خلق قرآن کا مسلہ میں امام احمد بن حنبل کا امام ابو حنیفہ کے بارے حتمی موقف

خلق قرآن کا مسلہ میں امام احمد بن حنبل کا امام ابو حنیفہ کے بارے حتمی موقف
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 0 Average: 0]

خلق قرآن کا مسلہ میں امام احمد بن حنبل  کا امام ابو حنیفہ کے بارے  حتمی موقف

تحریر اسد الطحاوی

خلق قرآن کے  مسلہ پر امام ابو حنیفہ سے  توبہ کروانے کی کہانی : جہاں امام ابو حنیفہ پر مختلف قسم کی جروحات اور اعتراض و طعن کی بنیاد رکھی کچھ اصحاب الحدیث نے ان میں سے ایک اعتراض درج ذیل بھی تھا۔سب سے پہلے امام اعظم پر یہ جرح امام سفیان الثوری نے شروع کی  جسکے بعد باقی متعصبین نے انکی بات کو پکڑ لیا اور آگ کی طرح اس بات کو پھیلایا اور بعد والوں نے اس مسلے پر کتابیں نقل کی ہیں۔

  • کسی نے کہا کفر سے توبہ کرائی

  • کسی نے کہ خلق قرآن کے مسلے میں توبہ کرائی

  • کسی نے کہا دھر کے مسلے پر توبہ کرائی

  • کسی نے کہا علم کلام کے سبب توبہ کرائی

اس بات کے  دلائل درج ذیل ہیں کہ یہ نقد کرنے والے پہلے امام سفیان تھے۔

حدثنا نعيم قال: سمعت معاذ بن معاذ ويحي بن سعيد  يقولان:سمعنا سفيان الثوري يقول: استتيب أبو حنيفة من الكفر مرتين»

سفیان ثوری کہتے ہیں ابو حنیفہ سے کفر سے دو بار توبہ کرائی گئی

[المعرافہ التاریخ  جلد ۲ ، ص ۷۸۶]

حدثنا أبو زرعة قال: وحدثني الحسن بن الصباح قال: حدثنا مؤمل قال: سمعت سفيان الثوري يقول: أبو حنيفة غير ثقة، ولا مأمون، استتيب مرتين.

 مومل بیان کرتا ہے کہ میں نے سفیان ثوری سے سنا وہ کہتے ہیں کہ ابو حنیفہ غیر ثقہ اور نہ ہی مامون ہے (کیونکہ) اس سے دو بارتوبہ کرائی گئ۔

[تاريخ أبي زرعة الدمشقي ، ص 507]

حدثنا نعيم بن حماد, ثنا يحيى بن سعيد، ومعاذ بن معاذ, سمعنا الثوري يقول: استتيب أبو حنيفة من الكفر مرتين

معاذ بن معاذ اور یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ ہم نے سفیان ثوری سے سنا وہ کہتے کہ ابو حنیفہ سے کفر سے دو بار توبہ کرائی گئی

[تاریخ الکبیر للبخاری  برقم: 388]

سمعت محمد بن أحمد بن محمد بن أحمد بن رزق، يقول: وجدت في كتاب جدي محمد بن أحمد بن رزق، حدثنا محمد بن غالب بن حرب الضبي، قال: سمعت أبا حذيفة، يقول: سمعت سفيان الثوري، يقول: استتيب أبو حنيفة من الكفر مرتين

 ابو حذیفہ کہتے ہیں کہ  میں نے سفیان ثوری سے سنا کہ ابو حنیفہ سے توبہ کرائی گئی کفر سے دو بار

[تاریخ بغداد ]

أخبرنا ابن رزق، أخبرنا ابن سلم، حدثنا أحمد بن علي الأبار، حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا نعيم بن حماد ، حدثنا يحيى بن سعيد ومعاذ بن معاذ قالا.

 وأخبرنا ابن الفضل، أخبرنا ابن درستويه  ، حدثنا يعقوب، حدثنا نعيم قال:

سمعت معاذ بن معاذ ويحيى بن سعيد يقولان: سمعنا سفيان يقول: استتيب أبو حنيفة من الكفر مرتين.

 معاذ اور یحییٰ بن سعید دونوں نے کہا کہ ہم نے سفیان سے سنا ابو حنیفہ سے کفر سے دو بار توبہ کرائی گئی

[تاریخ بغداد]

سفیان ثوری  سے مروی یہ جرح وہ لوگ بھی بیان کرنے لگ گئے جنہوں نے ان سے یہ جرح سنی تھی  دیکھا دیکھی میں ۔

جیسا کہ  شریک جو ہمیشہ امام ابو حنیفہ کا دشمن رہا اس نے دو ہاتھ آگے جا کر ابو حنیفہ پر زندیقیت سے توبہ کرنے کا دعویٰ کر دیا

حدثني الوليد بن عتبة الدمشقي- وكان ممن قهر نفسه- حدثنا أبو مسهر ثنا يحي بن حمزة- وسعيد بن عبد العزيز جالس- حدثني شريك بن عبد الله قاضي الكوفة أن ابا حنيفة استتيب من الزندقة مرتين

 شریک بن عبداللہ کہتا ہے ابو حنیفہ سے  زندیقیت سے دو بار توبہ کرائی گئی

[تاریخ بغداد]


 سفیان سے یہ جرح بیان کرنے والا مومل بن اسماعیل بھی تھا تو سفیان ثوری سے یہ جرح سننے کے بعد خود مومل بھی یہ بات مشہور کرنے لگ گیا  جیسا کہ تاریخ بغداد میں موجود ہے۔

 أخبرنا أبو نعيم الحافظ ، حدثنا محمد بن أحمد بن الحسن، حدثنا بشر بن موسى، حدثنا عبد الله بن الزبير الحميدي قال: سمعت مؤملا  يقول:استتيب أبو حنيفة من الدهر مرتين.

 حمیدی بیان کرتا ہے مومل سے وہ کہتا ہے کہ ابو حنیفہ سے دو بار دھر کے مسلے میں توبہ کروائی گئی ۔

[تاریخ بغداد ]


 اور معاذ بن معاذ کیونکہ یہ روایت امام سفیان سےبیان کرنے والے تھے پھر وہ خود بھی یہ بات بیان کرنے لگ گئے  اور امام سفیان کو حذف کر دیا ان پر اعتماد کر کے

 جیسا کہ امام عقیلی نقل کرتے ہیں انکا قول :

 حدثنا محمد بن عيسى قال: حدثنا إبراهيم بن سعيد قال: سمعت معاذ بن معاذ العنبري، يقول: استتيب أبو حنيفة من الكفر مرتين

 معاذ بن معاذ کہتےہیں ابو حنیفہ سے کفر سے توبہ کرائی گئی دو بار

[الضعفاء للعقیلی ]

 جس طرح یہ خود موقع پر موجود نہیں تھے بس انہوں نے بغیر تصریح کے یہ کہہ دیا ابو حنیفہ سے توبہ کرائی گئی ،ایسے ہی یہ بات سفیان ثوری نے خود واقعہ کا ادراک کیے بغیر سنی اور روایت کر دی۔پھر جس طرح سفیان ثوری  سے مشہور یہ بات شریک نے پکڑی ، سفیان ابن عیینہ نے پکڑی اور سعید بن عبدالعزیز پھر ان جیسوں نے اسکو بہت آڑایا۔اب بیشک ان تمام روایات کی اسناد جید ہی کیوں نہ ہوں  لیکن اصل مسلہ ان روایات میں یہ ہے کہ کسی نے بھی یہ تصریح نہیں کی ہے کہ انہوں نے خود دیکھا  بلکہ سفیان نے بغیر تصریح کے یہ بات کہہ دی  باقیوں نے بھی مبھم صیغہ سے یہ بات نقل در نقل کی اور خود بھی پھیلانے لگ گئے۔

اب امام سفیان ثوری سے کچھ متعدد دلائل سے یہ ملتا ہے کہ انہوں نے یہ  واقعہ خود نہیں دیکھا تھا بلکہ وہ بھی کسی اور راوی سے بیان کرتے تھے لیکن پھر اسکا نام حذف کر کے خود یہ روایت ڈریکٹ بیان کرنے لگ گئے مجہول صیغہ سے۔

 جیسا کہ امام ابن عبدالبر  نے الانتقاء میں نقل کیا ہے :

وجرحه أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري فقال في كتابه في الضعفاء والمتروكين أبو حنيفة النعمان بن ثابت الكوفي قال نعيم بن حماد نا يحيى بن سعيد ومعاذ بن معاذ سمعا سفيان الثوري يقول قيل استتيب أبو حنيفة من الكفر مرتين

 ابو عبداللہ الضعفاء و متروکین کتاب میں تخریج کی ہے ابو حنیفہ نعمان بن ثابت کے ترجمہ میں یحییٰ بن سعید اور معاذ  بن معاذ کہتے ہیں ہم نے سنا سفیان سے وہ کہتے ہیں” کہا گیا ہے ”کہ ابو حنیفہ سے کفر سے توبہ کرائی گئی دو بار

[الانتقاء ص  149أ]

 معلوم ہوا امام بخاری کی کتاب الضعفاء کا جو نسخہ امام ابن عبدالبر کے پاس تھا اس میں سفیان ثوری نے قیل یعنی صیغہ مجہول سے یہ بات کی ہے یعنی سفیان ثوری نے یہ امر دیکھا نہیں تھا بلکہ انہوں نے کسی سے سماع کی تھی یہ روایت جو حذف کر کے بیان کرنے لگ گئے تھے۔

 اور اسکی دلیل امام الکلائی کی کتاب سے مل چکی ہے جیسا کہ ہو نقل کرتے ہیں :

 أنا محمد بن أبي بكر، أنا محمد بن مخلد، قال: نا  الحسن بن الصباح، قال: نا مؤمل، قال: نا سفيان، قال: سمعت عباد بن كثير، يقول: ” استتيب أبو حنيفة مرتين

 مومل کہتا ہے (جو کہ خود بھی یہ دعویٰ کرتا تھا اور سفیان سے بھی یہ روایت بیان کرتا تھا ) وہ کہتا ہے میں نے سنا سفیان سے (سفیان ثوری جو خود بھی یہ دعویٰ کرتےتھے لیکن انہوں نے بھی یہ روایت آگلے راوی ) عباد بن کثیر سے سنی وہ کہتا ہے ابو حنیفہ کو کفر سے توبہ کرائی گئی  دوبار

[شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة برقم: 1830]

یعنی امام سفیان ثوری کا ماخذ انکا شیخ  عباد بن كثير الثقفى البصرى ہے ۔اور اس پر امام احمد  نےاسکو ضعیف جدا اور کذب پر محمول کیا اور لیس بشئ کے درجہ  کی جرح کی ہے اور تمام ائمہ کے نزدیک یہ متروک درجہ کا راوی ہے ۔تو ثابت ہوا کہ یہ واقعہ بے اصل ہے کہ امام ابو حنیفہ سے  حقیقی کفر میں توبہ کرائی گئی ۔


 اب آتے ہیں امام احمد بن حنبل کی طرف کہ انہوں نے کس طرح  امام احمد بن حنبل  نے امام ابو حنیفہ کو  اس الزام سے بری قرار دیا ۔۔۔

سب سے پہلے امام احمد سے روایات نقل کرتے ہیں جو ان تک پہنچی :

حدثني أبي قال حدثنا مؤمل قال سمعت سفيان الثوري قال استتيب أبو حنيفة مرتين

عبداللہ بن احمد کہتے ہیں میرے والد نے کہا انہوں نے سنا مومل سے اس نے سفیان ثوری سے  وہ کہتے ہیں ابو حنیفہ سے توبہ کرائی گئی (کس مسلے میں یہ بات ساقط ہے)

حدثني أبي قال سمعت سفيان بن عيينة يقول استتيب أبو حنيفة مرتين فقال له أبو زيد يعني حماد بن دليل رجل من أصحاب سفيان لسفيان في ماذا فقال سفيان تكلم بكلام فرأى أصحابه أن يستتيبوه فتاب

امام عبداللہ کہتے ہیں میرے والد کہتے ہیں میں نے سفیان بن عیینہ سے سنا وہ کہتے ہیں امام ابو حنیفہ سے دو مرتبہ توبہ کرائی گئی تو امام حماد بن دلیل نے ان سے پوچھا کس بارے میں توبہ کرائی گئی تو سفیان نے جواب دیا علم کلام میں تکلم کیا تھا (یا کچھ کلام کیا تھا) تو انکے اصحاب نے سمجھا کہ ان سے توبہ کرائی جائے تو امام ابو حنیفہ نے توبہ کی

[العلل ومعرفة الرجال (-883587)]

  • معلوم ہوا کسی نے کوئی واقعہ نہیں دیکھا کوئی علم کلام سے توبہ کی بات کرتا ہے

  • کوئی کفر  مبھم سے

  • کوئی دھر کے مسلہ سے

  • کوئی زندیقیت سے

  • کوئی کہتا ہے شریک نے توبہ کرائی

  • کوئی کہتا ہے ابن عیسیٰ نے توبہ کرائی

  • کوئی کہتا ہے ابو حنیفہ کے تلامذذہ نے توبہ کرائی

 تو یہ کہانی بہت زیادہ مشہور کر دی اصحاب الحدیث اور متعصبین نے ،یہاں تک کہ امام  احمد نے  بھی پہلے اس بات کا یقین کر لیا  اور انکا بیٹا بیان کرتا ہے۔

 قال أبي استتابوه أظن في هذه الآية سبحان ربك رب العزة عما يصفون قال هو مخلوق

امام عبداللہ کہتے ہیں میرے والد نے کہا  کہ ان(ابو حنیفہ) سے توبہ میرا ظن ہے اس آیت ” سبحان ربك رب العزة عما يصفون” کے تحت کرائی گئی جسکو مخلوق کہا ابو حنیفہ نے

[العلل ومعرفة الرجال برقم: 3591]

اب چونکہ تمام اصحاب الحدیث جو شاگرد تھے امام احمد بن حنبل کے یہاں  تک کہ انکے بیٹے نے بھی اپنے والد سے امام ابو حنیفہ کے بارے دفاع نقل نہیں کیا کیونکہ وہ بھی اصحاب الحدیث میں سے تھے  یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ آخری قول پر مطلع نہ ہوں کیونکہ امام احمد کے مقدم شاگردوں میں یہ نہیں آتے بلکہ وہ امام ابو بکر مروزی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے امام احمد کا رجوع بیان کیا ہے۔

 لیکن امام ابن کاس النخعی جو متن ثقہ اور فاضل و عادل امام تھے ان کو امام احمد کے ایک شاگرد ابو بکر مروزی  جو امام احمد کے مقدم تلامذہ میں تھے انسے امام احمد کی تصریح مل چکی تھی جسکو انہوں نے بیان کیا۔

 جیسا کہ اما م خطیب بغدادی نے اسکو مختصر امام ابن کاس نخعی سے بیان کیا ہے۔

اپنی سند سے :

 أخبرنا الخلال، أخبرنا الحريري أن النخعي حدثهم حدثنا أبو بكر المروذي قال: سمعت أبا عبد الله أحمد بن حنبل يقول: لم يصح عندنا أن أبا حنيفة كان يقول القرآن مخلوق.

 اس قول کی سند صحیح ہے اس قول میں غور طلب بات ہے امام احمد کہتے ہیں : کہ یہ بات صحیح نہیں یعنی پایہ تکمیل  کو نہیں پہنچی کے امام ابو حنیفہ نے قرآن کو مخلوق کہاہو۔

[تاریخ بغداد وسندہ صحیح]

 یعنی امام احمد نے تمام الزامات سے بری کرتے ہوئے صاف صاف کہہ دیا کہ انکے نزدیک یہ ثابت ہی نہیں کسی بھی طریق سے کہ امام ابو حنیفہ نے سرےسے قرآن کو مخلوق کہنے کا قول کیا ہو

تو پھر ان سے توبہ کرنے کرانے کی روایات  کی کیا حیثیت رہی ؟

ایک امر کا وجود ہی نہ ہوا ہو تو اس امر سے توبہ کرنے اور کرانے کی تمام کی تمام روایات امام احمد بن حنبل کے نزدیک ضعیف و معلل تھیں  کیونکہ  کفر ایک بہت کبیرہ گناہ تھا اور کفر سے توبہ کرانا  بھی بہت بڑی بات تھی جبکہ اس واقعہ کا کوئی بھی عینی شاہد گواہ نہیں تھا ہر کسی نے پہلے سفیان سے سنا سفیان کی مشہور کردہ بات پھر شریک نے پھر مومل ، ابن عیینہ ، ابو مسھر ، معاذبن معاذ نے اٹھا لی

پھر انکے تلامذہ میں ابو زرعہ ، اور دیگر نے ہاتھ صاف کیا۔لیکن چونکہ امام ابو بکر مروزی جو اصحاب امام احمد بن حنبل میں سب سے مقدم اور امانت و دیانت کے اعتبار سے سب پر مقدم تھے انہوں نے امانت کے ساتھ امام احمد کا یہ قول بیان کردیا

 تو امام ابو بکر مروزی کا مختصر تعارف دیکھا جائے تو انکی شخصیت میں یہ چیزیں نمایا ملتی ہیں :

 امام خطیب انکے بارے نقل کرتے ہیں :

 قَالَ أَبُو علي: لم يكن فِي أصحاب أَحْمَد أقدر عَلَيْهِ من أَبِي بكر

ابو علی نے کہا کہ امام احمد کے اصحاب میں کسی کی وہ عزت و اکرام نہیں تھا جو ابو بکر المروزی کا تھا۔

امام خطیب بغدادی کہتے ہیں :

قلت: لأمانة المروذي عند أَحْمَد

میں کہتا ہوں امام احمد کے نزدیک امام المروزی کی امانت و دیانت  عیاں تھی۔

نیز امام خطیب کہتے ہیں :

وهو المقدم من أصحاب أَحْمَد لورعه وفضله،

یہ اصحاب احمد بن حنبل میں تمام اصحاب پر مقدم تھے اپنے نیک نامی اور فضیلت کے سبب

[تاریخ بغداد]

اس روایت کو جو مختصر امام خطیب نے بیا ن کیا یہی تفصیل سے امام ذھبی نے امام ابن کاس النخعی کی کتاب سے بیان کی ہے جو درج ذیل ہے :

قال ابن كأس: ثنا أبو بكر المروزي، سمعت أبا عبد الله أحمد بن حنبل، يقول: ” لم يصح عندنا أن أبا حنيفة رحمه الله، قال: القرآن مخلوق، فقلت: الحمد لله يا أبا عبد الله، هو من العلم بمنزلة! فقال: سبحان الله! هو من العلم، والورع، والزهد، وإيثار الدار الآخرة بمحل لا يدركه فيه أحمد، ولقد ضرب بالسياط على أن يلي القضاء لأبي جعفر فلم يفعل "

 امام ابن کاس فرماتے ہیں مجھے بیان کیا ابو بکر المروزی نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا امام احمد بن حنبل فرمایاکہ:

ہمارے نزدیک یہ بات پایہ صیحت کو نہیں پہنچی کہ امام ابو حنیفہؓ نے قرآن کو مخلوق کہا ہو ، امام ابو بکر المروزی کہتے ہیں میں نے کہا اے ابوعبداللہ   الحمد للہ وہ بمنزلہ نشانی کے ہیں

 تو امام احمد بن حنبل نے فرمایا :

سبحان اللہ! علم ، پرہیزگاری، ذھد اوار ایثار کے اس بلند مقام پر ابو حنیفہؓ فائز تھے کہ احمد بن حنبل اسکو کبھی نہیں پا سکتا اور قاضی کا عہدہ قبول کرنے کے لیے انکو کوڑے لگائے گئے ابو جعفر کی طرف سے لیکن انہوں نے یہ عہدہ قبول نہ فرمایا

[مناقب الإمام أبي حنيفة وصاحبيه ص ۴۳]

پس جید دلائل سے ثابت ہوا امام احمد نے ان تمام الزامات کا رد کر دیا جو امام ابو حنیفہ پر خلق قرآن کے مسلے سے مشہور کیے گئے تھے  ۔کیونکہ امام احمد سفیان ثوری کا ماخذ جان گئے تھے جیسا کہ  وہ خود امام سفیان ثوری کی مکمل سند  پر مطلع ہو گئے تھے جیسا کہ وہ فرماتے ہیں :

حدثني أبي قال حدثنا مؤمل بن إسماعيل قال حدثنا سفيان الثوري قال حدثني عباد بن كثير

اس میں سفیان کا شیخ عباد بن کثیر ہے جسکو امام احمد نے کذب پر محمول کیا ہے قلت ضبط کی وجہ سے  اور حدیث میں اسکو کچھ نہیں سمجھتے تھے بلکہ یہ ان سے بھی روایات بیان کر دیتا جس سے اسکا سماع ہی نہیں ہوتا تھا

اور امام سفیان نے اسکو ترک کر دیا اور اسکی روایات کو مٹا دیا۔

[العلل المعرفہ للرجال ]

خلاصہ تحقیق:

کہ امام سفیان ثوری نے امام ابو حنیفہ پر خلق قرآن کے مسلہ پر توبہ کا واقعہ کسی متروک سے سن کر اس سے تدلیس کرکے سنانے لگ گئے۔ اور خود بھی تصریح نہ کی کہ وہ عینی گواہ تھے۔ اور پھر امام سفیان سے انکے تلامذہ نے امام سفیان سے منسوب کرکے بھی اور خود بھی اپنی طرف سے روایت کرنا شروع کر دیا جبکہ ان میں سے کوئی ایک بھی موقع پر موجود نہیں تھا۔

اور جب امام احمد کو اس صورت حال کا معلوم ہوا تو انہوں نے امام ابو حنیفہ پر خلق قرآن کے مسلہ پر اپنا موقف سے رجوع کر لیا۔ اور امام ابو حنیفہ کو اس مسلے سے بری قرار دیا۔

تحقیق: دعاگو اسد الطحاوی الحنفی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے