امام بایزید بسطامی علیہ رحمہ پر اعتراض کا جواب اور امام ذھبیؒ کا موقف

bayazid
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 5]

امام بایزید بسطامی علیہ رحمہ پر اعتراض کا جواب 

تحریر: اسد الطحاوی الحنفی

امام بایزید بسطامی

امام بایزید بسطامی علیہ رحمہ پر اعتراض:کچھ لوگ  امام با یزید بسطامی علیہ رحمہ کے بارے امام ذھبیؒ کا ادھورا موقف پیش کر کے لوگوں کو متنفر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ صوفیت گمراہی ہے یا صوفیاء ہوتے ہیں ایسے ہیں۔

امام ذھبیؒ نے اپنی میزان میں ثقہ اور غیر ثقہ ہر ان رجال کو شامل کیا جن پر جروحات چاہے مفسر یا مبھم اور ثابت یا غیر ثابت ہوئیں انکو شامل کیا ہے اور انہوں نے یہ منہج امام ابن عدیؒ کی کتاب الکامل فی ضعفاء الرجال سے اخذ کیا ہے کیونکہ امام ذھبیؒ کو کتب رجال ضعفاء میں امام ابن عدی کی الکامل سے زیادہ پسند اور کوئی کتاب نہ تھی جیسا کہ انہوں نے میزان کے مقدمہ میں بھی تصریح کی ہے۔ تو اس وجہ سے میزان میں امام بایزید بسطامی کو بھی شامل کیا ہے۔ کیونکہ ان پر کچھ باتیں منسوب تھیں۔

برحال!!!

ہم امام ذھبیؒ سے پہلے میزان الاعتدال سے امام بایزید بسطامی علیہ رحمہ کا مکمل ترجمہ پیش کرتے ہیں :

امام ذھبیؒ فرماتے ہیں :

طيفور بن عيسى، أبو يزيد البسطامى شيخ الصوفية، له نبأ عجيب وحال غريب. وهو من كبار مشايخ الرسالة، وما أحلى قوله: لو نظرتم إلى رجل أعطى من الكرامات حتى يرتفع في الهواء فلا تغيروا به حتى تنظروا كيف هو عند الامر والنهى وحفظ حدود الشريعة. وقد نقلوا عن أبي يزيد أشياء الشأن  في صحتها عنه، منها: سبحاني. وما في الجبة إلا الله. ما النار لاستندن إليها غدا، وأقول: اجعلني لاهلها فداء، أو لابلغنها. ما الجنة  لعبة صبيان، هب لي هؤلاء اليهود، ما  هؤلاء حتى تعذبهم؟ ومن الناس من يصحح هذا عنه ويقول: قاله في حال سكره. قال أبو عبد الرحمن السلمي: أنكر عليه أهل بسطام، ونقلوا إلى الحسين بن عيسى البسطامى أنه يقول له معراج كما كان للنبي صلى الله عليه وسلم، فأخرجه من بسطام، فحج ورجع إلى جرجان، فلما مات الحسين رجع إلى بسطام.

قلت: كان / الحسين من أئمة الحديث.

وأبو يزيد من أهل الفرق  فمسلم  حاله له، والله يتولى السرائر، ونتبرأ إلى الله من كل من تعمد مخالفة الكتاب والسنة.

یہ صوفیاء کے سردار ہیں انکے بارے میں بڑی حیران کن روایات منقول ہیں ، یہ اکابر مشائخ میں سے ایک ہیں ۔

انکا درجہ زیل قول نہایت عمدہ ہے :

”اگر تم کسی شخص کو دیکھو کہ اسے کرامات عطاء کی گئی ہوں ، یہاں تک کہ وہ ہوا میں بلند ہو جاتا ہو، تو تم اس وقت تک اسکا اعتبار نہ کرو، جب تک تم یہ جائزہ نہیں لے لیتے کہ شرعی احکام کی پابندی اور شریعت اور ممنوعہ چیزوں سے رکنے کی حدود کا خیال رکھنے کے حوالے سے وہ کیسا ہے ”۔

لوگوں نے ان کے حوالے سے کچھ ایسی چیزیں بھی نقل کی ہیں ، جن کا ان سے مستند طور پر منقول ہونا قابل اعتراض ہے ۔ جس میں سے ایک یہ بھی ہے ۔

”میں ہر عیب سے پاک ہوں ” اور ”جبے کے اندر صرف اللہ ہے”

”آگ کیا ہے ؟ کل میں خود اس تک پہنچ جاونگا میں یہ کہتا ہوں یا تو مجھے جہنم کا فدیہ بنا دے یا میں اس تک پہنچ جاتا ہوں ، جنت کیا ہے ؟ یہ بچوں کے کھیل کود کا سامان ہے ، مجھے یہ یہودی رہبہ کر دے یہ کیا ہیں کہ تو انہیں عذاب کرے گا ؟”

بعض حضرات نے ان کے حوالے سے ان روایات کو درست قرار دیا ہے ۔ اور یہ کہا ہے : کہ انہوں نے (حالت)سکر کے دوران یہ اقوال کہے تھے ۔امام ابو عبد الرحمن السلمی کہتے ہیں : اہل بسطام نے ان کا انکار کیا ، انہوں نے حسین بن عیسیٰ بسطامی کو یہ بتایا : کہ وہ (بایزید) یہ کہتے تھے کہ :انہیں بھی اسی طرح معراج ہوئی تھی ، جس طرح نبی اکرمﷺ کو ہوئی تھی ، تو حسین بن عیسیٰ بسطامی نے انہیں بسطام سے نکال دیا تھا انہوں نے حج کیا ، پھر یہ جرجان چلے گئے ، جب حسین کا انتقال ہوا تو یہ بسطام واپس آگئے ۔

میں (امام ذھبیؒ) کہتا ہوں :

حسین بن عیسیٰ بسطامی علم حدیث کے ماہرین علماء میں سے ایک تھے ۔ جہاں تک بایزید کا تعلق ہے تو انکی حالت تسلیم شدہ ہے  اور اللہ نے پوشیدہ معاملات کا نگران ہے اور ہم اللہ کی بارگاہ میں ہر اس چیز سے بری زمہ ہونے کا اظہار کرتے ہیں جو انہوں نے کتاب وسنت کے برخلاف جان بوجھ کر کہا ہو ۔انکا انتقال ۲۶۱ھ میں ہوا تھا

[میزان الاعتدال برقم: 4035]

 فقط میزان الاعتدال میں ہی امام ذھبی کا موقف دیکھا جائے تو انہوں نے پہلے امام بایزید بسطامی کا ایک ایسا قول بیان کیا جس میں وہ شریعت اور اسکی حدود و قیود کو مقدم کرتے ہیں کرامات پر جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ شریعت کی سختی سے پابندی کرنے والے تھے۔

 پھر امام ذھبی نے صیغہ مجہول سے انکی طرف منسوب کچھ ایسے اقوال کو نقل فرمایا ہے جسکے بارے میں یہ بھی تصریح کرتے ہیں یہ کسی مستند طریق سے ان سے ثابت نہیں ہیں ۔

اور یہ بھی کہ  بعض لوگ (صیغہ مجہول ) نے ان باتوں کو بسطامی  کی طرف منسوب ہو نے کو صحیح قرار دیا بھی ہے تو انہوں نے یہ تصریح کی ہے ان سے یہ اقوال حالت سکر میں ہونے کے سبب مروی ہوئی ہیں۔

 اور حالت سکر یہ ایسی کیفیت ہوتی ہے جو اولیاء اللہ پر جب طاری ہوتی ہے تو وہ اس وقت مجزوب بن جاتے ہیں اور انکی حالت غیر ہوجاتی ہے اور اس حالت میں ان سے جو بھی مروی ہو جائے تو اس پر کبھی فتویٰ نہیں لگایا جاتاہے۔

کیونکہ حدیث رسولﷺ ہے کہ قلم ایسے  اشخاص سے اٹھا لیا جاتا ہے  جو بچہ ہو ، اور جو پاگل ہو۔ کیونکہ جو پاگل اور مجزوب کی ہیت ایک جیسی ہوتی ہے اس لیے ان پر شرعی فتویٰ نہیں لگے گا جب انکی امامت متواتر ہو ۔

اسکے بعد امام ذھبیؒ نے یہ گواہی دی کہ انکی حالت تسلید شدہ ہے یعنی انکی امامت پر اتفاق ہے لیکن ہم انکے پوشیدہ معاملات سے لا علم ہے اگر انہوں نے جان بوجھ کر ایسا کہا ہو تو ہم اللہ سے مغفرت طلب کرتے ہوئے بری زمہ ہیں ۔


نوٹ:اگر کوئی امام ذھبیؒ کے آخری جملے  اپنی جہالت کے سبب یہ سمجھے کہ امام ذھبیؒ نے اللہ پر چھوڑ دیا یا انکو امام با یزید بسطامی پر شک تھا۔

تو وہ امام ذھبیؒ کے منہج و اصول سے ناواقف اور جاہل ہے کیونکہ امام ذھبیؒ ہر ثقہ اور امام کی طرف منسوب کردہ اقوال جو کہ غیر ثابت ہوں انکی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ مستند طور پر ثابت ہیں یا نہیں۔اوراسکے بعد وہ ان اقوالات کی تاویل بھی نقل کرتے ہیں جو اہل علم لوگوں سے مروی ہو۔ جیسا کہ انکے ترجمہ میں سکر حالت  کی تصریح کی ہے ۔اور آخر میں وہ اللہ پر حقیقی معاملے کو بھی چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ قطعی علم تو اللہ ہی کو ہے ۔ اسکا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ امام ذھبیؒ کو شکوک و شبھات ہوں ۔


مثلا:

امام ابن حبانؒ صاحب صحیح ابن حبان پر زندیق کی جرح کی تھی انکے ہم عصر لوگوں نے اور انکو بھی ملک سے نکال دیا گیا تھا ۔ ؂اور جس وجہ سے امام ابن حبانؒ کو زندیق کہا گیا۔

اسکا پس منظر نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

قال أبو إسماعيل الأنصاري: سمعت عبد الصمد بن محمد بن محمد يقول: سمعت أبي يقول: أنكروا على ابن حبان قوله: النبوة العلم والعمل، وحكموا عليه بالزندقة، وهجروه. وكتب فيه إلى الخليفة فأمر بقتله.وسمعت غيره يقول: لذلك أخرج إلى سمرقند

 ابو اسماعیل کہتا ہے میں نے عبد الصمد بن محمد کو یہ کہتے ہوئے سنا ہےوہ کہتے ہیں  کہ میں نے اپنے والد کو یہ کہتے سنا ہے  :علماء نے ابن حبان کے اس قول کا انکا ر کیا ہے جو ابن حبان کہتا ہے : ”نبوت علم اور عمل کا مجموعہ ہے ”اور علماء نے اس (ابن حبان) پر زندیق ہونے کا حکم عائد کیا ہے اور ابن حبان سے لا تعلقی اختیار کر لی (یعنی ابن حبان کو ترک کر دیا گیا )علماء نے اس (ابن حبان) کے بارے خلیفہ کو خط لکھا تو خلیفہ نے اس(ابن حبان) کو قتل کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

اس کے بعد امام ذھبی  نے ابن حبان کے اس قول کی ایک تاویل پیش کی کہ یہ اسکا مطلب فلاں ہو سکتا ہے ۔۔۔

اس پر کلام کرنے کے بعد یوں ختم کرتے ہیں :

 وإن كان عنى الحصر، أي ليس شئ إلا العلم والعمل، فهذه زندقة وفلسفة.

اور اگر ابن حبان کی مراد حصر ہو یعنی کوئی بھی چیز نہیں ہوتی سوائے اور عمل کے تو پھر یہ زندیقیت ہے اور فلسفہ ہوگا۔

[میزان الاعتدال برقم : 7346]


تو پتہ چلا امام ذھبیؒ نے پہلے امام ابن حبان کے موقف کی تاویل کی اور اسکے بعد دوسری حالت میں یہ بھی کہا کہ اگر اس سے مراد وہی ہے جو کے ان سے نقل کیا گیا ہے  پھر یہ زندیقیت ہے۔تو کیا اب بھی کوئی یہ کہے گا کہ امام ذھبیؒ نے امام ابن حبان پر زندیقیت کے فتوے کو اللہ پر چھوڑ دیا اور دفاع نہیں کیا ؟

تو اسکو بھی یہی کہا جائے گا بیشک امام ذھبی نے تاویل کی اور دفاع بھی کیا امام ابن حبان کا لیکن حقیقی علم قطعی تو فقط اللہ کی ذات کو ہوتا ہے تو ناقد دوسری صورت کا بھی ذکر کرتا ہے اسکا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ مصنف خود مشکوک ہے ایسے راوی پر ۔


امام ذھبیؒ کی نظر میں امام با یزید بسطامی مقام انکی دوسری کتب سے۔

تاریخ الاسلام میں امام ذھبی امام بایزید بسطامیؒ کے بارے فرماتے ہیں :

مِن كبار مشايخ القوم. كانا زاهدَيْن عابدين

یہ ہماری امت کے کبار مشائخ میں سے ہیں، یہ زاہد اور عبادت گزار لوگوں میں سے ایک تھے۔

او ر اپنی آخری تصنیف میں انکو ان القابات سے متعارف کرواتے ہیں :

سلطان العارفين، ، أبو يزيد طيفور بن عيسى بن شروسان البسطامي،

کہ یہ عارفین کے سلطان ہیں۔

وجاء عنه أشياء مشكلة لا مساغ لها، الشأن في ثبوتها عنه، أو أنه قالها في حال الدهشة والسكر

کے انکے حوالے سے کچھ مشکل غیر واضح چیزیں مروی ہوئی ہیں جنکا ثبوت ان سے قابل اعتراض ہے یا وہ ان سے حالت سکر میں مروی ہوئی ہیں۔

امام ذھبیؒ کی اس بات کی تشریح کرتے ہوئے علامہ شعیب الارنووط فرماتے ہیں :

المقصود بالسكر هنا: الشوق والوله بالله تعالى، وقد ورد في ” الحلية ": 10 / 40 ما يوضح ذلك: ” كتب يحيى بن معاذ إلى أبي يزيد: سكرت من كثرة ما شربت من كأس محبته.

سکر سے امام ذھبی کی مراد ہے کہ اللہ کی آرزو اور بے حد محبت ہے،جیسا کہ امام ابو نعیم الحلیہ الاولیاء میں وارد کیا ہے یحییٰ بن معاذ نے ابی یزید سے لکھا ہے : میں حالت سکر میں کثرت سے ہوں کہ  اسکی محبت کے پیالے سے جام پیے ہیں ۔ 

[سیر اعلام النبلاء برقم: 49]

 مجزوبیت کیا ہوتی ہے اور اولیاء اللہ میں کس درجے کے صوفیاء مجزوبیت کے درجہ پر فائض ہوتے ہیں اس پر علامہ ابن تیمیہ نے ایک مفصل کتاب لکھی ہے بنام المجزوب ۔۔

 دعاگو: اسد الطحاوی الحنفی البریلوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے