امام احمد بن حنبلؒ کی نظر میں  امام محمد بن الحسن الشیبانی کا علمی مقام

امام محمد بن حسن شیبانی
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 2 Average: 5]

امام احمد بن حنبلؒ کی نظر میں  امام محمد بن الحسن الشیبانی کا علمی و فقہی مقام ومرتبہ

امام احمد  بن حنبل کی نظر میں امام محمد بن حسن شیبانی کا مقام:امام احمد بن حنبل پہلے امام ابی حنیفہ سے منحرف تھے لیکن پھر انہوں نے اعلان کیا کہ انکے نزدیک یہ بات ثابت نہیں کہ ابی حنیفہ نے قرآن کو مخلوق کہا ہو۔ جسکے بعد امام احمد بن حنبل امام ابو حنیفہ کے علم کے نا صرف معتقد ہوئے بلکہ انکے اصحاب کی بھی تعریف و توثیق فرمائی ہے۔

اسی طرح امام اعظم کے صاحبین پر بھی جرح سے انہوں نے نہ صرف رجوع کیا بلکہ استفادہ بھی کرنے لگ گئے تھے۔

امام احمد امام محمد کے بارے پہلے درج ذیل موقف رکھتے ہوئے جرح کرتے تھے۔

۱۔ محمد بن حسن کے بارے امام احمد کہتے ہیں:

لیس بشئ ولا یکتب حدیثہ
کہ محمد بن حسن کوئی چیز نہیں ہے اور اسکی روایت نہ لکھی جائے
[الکامل ابن عدی]
باوجود اسکے کہ یہ جرح ساری کی ساری مبھم ہی اسکا سبب آگے پیش کرینگے۔

کیا امام احمد اصحاب ابی حنیفہ سے پہلے بغض رکھتے تھے ؟ بالکل اسکی گواہی انہی سے پیش کرتے ہیں :

امام احمد کے شاگرد اسحاق بن راھویہ (جسکا باطل دعویٰ تھا کہ امیر معاویہ کے فضائل میں کوئی بھی صحیح روایت نہیں )
امام احمد سے پوچھتا ہے :
قلت: يؤجقال: إي والله.ر الرجل على بغض أصحاب أبي حنيفة
قال: إي والله.
میں نے پوچھا کہ اصحاب ابی حنیفہ سے بغض رکھنا جائز ہے ؟
تو امام احمد نے کہا : ہاں اللہ کی قسم
[مسائل الإمام أحمد بن حنبل وإسحاق بن راهويه برقم ۳۴۴۱]

یہی بات ہم وابیوں کو کہتے ہیں کہ ابو حنیفہ اور انکے اصحاب پر جروحات تعصب میں کہیں گئی تو ہم کو گستاخ بناتے ہیں تو پھر امام احمد نے خود پر جرح کر رکھی ہے یوں تو اب امام احمد اصحاب ابی حنیفہ سے تعصب و بغض کیوں رکھتے تھے ؟

اسکا ثبوت بھی امام احمد سے پیش کرتے ہیں :
امام عبداللہ بن احمد اپنے والد امام احمد بن حنبل سے بیان کرتا ہے :
اهل رای لا یروی عنهم الحدیث
[العلل المعرفہ الرجال ، ص ۲۷۲]

معلوم ہوا کہ امام احمد اصحاب ابی حنیفہ کے بارے جو فتویٰ دیا کہ۔

1. یہ کوئی چیز نہیں ہیں ان سے حدیث نہ لکھی جائے
2. اور ان سے بیان بھی نہ کیا جائے

کیا امام حمد بن حنبل اپنے اس فتوے پر قائم رہے ؟ یا رجوع کیا ؟

اسکے دلائل پیش کرتے ہیں:

امام احمد کے اپنے ہی بیٹے اپنے والد سے بیان کرتے ہیں :

حدثني الصوري، قال: أخبرني عبد الغني بن سعيد، قال: أخبرنا أبو طاهر محمد بن أحمد بن عبد الله بن نصر، قال: حدثني إبراهيم بن جابر، قال: حدثني عبد الله بن أحمد بن حنبل، قال: كتب أبي عن أبي يوسف، ومحمد، ثلاثة قماطر، فقلت له: كان ينظر فيها؟ قال: كان ربما نظر فيها،

امام عبداللہ بن احمد کہتے ہیں کے میرے والد ابو یوسف اور محمد بن الحسن سے تین بڑے تھیلے علم کے لکھے میں نے پوچھا کہ آپکے والد انکا مطالعہ بھی کرتے تھے ؟ تو انکے بیٹے نے کہا بیشتر اوقات وہ ان کتب کا مطالعہ کرتے تھے
[تاریخ بغدادوسند صحیح ]

یہ کیا ؟ وہ تو کہتے تھے کہ ان سے حدیث ہی بیان نہ کی جائے اور پھر خود تین بڑے تھیلے (کے برابر تحریرات) لکھ بیٹھے اصحاب ابی حنیفہ سےتو ایسی کیا مجبوری آن پڑی تھی امام احمد کو کہ ان کو اہل رائے کہہ کر ان سے روایت نہ لکھنے کا فتویٰ بھی پہلے دے بیٹھے۔
اور پھر ان سے تین بڑے تھیلوں کے برابر حدیث ، اثار اور انکے اجتیہاد کو بھی لکھ بیٹھے جسکو یہ رائے کہہ کر رد کر دیتے تھے پہلےانکا دوسرا موقف یہ تھا کہ یہ لیس بشئ ہیں یعنی امام محمد کوئی چیز نہیں ہیں تو کیا واقعی امام احمد کے نزدیک امام محمد الشیبانی کوئی چیز نہیں تھے ؟

اسکا ثبوت :

اخبرنا احمد بن محمد الصيرفي قال ثنا علي بن عمرو الحريري قال ثنا علي بن محمد القاضي النخعي قال ثنا أبو بكر القاطيسي قال ثنا إبراهيم الحربي قال سألت احمد بن حنبل قلت هذه المسائل الدقاق من أين لك قال من كتب محمد بن الحسن

امام ابراہیم الحربی کہتے ہیں میں نے امام احمد بن حنبل سے پوچھا کہ اتنے دقیق اور بریک مسائل (کا حل) آپ کہا سے لیتے ہیں ؟
تو امام احمد نے کہا امام محمد بن حسن کی کتب سے
[اخبار ابی حنیفہ الصیمری و سند صحیح]

اگر واقعی امام محمد لیس بشئ تھے اور فقط رائے دیتے تھے تو امام احمد کو ایسے دقیق مسائل جنکا حل انکو قرآن و حدیث میں تصریحا نہ ملا تو امام محمد بن حسن کی کتب کے محتاج ہو گئے۔

اس روایت میں چونکہ امام احمد سے امام محمد کی مداح اور فقاہت کا صریح ثبوت تھا تو اس پر زبیر کے مقلدوں کا محکک زئی نے یہ اعتراض جڑا کہ محمد بن بشر بن مروان أبو بكر القراطيسي ہے یہ مجہول ہے امام خطیب نے انکو تعدیل کے بغیر بیان کیا ہے ترجمہ
جبکہ جس راوی کا تعین کیا زبیری محکک نے وہ اس طبقے کا نہیں جیسا کہ امام خطیب فرماتے ہیں :

محمد بن بشر بن مروان أبو بكر القراطيسي من أهل دمشق، قدم بغداد وحدث بها عن بحر بن نصر، والربيع بن سليمان المصريين.
روى عنه: أبو الحسن الدارقطني، ومحمد بن جعفر بن العباس النجار.

جیسا کہ یہ امام شافعی کے اصحاب امام ربیع بن سلیمان المرادی وغیرہم سے بیان کرنے والا ہے
[تاریخ بغداد]

ربیع بن سلیمان تو امام شافعی کےشاگرد تھے
اور امام احمد بھی امام شافعی کے شاگرد تھے
جبکہ
اس روایت میں جو ابو بکر ابراہیم الحربی سے بیان کر رہا ہے وہ تو امام شافعی کے شاگرد امام احمد اور انکے شاگرد ہیں امام حربی جو کہ مکمل نچلا طبقہ ہے

جبکہ جو اصل راوی ہے اس سند میں
عمر بن سعد بن عبد الرحمن أبو بكر القراطيسي حدث عن أبي بكر بن أبي الدنيا.
روى عنه أبو بكر محمد بن الحسين الآجري، وأبو الفتح محمد بن الحسين الأزدي، وأبو عمر بن حيويه، وأبو عبيد الله المرزباني، وكان ثقة.

یہ راوی عمر بن سعد ابو بکر القراطیسی ہے جو کہ ابن ابی الدنیاسے بیان کرتا تھا جو کہ ۲۸۱ھ میں فوت ہوئے
اور ان سے امام الاجری و الازدی وغیرہ بیان کرتے ہیں اور یہ ثقہ ہے۔
[تاریخ بغداد]

خلاصہ تحقیق:

یہ تھا اللہ کا معجزہ کہ جن لوگوں پر کلام اگر ان محدثین سے ہوا بھی تو انہوں نے بعد میں نہ صرف رجوع کیا بلکہ اصحاب ابی حنیفہ سے جو استفادہ کیا اسکو حق کے ساتھ قبول کرتے ہوئے بیان بھی کیا تبھی تو یہ امامت کے درجے پر فائز تھے۔

دوسرا قول کہ جی ان سے روایت نہ کیا جائےلیکن امام احمد نے اپنی مسند میں امام ابو حنیفہ سے روایت نقل کر رکھی ہے اور اپنے اس قول پر بھی ثابت قدم نہ رہہ سکے۔

تو معلوم ہوا امام احمد جو پہلے امام محمد کے بارے تعصب کو جائز سمجھتے اور ان سے روایت لکھنا جائز نہ سمجھتے رائے کی وجہ سے۔پھر وہ خود ان سے حدیثیں لکھی بھی اور کئی کتابیں لکھیں تین تھیلوں کے برابر اور ان کا مطالعہ بھی کیااور پھر جن مسائل کا حل انکو کہیں سے نہ ملا تو ان مسائل کو امام احمد نے امام محمد کی کتب سے سلجھایا۔

تحقیق: دعاگو اسد الطحاوی الحنفی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے