جنگ صفین میں حضرت امیر معاویہؓ اور دیگر صحابہ کی دلیل

جنگ صفین
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 5]

جنگ صفین میں حضرت امیر معاویہؓ اور دیگر صحابہ کی دلیل حضور اکرمﷺ کا وہ فرمان تھا کہ حضرت عثمان اور انکے ساتھی حق پر ہونگے!

اسکی دلیل کی بنیاد پر حضرت امیر معاویہؓ جنگ صفین میں آئے تھے!!

جیسا کہ مسند احمد میں ہے:
حدثنا عبد الرحمن بن مهدي ، حدثنا معاوية ، عن سليم بن عامر ، عن جبير بن نفير ، قال: كنا معسكرين مع معاوية بعد قتل عثمان رضي الله عنه، فقام كعب بن مرة البهزي ، فقال: لولا شيء سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم ما قمت هذا المقام، فلما سمع بذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم اجلس الناس، فقال: بينما نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ مر عثمان بن عفان رضي الله تعالى عنه مرجلا، قال: فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” لتخرجن فتنة من تحت قدمي او من بين رجلي، هذا يومئذ ومن اتبعه على الهدى” . قال: فقام ابن حوالة الازدي من عند المنبر، فقال: إنك لصاحب هذا؟ قال: نعم. قال: والله إني لحاضر ذلك المجلس، ولو علمت ان لي في الجيش مصدقا، كنت اول من تكلم به.
جبیر بن نفیر کہتے ہیں کہ ہم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ خیمہ زن تھے، سیدنا کعب بن مرہ بہزی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات نہ سنی ہوتی تو میں اس مقام پر کھڑ ا نہ ہوتا۔ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سنا تو لوگوں کو بٹھا دیا، انہوں نے کہا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا، انہوں نے اپنے بالوں کو سنوارا اور چہرے پر کپڑا لپیٹا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏‏‏اس (‏‏‏‏عثمان) کے قدموں کے نیچے سے فتنہ نکلے گا، اس وقت یہ (‏‏‏‏عثمان) اور اس کے پیروکار ہدایت پر ہوں گے۔ منبر کے پاس سے ابن حوالہ ازدی کھڑا ہوا اور مجھے کہا: (‏‏‏‏کعب!) تو بھی اسی کا ساتھی ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ اللہ کی قسم! میں اس مجلس میں حاضر تھا، اگر مجھے یہ یقین ہو جائے کہ اس لشکر میں میری تصدیق کرنے والے موجود ہیں تو اس کے بارے میں سب سے پہلے میں کلام کروں گا۔
[مسنداحمد برقم:18067،وسندہ جید]
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الوهاب الثقفي، حدثنا ايوب، عن ابي قلابة، عن ابي الاشعث الصنعاني، ان خطباء قامت بالشام وفيهم رجال من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقام آخرهم رجل يقال له: مرة بن كعب، فقال: لولا حديث سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم ما قمت، وذكر الفتن فقربها، فمر رجل مقنع في ثوب فقال: ” هذا يومئذ على الهدى "، فقمت إليه , فإذا هو عثمان بن عفان، قال: فاقبلت عليه بوجهه , فقلت: هذا، قال: نعم. قال ابو عيسى: هذا حسن صحيح، وفي الباب عن ابن عمر، وعبد الله بن حوالة، وكعب بن عجرة
ابواشعث صنعانی سے روایت ہے کہ مقررین ملک شام میں تقریر کے لیے کھڑے ہوئے، ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے بھی کچھ لوگ تھے، پھر سب سے آخر میں ایک شخص کھڑا ہوا جسے مرہ بن کعب رضی الله عنہ کہا جاتا تھا، اس نے کہا: اگر میں نے ایک حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنی ہوتی تو میں کھڑا نہ ہوتا، پھر انہوں نے فتنوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ اس کا ظہور قریب ہے، پھر ایک شخص منہ پر کپڑا ڈالے ہوئے گزرا تو مرہ نے کہا: یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نقل کیا: ”یہ اس دن ہدایت پر ہو گا“،
تو میں اسے دیکھنے کے لیے اس کی طرف اٹھا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ عثمان بن عفان رضی الله عنہ ہیں، پھر میں نے ان کا منہ مرہ کی طرف کر کے کہا: وہ یہی ہیں، انہوں نے کہا: ہاں وہ یہی ہیں۔
[سنن الترمذی برقم: 3704، وسندہ صحیح]
[ المستدرک التعليق – من تلخيص الذهبي 4552 – على شرط البخاري ومسلم]
اور امام آجری نے بھی انہی الفاظ سے حدیث نقل کی ہے :
«هذا وأصحابه على الحق» فأتبعته فإذا هو عثمان رضي الله عنه
حضور اکرمﷺ نے فرمایا یہ اور اسکے ساتھی حق پر ہونگے ۔ اور میں نے جب دیکھا تو وہ شخص حضرت عثمانؓ تھے
[الشریعہ للآجری برقم:1418، الاسناد صحیح]

کیا وجہ ہے کہ اہلسنت کو مخصوص روایات رٹا دی گئیں اور بقیہ کا اتہ پتہ ہی نہیں؟ یہ وہ دلیل تھی جس پر جنگ کرکے حضرت امیر معاویہ سے خطائے اجتہادی ہوئی۔

اور ایسی اجتہادی خطاء حصرت عمار بن یاسر سے بھی ہوئی تھی حضرت عثمان کے تعلق سے۔
کیونکہ حضرت عمار حصرت عثمان کی خلافت کو نہ ہی تسلیم کرنے والوں میں سے تھے بلکہ انکی ذات پر سب کرتے تھے
جیسا کہ روایات میں آتا ہے
أخبرنا عفان بن مسلم قال: أخبرنا حماد بن سلمة قال: أخبرنا أبو حفص وكلثوم بن جبر عن أبي غادية قال: سمعت عمار بن ياسر يقع في عثمان يشتمه بالمدينة
ابن سعد کہتے ہیں:: مجھے عفان بن مسلم نے خبر دی انہوں نے کہا ہمیں حماد بن سلمہ نے خبر دی اور انہوں نے کہا کہ ہمیں ابو حفص اور کثوم بن جبر نے خبر دی اور انہوں نے ابو غادیہ سے جس نے کہا کہ میں نے عمار بن یاسر کو عثمان کو برا بھلا اور گالیاں دیتے مدینہ میں سنا۔
[طبقات ابن سعد]
نیز اس سے اگلی سند میں تصریح موجود ہے حضرت ابو غادیہ کہتے ہیں
فقال ابو غادیة:
نَعُدّ عمار بن ياسر فينا حَناناً، فبينا أنا في مسجد قباء إذ هو يقول: «ألا إنّ نعثلاً هذالعثمان،
حضرت ابو غادیہ کہتے ہیں ہم حضرت عمار بن یاسر کو بہترین سمجھتے تھے خود میں۔ اور پھر میں نے مسجد قباء میں (حضرت عمار) کو سنا وہ حضرت عثمان کو نعثل یعنی یہودی کہہ رہے تھے
[طبقات ابن سعد]

یہی وجہ ہے کہ اہل شام بنو امیہ والوں کے بارے ملتا ہے کہ وہ حضرت علی پر شتم کرتے تھے اگر وہ ثابت ہے بی تو وہ اس عمل کا رد عمل تھا جو حضرت عمار نے حضرت عثمان خلیفہ وقت کو معاذاللہ یہودی قرار دیکر شروع کیا تھا!

یہی وجہ ہے کہ خلیفہ سوم کا نا حق شہید ہونے کے بعد بھی حضرت عمار انکے قصاص لینے کے لیے راضی نہ تھے۔
امام بخاری علیہ رحمہ روایت بیان کرتے ہیں:
حدثني موسى ثنا حماد عن محمد بن عمر عن أبيه عن جده قال كنا بعد عثمان فقال أبو جهم من بايعنا فإنا نقص من الدماء فقال عمار أما من دم عثمان فلا فقال يا بن سمية أتقص من جلدات ولا تقص من دم عثمان
حضرت عقلمہ بن وقاص کہتے ہیں میں (شہادت) عثمان کے بعد اکٹھے ہوئے تو حضرت ابو جہمؓ نے فرمایا کہ ہم اس بات پر بیعت کرینگے کہ خون(شہادت) کا بدلہ لینگے تو حضرت عمار بن یاسر بولے اگر تمہاری مراد (حضرت) عثمان کی شہادت ہے تو اسکا بدلہ ہم نہیں لینگے۔
تو اس پر صحابی رسول حضرت ابو جہم نے فرمایا”اے ابن سمیہ! تم کو (خود پر لگے) کوڑوں کا بدلہ تو چاہیے لیکن حضرت عثمان کی شہادت کا قصاص نہیں چاہیے۔
[تاریخ الصغیر للبخاری برقم:333 وسندہ حسن]
جبکہ حضرت عثمان کے قصاص لینے پر امت محمدی کا اتفاق تھا بشمول حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے بھی فقط اختلاف قصاص لینے کے طریقہ کار پر تھا کہ پہلے خلافت چنی جائے یا قصاص ۔

لیکن حضرت عمار تو سرے سے حضرت عثمان کے قصاص لینے کے حق میں ہی نہیں تھے۔اب کیا اوپر مذکورہ روایات کے سبب حضرت عمار کا درجہ صحابیت ختم ہو جائے گا؟

بالکل نہیں بلکہ یہ انکی اجتہادی خطاء تھی جیسا کہ حضرت امیر معاویہ کی اجتہادی خطاء تھی۔ دونوں کے اپنے اپنے دلائل تھے۔
اگرچہ راجح و محقق اجتہاد صواب حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کا ہی تھا!

کہ پہلے خلافت کا اعلان ہوگا

پھر قصاص عثمان اصول شریعت پر ہوگاچ

اور جو خلیفہ کی بات نہیں مانتا اس سے اس وقت تک جنگ ہوگی جب تک وہ بغاوت سے رجوع نہ کر لے۔

جو لگڑ بگڑ بکتے ہیں کہ جی حضرت معاویہ انہوں نےکس بنیاد پر اجتہاد کیا؟ جو خطائے اجتہادی ہوئی یہ تھے وہ دلائل۔۔۔
رافضیت مجرا کر رہی ہے اہلسنت کے سٹیجیوں پر اور ہمارے ٹنی اس بات پر لگے ہوئے ہیں کہ فلاں بابا ہوا میں کیسے اڑتا تھا اور فلاں بابا کی اتنے لاکھ کرامات ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے