کیا حدیث میں لفظ "عشق نہیں آیا؟” ایک سچے عاشق کے قتل پر حضورﷺ کا افسوس!

لفظ عشق حدیث میں
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 2 Average: 3.5]

کیا حدیث میں لفظ "عشق نہیں آیا؟”

تحریر : اسد الطحاوی الحنفی البریلوی

 

امام طبرانی ایک روایت بیان کرتے ہیں اپنی سند سے :

حدثنا أحمد بن شعيب أبو عبد الرحمن النسائي، ثنا محمد بن علي بن حرب المروزي ثنا علي بن الحسين بن واقد، عن أبيه، عن يزيد النحوي، عن عكرمة، عن ابن عباس، أن النبي صلى الله عليه وسلم بعث سرية فغنموا وفيهم رجل، فقال لهم: إني لست منهم عشقت امرأة فلحقتها فدعوني أنظر إليها، ثم اصنعوا ما بدا لكم فإذا امرأة طويلة أدماء فقال لها: اسلمي حبيش قبل نفاد العيش أرأيت لو تبعتكم فلحقتكم بحلية أو أدركتكم بالخوانق أما كان حق أن ينول عاشق تكلف إدلاج السرى والودائق قالت: نعم، فديتك قال: فقدموه فضربوا عنقه، فجاءت المرأة فوقعت عليه فشهقت شهقة، أو شهقتين، ثم ماتت فلما قدموا على رسول الله صلى الله عليه وسلم أخبروه الخبر

فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:أما كان فيكم رجل رحيم

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا، انہوں نے مال غنیمت حاصل کیا، ان میں ایک آدمی ایسا بھی تھا، جس نے لشکر والوں سے کہا:

” میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں، مجھے تو فلاں عورت سے عشق ہے، سو میں اس سے آ ملا۔ مجھے جانے دو تاکہ اسے ایک نظر دیکھ سکوں، پھر میرے ساتھ جو چاہنا کر گزرنا”۔

پھر انہوں نے دیکھا کہ ایک دراز قد کی گندمی عورت ہے۔ ا‏‏‏‏س نے ا‏‏‏‏سے کہا: اے حبیش! زندگی ختم ہونے سے پہلے مان جا۔ کیا خیال ہے تیرا اگر میں تمہارا پیچھا کروں اور تمہیں حلیہ چشمے پر یا پہاڑوں کی تنگ گھاٹیوں میں جا ملوں، کیا عاشق کا یہ حق نہیں ہے کہ اس کو رات بھر اور گرمی کی شدت میں چلنے کا انعام دیا جائے؟

اس عورت نے کہا: میں نے اپنا آپ تجھ پہ فدا کر دیا ہے۔

انہوں نے ا‏‏‏‏سے آگے کیا اور ا‏‏‏‏س کی گردن کاٹ دی۔ پھر وہ عورت آئی، ا‏‏‏‏س پر کھڑی ہوئی اور زور سے چیخ ماری اور پھر وہ مر گئی۔

جب وہ لشکر رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ کو اس کے متعلق خبر دی۔

آپ نے فرمایا: ”کیا تم میں کوئی بھی رحم دل آدمی نہ تھا۔

[المعجم الكبير؂: 12037 وسند حسن]

رجال کا مختصر تعارف!

1۔پہلے راوی :امام نسائی صاحب سنن متقن امام ہیں

2۔دوسرے راوی : محمد بن علي بن حرب مروزي

امام نسائی انکی توثیق کرتے ہیں

ثقة

[تسمية مشايخ النسائي برقم:20]

3۔تیسرے راوی: علي بن الحسين بن واقد أبو الحسن المروزي

امام زھبی انکی توثیق کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

الإمام، المحدث، الصدوق

[سیر اعلام النبلاء برقم:50]

4۔چوتھے راوی : الحسین بن واقد

امام ابن معین انکے بارے کہتے ہیں :

وسألته عن الحسين بن واقد فقال ثقة

[تاريخ ابن معين برقم۲۹۰: (رواية عثمان الدارمي)]

 سمعت يحيى يقول الحسين بن واقد ثقة

[تاريخ ابن معين برقم:۴۷۵۰ (رواية الدوري)]

5۔پانچوے راوی: يزيد بن أبي سعيد القرشي، النحوي، أبو الحسن المروزي

امام ذھبی انکی توثیق نقل کرتے ہیں :

وقال ابن معين، وأبو زرعة: ثقة

وقال ابن حبان: كان متقنا

[تاریخ الاسلام برقم:321]

6۔چھٹے راوی : امام عکرمہ ثقہ ہیں اور حضرت ابن عباس کے مشہور تلامذہ میں سے ہیں

اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس حدیث کی سند حسن ہے

اور غیر مقلدین کے محدث البانی صاحب نے بھی مذکورہ روایت کو اپنی سلسلہ الصحیحیہ برقم: ۲۴۳۷ پر لائے ہیں

تو اس روایت سے معلوم ہوا کہ سچے عاشق کو اسکے محبوب کے سامنے قتل کرنا رحم دلی کے برعکس ہے اور اسی فعل پر نبی اکرمﷺ نے صحابہ سے یہ گلہ کیا کہ تم میں سے کوئی بھی رحم دل نہ تھا جو اسکی بے بسی پر رحم کرتا ۔

اور اسکے علاوہ جو مشہور روایت حضرت ابن عباس سے پیش کی جاتی ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا جس نے کسی سے عشق کیا اور پاک دامن فوت ہوا تو وہ شہید ہے۔

اس روایت کی تصحیح و تضعیف پر محدثین کا اختلاف ہے ایک تعداد اسکی تصحیح و تحسین کی طرف ہے جبکہ دوسری طرف اسکی تضعیف ہے عمومی متقدمین سے،

لیکن امام سخاوی مذکورہ روایت کو بطور شواہد بیان کر کے بھی تقویت دی جسکو ہم اوپر بیان کر آئے ہیں۔

نیز غیر مقلدین کے مجتہد ابن تیمیہ صاحب کے نزدیک ابن عباس سے مروی روایت : جس نے کسی سے عشق کیا اور پاک دامن فوت ہوا تو وہ شہید ہے اس حدیث کی صیحت پر تو اشکال وارد کیا ہے ابن تیمیہ صاحب نے لیکن اس حدیث کے متن کو قرآن و حدیث کے موافق ہی قرار دیا ہے

جیسا کہ وہ لکھتے ہیں :

عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوعًا {مَنْ عَشِقَ فَعَفَّ وَكَتَمَ وَصَبَرَ ثُمَّ مَاتَ فَهُوَ شَهِيدٌ} وَأَبُو يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ نَظَرٌ؛

لَكِنَّ الْمَعْنَى الَّذِي ذُكِرَ فِيهِ دَلَّ عَلَيْهِ الْكِتَابُ وَالسُّنَّةُ فَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَهُ بِالتَّقْوَى وَالصَّبْرِ فَمِنْ التَّقْوَى ۔۔۔۔۔الخ

مجاہد سے ابن عباس سے مرفوع روایت مروی ہے کہ جس نے عشق میں صبر کیا اور فوت ہوا تو وہ شہید ہے ۔

ابویحییٰ کی اس حدیث میں نظر ہے لیکن اس حدیث کا معنی جو اس میں مذکور ہے یہ دلالت کرتے ہیں اس پرقرآن و حدیث ۔

کہ اللہ کے امر پر صبر و تلقین کا حکم ہے ۔۔۔۔ الخ

[مجموع الفتاوى، ابن تمیہ ج،14، ص 208]

ابن تیمیہ شرح حدیث عشق

معلوم ہو غیر مقلدین میں جو آج کل پلاسٹک کے مواحد بنے پھرتے ہیں جنکو لفظ عشق سے چڑ ہے جنکا دعویٰ ہے کہ حدیث میں یہ لفظ آیا ہی نہیں

اور نہ ہی صحابہ کرام سے یہ لفظ مروی ہے

انکو ابن تیمیہ کی بات پر غور کرنا چاہیے جنکے نزدیک یہ حدیث قرآن و حدیث کی سنت سے معنوی طور پر صحیح ہے اگرچہ ضعف ہے

 

من کنت مولاہ حدیث کی تحقیق کے لیے اس مقالہ کا مطاعلہ کریں:

تحقیق: دعاگو اسد الطحاوی

 

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے