غیر مقلدین کی طرف سے امام ابو حنیفہؓ کی گمراہی پر محدثین کے اجماع کی حقیقت

imam abu hanifa
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 1]

کچھ غیر مقلدین کی طرف سے ایک روایت کی بنیاد پر امام ابو حنیفہؓ کی گمراہی پر محدثین کے اجماع کا دعویٰ اور مذکورہ روایت  کا تحقیقی جائزہ

ازقلم: اسد الطحاوی  الحنفی البریلوی

کچھ لوگ امام ابو حنیفہ کی گمراہی پر محدثین کے جھوٹے اجماع کا دعویٰ پیش کرتے رہتے ہیں۔ اور یہ ایسی جاہل قوم ہے کہ جن کی فقاہت اور مجتہد اور امام اعظم ہونے پر متقدمین سے متاخرین تک اجماع ہے۔ یہ اجہل قوم ایک جھوٹی روایت کے زریعہ گمراہی پر اجماع پیش کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے نطر آتے ہیں۔

سب سے پہلے ہم جماعت غیر مقلدین کے  بقول انکے ”محدث العصر گوندلوی ” صاحب سے انکا دعویٰ پیش کرتےہیں:

گوندلوی صاحب لکھتےہیں:

اس میں کوئی شعبہ نہیں کہ ہر دو فریق میں غالی افراد ہوتے ہیں جو ائمہ حق  کے بارے گستاخانہ کلمات کہتے ہیں : جیسے بغض امام ابو حنیفہؓ اور امام بخاریؒ کو برا کہتے ہیں ہم انکو رافضیوں کی طرح خیال کرتے ہیں

[الاصلاح ص ۲۲۷]

معلوم ہوا کچھ غیر مقلدین جس باطل روایت سے امام اعظم جیسی شخصیت پرگمراہی کا اجماع ثابت کرنے کی ٹپنی  کر رہے ہیں  یہ رافضی ہیں اپنی جماعت کے محدث العصر کی نظر میں۔

کیا امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی گمراہی پر اتفاق تھا؟

حدثنا محمد بن علي بن مخلد الوراق لفظا قال في كتابي عن أبي بكر محمد بن عبد الله بن صالح الأسدي الفقيه المالكي قال سمعت أبا بكر بن أبي داود السجستاني يوما وهو يقول لأصحابه ما تقولون في مسألة اتفق عليها مالك وأصحابه والشافعي وأصحابه والأوزاعي وأصحابه والحسن بن صالح وأصحابه وسفيان الثوري وأصحابه وأحمد بن حنبل وأصحابه فقالوا له يا أبا بكر لا تكون مسألة أصح من هذه فقال هؤلاء كلهم اتفقوا على تضليل أبي حنيفة

ابو بکر بن أبي داود السجستاني رحمہ اللہ نے ايک دن اپنے شاگردوں کو کہا کہ تمہارا اس مسئلہ کے بارہ ميں کيا خيال ہے جس پر مالک اور اسکے اصحاب شافعي اوراسکے اصحاب اوزاعي اور ا سکے اصحاب حسن بن صالح اور اسکے اصحاب سفيان ثوري اور اسکے اصحاب احمد بن حنبل اور اسکے اصحاب سب متفق ہوں ؟؟تو وہ کہنے لگے اس سے زيادہ صحيح مسئلہ اور کوئي نہيں ہو سکتاتو انہوں نے فرمايا: يہ سب ابو حنيفہ کو گمراہ قرار دينے پر متفق تھے۔

[تاریخ بغداد ]


الجواب

اس روایت کے متن  مذکورہ علت ایک یہ ہے :

یہ روایت منقطع ہے کیونکہ ابوبکر بن ابی داؤد جن آئمہ اہل سنت کے بارے فرما رہے ہیں کہ ان کا امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے گمراہ ہونے پر اتفاق ہے، ابوبکر بن ابی داؤد ان سے ملے ہی نہیں لہذا روایت منقطع ہے،

نیز اکثر محدثین نے تو رجوع کر لیا تھا جیسا کہ امام سفیان ثوری ، امام احمد بن حنبل ، امام مالک  باقی امام شافعی نے کبھی ایسا کلام نہیں کیا بلکہ وہ تو امام ابو حنیفہ اور انکے اصحاب سے فقہ کا فیض لیا اور انکی علمی طور پر تعریف  کی ہے باوجود ففقہی اختلاف کے ۔ اور امام اوزاعی انکا امام ابو حنیفہ سے علمی فقہی اختلاف کے سبب چقپلش تھی۔  تو بغیر کسی صراحت کے امام ابن ابی داودؒ کا اتنا بڑا دعویٰ کر دینا فقط ایک دعویٰ ہی ہے۔کیونکہ احناف کے حوالے سے ان میں تعصب تھا اور انکی شخصیت میں یہ عنصر نمایاں بھی تھا ۔ جسکی تفصیل آگے پڑھینگے۔

اور سند کے اعتبار سے پہلے امام ابن ابی داود ؒ کے بارے کچھ تحقیقی کلام درج ذیل ہے:

امام ابو داود ؓ سے خود انکے اپنے بیٹے پر تکذیب کی روایات ملتی ہیں جیسا کہ امام ابن عدی نقل کرتےہیں:

حدثنا علي بن عبد الله الداهرى، سمعت أحمد بن محمد بن عمرو  كركرة، سمعت علي بن الحسين بن الجنيد، سمعت أبا داود يقول: ابني عبد الله كذاب.

علی بن جنید کہتے ہیں میں نے امام ابو داود سے سنا وہ کہتے ہیں میرا بیٹا (ابو بکر ابن ابی داود)   کذاب ہے

یہ قول نقل کرنے کے بعد امام ابن عدی اپنے شیخ ابن صاعد کا قول نقل کرتے ہیں وہ کہتے ہیں :

موكان ابن صاعد يقول كفانا ما قال أبوه فيه.

امام ابن صاعد کہتے تھے کہ (ابن ابی داود ) کے لیے انکے والد (امام ابو داود) کا قول ہی کافی ہے  جرح میں

(نوٹ : امام ابن صاعد ابن ابی داود کے بھی شیخ تھے  لیکن انکی آپس میں جھڑپ تھی )

ابن صاعد کی جرح کو بیان کرنے کے بعد امام ذھبی اس پر رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

قلت: لا ينبغي سماع قول ابن صاعد فيه

میں کہتا ہوں کہ ابن صاعد کے قول کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے (جھڑپ کی وجہ سے )

[تذکرہ الحفاظ ج۲، ص ۲۳۸]

اب ابن صاعد کے قول کے مطابق امام ابو داود کی جرح اپنے بیٹے پر کذب بیانی کی ثابت ہوتی ہے لیکن چونکہ ابن صاعد اور ابن ابی داود کی آپسی چپکلش تھی تو امام ذھبی نے امام ابن صاعد کا قول رد کر دیا۔ایک یہ اصول ہے کہ جرح وتعدیل میں جب معلوم ہو جائے کہ ناقد تعصب ذاتی لڑائی یا  چپقلش کے سبب جرح روایت کرے یا خود جرح کریگا تو اسکی روایت اور کلام کا اعتبار نہ ہوگا اسکے مخالف کے خلاف۔

کیا امام ابن ابی داودؒ خود بھی لڑائیاں کرنے والے اور فقہی اختلاف کے سبب تشدید کرنے والے تھے ؟ تو انکے بارے ایسی روایات ملتی ہیں اور امام ابن ابی داود تعصب میں الزام تراشی بھی کر دیتے تھے۔

جیسا کہ امام ذھبی نے میزان الاعتدال میں انکے متعلق لکھا ہے :

 قلت: وقد قام ابن أبي داود وأصحابه، وكانوا خلقا كثيرا على ابن جرير، ونسبوه إلى بدع

میں (الذھبی) کہتا ہوں کہ ابن ابی داود اور انکے ساتھیوں جنکی تعداد بہت زیادہ ہے  یہ امام ابن جریر پر الزام تراشی کرتے تھے انکو لفظی بدعت کی طرف منسوب کرتے تھے

[میزان الاعتدال برقم : 4368]

 یہ رہا حال کہ امام ابن ابی داود اپنے ساتھیوں سمیت امام ابن جریر کو نہیں بخشہ تو امام ابو داود پر یہ اجماع والا الزام لگانے میں کونسی تکلیف ہو جانی تھی بھلا انکو ۔

چونکہ اسی وجہ سے امام دارقطنی نے علم حدیث یعنی جرح و تعدیل میں انکو کثیر الخطاء قرار دیا اور روایت حدیث میں انکو ثقہ قرار دیا ہے ۔

 قال السلمي: سألت الدارقطني عن أبي بكر بن أبي داود، فقال: ثقة، إلا أنه كثير الخطأ في الكلام على الحديث

میں نے سوال کیا امام دارقطنی سے کہ ابی بکر ابن ابی داود کے بارے تو انہوں (دارقطنی) نے کہا وہ ثقہ ہے سوائے کلام حدیث (جرح و تعدیل ) میں کیونکہ اس میں بہت زیادہ غلطیاں کرتا تھا

[موسوعة أقوال أبي الحسن الدارقطني في رجال الحديث وعلله، برقم :1866]

 اور مزے کی بات یہ ہے کہ امام ابن ابی داود ایسے ائمہ محدثین جن سے انکی ملاقات نہیں ان سے امام ابو حنیفہ پر گمراہی کا اجماع کہہ رہے ہیں جبکہ جن سے انکی ملاقات ہے یعنی انکے والد امام ابو داود وہ امام ابو حنیفہ کو امام کا لقب دیتے تھے انکے علم کے سبب۔

 جیسا کہ امام ابن عبدالبر نے اسکو بیان کیا ہے الانقتاء میں امام ابو داود فرماتے ہیں کہ اللہ کی رحمت ہو مالک ، شافعی اور ابو حنیفہ پر کہ یہ سب امام (کے درجے کے) تھے

[الانتقاء وسند صحیح ]

(نوٹ: غیر مقلدین کے محقق زبیر زئی نے بھی امام ابو داود کے اس قول کی سند کو صحیح قرار دیا ہے)

 تو جب  امام ابن ابی داود کے والد امام ابو داود صاحب السنن جو خود ایک جید ناقد رجال ہیں اور امام احمد کے شاگرد بھی ہیں اور دیگر جید ناقدین کے بھی جب انہوں نے فقہی اختلاف کے سبب کچھ ناقدین کے اقوال کو امام ابو حنیفہ کے خلاف کوئی اہمیت نہ دی تو ان سے علم میں کم انکے بیٹے کی کلام کی کیا حیثیت رہہ جاتی ہے اپنے والد کے موقف کے برعکس۔

 تحقیق: دعاگو اسد الطحاوی الحنفی

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے