امام شعبہ سے امام ابو حنیفہؓ مداح و توثیق اور ان سے مروی جروحات کی اسنادی حیثیت پر تحقیق

امام شعبہ سے امام ابو حنیفہ کی تعریف
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 2 Average: 5]

امام شعبہ سے امام ابو حنیفہؓ مداح و توثیق اور ان سے مروی جروحات کی اسنادی حیثیت پر تحقیق

تحریر: اسد الطحاوی

کچھ وہابیہ امام شعبہ بن الحجاجؒ سے امام ابو حنیفہ پر ضعیف اور کذاب راویوں سے جروحات پیش کرتے ہیں تو ہم پیش کرتے ہیں کہ امام شعبہؒ اور امام ابو حنیفہ ؓ دونوں نا صرف بہت اچھے دوست تھے بلکہ ایک دوسرے کی تعریف کرتے رہتے تھے.پہلے ہم وہابیہ کی طرف سے امام شعبہؒ سے امام ابو حنیفہ پر طعن پیش کیا گیا جبکہ یہ سند میں علت ہے اور یہ متن بھی منکر ہے.
امام عقیلی ( جو کہ متشدد اور متعصب تھا احناف سے )
اس نے اپنی کتاب الضعفاء میں امام ابو حنیفہؒ پر تمام غلط جروحات نقل کی ہیں انکا تعصب اور پھر اس تعصب نے انکے جید شاگرد امام اصیدلانی جو کہ محدث مکہ تھے انکو اپنے استاذ عقیلی کے رد میں کتاب لکھنی پڑی سیرت ابی حنیفہؓ جس میں انہوں نے وہ تعدیل اور مداح نقل کی ہے محدثین سے جسکو جانتے ہوئے بھی امام عقیلی نے اپنی کتاب میں لکھنے سے رکے رہے.جسکی تفصیل آگے آئے گی.

خیر وہ اپنی سند سے امام شعبہؒ سے ایک روایت نقل کرتے ہیں :

ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ اﻷﻋﻴﻦ ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻣﻨﺼﻮﺭ ﺑﻦ ﺳﻠﻤﺔ ﺃﺑﻮ ﺳﻠﻤﺔ اﻟﺨﺰاﻋﻲ ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﺣﻤﺎﺩ ﺑﻦ ﺳﻠﻤﺔ , ﻭﺳﻤﻌﺖ ﺷﻌﺒﺔ ﻳﻠﻌﻦ ﺃﺑﺎ ﺣﻨﻴﻔﺔ

امام عقیلی اپنی سند سے روایت کرتے ہیں کہ منصور بن سلمہ کہ ہیں میں ن سنا حماد بن سلمہ اورسنا اما م شعبہؒ سےوہ امام ابو حنیفہ پر طعن کرتے تھے.

سب سے پہلی بات:

نسخاجات میں سند میں بھی اختلاف ہے ایک نسخے میں اما م عقیلی یہ روایت محمد بن ابراہیم بن جناد سے بیان کرتے ہیں جبکہ ایک نسخے میں یہ روایت ابو بکر الاعین سے مروی ہے
اور تیسری بات یہ ہے کتاب السنہ جس میں کسی خائن نے جروحات کو دوسری کتب سے چوری کر کے اسناد گھڑھ کر لکھا ہے.
اس کتاب میں یہ جرح اس طرح ہے:
 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَتَّابٍ الْأَعْيَنَ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ، «يَلْعَنُ أَبَا حَنِيفَةَ» ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: وَكَانَ شُعْبَةُ ” يَلْعَنُ أَبَا حَنِيفَةَ

[السنہ برقم:345]
یعنی ابو سلمہ نے اسکو وکان کے الفاظ سے بیان کیا جس میں نہ ادراک کی تصریح ہوتی ہے نہ سماعت کی اور ابو سلمہ نے امام شعبہ کی صحبت ہی نہیں پائی تو انہوں نے یہ بات کہاں سے سنی ہے ؟

اس لیے کتاب الضعفاء کے محقق نے اس عبارت کو غیر صحیح قرار دیا ہے۔

Uqaili Nuskha

Uqaili

دوسری بات حماد بن سلمہ امام ابو حنیفہ سے تعصب رکھتا تھا اور ویسے ہی یہ امام اعظم کے خلاف زبان درازی کرتا رہتا تھا،اور  امام اعظم کا ہم عصر  بھی تھا، جس وجہ سے جرح قبول نہیں ہوتی یہ تو پھر طعن ہے۔

جیسا کہ لوگ اسکی زبان درازی کی شکایت امام ابن معین سے بھی کرتے تھے اور امام ابن معین انکے برے الفاظوں کو جو امام اعظم کے خلاف بولے گئے انکی مذمت کرتے تھے
اور امام ابن معین کا تشدد کس سے چھپا ہوا ہے ؟ باوجود اسکے پھر بھی وہ ہر محاض پر امام ااعظم کا دفاع کرتے۔

جیسا کہ سوالات ابن الجنیدی میں امام ابن معین سے انکے شاگرد بیان کرتے ہیں :

سلیمان بن مبعد امام ابن معین سے کہا :
مسلم بن ابراہیم نے ہم سے کہا کہ انہوں نے حماد بن سلمہ کو کہتے سنا :
اللہ ابو حنیفہ کی فلاں فلاں چیز کاٹ دے یہ بات کنایتہ کہی گئی ابن معین کو تو انہوں نے فرمایا بیشک اس نے بری (گھٹیا) بات کی بیشک اس نے بری بات کی ہے
[سوالات ابن الجنیدی ، ص 138]

بن معین اور حماد بن سلمہ


ایک دوسری سند بھی امام عقیلی نے بیان کی ہے امام شعبہ کی امام ابو حنیفہ پر جرح کے حوالے سے وہ کچھ یوں ہے

ﺣﺪﺛﻨﻲ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ اﻟﻠﻴﺚ اﻟﻤﺮﻭﺯﻱ ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻳﻮﻧﺲ اﻟﺠﻤﺎﻝﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﻳﺤﻴﻰ ﺑﻦ ﺳﻌﻴﺪ ﻳﻘﻮﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﺷﻌﺒﺔ، ﻳﻘﻮﻝ: ﻛﻒ ﻣﻦ ﺗﺮاﺏ ﺧﻴﺮ ﻣﻦ ﺃﺑﻲ ﺣﻨﻴﻔﺔ

اسکی سند باطل ہے

کیونکہ اس میں ایک راوی محمد بن یونس جو کہ امام ابن عدی کے نزدیک متہم تھا اور یہ روایات چوری کرتا تھا
امام ابن عدی الکامل میں فرماتے ہیں :
محمد بن يونس الجمال فرواه، عن ابن عيينة وسرقه من حسين الجعفي.
کہ الجمال ابن عینیہ سے روایت کرتا ہے اور حسین الجعفی سے یہ روایت چوری کی ہے
پھر آگے لکھتے ہیں :
وهو ممن يسرق أحاديث الناس
کہ یہ لوگوں سے روایت چوری کرتا تھا
[الکامل فی الضعفاء جلد ۷ ، ص ۷۵۳]

معلوم ہوا یہ سند بھی کسی کام کی نہیں نیز امام ابن حجر عسقلانی بھی اسکو ضعیف مانتے ہیں اور اسکے متعلق یہ بھی کہا گیا ہے امام مسلم نے اس سے روایت کی ہے لیکن اسکا رد بھی امام ابن حجر عسقلانی کرتے ہوئے لکھتے ہیں امام مسلم کا اس سے روایت کرنا ثابت ہی نہیں ہے

– محمد ابن يونس الجمال بالجيم البغدادي ضعيف ولم يثبت أن مسلما روى عنه من العاشرة م
[تقریب التہذیب برقم؛6420]
ابن عدی


جبکے اسکے مقابلے میں امام شعبہ سے مداح اور توثیق روایت ہے جو کہ ہم پیش کرتےہیں۔

امام خطیب بغدادی اپنی تاریخ میں ایک روایت بیان کرتے ہیں بسند صحیح :
أخبرنا محمد بن أحمد بن رزق، أخبرنا إسماعيل بن علي الخطبي، حدثنا الحسين ابن فهم، حدثنا يحيى بن معين عن أبي قطن. قال: كتب لي شعبة إلى أبي حنيفة يحدثني، فأتيته فقال كيف أبو بسطام؟ قلت: بخير، فقال: نعم! حشو المصر هو.

امام یحییٰ بن معین فرماتے ابو قطن (صاحب امام شعبہ) سے :وہ کہتے ہیں مجھے امام شعبہ (خط) لکھ کرابو حنیفہ کی طرف بھیجا کہ مجھے احادیث بیان کریں ۔ میں (یہ خط لیکر) ابو حنیفہ کے پاس پہنچا تو انہوں نے فرمایا کہ ابو بسطام (امام شعبہ کی کنیت ہے ) کا کیا حال ہے ؟
میں نے کہا وہ خیریت سے ہیں تو انہوں (ابو حنیفہ) نے کہا سہی وہ مصر کے سب سے بہترین انسان ہیں
[تاریخ بغداد ، جلد ، جلد ۹، ص۶۶۰، وسند صحیح]

امام شعبہ امام ابو حنیفہ

سند کے رجال کا تعارف!
پہلا راوی : محمد بن أحمد بن محمد بن أحمد بن رزق بن عبد الله بن يزيد بن خالد أبو الحسن البزاز المعروف بابن رزقويه
امام خطیب بغدادی اپنے شیخ کی توثیق کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
وكان ثقة صدوقا، كثير السماع والكتابة، حسن الاعتقاد، جميل المذهب
وهو أول شيخ كتبت عنه
[تاریخ بغداد، برقم:۲۲۹]

دوسرا راوی : إسماعيل بن علي بن إسماعيل بن يحيى، أبو محمد البغدادي الخطبي.
امام ذھبی انکی توثیق نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
وقال الخطيب: كان فاضلا عارفا بأيام الناس، وأخبارهم وخلفائهم. صنف تاريخا كبيرا على السنين.
ووثقه الدارقطني.
[تاریخ الاسلام ، برقم : ۳۵۹]

تیسراراوی: الحسين بن محمد بن عبد الرحمن بن فهم بن محرز، أبو علي البغدادي الحافظ،
امام خطیب انکے بارے فرماتے ہیں :
وكان له جلساء من أهل العلم يذاكرهم. وكان عسرا في الرواية.
قال الدارقطني: ليس بالقوي.
قال ابن كامل: كان حسن المجلس، مفننا في العلوم، كثير الحفظ للحديث مسنده ومقطوعه، ولأصناف الأخبار، والنسب، والشعر، والمعرفة بالرجال، فصيحا، متوسطا في الفقه. يميل إلى مذهب العراقيين.
سمعته يقول: صحبت ابن معين، فأخذت عنه معرفة الرجال،

امام خطیب انکے بارے ابن کامل سے نقل کرتے ہیں :؛ یہ اچھی مجلس والے تھے ، اور علوم میں پختہ تھے ، کثیر احادیث کو حفظ کرنے والے تھے ، یہ اخبار ، نسب، اشعار اور رجال کی معرفت رکھتے تھے ، یہ فصحیح تھے اور فقہ میں متواسط تھے اور میں نے ان سے سنا کہ انہوں نے امام یحییٰ بن معین کی صحبت حاصل کی اور رجال کا علم حاصل کیا
دارقطنی نے کہا کہ یہ قوی نہیں تھے
[تاریخ بغداد ، برقم : ۲۳۰]

امام حاکم مستدرک میں انکی توثیق کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
ليعلم المستفيد لهذا العلم أن الحسين بن فهم بن عبد الرحمن ثقة مأمون حافظ
[مستدرک الحاکم ، جلد ۳، ص ۱۳۷]
اور یہ امام ابن سعد کے بھی شاگرد تھے اور یہ انکی مشہور کتاب طبقات القبریٰ کے بنیادی راوی ہیں

جیسا کہ امام ذھبی انکے بارے فرماتے ہیں :
وفيها الحسين بن محمد بن فهم، أبو علي البغدادي الحافظ، أحد أئمة الحديث. أخذ عن يحيى بن معين، وروى الطبقات عن ابن سعد.
الحسین بن فھم یہ حافظ ہیں اور ائمہ حدیث میں سے ایک ہیں انہوں نے امام یحییٰ بن معین علم(الرجال) سیکھا اور امام ابن سعد سے الطبقات(الکبری) روایت کرتے ہیں
[العبر في خبر من غبر، ص۴۱۶]

چوتھے راوی : امام یحییٰ بن معین ہیں جو کسی تعارف کے محتاج نہیں علم رجال کے سمندر تھے اور امام ابو حنیفہ کے محب تھے

پانچویں راوی : أبو قطن، هو عمرو بن الهيثم القطعي
امام ذھبی انکی توثیق نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
قال أبو حاتم: صدوق، صالح الحديث.
وقال ابن معين: ثقة.
[تاریخ الاسلام ،برقم:۳۷۶]

اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ امام شعبہ جیسا ناقد رجال جو جرح کرنے میں متعنت سمجھے جاتے تھے اور عمومی طور پر انکے تمام شیوخ ثقہ ہوتے ہیں جن سے یہ روایت کرتے ہیں اور یہ امام ابو حنیفہ جو کہ انکے بھی شاگرد تھے حدیث میں یہ انکو خط لکھ کر حدیث بیان کرنے کی درخواست کرتے تھے.اور یہ بہت ہی بڑی اور قابل فخر بات ہے کیونکہ امام شعبہ کوئی چھوٹی موٹی شخصیت نہیں تھے.
امام یحییٰ بن معین جیسا متشدد ناقد امام شعبہ کی اس بات پر فخر کرتے تھے اور اسکو بطور فخریہ طور پر امام ابو حنیفہ کی ثقاہت پر بطور دلیل پیش کرتے تھے .امام ابن عبدالبر المالکی اپنی مشہور کتاب الانتقاء میں اپنے شیخ الشیخ کی کتاب سے امام ابو حنیفہؓ کی توثیق امام ابن معین اور امام شعبہ سے نقل کرتے ہیں جسکی سند یہ ہے.

حدثنا حكم بن منذر قال نا أبو يعقوب قال نا أحمد بن الحسن الحافظ قال نا عبد الله بن أحمد بن إبراهيم الدورقي قال سئل يحيى بن معين وأنا أسمع عن أبي حنيفة فقال ثقة ما سمعت أحدا ضعفه هذا شعبة بن الحجاج يكتب إليه أن يحدث ويأمره وشعبة شعبة

ترجمہ: امام ابن عبدالبر کہتے ہیں ہم سے بیان کیا حکم بن منذر نے وہ کہتے ہیں ہم سے بیان کیا ابو یعقوب نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا احمد بن الحسن الحافظ نے نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا عبداللہ بن احمد بن ابراھیم الدروقی نے وہ کہتے ہیں سائل نے یحییٰ بن معین سے ابو حنیفہ کے بارے پوچھا اور میں اسکو سن رہا تھا.تو امام ابن معین کہتے ہیں ہیں کہ امام ابو حنیفہ ثقہ ہیں میں نے کسی سے نہیں سنا کہ کسی نے امام ابو حنیفہؓ کو ضعیف کہا ہو اور یہ شعبہ ہیں جو ان کو خط لکھتے تھے کہ وہ حدیث بیان کریں اور انہیں کوئی حکم دیں اور شعبہ تو شعبہ ہیں.


نوٹ: یہ یاد رہے کہ امام ابن عبدالبر کے پاس انکے شیخ الشیخ یعنی امام ابو یعقوب یوسف الصیدلانی کی تصنیف جو کہ سیرت امام ابی حنیفہ و اخبار پر لکھی گئی تھی وہ انکے پاس موجود تھی اور یہ اس کتاب سے با اسناد روایات نقل کرتے تھے
اور امام ابن عبدالبر کو وہ کتاب امام حکم بن منذر نے بیان کی تھی کیونکہ امام حکم بن منذر شاگرد ہیں امام یعقوب یوسف الصیدلانی کے !
انکی توثیق پیش کرنے کی ضرورت نہین ہے ویسے کیونکہ امام ابن عبدالبر کے پاس امام ابو یعقوب الصیدلانی کی تصنیف کردہ کتاب موجود تھی جسکی تصریح انہوں نے اپنی کتاب الانتقاء میں کر دی ہے.اسکی سند بالکل صحیح ہے.

اب ایک اور تعدیل امام شعبہ سے جو امام ابن عدی نے بیان کی ہے

ثنا ابن حماد قال: و حدثنی ابو باکر الاعین حدثنی یعقوب بن شیبہ عن الحسن الحوانی سعت شبابة یقول : کان شعبة حسن الرائ فی ابی حنیفة
امام شبابہ (امام شعبہ کے مقدم شاگرد) کہتے کہ امام شعبہ امام ابو حنیفہ کے بارے میں اچھی رائے رکھتے تھے
اور امام ابن معین سے انکا حدیث لینا بھی بیان کیا ہے اور یہ بات غیر مقلدین کو بھی معلوم ہےکہ امام شعبہ اپنے نزدیک صرف ثقہ ہی سے روایت کرتے ہین
[الکامل ابن عدی وسندہ صحیح ]

اور امام ابن معین جو امام شعبہ کے نزدیک ترین زمانے کے تھے انکو امام شعبہ کی ابو حنیفہ پر کوئی جرح نہ معلوم تھی بلکہ وہ تو اسکا مطلق انکار کرتے ہیں کہ انکے زمانے میں کوئی بھی امام ابو حنیفہ پر جرح نہیں کرتا تھا
اس سے بڑی گواہی اور کیا چاہیے!

نیز امام شبابہ سے امام شعبہ کے اس کلام کو دوسری سند سے امام ابن عبد البر نے بھی اپنی سند سے نقل کیا ہے جسکی تفصیل یوں ہے :

قال أبو يعقوب حدثنا أبو مروان عبد الملك بن الحر الجلاب وأبو العباس محمد بن الحسن الفارض قال نا محمد بن إسماعيل الصائغ قال سمعت شبابة بن سوار يقول كان شعبة حسن الرأي في أبي حنيفة وكان يستنشدني أبيات مساور الوراق
(إذا ما الناس يوما قايسونا … بآبدة من الفتيا طريفة)
(رميناهم بمقياس مصيب … صليب من طراز أبي حنيفة)
(إذا سمع الفقيه به وعاه … وأثبته بحبر فى صحيفه)

امام شبابہ کہتے ہیں کہ امام شعبہ امام ابو حنیفہ کے بارے بہت اچھی رائے رکھتے تھے اور وہ مساور شاعر کی (ابو حنیفہ کے بارے)منقبت بھی مجھ سے سنا کرتے تھے جو یہ ہے :

جس دن بھی لوگ پیچیدہ اور باریک مسائل کے بارے میں
فتویٰ سے متعلق ہمارا مقابلہ کرنے کی کوشش کرینگے

تو ہم امام ابو حنیفہ کی کمان میں سے نشانہ پر لگنے
والے مضبوط تیر کے زریعےان پر تیر اندازی کرینگے

جب کوئی فقیہ انکی (ابو حنیفہ) کی بات کو سنے گا
اور قلم دوات کے زریعے صفحوں میں اثبت (محفوظ) کر لےگا

[الانتقاء ص ۱۲۶ ، وسند صحیح]

 

دعاگو:اسد الطحاوی الحنفی البریلوی !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے