امام ابن معین الحنفی اور امام احمد بن حنبل کے درمیان امام ابو حنیفہ و امام شافعی کی وجہ سے چپکلش

ابن معین و شافعی
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 5]

امام ابن معین الحنفی اور امام احمد بن حنبل کے درمیان امام ابو حنیفہ و امام شافعی کی وجہ سے چپکلش کا پس منظر

بقلم اسد الطحاوی الحنفی البریلوی!

امام یحییٰ بن معین امام ابو حنیفہ کو فقہ میں مقدم کرتے اور امام احمد امام شافعی کو اور انکا آپسی یہ اختلاف اس قدر بڑھا کے دونوں نے ایک دوسرے کے امام پر جروحات کیں۔

امام خطیب روایت کرتے ہیں:

أخبرنا أبو طالب عمر بن إبراهيم، قال: حدثنا محمد بن خلف بن جيان الخلال، قال: حدثني عمر بن الحسن، عن أبي القاسم بن منيع، قال: حدثني صالح بن أحمد بن حنبل، قال: مشى أبي مع بغلة الشافعي، فبعث إليه يحيى بن معين، فقال له: يا أبا عبد الله، أما رضيت إلا أن تمشي مع بغلته؟ فقال: يا أبا زكريا لو مشيت من الجانب الآخر كان أنفع لك.
صالح بن احمد بیان کرتے ہیں کہ میرے والد احمد بن حنبل کو امام شافعی کی سواری کے ساتھ جاتے ہوئے یحییٰ ابن معین نے دیکھا تو اُن کے پاس کہلا بھیجا کہ ابو عبد اللہ (احمد بن حنبل کی کنیت ہے) آپ شافعی کی سواری کے ساتھ چلنے کو پسند کرتے ہیں؟ والد نے اُس کے جواب میں کہا کہ ابو زکریا! (یحییٰ ابن معین کی کنیت ہے) اگر آپ اُس کے بائیں جانب چلتے تو زیادہ فائدہ میں رہتے۔
[تاریخ بغداد ، سند صحیح ]
اس واقعہ کو امام ابن عبدالبر نے الانتقاء میں بھی نقل کیا ہے،اورامام قاضی عیاض مالکی نے بھی۔
وقال ابن معين لصالح بن أحمد ابن حنبل: أما يستحي أبوك رأيته مع الشافعي، والشافعي راكب وهو راجل، ورأيته قد أخذ بركابه. قال صالح فقلت لأبي فقال لي: قل له إن أردت أن تتفقه،
قیام بغداد میں آپ کے مشہور تلامذہ میں سے ایک احمد بن حنبل (متوفی 241ھ) ہیں۔ ایک مرتبہ یحییٰ ابن معین نے احمد بن حنبل کے صاحبزادے صال بن احمد سے کہا کہ آپ کے والد کو شرم نہیں آتی ہے؟ میں نے اُن کو شافعی کے ساتھ اِس حال میں دیکھا ہے کہ شافعی سواری پر چل رہے ہیں اور آپ کے والد رکاب تھامے ہوئے پیدل چل رہے ہیں۔ صالح بن احمد نے یہ بات اپنے والد احمد بن حنبل سے بیان کی تو اُنہوں نے کہا کہ اُن سے کہہ دو کہ اگر آپ فقیہ بننا چاہتے ہیں تو شافعی کی سواری کی دوسری رکاب کو آپ تھام لیں
[ ترتيب المدارك وتقريب المسالك]


اس واقعے کا پس منظر

امام یحییٰ ابن معین ؒ اور امام احمد بن حنبل بہت اچھے دوست تھے اور امام احمد امام ابن معین سے احادیث بھی روایت کرتے تھے یعنی ایک طرح سے احمد بن معین شیخ بھی تھے امام احمد کے اور دوست بھی ،لیکن امام احمد بن حنبل جو کہ پہلے امام ابو یوسفؒ سے فقہ و علم حدیث سیکھتے تھے پھر انکا رجھان امام شافعی کی طرف ہوا
یہ بات امام ابن معینؒ الحنفی کو اچھی نہیں لگتی تھی۔اور امام ابن معین امام ابو حنیفہ پر ناز کرتے انکے اجتہاد پر مثالیں دیتے امام ابن معین کا امام ابو حنیفہ پر فخر کرنے کا یہ عالم تھا کہ
جب امام شعبہ امام ابو حنیفہ ؒ کو خط لکھتے اور احادیث اور احکامات (فقہ) کے لیے امام شعبہ کی امام ابو حنیفہؒ سے عر ض کرتے ہوئے پڑھتے تو فخریہ انداز میں کہتے کہ یہ امام شعبہ (جو علم رجال کی بنیاد رکھنے والوں میں سے تھے ) جو امام ابو حنیفہ کو خط لکھتے ہیں اور ان سے احادیث اور مسائل کا حکم کے لیے عرض کرتے ہیں۔
اور پھر شعبہ ؒ تو پھر شعبہ ہیں(یعنی رجال کی محارت پھر امام شعبہ پر ختم ہو جاتی ہے)۔
اور اسی طرح دوسری طرف امام احمد بن حنبل تھے جو امام شافعی کی طرف رجھان رکھتے تھے اور انکے فضائل و مناقب بیان کرتے اور جہاں تک میرے علم کا تعلق ہے امام ابن معین اور امام احمد کے درمیان فقہ حنفی و شافعی کی چپکلش کی وجہ سے امام احمد کی زبان سے امام ابو حنیفہ اور صاحبین کے بارے مذمت کے کچھ الفاظ ملتے ہیں لیکن امام احمد بن حنبل نے ان سب باتوں سے رجوع کر لیا تھا جیسا کہ ایک وقت میں انکا موقف تھا کہ امام ابو یوسف سے بیان نہ کیا جائے کیونکہ وہ ابو حنیفہ کی رائے پر عمل کرتے ہیں لیکن وہ صدوق ہیں
لیکن پھر اس قول کے مخالف امام احمد نے اپنی مسند مین امام ابو حنیفہ سے روایت بیان کی ہے
یعنی اگر کوئی پڑھنے والا امام احمد کے اس اعتراض کو پڑھے تو صاف جان جائے کہ یہاں امام احمد بن حنبل جو کہ امام ابو یوسف کو ثقہ جانتے ہوئے بھی فقط اس تعصب کی وجہ سے اسکی روایت کو بیان کرنے سے روکا کہ وہ اما م اعظم کی فقہ پر عمل پیرہ ہیں۔جو کے امام شافعی کی فقہ سے بالکل مختلف تھی۔
یہی حسد تعصب جو امام احمد بن حنبل میں پایا جاتا تھا جسکی نشاندہی امام ابن معین نے کی اور امام احمد اور انکے ساتھ چند اور عداوت رکھنے والے حاسد و متعصب محدثین نے جب امام ابو حنیفہ اور صاحبین پر ہاتھ صاف کیا۔

تو امام ابن معین دفاع میں نکل آئے اور انہوں نے اپنی جماعت محدثین کو مخاطب کر کے کہا کہ :ہمارے ساتھی (یعنی محدثین کی جماعت) امام ابو حنیفہ ، اور صاحبین پر بے وجہ ، نا حق جرح کر کے حد سے تجاوز کرتے ہیں۔
یعنی امام ابن معین نے امام ابو حنیفہ و صاحبین کا کو ان سب جروحات سے پاک قرار دیا جو کہ تعصب میں ان پر کی جاتی تھی
جیسا کہ اما م ابن عبدالبر نے یہ تصریح کی ہے کہ امام ابن معین ابو حنیفہ و صاحبین کی تعدیل اور انکی تعریف کرتے۔لیکن اہل حدیث یعنی محدثین کی ایک جماعت اما م ابو حنیفہ اور صاحبین سے حسد بغض اور عداوت کی وجہ سے جرح کرتی ہے۔

امام ابن عبدالبر اپنی مشہور تصنیف جامع بیان العلم میں فرماتے ہیں :

محمد بن الحسين الموصلي الحافظ في الأخبار التي في آخر كتابه في الضعفاء عن الغلابي عن ابن معين، وقد رواه مفترقا جماعة عن ابن معين منهم عباس الدوري وغيره، ومما نقم على ابن معين وعيب به أيضا قوله في الشافعي: إنه ليس بثقة وقيل لأحمد بن حنبل: إن يحيى بن معين يتكلم في الشافعي فقال أحمد: ومن أين يعرف يحيى الشافعي هو لا يعرف الشافعي ولا يعرف ما يقول الشافعي؟ أو نحو هذا ومن جهل شيئا عاداه،
کہ امام محمد بن حسین الازدی موصلی نے اپنی کتاب الضعفاء میں ابن غلابی کے طریق سے امام یحییٰ بن معین سے بیان کیا ہے ۔ اور انکے علاوہ دیگر لوگوں کی جماعت نے بھی امام ابن معین سے بیان کیا ہے جن میں امام عباس الدوری (مقدم شاگرد امام ابن معین) بھی شامل ہیں اور جس میں ہم یہ پسند نہیں کرتے جیسا کہ امام ابن معین پر عیب لگایا گیا ہے امام شافعی کے بارے رائے رکھنے میں ۔
کہ امام ابن معین امام شافعی کے بارے کہتے ہیں یہ ثقہ نہیں ہیں ۔ اور امام احمد بن حنبل سے کہا گیا کہ امام یحییٰ بن معین کلام کرتے ہیں امام شافعی پر ۔
تو امام احمد نے کہا کہ کیا یحییٰ کیا جانتا ہے شافعی کے بارے ؟ اور وہ نہیں جانتا امام شافعی کے بارے اور نہ ہی انکے اقوال کے بارے جو وہ کہتےہیں اور یہ کہ وہ (ابن معین) جو کہتا ہے وہ فقط مخالفت و لاعلمی میں ہے ۔
[جامع بیان العلم]
کہ پھر امام ابن عبدالبر نے امام الازدی کی کتاب سے مزید امام ابن معین کا کلام نقل کیا۔
جیسے کہ وہ لکھتے ہیں :
وذكر محمد بن الحسين الأزدي الحافظ الموصلي في الأخبار التي في آخر كتابه في الضعفاء
قال: وقيل ليحيى بن معين يا أبا زكريا، أبو حنيفة كان يصدق في الحديث؟ قال: نعم صدوق، قيل له: والشافعي كان يكذب؟ قال: ما أحب حديثه ولا ذكره، قال: وقيل ليحيى بن معين: أيما أحب إليك أبو حنيفة أو الشافعي أو أبو يوسف القاضي؟ فقال: أما الشافعي فلا أحب حديثه، وأما أبو حنيفة فقد حدث عنه قوم صالحون وأبو يوسف لم يكن من أهل الكذب، كان صدوقا ولكن لست أرى حديثه يجزئ
امام محمد بن حسین الازدی نے اپنی کتاب الضعفاء میں یہ روایات لکھی ہیں۔اور کہا کہ امام ابن معین سے کہا گیا کہ کیا ابو حنیفہ حدیث میں سچے تھے انہوں نے کہا بالکل ۔ اور پھر کہا گیا کہ کیا شافعی حدیث میں غلط بیانی کرتے ہیں تو انہوں نے کہا انکی حدیث مجھے پسند نہیں ہے پر کہا گیا کہ آپ ان میں کس کو پسند کرتے ہیں ابو حنیفہ ، یا شافعی یا ابو یوسف قاضی
تو کہا مجھے شافعی کی حدیث پسند نہیں ہے اور ابو حنیفہ وہ ہیں جن سے صالح لوگوں کی جماعت نے روایت کیا ہے اور ابو یوسف غلط بیانی کرنے والوں میں سے نہیں وہ صدوق ہیں ۔

اسکو نقل کرنے کے بعد امام ابن عبدالبر اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں :

أبوعمر: لم يتابع يحيى بن معين أحد في قوله في الشافعي وقوله في حديث أبي يوسف وحديث الشافعي أحسن من أحاديث أبي حنيفة،
اس قول میں امام یحییٰ بن معین کی متابعت کسی نے بھی نہیں کی ہے امام شافع کے بارے اور انکا قول یہ ہے کہ امام ابویوسف اور امام شافعی کی حدیث زیادہ اچھی ہیں امام ابو حنیفہ کی احادیث سے ۔۔۔

اس سب کو بیان کرنے کے بعد امام ابن عبدالبر کہتے ہیں :

قال أبو عمر رحمه الله: ” الذين رووا عن أبي حنيفة ووثقوه وأثنوا عليه أكثر من الذين تكلموا فيه، والذين تكلموا فيه من أهل الحديث، أكثر ما عابوا عليه الإغراق في الرأي والقياس والإرجاء
اور امام ابن عبدالبر کہتے ہیں : جن لوگوں نے امام ابو حنیفہ سے روایت کیا ہے اور انکو ثقہ قرار دیا ہے وہ زیادہ ہیں تعداد میں ان لوگوں اصحاب الحدیث سے زیادہ ہیں جنہوں نے کلام کیا ہے ۔ اور انکے اکثر اعتراضاات یہ ہے کہ وہ قیاس کی بنیاد پر رواایت کو رد کرتے ہیں اور ارجاء کا عقیدہ رکھتے تھے
یعنی علل اور حافظے کی بنیاد پر انکے اعتراض نہیں زیادہ ۔
[جابع میان العلم ابن عبدالبر ]
اور امام ابن معین کا امام شافعی سے متنفر ہونے کا انکار کسی نے بھی نہیں کیا یہاں تک کہ،

امام ذھبی جب امام ابن معین سے امام شافعی کے بارے ایک موقف نقل کرتے ہیں اور کہتے ہیں :

فقلت ليحيى: ترى أن ينظر الرجل في رأي الشافعي وأبي حنيفة؟
قال: ما أرى لأحد أن ينظر في رأي الشافعي، ينظر في رأي أبي حنيفة أحب إلي.
قلت: قد كان أبو زكريا -رحمه الله- حنفيا في الفروع، فلهذا قال هذا، وفيه انحراف يسير عن الشافعي.
ابن جنید کہتے ہیں میں نے پوچھا کہ آپ اس شخص کے بارے کیا کہتے ہیں جو شافعی اور ابو حنیفہ کی رائے دیکھے ؟
تو ابن معین نے کہا میں نے کسی کو نہیں دیکھا جو شافعی کی رائے کو دیکھے ۔
البتہ امام ابو حنیفہ کی رائے کو دیکھنا مجھے زیادہ محبوب ہے

اسکو نقل کرنے کے بعدامام ذھبی کہتے ہیں :

میں کہتا ہوں کہ ابو زکریا یحییٰ بن معین یہ فروع میں حنفی تھے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ایسا کہا ۔ اوراسی سبب یہ امام شافعی سے کچھ منحرف تھے
[سیراعلام النبلاء ]


اب آتے ہیں امام احمد بن حنبل کی طرف انکو کیا مسلہ تھا امام ابو حنیفہ اور انکے اصحاب سے پھر امام ابن معین کی امام ابو حنیفہ کی ثقاہت پر انکے دلائل پیش کرینگے ۔

اس بات کا اندازہ اس روایت سے لگایا جا سکتا ہے جسکو
امام ابن ابی حاتم روایت لاتے ہیں اپنی سند صحیح سے :
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَسَّانٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، قَالَ:
«كَانَتْ أَقْفِيَتُنَا أَصْحَابَ الْحَدِيثِ، فِي أَيْدِي أَصْحَابِ أَبِي حَنِيفَةَ مَا تُنْزَعُ، حَتَّى رَأَيْنَا الشَّافِعِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَانَ أَفْقَهَ النَّاسِ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَفِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا كَانَ يَكْفِيهِ قَلِيلُ الطَّلَبِ فِي الْحَدِيثِ»
امام احمد بن حنبل کہتے ہیں :ہمارے اصحاب الحدیث کے گردن امام ابو حنیفہ کے اصحاب کے ہاتھوں میں تھی یہاں تک کہ ہم نے امام شافعی کو دیکھا (پایا) جوکہ لوگوں میں زیادہ کتاب اللہ و سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھنے والے تھے.. انکو حدیث میں قلیل طلب کفایت نہیں کرتی تھی
[ادآب الشافعی ابن ابی حاتم]
اور متعدد طریق سے امام احمد سے فقط اتنا ثابت ہے کہ ابو حنیفہ رائے سے اثار کا رد کرتے۔اور ان سے حدیث بیان کرنا صحیح نہیں ۔ انکی حدیث اور رائے دونوں ضعیف ہیں
امام احمد بن حنبلؒ اپنا منہج بیان کرتے ہیں :
سمعت أبي يقول أهل الرأي لا يروي عنهم الحديث
امام عبداللہ اپنے والد سے فرماتے ہیں کہ اہل رائے سے حدیث بیان نہ کی جائے
[العلل ومعرفة الرجال]
لیکن اس سبب اور راز کو لیکر امام احمد اپنے ساتھ ہی قبر مبارک میں تشریف لے گئے کہ انکے نزدیک شیعہ ، رافضی ، جہمی ، قدریوں سے تو روایت کرنا جائز ہے
لیکن اہل رائے سے ایسا کیا گناہ سرزد ہوا ؟ کہ ان سے روایت کرنا ہی نہیں کیونکہ وہ بے شک ثقہ و صدوق ہوں لیکن بس اہل رائے سے ہیں تو ان سے روایت کرنا ہی نہیں
جیسا کہ ایک راوی کی توثیق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
– وسألته عن شعيب بن إسحاق قال ما أرى به بأسا ولكنه جالس أصحاب الرأي كان جالس أبا حنيفة
میں (عبداللہ) نے سوال کیا (امام احمد ؒ) سے کہ شعیب بن اسحاق کے بارے تو فرمایا (امام احمد نے ) میں نے اس میں کچھ غلط نہیں دیکھا
**** لیکن*****
لیکن وہ اصحاب الرائے کی مجلس میں بیٹھتے ، وہ ابو حنیفہ کے پاس بیٹھتے
[العلل ومعرفة الرجال 3127]
یعنی امام احمد کے بقول اس راوی شعیب بن اسحاق میں کچھ غلط بات تو نہیں دیکھی تھی لیکن یہ کہ وہ اصحاب الرائے کی مجالس میں جاتے تھے اور (خاص کر ) ابو حنیفہ کے پاس جاتے۔

اب آتے ہیں امام یحییٰ بن معین الحنفی رحمہ اللہ کی طرف!

امام یحییٰ بن معین کے شاگرد فرماتے ہیں :
وسألت يحيى بن معين مرة أخرى عن القداح سعيد بن سالم المكي فقال ليس به بأس إنما كان يتكلم فى رأى أبى حنيفة ولكنه صدوق
اور میں نے سوال کیا یحییٰ بن معین سے آخر میں القداح بن سعید بن سالم المکی کے بارے تو فرمایا
اس میں کوئی حرج نہیں
****مگر****
وہ ابی حنیفہ کی رائے میں (برا) کلام کرتے تھے
[معرفة الرجال عن يحيى بن معين]
یعنی امام ابن معین کے نزدیک اس راوی کے بارے میں اور تو کوئی حرج نہیں لیکن سوائے ایک چیز کے یہ امام ابی حنیفہ کی رائے پر برا کلام کرتا تھا۔جو کہ امام یحییٰ بن معین کے منہج اور انکے نزدیک باعث معیوب اور عیب ہے۔یعنی اس قسم کے قول ملتے ہیں جس میں نہ یہ امام ابو حنیفہ کے حفظ پر اعتراض ہے نہ ہی انکی مروایات کی نکارت پر
بلکہ یہ اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق امام ابو حںیفہ کے دلائل کی طرف نظر کیے بغیر کود یہ قیاس کرتے کہ ابو حنیفہ نے احادیث کا انکار کیا ہے ۔۔۔۔
جبکہ دوسری طرف امام یحییٰ بن معین جن سے توثیقی کلمات تو اوپر پیش کر دیے اب امام ابن معین سےان جید ناقدین سے امام ابو حنیفہ کی توثیق پیش کرتے ہیں جسکی وجہ سے امام یحییٰ بن معین کا یہ موقف تھا کہ جب ایسے بڑے ناقدین کو امام ابو حنیفہ میں ضعف نہیں نظر آیا تو انکی وفات کے اتنے عرصے بعد اب کہاں سے لوگوں کو ضعف نظر آنے لگ گیا ۔
امام ابن معین کا امام شعبہ سے امام ابو حنیفہ کی توثیق پیش کرنا اور اس پر رشک کرنا ۔

امام خطیب بغدادی اپنی تاریخ میں ایک روایت بیان کرتے ہیں بسند صحیح :

أخبرنا محمد بن أحمد بن رزق، أخبرنا إسماعيل بن علي الخطبي، حدثنا الحسين ابن فهم، حدثنا يحيى بن معين عن أبي قطن. قال: كتب لي شعبة إلى أبي حنيفة يحدثني، فأتيته فقال كيف أبو بسطام؟ قلت: بخير، فقال: نعم! حشو المصر هو.
امام یحییٰ بن معین فرماتے ابو قطن (صاحب امام شعبہ) سے :
وہ کہتے ہیں مجھے امام شعبہ (خط) لکھ کرابو حنیفہ کی طرف بھیجا کہ مجھے احادیث بیان کریں ۔ میں (یہ خط لیکر) ابو حنیفہ کے پاس پہنچا تو انہوں نے فرمایا کہ ابو بسطام (امام شعبہ کی کنیت ہے ) کا کیا حال ہے ؟میں نے کہا وہ خیریت سے ہیں تو انہوں (ابو حنیفہ) نے کہا سہی وہ مصر کے سب سے بہترین انسان ہیں
[تاریخ بغداد ، جلد ، جلد ۹، ص۶۶۰، وسند صحیح ]

کہ امام شعبہ جیسا ناقد رجال جو جرح کرنے میں متعنت سمجھے جاتے تھے اور عمومی طور پر انکے تمام شیوخ ثقہ ہوتے ہیں جن سے یہ روایت کرتے ہیں اور یہ امام ابو حنیفہ جو کہ انکے بھی شاگرد تھے حدیث میں یہ انکو خط لکھ کر حدیث بیان کرنے کی درخواست کرتے تھے۔اور یہ بہت ہی بڑی اور قابل فخر بات ہے کیونکہ امام شعبہ کوئی چھوٹی موٹی شخصیت نہیں تھے
امام یحییٰ بن معین جیسا متشدد ناقد امام شعبہ کی اس بات پر فخر کرتے تھے اور اسکو بطور فخریہ طور پر امام ابو حنیفہ کی ثقاہت پر بطور دلیل پیش کرتے تھے۔

جیسا کہ امام ابن عبدالبر نے اپنی سند صحیح سے اسکو بیان کیا ہے:

حدثنا حكم بن منذر قال نا أبو يعقوب قال نا أحمد بن الحسن الحافظ قال نا عبد الله بن أحمد بن إبراهيم الدورقي قال سئل يحيى بن معين وأنا أسمع عن أبي حنيفة فقال ثقة ما سمعت أحدا ضعفه هذا شعبة بن الحجاج يكتب إليه أن يحدث ويأمره وشعبة شعبة
امام دورقی فرماتے ہیں امام یحییٰ بن معین سے امام ابو حنیفہ کے بارے سوال ہوا اور میں اس بات کو سن رہا تھا۔تو ابن معین نے فرمایا امام ابو حنیفہ ثقہ ہیں میں نے کسی سے نہیں سنا کہ کسی نے امام ابو حنیفہؓ کو ضعیف کہا ہو اور یہ شعبہ ہیں جو ان کو خط لکھتے تھے کہ وہ حدیث بیان کریں اور انہیں کوئی حکم دیں اور شعبہ تو شعبہ ہیں (بھلا شعبہ جیسا ناقد بھی امام ابو حنیفہ کے ضعف کو نہ پہچان سکا ؟؟)
[الانتقاء وسند صحیح]
تحریر: اسد الطحاوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے