امام حماد بن زیدؒکا امام ابو یوسفؒ کے بارے بری رائے سے رجوع اور اچھی رائے کا قائل ہونا

امام ابو حنیفہؓ امام حماد بن زیدؒکا امام ابو یوسفؒ کے بارے بری رائے سے رجوع اور اچھی رائے کا قائل ہونا
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 0 Average: 0]

محب امام ابو حنیفہؓ  امام حماد بن زیدؒکا  امام ابو یوسفؒ  کے بارے بری رائے سے رجوع اور  اچھی رائے کا قائل ہونا

تحریر: اسد الطحاوی الحنفی

امام ابو یوسف جو امام ابو حنیفہ کی فقہ کو پھیلانے والے مقدم شاگرد ہیں جنکا شمار فقہاء اور محدثین میں میں ہوتا ہے جو متفقہ علیہ ثقہ ثبت امام تھے حدیث میں انکے تعلق سے امام حماد بن زید کا ایک دلچسب واقعہ!

امام ابن ابی العوام اپنی کتاب   ”فضائل أبي حنيفة وأخباره ومناقبه” اپنی سند سے ایک روایت بیان کرتے ہیں امام المحدث  ابو جعفر الطحاوی رحمہ اللہ سے :

حدثني أحمد بن محمد بن سلامة قال: ثنا عبدة بن سليمان بن بكر، عن إبراهيم بن الجراح قال: لما أردت الخروج إلى البصرة قلت لأبي يوسف: من ألزم بها؟ فقال لي: حماد بن زيد، وعظم من قدره، فلما قدمت البصرة لزمت حماداً، فوالله ما جرى ذكر أبي يوسف عنده إلا اتبعه بالوقيعة فيه، فبينا أنا عنده إذ أتته امرأة تسأله أن يكتب لها شرطاً، فشق عليه أن يردها، وشق عليه أن يتشاغل عن أصحاب الحديث وكبر الأمر في قلبه، فقلت له: يا أبا إسماعيل، مرها فلتدفع إلي صحيفتها حتى أكتبها لها، ففعل، وأمسك عن الحديث لأفرغ من الصحيفة، فقلت: لا تحتاج إلى هذا حدث ففعل، فلما فرغت من الكتاب ناولته الصحيفة فأخذتها وقرأتها عليه فأعجبته، ثم قال: ممن تتعلمون هذا؟ قلت: من الذي لا يجري ذكره إلا وصلت ذلك بالوقيعة فيه ولقد أوصاني عند فراقي إياه ألا ألزم أحداً غيرك، فقال: من هو؟ قلت: أبو يوسف، فاستحيا ولم يكن يذكره بعد إلا بخير.

ابراہیم بن جراح  نے کہا : میں نے جب بصرہ جانے کا ارادہ کیا تو ابو یوسف سے پوچھا کہ وہاں کس عالم کی صحبت اختیار کروں؟ تو امام ابو یوسف نے کہا ہ حماد بن زید کی اور ان کی بڑی فضیلت بیان کی ۔ جب میں بصرہ آیا تو حماد کی صحبت اختیار کر لی ، خدا کی قسم جب بھی امام ابو یوسف کا ذکر آتا تو امام حماد کچھ نہ کچھ برائی بیان کر دیتے ۔ میں ایک دن ان کے پاس تھا کہ ایک عورت آئی اور ان سے یہ درخواست کرنے لگی کہ وہ انکے لیے شرط  لکھ دیں ، حماد پر اسے لٹانا گراں گزررہا تھا ۔ دوسری طرح وہ اصحاب الحدیث سے بھی بے توجہی برتنا نہیں چاہ رہے تھے ، دل ہی دل میں وہ ایک عجیب کشمکش میں تھے ، میں نے ان سے کہا ابو اسماعیل آپ اس عورت سے کہہ دیں کہ وہ اپنا کاغذ میرے حولے کر دے میں لکھ دونگا ۔حماد نے ایسا ہی کیا اور حدیث کا درس روک دیا تاکہ وہ میری تحریر پر توجہ دے سکیں ، میں نے ان سے کہا اسکی ضرورت نہیں ہے آپ درس حدیث جاری رکھیں ۔ انہوں نے ایسا ہی کیا جب میں لکھ کر فارغ ہو گیا تو کاغذ حماد کو دکھایا ، انہوں نے اسے پڑھا اور بہت پسند کیا ، پھر کہنے لگے آپ نے یہ کس سے سیکھا ہے ؟ میں نے جواب دیا :اسی شخص سے کہ جب  بھی اسکا ذکر آپ کے پاس آتا ہے تو آپ کچھ نہ کچھ برائی کر ہی دیتے ہیں اورجبکہ انہوں نے مجھے رخصت ہوتے وقت یہ وصیت بھی کی تھی کہ بصرہ میں آپ کے علاوہ کسی اور کی صحبت اختیار نہ کروں ، حماد نے پوچھا وہ کون ہیں ؟میں  نے کہا : امام ابو یوسف القاضی حماد اس پر شرمسار ہو گئے اور پھر اس کے بعدجب بھی انکا ذکر کرتےتو اچھائی کے ساتھ کرتے ۔

[فضائل أبي حنيفة وأخباره ومناقبه برقم: 730]

 سند کے رجال کا تعارف!

 ۱۔  امام طحاوی ؒمتفقہ علیہ ثقہ ثبت فقیہ

 ۲۔ عبدة ابن سليمان البصري

نزيل مصر صدوق من الثانية عشرة

[تقريب التهذيب برقم: 4271]

 ۳۔ إبراهيم بن الجرّاح بن صبيح

 وقال يونس بن عبد الأعلى:كان داهية عالما

 [تاريخ ابن يونس المصري برقم: 7]

 ذکر ابن حبان فی ثقات

[برقم: 12287]


امام امام ابو یوسف  نے امام حماد کی طرف شاید اس وجہ سے بھیجا ہو کیونکہ امام حماد بن زید کے امام ابو حنیفہ ؓ سے بہت اچھے تعلقات تھے نیز امام حماد بن زید امام ابو حنیفہ ؓ کی بیان کردہ احادیث کے عالم بھی تھے کیونکہ وہ کثرت سے امام ابو حنیفہؓ سے احادیث بیان کرنے والے تھے۔

اور امام حماد کے امام ابو حنیفہؓ کی تعظیم کا سبب  امام ابو حنیفہؓ اور امام سختیانیؓ کے اچھے تعلقات تھے اور ایک دوسرے سے علمی محبت تھی۔

جیسا کہ :امام ابن عبدالبر و امام صیمری و خطیب بغدادی اور امام ابن ابی العوام اپنی اپنی اسناد سے روایت بیان کرتےہیں

أنَا أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ شُجَاعٍ الْحُلْوَانِيُّ قَالَ نَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ نَا عازم قَالَ سَمِعْتُ حَمَّادَ بْنَ زَيْدٍ يَقُولُ أَرَدْتُ الْحَجَّ فَأَتَيْتُ أَيُّوبَ أُوَدِّعُهُ فَقَالَ بَلَغَنِي أَنَّ فَقِيه أهل الْكُوفَة أَبَا حنيفَة يريدالحج فَإِذَا لَقِيتَهُ فَأَقْرِئْهُ مِنِّي السَّلامَ

[الانتقاء ابن عبدالبر]

أخبرنَا عبد الله بن مُحَمَّد الْحلْوانِي قَالَ ثَنَا القَاضِي أَبُو بكر مكرم بن أَحْمد قَالَ ثَنَا عبد الْوَهَّاب بن مُحَمَّد قَالَ حَدثنِي مُحَمَّد بن سَعْدَان قَالَ سَمِعت أَبَا سُلَيْمَان الْجوزجَاني قَالَ سَمِعت حَمَّاد بن زيد قَالَ أردْت الْحَج فَأتيت أَيُّوب أودعهُ فَقَالَ بَلغنِي ان الرجل الصَّالح فَقِيه أهل الْكُوفَة أَبُو حنيفَة يحجّ فَإِن لَقيته فأقرئه مني السَّلَام

[اخبار ابی حنیفہ للصیمری]

أَخْبَرَنَا الْقَاضِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ السمناني، أخبرنا سليمان بن الحسين بن علي البخاريّ الزّاهد، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْر أَحْمَد بْن سَعْدِ بْن نصر، حدّثنا علي ابن موسى القمي، حَدَّثَنِي مُحَمَّد بن سعدان قال: سمعت أبا سليمان الجوزجاني يقول: سمعت حماد بن زيد يقول: أردت الحج، فأتيت أيوب أودعه، فقال: بلغني أن الرجل الصالح فقيه أهل الكوفة- يعني أبا حنيفة- يحج العام، فإذا لقيته فأقرئه مني السلام

[تاریخ بغداد]

حدثني محمد بن أحمد بن حماد قال: حدثني محمد بن سعدان قال: سمعت أبا سليمان الجوزجاني يقول: سمعت حماد بن زيد يقول: أردت الحج فأتيت أيوب السختياني أودعه فقال لي: بلغني أن فقيه الكوفة يريد الحج -يعني أبا حنيفة- فإن لقيته فاقرئه مني السلام.

 امام حماد بن زید فرماتے ہیں:کہ میں نے حج پر جانے کا ارادہ کیا میں امام ایوب سختیانی کے پاس آیا تاکہ ان سے الوداعی ملاقات کروں تو انہوں نے مجھے فرمایا:؎

مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ اہل کوفہ کے فقیہ (مجتہد) امام ابو حنیفہ بھی حج پر جانے والے ہیں جب تمہاری ان سے ملاقات ہو تو انہیں میری طرف سے سلام کہہ دینا

[فضائل أبي حنيفة وأخباره ومناقبه، ابن ابی العوام]

امام ابن عوام کی سند کی تحقیق:

پہلے راوی

امام ابو بشر الدولابی ہیں جو ثقہ ہیں

[تاریخ ابن خلقان و تذکرہ الحفاظ الذھبی]

دوسرے راوی:محمد بن سعدان

محمد بن سعدان، أبو عبد الله النحوي المقرئ الضرير

امام خطیب نے انکی توثیق کی ہے وکان ثقہ

[تاریخ بغداد برقم : 877]

تیسرے راوی: امام ابو سلیمان الجوزجانی الحنفی

یہ امام ابی یوسف و محمد بن حسن کے شاگرد تھے

اور ابی حاتم ، و بشر بن موسی کے شیخ تھے

الجوزجاني موسى بن سليمان الحنفي

امام ذھبی فرماتے ہیں : وكان صدوقا، محبوبا إلى أهل الحديث.

 [سیر اعلام النبلاء برقم 42 ]

چوتھے راوی امام حماد بن زید متقن امام فی حدیث ہیں


اسی طرح امام حماد بن زید بیان کرتے ہیں :

حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ

قَالَ وَنا الْحَسَنُ بْنُ الْخَضِرِ الأَسْيُوطِيُّ قَالَ نَا أَبُو بِشْرٍ الدُّولابِيُّ قَالَ نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدَانَ قَالَ نَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ حَمَّادَ بْنَ زَيْدٍ يَقُولُ وَاللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّ أَبَا حَنِيفَةَ لِحُبِّهِ لأَيُّوبَ وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ أَحَادِيثَ كَثِيرَةً

امام حماد بن زید فرماتے ہیں :میں امام ابو حنیفہ سے اس لیے محبت کرتا ہوں کیونکہ وہ امام ایوب سختیانی سے محبت کرتے ہیں ۔

امام ابن عبدالبر کہتے  ہیں : کہ امام حما بن زید امام ابی حنیفہ سے بہت زیادہ احادیث بیان کرتے تھے

[الانتقاء، ابن عبدالبر ]

تحقیق: دعاگو اسد الطحاوی الحنفی البریلوی

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے