اے علی جو تجھ سے جدا ہوا وہ مجھ سے جدا ہوا حدیث کی اسنادی تحقیق

علی سے جدا نبی سے جدا
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 5]

اے علی جو تجھ سے جدا ہوا وہ مجھ سے جدا ہوا   حدیث کی اسنادی تحقیق

”اے علی جو تجھ سے جدا ہوا وہ مجھ سے جدا ہوا     ” کچھ لوگ ایسی  روایات  جو نبی اکرمﷺ سے ثابت نہیں فقط شیعہ رواتہ کی تیار کردہ کہانیاں ہیں اس سے عام لوگوں پیش کرکے انکو تفضیلیت یا رافضیت کی طرف مائل کرتے ہیں ۔ اس  پلیٹ فورم پر آپکو ایسی تمام روایات حقیقت بیان کی جائے گی مع ثبوت۔

اسی طرح کچھ روافض ایک روایت بیان کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں جسکا متن اور سند درجہ ذیل ہے :

حدثنا أبو العباس محمد بن أحمد بن يعقوب، ثنا الحسن بن علي بن عفان العامري، ثنا عبد الله بن عمير، ثنا عامر بن السمط، عن أبي الجحاف داود بن أبي عوف، عن معاوية بن ثعلبة، عن أبي ذر رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: يا علي، من فارقني فقد فارق الله، ومن فارقك يا علي، فقد فارقني صحيح الإسناد، ولم يخرجاه "

حضرت ابو ذرغفاری نبی اکرمﷺ سے بیان کرتے ہیں :

نبی اکرمﷺ نے فرمایا کے اے علی جو مجھ سے جدا ہوا وہ اللہ سے لا تعلق ہوگیا اور جو تجھ سے جدا ہوا وہ مجھ سے جدا ہوگیا۔

امام حاکم کہتے ہیں یہ روایت صحیح الاسناد ہے اور شیخین نے اسکی تخریج نہیں کی ہے۔

[مستدرک الحاکم برقم: 4624]


اے علی جو تجھ سے جدا ہوا وہ مجھ سے جدا ہوا     اس متن پر مبنی اس روایت  کی حقیقت درج ذیل ہے ۔

 یہ روایت منکر و باطل ہے

اس روایت کی تعلیق میں امام ذھبی فرماتے ہیں ”بل منكر” یعنی یہ روایت منکر ہے

[التعليق – من تلخيص الذهبي] 4624 – بل منكر


اس روایت کی سند کی تحقیق:

اس روایت کا ایک راوی جسکا نام ” عن أبي الجحاف داود بن أبي عوف’‘ جو کہ شیعہ ہے عمومی طورپر تو صدوق ہے لیکن یہ اکثر فضائل اہلبیت میں روایت بیان کرتا ہے اور مناکیر بیان کرتا تھا۔

جیسا کہ امام ابن عدی اسکی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

وهو في جملة متشيعي أهل الكوفة وعامة ما يرويه في فضائل أهل البيت.

یہ کوفہ کے شیعہ لوگوں میں سے تھا اور عمومی طور پر یہ فضائل اہل بیت میں روایات بیان کرتا تھا

اور پھر اسکی مناکیر میں سب سے پہلی مذکورہ روایت کو بیان کیا ہے۔

أبي الجحاف عن داود بن أبي عوف عن معاوية بن ثعلبة، عن أبي ذر، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم يا علي من فارقني فارق الله، ومن فارقك يا علي فارقني.

اسکے بعد امام ابن عدی کہتے ہیں :

لأبي الجحاف أحاديث غير ما ذكرته، وهو من غالية أهل التشيع وعامة حديثه في أهل البيت ولم أر لمن تكلم في الرجال فيه كلاما، وهو عندي ليس بالقوي، ولا ممن يحتج به في الحديث

یہ ابی جحاف اسکی روایات جو (اوپر بیان کردہ روایات ) کے علاوہ ہیں یہ غالی شیعوں میں سے ایک تھا اور عمومی طور پر اسکی روایات فضائل اہل بیت کے باب پر مشتمل ہوتی ہیں اور میں نے کسی ناقد کو نہیں دیکھا جو اس کے بارے کلام کرتا ہو۔اور میرے نزدیک یہ راوی قوی نہیں اور یہ اس لائق نہیں کہ اسکی روایات سے احتجاج کیا جا سکے (فضائل اہل بیت کے باب میں )

[الكامل في ضعفاء الرجال برقم: 625]


یعنی امام ابن عدی نے اس پر جرح خاص کی ہے کہ اسکی مناکیر ہوتی ہیں فضائل اہل بیت کے باب میں اور اس میں اس راوی سے احتجاج نہیں کیا جائے گا مذکورہ باب میں یہی وجہ ہے کہ امام ذھبی نے بھی مذکورہ روایت کو منکر قرار دیا تھا تخلیص میں نیز میزان اعتدال میں مذکورہ روایت کو منکر قرار دیتے ہوئے اسکا التزام اس راوی پر کیا ہے

نوٹ:

علامہ ہیثمی نے اس روایت کے تمام رجال کو ثقہ کہا ہے جو کہ درست نہیں جیسا کہ لکھتےہیں:

وعن أبي ذر قال: قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم – لعلي: ” «يا علي، من فارقني فارق الله، ومن فارقك يا علي فارقني» ".

رواه البزار، ورجاله ثقات.

[مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 14771]

لیکن امام بزار نے اس روایت میں ابو حجاف کا تفرد قرار دیتے ہوئے کہا ہے :

دثنا علي بن المنذر، وإبراهيم بن زياد، قالا: نا عبد الله بن نمير، عن عامر بن السبط، عن أبي الجحاف داود بن أبي عوف، عن معاوية بن ثعلبة، عن أبي ذر، رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلي: «يا علي، من فارقني فارقه الله، ومن فارقك يا علي فارقني»

امام بزار کہتے ہیں اس کلام کو جو ہم نے روایت کیا ہے اسکو سوائے اس طریق کے ابی زر سے ہم نہیں جانتے۔

وهذا الكلام لا نعلمه يروى إلا عن أبي ذر بهذا الإسناد

[ مسند البزار برقم: 4066]

لیکن یہ راوی فضائل اہلبیت کی روایات میں ضعیف ہے جیسا کہ امام ابن عدی نے کہا ہے یہی وجہ ہے کہ امام القيسراني (المتوفى: 507هـ)

 اس روایت کے تحت لکھتے ہیں:

حديث: يا علي} من فارقني؛ فارق الله عزوجل، ومن فارقك، يا علي {فارقني. رواه أبو الجحاف داود بن أبي عوف الكوفي: عن معاوية بن ثعلبة، عن أبي ذر.

اسکو نقل کرنے کے بعد امام قیسرانی فرماتے ہیں اور ابو جحاف یہ ضعیف ہے

وأبو الجحاف هذا ضعيف.

[ذخيرة الحفاظ برقم: 6448]


اس روایت کی سند میں دوسری علت یہ ہے کہ سند کا ایک راوی بنام ” معاوية بن ثعلبة الحمّانيّ” یہ مجہول ہے جسکی کوئی توثیق معتبر ثابت نہیں سوائے امام ابن حبان کے اسکو ثقات میں شامل کرنے کے۔

نیز امام ابو حاتم نے بھی  اسکو بغیر جرح و تعدیل کے بیان کیاہے

امام ابن حجر عسقلانی الاصابہ میں فرماتے ہیں :

تابعيّ أرسل حديثا، فذكره الإسماعيليّ في الصحابة، وقال: لا أدري له صحبة أو لا.

یہ تابعی ہے اور ارسال کرتا تھا اور علامہ اسمائیل نے صحابہ (کتاب) میں اسکے بارکہا کہ میں نہیں جانتا کہ اس نے صحبت رسولﷺ پائی ہے یا نہیں

اور پھر اسکی مذکورہ روایت کو بیان کرتے ہیں جسکی تفصیل اوپر پڑھ چکے ہیں

[الإصابة في تمييز الصحابة برقم: 8604]


خلاصہ تحقیق:

اس روایت کو بیان کرنے والا راوی ابی جحاف غالی شیعہ ہے اور اس روایت میں اسکا تفرد ہے

امام ابن عدی کے نزدیک یہ فضائل اہل بیت کی روایت میں بیان  ضعیف اور لا یحتاج بہ ہے   مناکیر روایت کرنے کے سبب سے

اور اس روایت کا مزکری راوی مجہول ہے جسکی کوئی معتبر توثیق ثابت نہیں ہے

اور متن کے اعتبار سے یہ روایت منکر ہے۔

کیونکہ جب حضرت  فاطمہؓ حضرت علیؓ سے اس بات پر ناراض ہوئیں کہ  حضرت علیؓ ابو جہل کی بیٹی سے شادی کرنے کا سوچ رہے تھے! اس بات کی شکایت حضرت فاطمہؓ نے نبی اکرمﷺ کو لگائی  تھی!۔

جیسا کہ صحیح بخاری میں روایت موجود ہے :

حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال: حدثني علي بن حسين، ان المسور بن مخرمة، قال: إن عليا خطب بنت ابي جهل فسمعت بذلك فاطمة فاتت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالت: يزعم قومك انك لا تغضب لبناتك , وهذا علي ناكح بنت ابي جهل، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فسمعته حين تشهد، يقول:” اما بعد انكحت ابا العاص بن الربيع فحدثني وصدقني، وإن فاطمة بضعة مني وإني اكره ان يسوءها والله لا تجتمع بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم وبنت عدو الله عند رجل واحد” , فترك علي الخطبة , وزاد محمد بن عمرو بن حلحلة، عن ابن شهاب، عن علي بن الحسين، عن مسور، سمعت النبي صلى الله عليه وسلم وذكر صهرا له من بني عبد شمس فاثنى عليه في مصاهرته إياه فاحسن، قال:” حدثني فصدقني ووعدني فوفى لي”.

ہم سے ابولیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ سے علی بن حسین نے بیان کیا اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی لڑکی کو (جو مسلمان تھیں) پیغام نکاح دیا، اس کی اطلاع جب فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ہوئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا کہ آپ کی قوم کا خیال ہے کہ آپ کو اپنی بیٹیوں کی خاطر (جب انہیں کوئی تکلیف دے) کسی پر غصہ نہیں آتا۔ اب دیکھئیے یہ علی ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتے ہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو خطاب فرمایا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ پڑھتے سنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امابعد: میں نے ابوالعاص بن ربیع سے (زینب رضی اللہ عنہا کی، آپ کی سب سے بڑی صاحبزادی) شادی کرائی تو انہوں نے جو بات بھی کہی اس میں وہ سچے اترے اور بلاشبہ فاطمہ بھی میرے (جسم کا) ایک ٹکڑا ہے اور مجھے یہ پسند نہیں کہ کوئی بھی اسے تکلیف دے۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ کی بیٹی اور اللہ تعالیٰ کے ایک دشمن کی بیٹی ایک شخص کے پاس جمع نہیں ہو سکتیں۔ چنانچہ علی رضی اللہ عنہ نے اس شادی کا ارادہ ترک کر دیا۔ محمد بن عمرو بن حلحلہ نے ابن شہاب سے یہ اضافہ کیا ہے، انہوں نے علی بن حسین سے اور انہوں نے مسور رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے بنی عبدشمس کے اپنے ایک داماد کا ذکر کیا اور حقوق دامادی کی ادائیگی کی تعریف فرمائی۔ پھر فرمایا کہ انہوں نے مجھ سے جو بات بھی کہی سچی کہی اور جو وعدہ بھی کیا پورا کر دکھایا۔

[صحیح بخاری، برقم: 3729]

تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا تھا

”فاطمہؓ میرے جسم کا ٹکڑا ہے جس نے اسکو تکلیف پہنچائی اس نے مجھ کو تکلیف پہنچائی”

اگر حضرت علیؓ سے ناراض ہونا اللہ و رسولﷺ سے ناراض ہونے کے مترادف ہوتا تو نبی اکرمﷺ حضرت فاطمہؓ کو یہ بات فرماتے ، بلکہ انہوں نے حضرت علیؓ کے لیے فرمایا دیا کہ میری بیٹی کو تکلیف دینا مجھے تکلیف دینے کے مترادف ہے! اس کے بعد  حضرت علیؓ نے حضرت فاطمہؓ کی زندگی میں دوسری شادی کا ارادہ ترک کر لیا تھا !

تو مذکورہ روایت کے سبب مستدرک  کی روایت منکر و باطل ہے!

تحقیق: دعاگو اس الطحاوی الحنفی البریلوی

 

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے