امام ابو حنیفہؓ کے لیے امام عمرو بن دینارؓ کا ادب کا منفرد انداز

امام ابو حنیفہ امام عمرو بن دینار کی نظر میں
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 0 Average: 0]

امام ابو حنیفہؓ سے عمر میں بڑے  کبیر تابعی امام عمرو بن دینارؓ کا امام اعظم کے  لیے ادب کا منفرد انداز۔

تحقیق: اسد الطحاوی الحنفی سہروردی بریلوی

 سب  سے پہلے امام عمرو بن دینار کا مختصر تعارف پیش کرتے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ امام ابو حنیفہؓ کا احترام اور انکی عزت کرنے والے امام عمرو بن دینار کا حدیث میں کیا مقام ہے اور کتنے بڑے بڑے وقت کے ائمہ محدثین ان امام عمرو بن دینار کے تلامذۃ میں سے تھے۔

امام ذھبی علیہ رحمہ سیر اعلام میں انکا تعارف یوں کرواتے ہیں:

الإمام الكبير، الحافظ، أبو محمد الجمحي مولاهم، المكي، الأثرم، أحد الأعلام، وشيخ الحرم في زمانه.

ولد: في إمرة معاوية، سنة خمس، أو ست وأربعين.

سمع: ابن عمر، وابن عباس، وجابرا، وابن الزبير، وأبا سعيد، والبراء بن عازب، وعبد الله بن عمرو، وأبا هريرة، وزيد بن أرقم، وأنسا، والمسور بن مخرمة، وأبا الطفيل.

قلت: وسمع: بجالة بن عبدة، وعبيد بن عمير الليثي، وعبد الرحمن بن مطعم، وأبا الشعثاء جابر بن زيد، وأبا سلمة بن عبد الرحمن، وطاووسا، وسعيد بن جبير، وعدة.

وينزل إلى: أبي جعفر الباقر، ونحوه.

وروايته عن أبي هريرة جاءت في (سنن ابن ماجة) .

وقال أبو زرعة: لم يسمع من أبي هريرة.

وكان من أوعية العلم، وأئمة الاجتهاد.

 حدث عنه: ابن أبي مليكة – وهو أكبر منه – وقتادة بن دعامة، والزهري، وأيوب السختياني، وعبد الله بن أبي نجيح، وجعفر الصادق، وعبد الملك بن ميسرة، وابن جريج، وشعبة، وسفيان الثوري، والحمادان، وورقاء بن عمر، ومحمد بن مسلم الطائفي، وداود بن عبد الرحمن العطار، وإبراهيم بن طهمان، وروح بن القاسم، وزمعة بن صالح، وسليمان بن كثير، وعمرو بن الحارث، ومعقل

 قال: وكان يحدث بالمعنى، وكان فقيها -رحمه الله-.

وقال ابن عيينة: عمرو ثقة ثقة ثقة.

قال أحمد بن حنبل: كان شعبة لا يقدم على عمرو بن دينار أحدا،

سفيان يقول: ما كان أثبت عمرو بن دينار

یہ کبیر امام و حافظ ہیں ابو محمدالمکی اور شیخ الحرم ہیں یہ امیر المومنین معاویہ کے دور حکومت م۴۵ھ میں پیدا ہوئے۔

انہوں نے حضرت ابن عمر ، حضرت ابن عباس ، حضرت جابر ، حضرت عبداللہ بن زبیر ، حضرتابو سعید ، حضرت براء بن عاذب ، حضرت عبداللہ بن  عمرو   وغیرہم صحابہ سے سماع کیا ہے اور حضرت ابو زرعہ  کہتے ہیں انہوں نے حضر ت ابی ھریرہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔متقدائمہ اجتہاد میں سے تھے۔

انکے تلامذہ میں  قتادہ جو عمر میں ان سے بڑے تھے۔ایوب سختیانی ، عبداللہ بن ابی نجیح ، امام جعفر صادق ، ابن جریج ، شعبہ ، حمدان ، سفیان ثوری ، وغیرہم ہیں ۔ابن عیینہ فرماتے ہیں کہ یہ بالمعنی روایت بیان کر دیتے تھے اور ابن عیینہ فرماتے ہیں یہ ثقہ ثقہ ثقہ تھے۔

امام احمد کہتے تھے کہ امام شعبہ عمروبن دینار پر کسی کو مقدم نہ کرتے تھے۔امام سفیان فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے ثبت کسی کو نہیں دیکھا  یہ ۱۲۵ سے ۱۳۰ کے درمیان فوت ہوئے۔

[سیر اعلام النبلاء، برقم : 144، الناشر : مؤسسة الرسالة]

امام  ابو عبد الله الصیمری  الحنفي (المتوفى: 436هـ)  اپنی مشہور تصنیف اخبار ابی حنیفہ میں ایک روایت بیان کرتے ہیں۔

أخبرنا أحمد بن محمد الصيرفي قال ثنا علي بن عمرو الحريري قال ثنا ابن كأس النخعي قال ثنا محمد بن سعدان قال ثنا أبو سليمان قال ثنا حماد بن زيد قال كنا نأتي عمرو بن دينار فيحدثنا فإذا جاء أبو حنيفة اقبل عليه وتركنا حتى نسأل ابا حنيفة ان يكلمه وكان يقول يا أبا محمد حدثهم فيحدثنا

امام حماد بن زید(امام ایوب سختیانی علیہ رحمہ کے مقدم شاگرد اور محدث وقت) فرماتے ہیں :

کہ ہم امام عمرو بن دینار کے پاس جاتے تھے اور وہ ہم کو حدیثیں بیان کر تےتھے اور جب امام ابو حنیفہ انکے پاس آجاتے تو وہ  ہم کو روایت کرنے سے رک جاتے اور انکی طرف متوجہ ہوجاتے یہاں تک کہ ہم  امام ابو حنیفہ سے درخواست کرتےکہ ان (عمرو بن دینار ) سے کہیں کہ یہ ہم کو احادیث بیان کریں

تو (ابی حنیفہ) ان سے کہتے  اے ابو محمدانکو احادیث بیان کرو  تو(عمرو بن دینار) ہم کو احادیث بیان کرتے۔

[أخبار أبي حنيفة وأصحابه، ص ۸۰ ، الناشر: عالم الكتب وسندہ صحیح]

سند کے رجال کا تعارف!

۱۔پہلے راوی:  أحمد بن محمد بن علي، أبو عبد الله الصيرفي المعروف بابن الآبنوسي

امام خطیب بغدادی انکے بارے کہتے ہیں :

یہ کثیر کتب رکھنے والے تھے اور بہت زیادہ سماع کرنے والے تھے لیکن یہ بہت کم روایت کرتے تھے ،

ان سے امام برقانی نے روایت کیا ہے اور امام صیمری نے

وكان كثير الكتب والسماع، ولم يرو إلا شيئا يسيرا، حدثنا عنه أبو بكر البرقاني، والقاضي أبو عبد الله الصيمري.كان قد حبب إليه جمع الكتب، فكان إذا حصل له كتاب ترجمة وكتب عليه اسم راويه واسمه قبل أن يسمعه ثم يسمعه بعد ذلك.

 یہ کتب کو جمع کرنے کو بہت پسند کرتے تھے اور جب یہ کتاب حاصل کر لیتے تو یہ مصنف  اور اپنے شیخ راوی کا ترجمہ بھی لکھ لیتے تھے جس سے پہلے اور بعد میں سماع کی تصریح کر دیتے تھے

[تاریخ بغدد ،  برقم: 2717 ، الناشر: دار الغرب الإسلامي] 

اس تفصیل سے یہ معلوم ہوا کہ یہ راوی سماع کو لکھ لیتےتھے اور کتب کی شکل میں جمع کر لیتے اوراور سماع کی تفصیل اور شیخ کا نام بھی لکھ دیتے تھے۔تو ایسا راوی جو کتاب سے سماع کرے اسکے کے لیے حفظ و اتقان کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اسکی عدالت ہی کافی ہوتی ہے یہاں تک کہ اسکی کتب دانی پر جرح نہ ہو

 ۲۔دوسرےراوی:  علي بن عمرو بن سهل، أبو الحسن الحريري

 امام خطیب کہتے ہیں کہ یہ ثقہ ہیں

وكان ثقة.

[تاریخ بغداد، برقم: 6384 ، الناشر: دار الكتب العلمية]

 ۳۔ تیسرے راوی: علي بن محمد بن الحسن بن محمد بن عمر  أبو القاسم النخعي القاضي المعروف بابن كاس

امام خطیب فرماتے ہیں :

وكان ثقة فاضلا، عارفا بالفقه على مذهب أبي حنيفة

وكان من المقدمين في الفقه من الكوفيين الثقات

 یہ ثقہ تھے اور امام ابو حنیفہ کی فقہ پر دسترس رکھتے تھے

یہ کوفہ کے ثقات فقھا میں مقدم تھے

[تاریخ بغداد، برقم: 6469 ، الناشر: دار الكتب العلمية]

 (نوٹ: انہوں نے بھی امام اعظم ابی حنیفہ کی مداح و فضائل میں کتاب لکھی تھی  جو کہ اب مفقود ہے  اور ان سے پچھلے راوی کے پاس ضرور انکی کتاب ہوگی )

۴۔چوتھے راوی:   محمد بن سعدان، أبو عبد الله النحوي المقرئ الضرير.

امام ذھبی فرماتے ہیں یہ عراق کے ائمہ میں سے ایک تھے اور خطیب بغددادی نے انکی توثیق کی ہے

 أحد الأئمة بالعراق.

وثقه أبو بكر الخطيب. وتوفي سنة إحدى وثلاثين.

[تاریخ الاسلام ،  برقم: ۳۶۶]

 ۵۔پانچویں راوی:  الجوزجاني موسى بن سليمان الحنفي

 یہ امام ابی یوسف اور امام محمد بن الحسن شیبانی کے اصحاب میں سے تھے  انکی توثیق کرتے ہوئے امام ذھبی فرماتے ہیں :

 العلامة، الإمام، أبو سليمان موسى بن سليمان الجوزجاني، الحنفي، صاحب أبي يوسف ومحمد.

حدث: عنهما، وعن: ابن المبارك.

حدث عنه: القاضي أحمد بن محمد البرتي، وبشر بن موسى، وأبو حاتم الرازي، وآخرون.

وكان صدوقا، محبوبا إلى أهل الحديث.

قال ابن حاتم: كان يكفر القائلين بخلق القرآن

 علامہ امام ابو سلیمان جوزجانی الحنفی  یہ صاحب ابی یوسف و محمد ہیں اوران دونوں سےروایت کرتے تھے انکے علاوہ ابن مبارک سے بھی روایت کرتےتھے

ان سے امام قاضی احمد البرتی ، امام ابو حاتم رازی اور جماعت نے روایت کیا ہے

یہ صدوق ہیں اور اہل حدیث کے نزدیک محبوب تھے

امام ابو حاتم کہتے تھے کہ : یہ قرآن کو مخلوق کہنے والوں کی تکفیر کرتے تھے

 [سیر اعلام النبلاء،  برقم: ۴۲، الناشر : مؤسسة الرسالة]

 (نوٹ: یہاں ان غالیوں  کے لیے پھکی بھی ہے کہ امام اعظم انکے تلامذہ اور انکے تلامذہ  بھی خلق قرآن کے عقیدے والے کو کافر بھی کہتے تھے اور فقہ میں امام اعظم کے پیروکار تھے امام اعظم کا بھی یہی عقیدہ تھااور ان سے یہ تصریح کئی متعدد اسناد جید سے ثابت ہے لیکن یہ لوگ پھر بھی متعصب و حاسدین  لوگوں سے امام اعظم پر یہ الزام تراشی پھیلاتے پھرتے ہیں )

 ۶۔ چھٹے راوی: حماد بن زيد بن درهم الأزدي

 یہ اپنے وقت کے بڑے محدث  ثبت امام تھے اور امام ایوب سختیانی کے مقدم تلامذہ میں سے بھی تھے۔

 امام ذھبی انکے بارے فرماتے ہیں :

العلامة، الحافظ، الثبت، محدث الوقت، أبو إسماعيل الأزدي، مولى آل جرير بن حازم البصري، الأزرق، الضرير، أحد الأعلام.

[سیر اعلام النبلاء، برقم : 169، الناشر : مؤسسة الرسالة]

اس روایت کو  امام ابن ابی العوام نے بھی اپنی تصنیف میں بیان کیا ہے اور اسکی سند جید ہے۔

انکی سند درج ذیل ہے :

حدثني محمد بن أحمد بن حماد قال: سمعت محمد بن سعدان يقول: سمعت أبا سليمان موسى بن سليمان الجوزجاني قال: سمعت حماد بن زيد يقول الخ۔۔

[فضائل أبي حنيفة وأخباره ومناقبه، ص ۱۰۳]

 اس سند میں امام ابن ابی عوام نے اپنے شیخ امام الدولابی سے بیان کیا ہے جو ثقہ ہیں ۔اور اگلے راویان وہی ہیں جنکی اوپر توثیق بیان کر دی گئی ہے۔
تحقیق: دعاگو اسد الطحاوی سہروردی حنفی بریلوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے