امام ابو حنیفہ علم حدیث کے سب سے بڑے عالم تھے!

محدث ابو حنیفہ
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 5]

امام ابو حنیفہ علم حدیث کے عالم:بقول امام مکی بن ابراہیم! امام ابو حنیفہؓ اپنے زمانے کے سنن یعنی حدیث  کے سب سے بڑے عالم تھے!

امام ابو حنیفہ اورعلم حدیث عالم مذکورہ  روایت سے ان لوگوں کا اعتراض دور ہو جاتا ہے جو کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ فقیہ تو تھے لیکن علم حدیث میں وہ کمزور یا ضعیف تھے۔ جبکہ یہ موقف سوائے حماقت کے کچھ نہٰیں ہے۔؂

اما م خطیب بغدادی روایت کرتے ہیں:

أخبرنا الخلال، قال: أخبرنا الحريري أن النخعي، حدثهم قال حدثنا إسماعيل بن محمد الفارسي، قال: سمعت مكي بن إبراهيم ذكر أبا حنيفة، فقال: كان أعلم أهل زمانه

امام اسماعیل بن محمد فارسی کہتے ہیں میں نے امام مکی بن ابراھیم کو فرماتے سناکہ امام ابوحنیفہ کا ذکرہوا: توم انہوں نے فرمایا : یہ (امام ابو حنیفہ) اپنے زمانے کے سب سے بڑے حدیث کے عالم تھے

[تاریخ بغداد ، ج15، ص473]

نوٹ:ائمہ محدثین جب کسی امام کے لیے یہ فرمائیں  وکان ”اعلم” تو یہ مطلق لفظ کثیر الحدیث اور علم حدیث  پر بولا جاتا ہے۔

جیسا کہ ایک قول امام شافعی علیہ رحمہ فرماتے ہیں کہ :

علم کا مدار تین اشکاص پر ہے  امام مالک، ابن عیینہ اور امام لیث

اس قول کو نقل کرتے ہوئے امام ابن عبدالبر شرح کرتے ہیں:

سمعت الشافعي يقول وذكر الأحكام والسنن فقال العلم ”يعني الحديث” يدور على ثلاثة مالك بن أنس وسفيان بن عيينة والليث بن سعد

راوی کہتا ہے امام شافعی کو کہتے سنا اور جب ذکر ہوا  احکام و سنن (حدیث) کا تو کہا علم(اسکو نقل کرکے امام ابن عبدالبر کہتے ہیں)”  یعنی حدیث” کا مدار ان تین اشخاص پر ہے ، امام مالک، ابن عیینہ و لیث۔۔۔الخ

[التمھید لابن عبدالبر ، ص،62]

 بطور ایک مثال  ہم  متقدمین کے امام سے بھی پیش کر دیتے ہیں:جیسا کہ امام خطیب نے امام ابن مبارک کا قول نقل کیا ہے اپنی سند صحیح سے  :

 تاریخ بغداد میں یہ روایت یوں ہے :

أخبرنا الخلال، أخبرنا الحريري أن النخعي حدثهم قال: حدثنا محمد بن علي بن عفان، حدثنا أبو كريب قال: سمعت عبد الله بن المبارك يقول: سمعت عبد الله بن المبارك يقول: رأيت أعبد الناس، ورأيت أورع الناس، ورأيت أعلم الناس، ورأيت أفقه الناس، فأما أعبد الناس فعبد العزيز بن أبي رواد، وأما أورع الناس فالفضيل بن عياض، وأما ”أعلم ” الناس ففيان الثوري، وأما أفقه الناس فأبو حنيفة، ثم قال: ما رأيت في الفقه مثله.

امام عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں : میں نے لوگوں میں سب سے زیادہ عابد بھی دیکھا ہے ، اور لوگوں میں سب سے زیادہ نیک بھی دیکھا ہے ، لوگوں میں سب سے زیادہ علم (حدیث) والا بھی دیکھا ہے ، اور لوگوں میں سب سے زیادہ فقیہ بھی دیکھا ہے

لوگوں میں سب سے بڑا عابد امام عبدالعزیز بن ابی رواد ہیں

لوگوں میں سب سے نیک (اھل ذھد) امام فضیل بن عیاض ہیں

لوگوں میں سب سے زیادہ علم (حدیث )والے امام سفیان الثوری ہیں

اورلوگوں میں سب سے زیادہ فقہ جاننے والے امام ابو حنیفہ ہیں اور ان جیسا فقیہ میں نے (اور کوئی)نہیں دیکھا۔

[تاریخ بغداد، وسندہ صحیح]

یہاں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ امام  ابن مبارک نے امام ابو حنیفہ کو تو فقہاء میں سب سے بڑا فقیہ قرار دیا لیکن امام سفیان ثوری کے لیے ”اعلم” الناس کا لفظ استعمال کیا یعنی اما م سفیان اپنے زمانے میں علم ”حدیث” کے سب سے بڑے عالم تھے!!تو یہ متعین ہو گیا کہ مطلق جب ”اعلم” کا لفظ استعمال آئے گا تو وہ علم حدیث کے حوالے سے بڑے عالم کے بارے میں  بولا جاتا ہے ۔

اب چونکہ امام شافعی نے  علم حدیث کا مدار تین اشخاص پر رکھا اور امام ذھبی نے اس میں مزید سات اشخاص کا اضافہ کرتے ہیں جن میں امام ابو حنیفہؓ کو بھی شامل کیا !!

جیسا کہ امام ذھبی لکھتے ہیں:

قال الشافعي: العلم يدور على ثلاثة: مالك، والليث، وابن عيينة.

قلت: بل وعلى سبعة معهم، وهم: الأوزاعي، والثوري، ومعمر، وأبو حنيفة، وشعبة، والحمادان.

امام شافعی فرماتے ہیں علم (حدیث) کا مدار تین ا شخاص پر ہے امام مالک ، امام لیث اور امام ابن عیینہ

(اس پر امام ذھبی اضافہ کرتے ہوئے فرماتےہیں) ”میں” (الذھبی) کہتا ہوں بلکہ (علم حدیث کا مدار ) اور سات اشخاص پر بھی ہے ، جن میں

امام اوزاعی ،

 امام سفیان ثوری ،

 امام معمر ،

 امام ابو حنیفہ ،

 امام شعبہ

 اور

 امام حماد بن زید

و امام حماد بن سلمہ ہیں

[سیر اعلام النبلاء ]

امام ذھبی نے جن سات اشخاص کا ذکر کیا ہے ان میں سارے کے سارے حفاظ الحدیث ہیں کوئی بھی ایسا امام کا نام شامل نہیں کیا اس میں  جو حافظ حدیث نہ ہو اور ان میں امام ذھبی نے امام ابو حنیفہ ؓ کا نام شامل کیا ہے۔

اس پر کوئی بہانہ چاہ کر بھی نہیں بنا سکتا کوئی غیر مقلد!!! 

جبکہ اس میں امام ذھبی نے نہ ہی امام شافعی، امام  احمد بن حنبل اور نہ ہی امام بخاری و مسلم کو شامل کیا ہے ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ یہ ائمہ دوسری صدی کے شروع ہونے کے بعد اور پہلی صدی کے اختتام ہونے سے بالکل قبل آئے!!

انکے آنے تک حفاظ حدیث نے حافظے کی بنیاد پر احادیث کو مختلف علاقوں میں پھیلا دیا تھا  امام  شافعی سے لیکر بعد والے دور میں آنے والے لوگوں نے کتب کے زریعہ انکو محفوظ کرنے کا احتمام کیا !

تو اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ امام مکی بن ابراھیم کے نزدیک امام ابو حنیفہ حکام و سنن یعنی حدیث کے اپنے زمانے میں سب سے بڑے امام تھے!!


اور امام مکی بن ابراھیم کے شیوخ کس درجہ کے تھے اسکی تفصیل درج  ذیل ہے !

سند کے رجال کا تعارف:

۱۔ پہلا راوی : الحسن بن محمد بن الحسن بن علي أبو محمد الخلال

امام خطیب فرماتے ہیں :كتبنا عنه، وكان ثقة

[تاریخ بغداد برقم:3950]

۲۔دوسرا راوی:عليّ بن عمرو بْن سهل، أَبُو الحسن الحريري

امام خطیب بغدادی فرماتے ہیں :، ثقة مستورا، حسن المذهب

[تاریخ بغداد برقم:6384]

۳۔تیسراراوی: علي بن محمد بن الحسن النخعي القاضي

امام خطیب فرماتے ہیں : وكان من المقدمين في الفقه من الكوفيين الثقات

[تاریخ بغداد برقم:6422]

۴۔ چوتھے راوی: إسماعيل بن محمد بن أبي كثير أبو يعقوب الفارسي الفسوي

امام خطیب بغدادی انکی وثیق نقل کرتے ہیں :ثقة صدوق

[تاریخ بغداد برقم:3269]

یہ قول فرمانے والے امام مکی بن ابراہیم ہیں انکا مختصر تعارف!

امام ذھبی انکا تعارف ان الفاظ میں کرتے ہیں :

مكي بن إبراهيم بن بشير بن فرقد التميمي: الإمام، الحافظ، الصادق، مسند خراسان،

انکے شیوخ میں امام ابو حنیفہ ، امام عطاء بن ابی رباح ، امام مالک اور جید حفاظ الحدیث ہیں ۔

اور انکے تلامذہ میں

امام یحییٰ بن معین ، امام احمد بن حنبل ، امام بخاری اور دیگر جید حفاظ الحدیث ہیں۔

امام ذھبی ناقدین سے انکے بارے نقل فرماتے ہیں :

قال الكوسج: سألت أحمد عن مكي، فقال: ثقة.وروى: أحمد بن زهير، عن يحيى: صالح .وقال أبو حاتم: محله الصدق .وقال العجلي: ثقة.وقال النسائي: ليس به بأس. قال الدارقطني: مكي: ثقة، مأمون

امام احمد فرماتے ہیں کہ یہ ثقہ ہیں ، امام یحییٰ بن معین فرماتے ہیں بہت نیک شخص تھے ، امام ابو حاتم کہتے ہیں سچے تھے ، اور امام عجلی فرماتے ہیں ثقہ ہیں، امام نسائی فرماتے ہیں ان میں کوئی حرج نہیں ۔

امام دارقطنی فرماتے ہیں کہ یہ ثقہ و مامون تھے۔

امام ذھبی انکا قول نقل فرماتے ہیں : وكتبت عن سبعة عشر نفسا من التابعين

امام مکی بن ابراہیم فرماتے ہیں میں نے خود سترہ تابعین سے حدیث لکھی ہیں۔

ابن سعد: وكان ثقة، ثبتا في الحديث -رحمه الله -.قلت: لم يلق البخاري بخراسان أحدا أكبر منه.روى له: الجماعة.

امام ابن سعد کہتے ہیں یہ ثقہ ثبت تھے حدیث میں ان پر اللہ کی رحمت ہو ، امام ذھبی فرماتے ہیں میں کہتا ہوں امام بخاری نے خراسان میں ان سے زیادہ بڑی عمر کے کسی شیخ سے ملاقات نہیں کی ۔

اور ان سے ایک جماعت نے روایت کیا ہے ۔

[سیر اعلام النبلاء برقم:214]

نوٹ: بخاری شریف میں کل ثلاثیات بائیس ہیں جن میں سے گیارہ روایات امام مکی بن ابراہیم سے ہیں ۔

اور امام مکی بن ابراہیم امام ابو حنیفہ سے احادیث بیان کرتے تھے اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ امام بخاری امام ابو حنیفہ کے ایک واسطے سے بھی شاگرد بنتے ہیں ۔اور امام ابو حنیفہ امام بخاری کے دادا استاذ بنتے ہیں ۔باوجود اسکے کہ امام بخاری امام ابو حنیفہ سے منحرف تھے۔

تحقیق: اسد الطحاوی

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے