حنفیہ اصول حدیث

حنفیہ اصول حدیث

Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 5]

امام ابو حنیفہ کے نزدیک تدلیس اور مجہول الحال راوی کی حدیث مطلق طور پر مقبول اور حجت نہ تھیں۔

میں نے فقہی کتب تو پڑھی نہیں ہیں اور نہ ہی مجھے یہ معلوم ہے کہ ان فقہی کتب میں امام ابو حنیفہ کی طرف کس معتبر زرائع سے یہ بات ثابت بھی ہے یا نہیں کہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک تمام مرسل و منقطع (مطلق) مقبول ہوں یا انکے نزدیک خیر القرون کے ادوار مین راوی کا مجہول ہونا کوئی علت نہ ہو۔
کیونکہ حنفی محققین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک خیر القرون کے مجہول ہونا کوئی علت نہیں نیز مرسل و تدلیس شدہ روایات بھی حجت نہیں امام ابو حنیفہ کے نزدیک۔
جہاں تک میرا ناقص علم ہے مجھے:امام ابو حنیفہ سے یہ بات یا انکے اصحاب سے یہ بات نہیں ملی ہے۔ بلکہ جو معتبر زرائع سے امام ابو حنیفہ سے ثابت ہے وہ اسکے برعکس ہے!

امام ابو حنیفہ غیر معروف رجال کے سبب حدیث کو رد کر دیتے تھے۔


جیسا کہ امام بیھقی روایت کرتے ہیں:
أخبرنا أبو عبد الرحمن: محمد بن الحسين السلمي، حدثنا أبو سعيد الخلال، حدثنا أبو القاسم البغوي، حدثنا محمود بن غيلان المروزي، قال:حدثني الحماني قال: سمعت أبا سعد الصغاني قام إلى أبي حنيفة، فقال: يا أبا حنيفة، ما تقول في الأخذ عن الثوري ؟فقال: اكتب عنه، فإنه ثقة
ما خلا أحاديث ”أبي إسحاق عن الحارث،” وحديث جابر الجعفي.
▪︎ امام الحمانی فرماتے ہیں کہ میں نے ابو سعد الصغانی کو سنا کہ وہ ابو حنیفہ کی طرف آیا اور کہا کہ اے ابو حنیفہ آپ سفیان الثوری سے (حدیث) لینے کے بارے کیا کہتے ہیں؟تو ابو حنیفہ نے فرمایا ان سے لکھ لو کیونکہ وہ ثقہ ہیں
سوائے ان احادیث میں کہ جب جو وہ ابی اسحاق کے طریق سے الحارث سے بیان کریں اور ان احادیث کے جب وہ جابر جعفی سے بیان کریں
[دلائل النبوی ، ج۱، ص۴۴، وسندہ صحیح]

یہاں امام ابو حنیفہ نے امام سفیان ثوری کی جابر جعفی کے حوالے سے رویات کو رد کرنے کا حکم تو اس لیے دیا کیونکہ جابر جعفی پر خود امام ابو حنیفہ کی جرح موجود ہے کذب کی
جیسا کہ جابر جعفی پر تمام محدثین نے اجماعا یہ جرح امام ابو حنیفہ سے نقل کی ہے اور جابر پر سب سے پہلے جرح کرنے والے ہی امام ابو حنیفہ تھے۔
لیکن یہاں قابل توجہ یہ نکتہ ہے کہ امام ابو حنیفہ نے امام سفیان ثوری کی وہ روایات جو ابو اسحاق حارث سے بیان کرتا ہے انکی بھی تردید کر دی ہے قبول کرنے میں۔

کیونکہ یہ سند علت قادحہ پر محمول ہے!!

جیسا کہ متعدد محدثین نے امام ابو اسحاق کی حارث الاعور سے سوائے چار روایات سماع کے بقیہ تمام روایات میں تدلیس کی جرح کی ہے۔

جیسا کہ امام نسائی کہتے ہیں:
قال أبو عبد الرحمن أبو إسحاق لم يسمع من الحارث إلا أربعة أحاديث
امام نسائی کہتے ہیں کہ ابو اسحاق نے حارث سے سوائے چار احادیث کے نہیں سنا ہے ۔
[سنن الکبری نسائی برقم:8361]

اور یہی جرح امام ابو داود نے کی ہے :
قال أبو داود: «أبو إسحاق، لم يسمع من الحارث، إلا أربعة أحاديث
[سنن ابی داود برقم:908]


اس سے معلوم ہوا کہ امام ابو حنیفہ علم رجال میں اور علم حدیث میں یہ مہارت رکھتے تھے:

کہ سب سے پہلےامام ابو حنیفہ تھے جنہوں نے امام سفیان کی توثیق کرتے ہوئے یہ تصریح کی کہ جب امام سفیان ابو اسحاق کے طریق سے حارث الاعور سے روایت کریں تو وہ روایات مقبول نہ ہونگی۔

اس سے معلوم ہوا امام ابو حنیفہ نے اس طریق پر جرح اس لیے کی تھی کہ انکے نزدیک امام ابو اسحاق کا حارث الاعور سے سماع قلیل روایت کے سبب بقیہ تدلیس پر مبنی تھا
یا انکے نزدیک ابو اسحاق کا مطلق سماع ہی نہ ہو ثابت حارث یعنی ارسال ہو
تو دونوں صورتوں میں کوئی ایک بھی تسلیم کی جائے تو اس سے یہ واضح ہو گیا کہ امام ابو حنیفہ روایت میں تدلیس و ارسال کو بطور علت سمجھتے تھے
یعنی نہ ہی وہ مطلق ارسال و تدلیس کو مکمل رد کرتے تھے اور نہ ہی مطلقا قبول کرتے تھے۔

کیونکہ اسی جرح میں امام سفیان ثوری کی ابو اسحاق سے معنن روایت پر امام ابو حنیفہ نے کوئی اعتراض نہیں کیا ہے۔

امام ابو حنیفہ نے غیر معروف رواتہ پر مجہول الحال ہونے کے سبب جرح کی ہے اور ان سے ائمہ حنفیہ سمیت دیگر آئمہ نے یہ جرح نقل کی ہے ۔

امام ابو حنیفہ سے راوی کو مجہول قرار دینے کا ثبوت :

ایک راوی ابو زید عیاش ہے جسکے بارے محدثین میں اختلاف تھا کچھ کے نزدیک یہ صحابی ہیں اور کچھ کے نزدیک یہ مجہول اور غیر معروف ہیں اور امام ابو حنیفہ بھی اسکو غیر معروف قرار دیتے تھے اور تابعی کہتے تھے۔
جیسا کہ امام ابن جوزی سے امام زیلعی نقل کرتے ہیں :
وقال ابن الجوزي في التحقيق: قال أبو حنيفة: زيد أبو عياش مجهول،
اور ابن جوزی نے تحقیق میں کہا ہے ابو حنیفہ نے کہا زید ابو عیاش مجھول ہے
[نصب الراية،۴،۴۱]

اور امام ابن حجر عسقلانی تھذیب میں لکھتے ہیں :
قلت وقد فرق أبو أحمد الحاكم بين زيد أبي عياش الزرقي الصحابي وبين زيد أبي عياش الزرقي التابعي
میں کہتا ہوں امام ابو احمد حاکم نے زید بن ابی عیاش زرقی صحابی اور زید ابی عیاش تابعی میں فرق کیا ہے
من جهالة زيد بن عياش وقال أبو حنيفة مجهول وتعقبه الخطابي وكذا قال بن حزم أنه مجهول.
زید بن عیاش میں جہالت ہے اور امام ابو حنیفہ نے کہا ہ مجہول ہے ، امام خطبابی نے تعقب کیا اور ایسے ہی ابن حزم نے کہا کہ یہ مجہول ہے۔
[تقریب التہذیب ]

اسی طرح امام مغلطائی علیہ الرحمہ نے امام صریفینی سے یہی نقل کیا ہے۔
وفي كتاب الصريفيني عن الإمام أبي حنيفة: هو مجهول.
امام صریفینی سے نقل کیا ہے وہ کہتے ہیں یہ مجہول ہے ۔
[اکمال تھذیب الکمال برقم:1786]

تو یہ دعویٰ کرنا احناف کہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک مرسل و منقطع اور تدلیس شدہ اور ہر قسم کے مجہولین کی روایت مقبول تھی یہ بات تحقیقا صحیح نہین ہے ۔


بلکہ امام ابو یوسف و امام محمد بھی جب کوئی اپنے ساتھیوں سے روایت تعلیقا بھی روایت کرتے تھے تو اس ثقہ کہہ کر توثیق کرتے تھے۔

جیسا کہ امام ابو یوسف لکھتے ہیں:
وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنهم كَانُوا ۔۔۔۔الخ
[الرد على سير الأوزاعي، ص ۸۶]

اسی طرح امام محمد اپنی کتب میں متعدد جگہ ایسے کہتے ہیں:
اخبرنا الثقة من اصحابنا
اخبرنا الثقة من أصحابنا عن أزهر السمان
[الحجہ علی اہل مدینہ ص ۴۶۱]

اور یہی موقف امام المحدثین حنیفہ امام ابو جعفر الطحاوی علیہ الرحمہ کا تھا ۔ ہم فقط دو مثالیں ہی پیش کر دیتے ہیں جس میں تدلیس اور مجہول رواتہ کا موقف دونوں آجائیں گے۔

جیسا کہ ایک جگہ کہتے ہیں:
ان جوابنا له في ذلك بتوفيق الله عز وجل أن حديث إبراهيم بن أبي عاصم فاسد الإسناد ; لأن ابن جريج إنما حدث به عن رجل مجهول عن ابن شهاب ,
اور اللہ کی توفیق سے ابراہیم بن ابی عاصم کی حدیث پر ہمارا جواب یہ ہے کہ یہ فاسد الاسناد ہے ۔ کیونکہ ابن جریج نے یہ حدیث مجہول شخص کے زریعہ ابن شہاب سے روایت کی ہے ۔

[مشکل الاثار ، برقم:۲۹۲۲]

نیز ایک جگہ امام زہری کی تدلیس کے سبب روایت رد کرتے ہوئے کہتے ہیں:
وهذا الحديث أيضا لم يسمعه الزهري من عروة , إنما دلس به
یہ حدیث زہری نے عروہ سے نہیں سنی ہے ۔ بلکہ انہوں نے تدلیس کی ہے ۔
[شرح معانی الاثار، برقم:۴۲۹]

لہذا امام ابو حنیفہ انکے اصحاب اور متقدمین ائمہ حنیفہ محدثین نے مجہول اور تدلیس جیسی علت اور راوی کے مجہول ہونے کے سبب روایات کو رد کیا ہے ۔
یہ کوئی کلیہ نہیں کہ خیرالقرون کے تمام مجہول رواتہ اور تمام ارسال و تدلیس پر مبنی روایات عند الحناف مطلقا مقبول ہیں۔

تحقیق: اسد الطحاوی

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے