تفضیل مولا علی پر امام یحییٰ بن معین علیہ رحمہ سے مروی چند روایات کی تحقیق

تفضیل شیخین اور امام ابن معین
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 2 Average: 5]

تفضیل مولا علی پر امام یحییٰ بن معین علیہ رحمہ سے مروی چند روایات کی تحقیق

ایک تحریر ہماری نظر سے گزری جس پر ہم کو کچھ اشکال ہے تو ان شاء اللہ ہم اسکو نقل کرکے اسکا علمی جائزہ پیش کرینگے!
تحریر کچھ یوں ہے :#جلیل_القدر_ثقہ_ثبت_آئمہ_محدثین_کا_تفضیل_مولا_علی_علیہ_السلام_کا_قائل_ہونا…!!!

امام جرح و تعدیل أبو زکریا یحییٰ بن معین م233ھ رحمه الله فرماتے ہیں :

سمعت يعلى بن عبيد يقول : كان أبي يقدم علياً على أبي بكر وعمر وهذا رأيي .
میں نے یعلی بن عبید (ثقہ امام) سے سنا انہوں نے کہا میرے والد (عبيد بن أبي مية ثقہ صدوق تبع تابعی) مولا علی علیہ السلام کو ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پر افضلیت دیتے تھے اور میری بھی یہی رائے ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ امام یحییٰ بن معین نے انکو شیعت کی طرف منسوب کیا ہوا تھا
جیسا کہ اسی کتاب میں امام ابن معین کا فرمان ہے :
سمعت يحيى بن معين يقول: كان يعلى بن عبيد يتشيع.
میں نے امام یحییٰ بن معین کو فرماتے سنا : یعلی بن عبید شیعہ تھے!
(چونکہ امام ابن معین اسکے تشیع کی دلیل پر مطلع تھے)

تحریر کا اگلا حصہ درج ذیل ہے:
امام یحییٰ بن معین مزید فرماتے ہیں :
سأل سلمة بن عفان يحيى بن آدم فقال له : ترى السيف ؟ قال : لا أرى السيف على أحد من أمة محمد ولكن مالقيت أحداً من أهل هذا المصر إلا وهو يقدم عليـاً على أبي بكر وعمر ماخلا سفيان الثوري فإني لا أدري .
سلمہ بن عفان نے یحیٰی بن آدم (ثقہ حافظ) امام سے پوچھا کیا تم تلوار دیکھ رہے ہو؟ اس نے کہا: مجھے امت محمدیہ میں سے کسی پر تلوار نظر نہیں آتی لیکن میں اس مصر کے لوگوں میں سے کسی ایسے شخص سے نہیں ملا جو علی کو ابوبکر و عمر پر افضلیت نہ دیتا ہو، سوائے سفیان ثوری کے، انکے مؤقف کے بارے میں نہیں جانتا ۔ (رضی اللہ عنهم)

الجواب (اسد الطحاوی)
یہاں تلوار سے مراد فتنہ ہے یعنی یحییٰ بن آدم سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نے تلوار یعنی فتنہ دیکھا ہے تو انہوں نے کا نہیں سوائے یہ کہ اہل مصر کے باشندوں سے ملا ان میں کوئی بھی ایسا نہ تھا جو مولا علی کو حضرت ابو بکر و عمرؓ پر تفضیل نہ دیتا ہوں ۔
اور اگلی بات عجیب ہے کہ امام سفیان ثوری کے علاوہ میں یہ رائے نہیں جانتا
جبکہ امام سفیان تو کوفہ کے تھے انکا ذکر اہل مصر کے لوگوں میں کیسے کیا جا رہا ہے یہ بات مبھم ہے اس میں ۔
نیز نہ ہی کہیں اس میں امام یحییٰ بن آدم نے کہیں یہ کہا ہے کہ انکا بھی ایسا عقیدہ ہے بلکہ انہوں نے اہل مصر کے لوگوں کا یہ عقیدہ بطور تفرد بیان کیا ہے انکا بس ایسا عقیدہ ہے جس کو وہ تلوار یعنی فتنہ سے تشبیہ دے رہے ہیں
جہاں تک مجھکو یہ روایت سمجھ آئی !!

تحریر کا اگلا حصہ !
امام یحییٰ بن معین رحمه الله مزید فرماتے ہیں :
سمعت عبيد الله بن موسى يقول : ما كان أحد يشك في أن عليا أفضل من أبي بكر وعمر .
میں نے عبید اللہ بن موسیٰ (ثقہ) کو سنا وہ کہتے ہیں: اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ علی ابوبکر اور عمر سے افضل ہیں۔ (رضی اللہ عنهم)
(معرفة الرجال 1/159 )
اور اسی وجہ سے عبید اللہ جو کہ روایت میں ثقہ ہے لیکن ائمہ متقدمین جیسا کہ امام احمد و ابو داود نے اسکو غالی شیعہ میں شمار کیا ہے
جیسا کہ امام ذھبی لکھتے ہیں :
ثقة في نفسه، لكنه شيعي متحرق
یہ اپنی ذات کے اعتبار سے ثقہ تھا لیکن متحرق یعنی غالی قسم کا شیعہ تھا
وقال أبو داود: كان شيعيا متحرقا.
امام ابو داود کہتے ہیں یہ غالی شعیہ تھا
[میزان الاعتدال]
معلوم ہوا کہ ایسے لوگوں جو کہ تفضیل دیتے حضرت ابو بکر و عمرؓ پر حضرت علیؓ کو تو انکو شیعہ میں ہی شمار کیا گیا ہے اہلسنت کی طرف سے !!!

اب امام یحییٰ بن معین سے تفضیل حضرت ابو بکر و عمرؓ پر تصریحات!
سمعت فهم بن عبد الرحمن يقول : سمعت وكيعا يقول : قال سفيان : من قدم عليا على أبي بكر وعمر فقد أزرى على أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم .
امام ابن معین فہم کے طریق سے امام وکیع سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں امام سفیان ثوری نے کہا جس نے حضرت علیؓ کو حضرت ابو بکرؓ و عمرؓ پر مقدم کیا اس نے اصحاب رسولﷺ (کے فیصلے) کی نا فرمانی کی
مزید  ابن معین اپنے بارے فرماتے ہیں :
سمعت يحيى بن معين يقول : من قدم أبا بكر وعمر فقد أصاب ، ومن أمسك عند علي وعثمان فقد أصاب .
قال يحيى بن معين : ونحن نقدم عثمان على على .
امام یحییٰ بن معین فرماتےہیں:
جنہوں نے حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمرؓ کو مقدم کیا وہ بھی ٹھیک ہیں
اور جنہوں نے حضرت علیؓ و حضرت عثمانؓ کے مسلہ تفضیل پر خاموشی اختیار کی وہ بھی ٹھیک ہیں
البتہ امام ابن معین فرماتے ہیں ہم حضرت عثمانؓ کو حضرت علیؓ پر مقدم یعنی افضل قرار دیتے ہیں
[معرفہ الرجال ابن معین]
نوٹ:
(معلوم ہوا امام ابن معین کے نزدیک جمہور و اجماعی موقف یہی تھا کہ حضرت علیؓ حضرت عثمانؓ سے افضل نہیں یہی بہتر ہے البتہ جو خاموشی اختیار کرتے ہیں اس میں بھی حرج نہیں
لیکن صحیح لوگ صرف وہی ہیں جو حضرت ابو بکرؓ و عمرؓ کو افضل قرار دیتے ہیں
اسکے بعد بیشک خاموشی اختیار کرلے حضرت علیؓ و عثمان کے بارے!!!
تو موصوف نے آخر میں جو نتیجہ نکالے وہ سب کے سب باطل ہو گئے
تحریر:
اسد الطحاوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے