا جیسا کہ انکے بعد آنے والے مجتہدین نے مسائل میں اختلاف کیا ، اور ان میں سے کسی کے حق میں بھی اس سبب تنقیص کرنا لازم نہیں آتا

[مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ، ج ۹ ، ص ۳۸۷۵]

یہ ہے جمہور اہلسنت کا منہج کہ عرفی بغاوت کا اطلاق امیر معاویہ اور انکے گروہ پر کیا گیا اور انکی بغاوت کو بغاوت شرعی قرا رکسی بھی ایک اہلسنت کے جید مجتہد محدث مفسر نے قرار نہیں دیا بلکہ عرفی و لغوی بغاوت کا اطلاق کیا کہ جس کے اجتہاد خطا پر بھی اسکو اجر ملتا ہے اور اس امر پر اہلسنت کا اجماع ہے۔

تو جو اہلسنت کے نام استعمال کرکے فقط باغی باغی والی پھکی دیکر دھوکہ دیتے ہیں کم سے کم نام استعمال کر رہے ہو ائمہ کا تو پھر پورا موقف بھی تو بیان کرو۔

یہ ثابت ہو گیا کہ یہ عرفی بغاوت کا اطلاق کیا گیا مولا علی کے مقابل ۔۔۔۔

یہ نکتہ بڑا اہم ہے کہ سیدنا امیر معاویہ پر عرفی بغاوت کا اطلاق صرف اور صرف مولا علی کے مقابلے میں یعنی حضرت علی کے زندہ ہونے تک  کیا گیا یعنی جب حضرت حسن و حسین نے امیر معاویہ کی بیعت کی تو یہ عرفی بغاوت کا اطلاق بھی ختم ہو گیا کیونکہ اب انکی امارت صلح کی بنیاد پر قائم ہوئی اور امام حسن و حسین انکے ہاتھ پر بیعت کر کے ان پر عرفی بغاوت کا اطلاق بھی ختم کر دیا

تو آج کے دور میں حضرت امیر معاویہ پر بغاوت کا اطلاق کرنا ناجائز اور باطل ہے کیونکہ یہ مخصوص وقت تک تھی اور صلح امام حسن کے بعد ختم ہو گئی اب کوئی باغی مانے گا تو وہ امام حسن و حسین کو بھی اس لسٹ میں شامل کر بیٹھے گا (معاذاللہ )

تحقیق: اسد الطحاوی

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے