زندوں کو آگ سے جلانا
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 2 Average: 4]

مرتدین کو آگ سے جلانے پر حضرت علی کے اجتہادی خطاء کے انکار پر ایک تحریر کا جائزہ

مرتدین کو  حضرت علی کی طرف سے  آگ سے جلانے کےعمل کے تعلق سے موصوف نے اپنی تحریر کا جب آغاز کیا تو شروع میں وہ قطعی دلائل نقل کیے جو ہم سابقہ تحریر میں نقل کرچکے تھے جو کہ درج ذیل ہیں:

نبی اکرمﷺ نے پہلے لوگوں کو جلانے کا حکم دیا تھا لیکن پھر اس حکم کو منسوخ کردیا تھا

جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے :
عن ابي هريرة رضي الله عنه انه قال:‏‏‏‏ بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعث فقال:‏‏‏‏”إن وجدتم فلانا وفلانا فاحرقوهما بالنار”ثم قال:‏‏‏‏ رسول الله صلى الله عليه وسلم”حين اردنا الخروج إني امرتكم ان تحرقوا فلانا وفلانا وإن النار لا يعذب بها إلا الله فإن وجدتموهما فاقتلوهما”.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک مہم پر روانہ فرمایا اور یہ ہدایت فرمائی کہ اگر تمہیں فلاں اور فلاں مل جائیں تو انہیں آگ میں جلا دینا ‘ پھر جب ہم نے روانگی کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہیں حکم دیا تھا کہ فلاں اور فلاں کو جلا دینا۔ لیکن آگ ایک ایسی چیز ہے جس کی سزا صرف اللہ تعالیٰ ہی دے سکتا ہے۔ اس لیے اگر وہ تمہیں ملیں تو انہیں قتل کرنا (آگ میں نہ جلانا)۔
[صحیح البخاری برقم:۳۰۱۶]
نوٹ: آگ سے جلانے کا حکم مطلق طور پر منسوخ ائمہ فقہاء کے نزدیک حضور کے مذکورہ جملہ ” لیکن آگ ایک ایسی چیز ہے جس کی سزا صرف اللہ تعالیٰ ہی دے سکتا ہے” سے ہے۔ کیونکہ اس جملہ میں کسی قسم کا کوئی جواز موجود نہیں جس پر بحث آگے آرہی ہے۔

مرتدین کو آگے سے جلانے کے عمل سے حضرت مولا علی ؓ کے رجوع کی صریح دلیل :

جبکہ حضرت مولا علیؓ کو حضور اکرمﷺ کے اس فرمان نسخ کا علم نہ ہو سکا اور ان سے اجتہادی خطاء ہوئی اور انہوں نے بظاہر شریعت کے خلاف عمل کر دیا (جو کہ حدیث کے عدم علم کے سبب اجتہادی طور پر وقوع پزیر ہوا )
جیسا کہ صحیح بخاری میں موجود ہے :
حدثنا علي بن عبد الله حدثنا سفيان عن ايوب عن عكرمة ان عليا رضي الله عنه حرق قوما فبلغ ابن عباس فقال:‏‏‏‏ لو كنت انا لم احرقهم لان النبي صلى الله عليه وسلم قال:‏‏‏‏”لا تعذبوا بعذاب الله ولقتلتهم”كما قال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏"من بدل دينه فاقتلوه”.
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک قوم کو جلا دیا تھا۔ جب یہ خبر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو ملی تو آپ نے کہا کہ اگر میں ہوتا تو کبھی انہیں نہ جلاتا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ” اللہ کے عذاب کی سزا کسی کو نہ دو ” البتہ میں انہیں قتل ضرور کرتا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص اپنا دین تبدیل کر دے اسے قتل کر دو۔
[صحیح البخاری]
نوٹ :یہا ں حضرت ابن عباس ؓ نے حضور اکرمﷺ کے مذکورہ فرمان”’ اللہ کے عذاب کی سزا کسی کو نہ دو ” سے مطلق طور پر استدلال فرمایا ہے ۔
بلکہ حضرت علی ؓ سے اپنے اس فعل پر خطاء اجتہادی کو تسلیم کرنا بھی ثابت ہے
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ الْبَصْرِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ , حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , عَنْ عِكْرِمَةَ , أَنَّ عَلِيًّا حَرَّقَ قَوْمًا ارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ , فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ , فَقَالَ: لَوْ كُنْتُ أَنَا لَقَتَلْتُهُمْ , لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ ” , وَلَمْ أَكُنْ لِأُحَرِّقَهُمْ , لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ ” , فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيًّا , فَقَالَ: صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْمُرْتَدِّ , وَاخْتَلَفُوا فِي الْمَرْأَةِ إِذَا ارْتَدَّتْ عَنِ الْإِسْلَامِ , فَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ: تُقْتَلُ , وَهُوَ قَوْلُ الْأَوْزَاعِيِّ , وَأَحْمَدَ , وَإِسْحَاق , وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ: تُحْبَسُ , وَلَا تُقْتَلُ , وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , وَغَيْرِهِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ.
عکرمہ سے روایت ہے کہ علی رضی الله عنہ نے کچھ ایسے لوگوں کو زندہ جلا دیا جو اسلام سے مرتد ہو گئے تھے، جب ابن عباس رضی الله عنہما کو یہ بات معلوم ہوئی ۱؎ تو انہوں نے کہا: اگر (علی رضی الله عنہ کی جگہ) میں ہوتا تو انہیں قتل کرتا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”جو اپنے دین (اسلام) کو بدل ڈالے اسے قتل کرو“، اور میں انہیں جلاتا نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”اللہ کے عذاب خاص جیسا تم لوگ عذاب نہ دو“، پھر اس بات کی خبر علی رضی الله عنہ کو ہوئی تو انہوں نے کہا: ابن عباس رضی الله عنہما نے سچ کہا ۲؎۔
[سنن ترمذی برقم:1548]

بقول مولا علی مرتدین کو آگے جلانے پر نفی حضرت  ابن عباس کے موقف کو تسلیم کرتے ہوئے فرمایا کہ ابن عباس  نے سچی بات کی تو صواب موقف کی تائید کر دی صریحا۔


اسکے بعد موصوف نے امام ابن حجر عسقلانی کا کلام نقل کیا :
امام ابن حجر عسقلانی م852ھ رحمہ اللہ صحیح بخاری کی روایت کے تحت تفصیلی کلام فرماتے ہیں اور اس کی وضاحت میں آئمہ کے اقوال نقل کرتے ہیں چنانچہ آپ فرماتے ہیں :
واختلف السلف في التحريق: فكره ذلك عمر، وابن عباس وغيرهما مطلقا سواء كان ذلك بسبب كفر أو في حال مقاتلة أو كان قصاصا، وأجازه علي، وخالد بن الوليد وغيرهما
آگ سے سزا دینے کے بارے میں اسلاف میں اختلاف رہا ہے، سیّدنا عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم مطلقاً اسے مکروہ سمجھتے تھے خواہ یہ سزا ارتداد کی وجہ سے دی جارہی ہو، یا قصاص میں ہو، یا حالت جنگ میں ہو۔ جب کہ سیّدنا علی اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہما اسے جائز سمجھتے تھے۔
ابن حجر عسقلانی کے کلام سے اتنی بات تو واضح ہوئی کہ یہ مسئلہ صحابہ کرام کے درمیان اختلافی تھا مزید فرماتے ہیں :
وقال المهلب: ليس هذا النهي على التحريم بل على سبيل التواضع، ويدل على جواز التحريق فعل الصحابة، وقد سمل النبي ﷺ أعين العرنيين بالحديد المحمي، وقد حرق أبو بكر البغاة بالنار بحضرة الصحابة، وحرق خالد بن الوليد بالنار ناسا من أهل الردة ۔۔۔
مہلب بن ابی صفرۃ م435ھ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : (سیدنا ابو ہریرہ سے مروی) حدیث میں ممانعت تحریمی نہیں ہے، بلکہ بطور تواضع ہے، آگ کے ذریعہ سے سزا دینے کے جواز پر صحابہ کا عمل ثابت ہے، خود نبی اکرم ﷺ نے عرنیین کی آنکھوں میں گرم لوہے کی سلائیاں پھیریں، اور صحابہ کی موجودگی میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے باغیوں اور مرتدین کو آگ سے جلایا۔ خالد بن ولید نے بھی مرتدین کو آگ سے جلایا۔
( كتاب فتح الباري بشرح البخاري – ط السلفية 6/150 )

یہاں آگے امام ابن حجر عسقلانی نے جس موقف کی تائید کی آخری اسکو نقل نہیں کیا گیا ہے ۔ اس کلام کے بعد حافظ ابن حجر لکھتے ہیں :
لا حجة فيما ذكر للجواز لأن قصة العرنيين كانت قصاصا أو منسوخة كما تقدم وتجويز الصحابي معارض بمنع صحابي آخر وقصة الحصون والمراكب مقيدة بالضرورةالى ذلك إذا تعين طريقا للظفر بالعدو ومنهم من قيده بأن لا يكون معهم نساء ولا صبيان كما تقدم وأما حديث الباب فظاهر النهي فيه التحريم وهو نسخ لأمره المتقدم سواء كان بوحي إليه أو باجتهاد
اس میں (آگےسےجلانے) کے جواز کا کوئی ثبوت نہیں ہے، کیونکہ (اونٹوں کے چرانےوالوں ) کی انکھوں کو جو جلانے کا قصہ ہے یہ تو بطور قصاصا تھا یا منسوخ ہو چکا ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے، اور صحابی کے تجویز کی مخالفت و معارض کسی دوسرے صحابی کی ممانعت کے قول سے ہوتی ہے، اور کفار کے قلعوں کو جلانے کا جو قصہ ہے اس صورت میں ہے جب کفار کے خلاف فتح حاصل کرنے کا اور کوئی زریعہ نہ ہو ۔ اور ان میں سے بعض نے اس بات پر یہ قید لگا دی ہے کہ اس (قلعہ ) کے ساتھ عورتیں یا بچے نہ ہوں۔ جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ہے، اس موضوع پر اس حدیث کا ظاہر ممانعت ہے ۔ اور اسے مراد تحریم ہے ۔، یہ اس سے پہلے حکم کی نسخ ہے۔ چاہے یہ نبی اکرمﷺ کی طرف سے با وحی ہو یا یا انکے اجتہاد سے ، اور یہ اس پر لاگو ہوتا ہے جس نے کسی مخصوص شخص میں ایسا کرنے کا ارادہ کیا ہو۔
[فتح الباری شرح صحیح البخاری ، ج۶، ص ۱۵۰]

تو امام ابن حجر عسقلانی نے ابن مھلب کا جو موقف لکھا تو رد کرنے کے لیے لکھا تھا نہ کہ ان لوگوں کی تائید میں جو اس روایت کے تحت نسخ کے قائل نہیں ۔


اسی طرح ا س روایت کے تحت فقیہ امام بدر دین عینی علیہ رحمہ نے بھی کچھ ایسا کلام کیا ہے انہوں نے بھی پہلے ابن مھلب کا قول نقل کیا ہے اور دیگر کا پھر انکارد کرتے ہیں ۔ جو کہ درج ذیل ہے :

لا حجة فيما ذكر للجواز، لأن قصة العرنيين كانت قصاصا أو منسوخة، وتجويز الصحابي معارض بمنع صحابي آخر، وقصة الحصون والمراكب مقيدة بالضرورة إلى ذلك إذا تعين طريقا للظفر بالعدو، ومنهم من قيده بأن لا يكون معهم نساء ولا صبيان، وقيل: حديث الباب يرد هذا كله، لأن ظاهر النهي فيه التحريم، وهو نسخ لأمره المتقدم، سواء كان ذلك بوحي أو باجتهاد منه، صلى الله عليه وسلم. وقال ابن العربي في هذا نسخ الحكم قبل العمل به. ومنع منه المبتدعة والقدرية، وقال الحازمي: ذهبت طائفة إلى منع الإحراق في الحدود، قالوا: يقتل بالسيف، وإليه ذهب أهل الكوفة النخعي والثوري وأبو حنيفة وأصحابه، ومن الحجازيين: عطاء، وذهبت طائفة في حق المرتد إلى مذهب علي، رضي الله تعالى عنه، وقالت طائفة: من حرق يحرق، وبه قال مالك وأهل المدينة والشافعي وأصحابه وأحمد وإسحاق.
وفي الحديث: جواز الحكم احتهادا، ثم الرجوع عنه، واستحباب ذكر الدليل عند الحكم لرفع الإلباس. وفيه: نسخ السنة بالسنة وهو بالاتفاق. وفيه: جواز نسخ الحكم قبل العلم به، أو قبل التمكن من العمل به، وفي الأخير خلاف علم في موضعه.
امام عینی فرماتے ہیں :اس کلام میں جلانے کے جواز کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔ کیونکہ اونٹوں کےچرانے والوں کی آنکھوں کو جو جلایا گیا تھا ، وہ یا تو قصاصا تھا یا وہ جلانا منسوخ ہو چکا ہے ۔ اور کافروں کے ان کے قلعوں میں جلانے کا جو قصہ ہے یہ اس صورت میں ہے جب کافروں کےخلاف فتح حاصل کرنے کا اورکوئی طریقہ نہ ہو اور بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ یہ حخم بھی اس صورت میں ہے جب انکےساتھ قلعہ میں عورتیں اور بچے نہ ہوں اور یہ بھی کہاگیا ہے کہ اس باب کی صحیح حدیث ان تمام تاویلات کو رد کرتی ہے کیونکہ اس حدیث کا ظاہر ممانعت ہے اور اسسےمراد تحریم ہے ۔ اور یہاں آپ کے پہلے حکم کے لیےناسخ ہے ۔ یہ با وحی سے ہو یا آپﷺ کے اجتہاد سے ہو۔
علامہ ابن العربی مالکی فرماتے ہیں :
اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ کسی حکم کو اس پر عمل کرنےسے پہلےمنسوخ کرنا جائز ہے ۔ الحازی نے کہا ہے کہ ایک جماعت نے کا یہ موقف ہے کہ حدود میں جلانے سے منع کیا جائے گا۔ اورانہوں نے کہا ہے کہ اسکو تلوار سے قتل کیا جائےگا۔
امام ابوحنیفہ اورانکےاصحاب اور دیگر اہلکوفہ کا یہی مذہب ہے

(نوٹ: مولا علی کوفہ میں تھے اور اگر انکا رجوع صریح نہ ہوتا تو انکے اصحاب اور فقہاء اہل کوفہ کا موقف بھی حضرت علی والا ہوتا لیکن رجوع کے سبب انکا یہ موقف نہیں )

ایک جماعت نے یہ کہا ہے کہ جو مرتد ہو اس کو حضرت علی کے مذہب کے موافق آگ سے جلانا جائز ہے کیونکہ حضرت علی نےبعض مرتدین کو آگ میں زندہ جلایا تھا۔ اور ایک جماعت نے یہ کہا ہے کہ جوشخص کسی کو آگے سے جلائے گا اسے قصاص میں آگ سےجلایا جائےگا
امام مالک ، امام شافعی ، اورانکےاصحاب اور امام احمد و اسحاق کا یہ مذہب ہے
[عمدة القاري شرح صحيح البخاري ج۱۴، ص۲۲۱]
نوٹ : امام مالک ، امام شافعی ، انکے اصحاب ،امام احمد بن حنبل وامام اسحاق کا موقف تھا کہ قرآن میں قصاص کان کا بدلہ کان ، ناک کے بدلےناک ہے تو جو جلائے گاکسی کو تو بطور قصاص اسکو جلانے میں استثناء ہے قرآن کی آیت سے ۔ جبکہ اسکا تعلق حضرت علیؓ کےفعل سے نہیں کیونکہ انہوں نےمرتدین کو بطور سزاجلایا تھا نہ کہ بطور قصاص ۔ اور امام ابن العربی سے متاخر امام زرقانی کے موقف کا بھی رد ہوگیا۔
مزید یہ ہے کہ جن ائمہ نے حضرت خالد بن ولید و حضرت ابو بکر صدیق کے حوالے سے بات کی ہے یہ عمل ان دو اصحابؓ سے ثابت نہیں ہے اور اگر ہوتا تو انکا یہ عمل بھی عدم دلیل نسخ کے سبب اجتہادی خطاء ہوتا

جیسا کہ اسکی تفصیل آگےآئے گی لیکن سب سے پہلے موصوف کی نقل کردہ روایت کا حال دیکھیں
موصوف سرخی لگاتے ہیں :
امام ابوبکر محمد بن جعفر الخرائطی م327ھ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ دَاوُدَ الْقَنْطَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ بَكْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَصَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ كَتَبَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا، أَنَّهُ وَجَدَ فِي بَعْضِ ضَوَاحِي الْعَرَبِ رَجُلًا يُنْكَحُ كَمَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ، وَقَامَتْ عَلَيْهِ بِذَلِكَ الْبَيِّنَةُ، فَاسْتَشَارَ أَبُو بَكْرٍ فِي ذَلِكَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ أَشَدَّهُمْ فِي ذَلِكَ قَوْلُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، قَالَ: «إِنَّ هَذَا ذَنْبٌ لَمْ تَعْصِ بِهِ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ إِلَّا أُمَّةٌ وَاحِدَةٌ، صَنَعَ اللَّهُ تَعَالَى بِهَا مَا عَلِمْتُمْ، أَرَى أَنْ نُحَرِّقَهُ بِالنَّارِ» . فَكَتَبَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ تُحَرِّقُهُ بِالنَّارِ، ثُمَّ حَرَّقَهُمُ ابْنُ الزُّبَيْرِ فِي زَمَانِهِ بِالنَّارِ، ثُمَّ حَرَّقَهُمْ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثُمَّ حَرَّقَهُمُ الْقَسْرِيُّ بِالْعِرَاقِ
محمد بن منکدر ، صفوان بن سلیم ، موسی بن عقبہ تینوں جلیل القدر تابعین بیان کرتے ہیں : سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی جانب انکے دور خلافت میں خط لکھ کر بھیجا کہ یہاں عرب کے بعض مضافات میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو مردوں سے ایسے نکاح کرتے ہیں جیسے عورتوں سے کیا جاتا ہے آپ بتائیں میں کیا کروں ؟؟ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام کی رائے لینے کے لیئے انہیں جمع کیا اس دن سب سے زیادہ سخت بات مولا علی نے فرمائی آپ نے فرمایا یہ ایسا گناہ ہے جو صرف ایک امت سے سرزد ہوا اور پھر جو اللہ نے انکے ساتھ کیا یہ آپ بھی جانتے ہیں میرا خیال یہ ہے کہ انہیں آگ میں جلا دیا جائے ۔ (امام بیہقی کی روایت میں الفاظ ہیں کہ تمام صحابہ کرام اسی رائے پر متفق ہوگئے) سیدنا ابو بکر نے سیدنا خالد کو لکھا کہ انہیں آگ سے جلا دو اسی طرح عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے انہیں اپنے زمانے میں جلایا اسی طرح ہشام بن عبد الملک نے انہیں اپنے زمانے میں جلایا اسی طرح اموی حاکم قسری نے انہیں اپنے زمانے میں جلایا ۔
(كتاب مساوئ الأخلاق للخرائطي ص205 رجاله الثقات وسنده صحيح على التابعين )
(كتاب السنن الكبرى – البيهقي – ط العلمية 8/405 رجاله الثقات)

الجواب:اسدالطحاوی

اب یہاں موصوف نے تدلیس کرتے ہوئے روایت پر رجال ثقات کا حکم تو لگایا لیکن سند صحیح علی تابعین کہاہے کیونکہ انکو معلوم ہے کہ یہ روایت ضعیف و منقطع ہے ۔
کیونکہ محمد بن منکدر اور صفوان دونوں ۶۰ ھجری کو پیدا ہو رہے ہیں اور اور موسی بن عقبہ کی پیدائش بھی ۶۰ھ کے قریب ہے کیونکہ اسکی وفات کا قول ۱۵۰ ھ کے قریب ملتا ہے ۔
جبکہ حضرت خالد بن ولید ۲۲ھ کو فوت ہوئے تھے۔
اورانکے درمیان ۳۸ سالوں کا طویل فاصلہ ہے اور پھر اس روایت پر سرخی بلجزم لگانا بھی صحیح نہیں تھا حضرت ابو بکر صدیق کی طرف!

پھر ایک دوسری روایت لائے ہیں :
حافظ ابو عمرو ابن عبدالبر اندلسی م463ھ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
قال: وحدثني معن بن عيسي، عن معاوية بن صالح، عن عياض بن عبد الله، قال: لما استشارهم أبو بكر قالوا: نرى أن ترجمه. فقال علي: أرى أن تحرقوه، فإن العرب تأنف من المثلة، ولا تأنف من الحدود. فحرقوه.
عیاض بن عبداللہ المدنی تابعی کہتے ہیں : جب سیدنا ابو بکر صدیق نے صحابہ کرام سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا ہمارا خیال ہے آپ انہیں سنگسار کردیں مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے کہا میں سمجھتا ہوں آپ انہیں آگ سے جلا دیں کیونکہ عرب اس طرح کی سزاؤں سے کنارہ کش رہتے ہیں حدود سے نہیں رہتے چنانچہ سیدنا ابو بکر نے انہیں جلانے کا حکم دیا ۔
( كتاب التمهيد – ابن عبد البر – ت بشار 3/713 وسندہ صحیح علی العياض بن عبدالله )
اب نواصب سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا کہیں گے ؟؟ جنہوں نے نا صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی رائے سے اتفاق کیا بلکہ اس پر عمل کرتے ہوئے ان لوگوں کو آگ سے جلانے کا حکم صادر کیا کیا انہیں بھی نسخ معلوم نہیں تھی ؟؟؟ یا ان سے بھی خطاء اجتہادی ہوئی ؟؟ اور وہ صحابہ جن کے سامنے یہ رائے پیش کی گئی انہیں بھی نسخ معلوم نہیں تھی ؟؟؟ اور سیدنا خالد بن ولید کو بھی معلوم نہیں تھی جنہیں حکم دیا گیا جلانے کا اور انہوں نے عمل کیا ؟؟

الجواب : اسد الطحاوی

جبکہ خود لکھا ہوا ہے کہ سند صحیح علی عیاض بن عبداللہ تو عیاض تک تو سند صحیح ہے لیکن عیاض بن عبداللہ خود ضعیف ہیں اور وہ یہ بات حضرت ابو بکرؓ سے منسوب کرکے بیان کر رہے ہیں جن سے انکا سماع ہی نہیں ہے
اس راوی پر ائمہ کا کلام درج ذیل ہے :
  • • أبو جعفر العقيلي : حديثه غير محفوظ
  • • أبو حاتم الرازي : ليس بالقوي
  • • ابن حجر العسقلاني : فيه لين
  • • الذهبي : وثق
  • • زكريا بن يحيى الساجي : روى عنه ابن وهب أحاديث فيها نظر
  • • محمد بن إسماعيل البخاري : منكر الحديث
  • • يحيى بن معين : ضعيف الحديث
یہی وجہ ہے کہ امام ابن حجر عسقلانی و امام ذھبی نے اسکی توثیق میں توقف کیا ہے ۔
تو اس غیر ثابت روایت پر الزامی جواب دینا صحیح نہیں ۔
نیز اگر یہ ثابت ہوتیں بھی جیسا کہ بعض نے ان مروایات پر اعتماد کیا بھی ہے تو انہوں نے بھی ان صحابہ پر بھی اجتہادی خطاء کا حکم ہی لگایا ہے ۔

جیسا کہ امام ابن ابی حمزہ الاندلسی المتوفیٰ ۴۹۹ھ کہتے ہیں؛

اس حدیث کا ظاہر اس پر دلالت کرتا ہے کہ سزا اور حدود جلانے سے نہیں دی جاتیں ، ان میں جلانے کے بغیر سزا دی جاتی ہے ۔ اگرچہ حضرت ابو بکر صدیقؓ سے یہ مروی ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو جو قوم لوط کا عمل کرتا تھا آگ سے جلایا ،
لیکن یہ ان سے ایک مرتبہ ہوا ہے اور اسکے بعد انہوں نے ایسا نہیں کیا ہے اور پہلی بار بھی انہوں نے اس لیے ایسا کیا تھا کہ ان تک یہ حدیث نہیں پہنچی تھی اور جب ان تک یہ حدیث پہنچ گئی تو پھر انہوں نے اس سے رجوع کر لیا ۔
مجتہد کو اپنےاجتہاد کےخلاف دلیل ظاہر ہو تو وہ اپنے سابق اجتہاد سے رجوع کر لے ۔
[بهجة النفوس وتحليها دار العلمية، ج۳، ص ۱۵۴ (بحوالہ نعم الباری شرح صحیح الباری علامہ غلام رسول سعیدیؓ ج ۵، ص ۹۰۱)]

تو اہلسنت جمہور جو حضرت مولا علیؓ کے اس فعل جس میں انہوں نے خود بھی صریحا رجوع کر لیا تھا ۔ انکے ساتھ غیر ثابت شدہ مرویات دیگر صحابہ کے بارے جو ہیں جن مصنفین نے ان غیرثابت روایات جو غلطی سے مان بھی لیا تو انہوں نے حضرت ابو بکر صدیق و دیگر صحابہ کی مرتدین کو  آگسے جلانے کے عمل کو  بھی اجتہادی خطاء ہی کو تسلیم کیا ۔
اس لیے مذکورہ فعل پر حضرت مولا علی پر اجتہادی خطاء کا اطلاق کرنا نواصب کا طریقہ نہیں اہلسنت کا ہی موقف ہے ۔
البتہ کوئی یہ باتیں شان اہل بیت و صحابہ کرامؓ کے خلاف بطور بغض بیان کرے تو انکا ایمان کے جواب دے وہی ہیں جیسا کہ رافضیہ صحابہ کے تعلق سے کرتے ہیں
تحقیق: اسد الطحاوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے