امام ابو حنیفہ فارسی تھے
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 2 Average: 5]

امام  ابو حنیفہ کا تعارف اور انکی جگہ پیدائش:

امام ابو حنیفہ کا  تعارف کے حوالے  سے تمام  مورخین و محدثین کا  اتفاق ہے۔ کہ امام ابو حنیفہؓ  ۸۰ھ میں پیدا ہوئے ۔ اور آپکی وفات ۱۵۰ھ میں کوفہ میں ہوئی۔ علم و فضل سے ہمیشہ آپ منسلک رہے ۔ اور اسکے ساتھ اپنا کپڑے کی تجارت کا کاروبار بھی جاری رکھا۔ جسکی وجہ سے آپ مالی طور پر مضبوط تھے ۔ اور کسی کی محتاجی نہ تھی۔

کیا امام ابو حنیفہ اہل فارس کی بجائے قابل سے تھے ؟

بہت سے لوگ یہ اعتراض کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ قابل سے تھے یعنی افغانستان سے تھے اہل فارس میں سے نہ تھے۔

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انکے دور میں بغداد کی سرحد ایران کے صابہ تہران کے علاقے انبار تک پھیلی ہوئی تھی اور یہ حصہ ایران کا نہیں کہلاتا تھا بلکہ عراق کا حصہ شمار ہوتا تھا ۔ اور امام ابو حنیفہ صوبہ تہران کے علاقہ نسا سے تھے اور انکے والد انبار علاقے کے تھے۔اس اعتبار سے یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ امام ابو حنیفہ اہل فارس میں سے تھے۔


امام ابو حنیفہ کا تعارف کرواتے ہوئے امام خطیب اپنی تاریخ میں نقل کرتے ہیں:

أخبرنا الخلال، أخبرنا علي بن محمد بن كاس النخعي حدثهم قال: حدثنا أبو بكر المروزي، حدثنا النضر بن محمد، حدثنا يحيى بن النضر القرشي قال: كان والد أبي حنيفة من نسا.

أَخْبَرَنَا الخلال، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَليّ بن عَمْرو الحريري، أن علي بن مُحَمَّد بن كاس النخعي، حدثهم قال حَدَّثَنَا أَبُو جعفر أَحْمَد بن إسحاق بن البهلول الْقَاضِي، قال: سمعت أبي، يقول: عن جدي، قال: ثابت والد أبي حنيفة من أهل الأنبار

امام خطیب نے تاریخ بغداد میں  نقل کیا امام یحییٰ بن النصر کہتے ہیں امام ابی حنیفہ نسا(صوبہ تہران اہل فارس) میں سے تھے۔

 اور دوسری صحیح سند کے ساتھ  روایت بیان کرتے ہیں:  ابن کاس النخعی سے وہ کہتے ہیں مجھے بیان کیا ابو جعفر احمد بن اسحاق بن بحلول نے اور وہ کہتے ہیں میرے والد محترم نے مجھے بیان کیا کہ امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت کے والد   اہل انبار میں سے تھے۔

اور یہ الانبیار علاقہ فارس میں موجود ہے۔ جسکی وجہ سے امام ابو حنیفہ بھی اہل فارس میں سے تھے۔

[تاریخ بغداد جلد 15 ص 447]

امام ابو حنیفہ فارسی النسل تھے


سند کی تحقیق سند کا 

۱۔پہلا راوی: امام الحسن بن محمد بن الحسن بن علی ابو محمد الخلال ہیں اور یہ ثقہ ہیں امام خطیب کے استاذ ہیں ثقہ ہیں  اما م خطیب انکے بارے فرماتے ہیں :

 الْحَسَن بن مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَن بن عَلِيّ أَبُو مُحَمَّد الخلال وهو الْحَسَن بن أَبِي طالب

كتبنا عنه، وكان ثقة، لَهُ معرفة وتنبه، وَخَرَّجَ المسند عَلَى الصحيحين، وجمع أبوابا وتراجم كثيرة.

[تاریخ بغداد برقم: 3950]

۲۔سند کا دوسرا راوی :علی بن عمر بن سہل ابو الحسن الحریری ہیں  یہ بھی ثقہ ہیں امام خطیب نے انکا ترجمہ بھی بیان کیا ہے

أَكان علي بْن عَمْرو الحريري جميل الأمر، ثقة مستورا، حسن المذهب.

[تاریخ بغداد برقم: 6337]

۳۔سند کے تیسرے راوی :علی بن محمد بن الحسن المعروف ابن کاس النخعی القاضی ہیں یہ بھی ثقہ فاضل اور عارف بالفقہ امام ہیں اور امام ابی حنیفہ کی فقہ پر قاضی تھے اور قرآن کے قاری تھے انکے بارے امام خطیب نے یوں بیان کیا ہے ۔

علي بْن مُحَمَّد بْن الحسن بْن مُحَمَّد بْن عُمَر بْن سعد بْن مالك بْن لحي بْن عَمْرو بْن يَحْيَى بْن الحارث أَبُو القاسم النخعي القاضي المعروف بابن كاس

وكان ثقة فاضلا عارفا بالفقه على مذهب أَبِي حنيفة، يقرئ القرآن.

[تاریخ بغداد برقم: 6422]

۴۔سند کے چوتھے  :راوی امام ابن بھلول یعنی امام ابو جعفر احمد بن اسحاق التنوخی ہیں اور یہ بھی ثقہ فاضل محدث الادیب ہیں امام ذھبیؒ نے سیر اعلام میں انکی توثیق و مداح یوں بیان کی ہے ۔

ابن البهلول أبو جعفر أحمد بن إسحاق التنوخي *

الإمام، العلامة، المتفنن، القاضي الكبير، أبو جعفر أحمد بن إسحاق بن بهلول بن حسان التنوخي، الأنباري، الفقيه، الحنفي.

وكان من رجال الكمال، إماما، ثقة، عظيم الخطر، واسع الأدب، تام المروءة، بارعا في العربية.

[سیر اعلام النبلاء برقم: 281]

۵۔سند کے پانچویں:

راوی امام اسحاق بن بھلول کے والد امام بھلول بن حسان ہیں امام عبدالقادر ، محییٰ الدین الجواہر لمضیتہ فی طبقات الحنفیہ میں انکے مطلق فرماتے ہیں کہ انکے بیٹے ثقہ امام اسحاق بن بھلول وغیر علماء میں سے  تھے انکے بیٹے اسحاق بن بھلول نے ان سے فقہ سیکھی اور انہوں نے بغداد بصرہ کوفہ مکہ اور مدینہ میں سمع کیا امام شعبہ ،  حماد ، امام مالک، و سفیان وغیرہ سے امام خطیب کہتے ہیں میں القاضعی ابو القاسم سے سنا کہ البھلول بن حسان نے روایات، لغت ، شعر ، علوم عرب اور طلب حدیث ، فقہ اور تفیسر اور سیرت کے لیے علوم حاصل کیے اور یہ الانبار میں ہی فوت ہوئے ۔

 بهْلُول بن حسان بن سِنَان أَبُو مُحَمَّد

تقدم ابْنه إِسْحَاق بن بهْلُول وَابْن ابْنه أَحْمد بن إِسْحَاق بن بهْلُول من بَيت عُلَمَاء روى عَنهُ ابْنه إِسْحَاق وتفقه عَلَيْهِ وَهَذَا جد بهْلُول الْمَذْكُور قبله سمع بِبَغْدَاد وَالْبَصْرَة والكوفة وَمَكَّة وَالْمَدينَة وَحدث عَن شُعْبَة وَحَمَّاد وَمَالك وسُفْيَان قَالَ الْخَطِيب سَمِعت القَاضِي أَبَا الْقَاسِم عَليّ بن المحسن التنوخي يَقُول هُوَ البهلول بن حسان بن سِنَان بن أوفى بن عَوْف بن ابْن أوفى بن خُزَيْمَة بن أَسد بن مَالك أحد مُلُوك تنوخ قَالَ ابْن ابْنه بهْلُول ابْن إِسْحَاق كَانَ جدي البهلول بن حسان قد طلب الْأَخْبَار واللغة وَالشعر وَأَيَّام النَّاس وعلوم الْعَرَب ثمَّ طلب الحَدِيث وَالْفِقْه وَالتَّفْسِير وَالسير وَأكْثر من ذَلِك ثمَّ تزهد إِلَى أَن مَاتَ بالأنبار سنة أَربع وَمِائَتَيْنِ

[الكتاب: الجواهر المضية في طبقات الحنفية برقم: 385

المؤلف: عبد القادر بن محمد بن نصر الله القرشي، أبو محمد، محيي الدين الحنفي (المتوفى: 775هـ)]

نیز امام ذھبی تاریخ الاسلام میں انکا ترجمہ یوں بیان کرتے ہیں کہ وہ ذاھد و اخباری (یعنی تاریخ کے عا لم)ادیب اور لغت کے ماہر  تھے۔

بُهْلُولُ بْن حسّان بْن سِنان.

أبو الهَيْثَم التَّنُّوريّ الأنباريّ.عَنْ: سَعِيد بْن أَبِي عَرُوبَة، وابن أَبِي ذئب، وشُعْبَة، وشَيْبان، ووَرْقاء، ومالك، وطائفة.

وعنه: ابنه إِسْحَاق بْن بُهْلُولٍ الحافظ.وقد كَانَ أديبًا لُغَوّيًّا إخباريًّا زاهادًا.

[تاریخ الاسلام، برقم: 62]


بہلول بن اسحاق

پس تحقیقا ثابت ہوا کہ امام اعظم ابو حنیفہؓ اہل فارس میں سے تھے اور انکے والد اہل انبار میں سے تھے جو کہ نسا کا علاقہ ہے موجود ایران کا صوبہ تہران میں واقع ہے۔

درج ذیل تحقیق سے معلوم ہوا امام ابو حنیفہ اہل فارس  میں سے تھے صوبہ نسا  علاقہ الانبار  یعنی اہل فارس میں سے تھے۔

کیا فقہ اکبر امام ابو حنیفہؓ کی کتاب ہے؟ اس مضمون کے مطالعہ کے لیے یہاں کلک کریں!
تحقیق : دعاگو اسد الطحاوی الحنفی البریلوی

1 thought on “امام ابو حنیفہ کا تعارف: کیا ابو حنیفہ اہل فارس تھے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے