جنوں کا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر غم و نوحہ!

شہادت امام حسین
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 3 Average: 3.7]

جنوں کا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر غم و نوحہ کرنا!

تحریر: اسد الطحاوی

شہید کربلا امام حسین

امام احمد روایت کرتےہیں:
حدثنا عبد الله قال: حدثني أبي، نا عبد الرحمن بن مهدي قال نا حماد بن سلمة، عن عمار قال: سمعت أم سلمة قالت: ” سمعت الجن يبكين على حسين قال: وقالت أم سلمة سمعت الجن تنوح على الحسين رضي الله عنه ".

ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں! میں نے جنہوں کو امام حسین رضی اللہ (کی شہادت) پر روتے سنا۔ اور انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ میں نے جنوں (کی جماعت کو) حضرت امام حسینؓ رضی اللہ کی شہادت پر نوحہ کرتے سنا
[فضائل صحابہ ، برقم:1373، وسندہ حسن]

رجال کا مختصر تعارف!

۱۔ امام ابن مہدی متفق علیہ ثقہ ثبت حافظ و ناقد امام

۲۔حماد بن سلمہ
یہ ثقہ راوی تھے لیکن اختلاط کا شکار ہوئے لیکن باوجود اختلاط کے انکی مروایات حسن درجہ سے کم نہیں ۔
جیسا کہ امام ذھبی علیہ رحمہ فرماتے ہیں:

وَلَمْ يَنحَطَّ حَدِيْثُه عَنْ رُتْبَةِ الحَسَنِ.
انکی بیان کردہ حدیث حسن درجہ سے کم نہیں
[سیر اعلام النبلا ء برقم:168]

۳۔ عمار بن ابی عمار
امام مغلطائی الحنفی انکے بارے نقل کرتےہیں:
وفي كتاب ” التمييز ” لأبي عبد الرحمن النسائي: ليس به بأس.
ذكر المزي عن أبي داود أنه قال: هو ثقة،
وذكره ابن شاهين في كتاب الثقات، وقال: أثنى عليه حماد.
[اکمال فی تھذیب الکمال للمغلطائی برقم:3905]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور امام ہیثمی نے بھی مذکورہ روایت کی تصحیح کی ہے:
وعن أم سلمة قالت: سمعت الجن تنوح على الحسين بن علي. رواه الطبراني، ورجاله رجال الصحيح.
[مجمع الزوائد برقم:15179]

اور حضور اکرمﷺ بھی شہادت حسین رضی اللہ عنہ کی خبر پر روئے تھے!

جیسا کہ مذکورہ روایت امام احمد نے اسی کتاب میں روایت کی ہے:

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، نا حَجَّاجٌ، نا حَمَّادٌ، عَنْ أَبَانَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كَانَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْحُسَيْنُ مَعِي فَبَكَى، فَتَرَكْتُهُ فَدَنَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ جِبْرِيلُ أَتُحِبُّهُ يَا مُحَمَّدُ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ» فَقَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُهُ، وَإِنْ شِئْتُ أُرِيتُكَ مِنْ تُرْبَةِ الْأَرْضِ الَّتِي يُقْتَلُ بِهَا، فَأَرَاهُ إِيَّاهُ فَإِذَا الْأَرْضُ يُقَالُ لَهَا كَرْبَلَاءُ.

سیدہ ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کے پاس سیدنا جبرائیل تھے اور سیدنا حسینؓ میرے پاس رو رہے تھے ، میں نے چھوڑ دیا تو وہ آپﷺ کے پاس چلے گئے ، سیدنا جبرائیلؑ نے پوچھا! اے محمد ﷺ آپ اس سے محبت کرتے ہیں ؟
نبی کریمﷺنے فرمایا : ہاں سید نا جبرائیلؑ نے کہا : آپﷺ کی امت اس کو قتل(شہید) کر دیگی اگر آپﷺ چاہیں تو میں آپ ﷺکو اس زمین کی مٹی دکھا دیتا ہوں جہاں یہ قتل ہوں گے ، پس رسول اللہ ﷺ کو انہوں نے وہ زمین دکھائی جس کو کربلا کہا جاتا ہے
[فضائل الصحابة، برقم:1391وسندہ حسن]

اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ امام حسین رضی اللہ کے تذکرہ شہادت پر رونا و غم کرنا  نبی اکرمﷺ کی سنت ہے!

کیونکہ جب امام حسین کی شہادت سے کئی سال پہلے نبی اکرمﷺ روئے ہیں تو انکی شہادت کے صدیوں بعد بھی رونے میں کوئی ممانعت نہیں ثابت ہوتی ہے۔اللہ امام حسینؓ کو شہید کرنے اور ان پر ظلم کرنے والوں کو برباد کرے اور انکی قبروں کو آگ سے بھر دے۔
جیسا کہ ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انکو بد دعا دی تھی۔

تحقیق: اسد الطحاوی

مزید پڑھیں: کیا یزید نے امام حسینؓ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا تھا؟ سنابلی کا رد

One thought on “جنوں کا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر غم و نوحہ!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے