ایمان کی تعریف
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 5]

ایمان کی تعریف و ارکان کے حوالے سے  ائمہ کے اختلاف پر علامہ بدر الدین عینی  کا تجزیہ :

ایمان کی تعریف کی اس بحث میں امام عبد القادر جیلانی اور انکے امام احمد بن حنبل و شوافع اور احناف کے موقف میں تطبیق کا ثبوت بھی مل جائے گا۔

ایمان کی تعریف میں اختلاف پر بحث کرتے ہوئے امام عینی لکھتےہیں:

اختلف أهل القبلة في مسمى الإيمان في عرف الشرع على أربع فرق فرقة قالوا الإيمان فعل القلب فقط وهؤلاء قد اختلفوا على قولين أحدهما هو مذهب المحققين وإليه ذهب الأشعري وأكثر الأئمة كالقاضي عبد الجبار والأستاذ أبي إسحق الإسفرايني والحسين بن الفضل وغيرهم أنه مجرد التصديق بالقلب أي تصديق الرسول صلى الله عليه وسلم في كل ما علم مجيئه به بالضرورة تصديقا جازما مطلقا أي سواء كان لدليل أو لا فقولهم مجرد التصديق إشارة إلى أنه لا يعتبر فيه كونه مقرونا بعمل الجوارح والتقييد بالضرورة لإخراج ما لا يعلم بالضرورة أن الرسول صلى الله عليه وسلم جاء به كالاجتهاديات كالتصديق بأن الله تعالى عالم بالعلم أو عالم بذاته والتصديق بكونه مرئيا أو غير مرئي فإن هذين التصديقين وأمثالهما غير داخلة في مسمى الإيمان فلهذا لا يكفر منكر الاجتهاديات بالإجماع والتقييد بالجازم لإخراج التصديق الظني فإنه غير كاف في حصول الإيمان والتقييد بالإطلاق لدفع وهم خروج اعتقاد المقلد فإن إيمانه صحيح عند الأكثرين وهو الصحيح: فإن قيل اقتصر النبي صلى الله عليه وسلم عند سؤال جبريل عليه السلام عن الإيمان في الحديث الذي رواه عمر بن الخطاب رضي الله عنه بذكر الإيمان بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر فلم زيد عليه الإيمان بكل ما جاء به رسول الله صلى الله عليه وسلم قلت لاشتمال الإيمان بالكتب عليه لأن من جملة الكتب القرآن وهو يدل على وجوب أخذ كل ما جاء به صلى الله عليه وسلم باعتقاد حقيقته والعمل به لقوله تعالى {وما آتاكم الرسول فخذوه} والقول الثاني أن الإيمان معرفة الله تعالى وحده بالقلب والإقرار باللسان ليس بركن فيه ولا شرط حتى أن من عرف الله بقلبه ثم جحد بلسانه ومات قبل أن يقربه فهو مؤمن كامل الإيمان وهو قول جهم بن صفوان وأما معرفة الكتب والرسل واليوم الآخر فقد زعم أنها غير داخلة  في حد الإيمان وهذا بعيد من الصواب لمخالفة ظاهر الحديث والصواب ما حكاه الكعبي عن جهم أن الإيمان معرفة الله تعالى مع معرفة كل ما علم بالضرورة كونه من دين محمد صلى الله عليه وسلم والفرقة الثانية قالوا أن الإيمان عمل باللسان فقد وهم أيضا فريقان الأول أن الإقرار باللسان هو الإيمان فقط ولكن شرط كونه إيمانا حصول المعرفة في القلب فالمعرفة شرط لكون الإقرار اللساني إيمانا لأنها داخلة في مسمى الإيمان وهو قول غيلان بن مسلم الدمشقي والفضل الرقاشي الثاني أن الإيمان مجرد الإقرار باللسان وهو قول الكرامية وزعموا أن المنافق مؤمن الظاهر كافر السريرة فيثبت له حكم المؤمنين في الدنيا وحكم الكافرين في الآخرة والفرقة الثالثة قالوا أن الإيمان عمل القلب واللسان معا أي في الإيمان الاستدلالي دون الذي بين العبد وبين ربه وقد اختلف هؤلاء على أقوال الأول أن الإيمان إقرار باللسان ومعرفة بالقلب وهو قول أبي حنيفة وعامة الفقهاء وبعض المتكلمين الثاني أن الإيمان هو التصديق بالقلب واللسان معا وهو قول بشر المريسي وأبي الحسن الأشعري الثالث أن الإيمان إقرار باللسان وإخلاص بالقلب فإن قلت ما حقيقة المعرفة بالقلب على قول أبي حنيفة رضي الله عنه قلت فسروها بشيئين الأول بالاعتقاد الجازم سواء كان اعتقادا تقليديا أو كان علما صادرا عن الدليل وهو الأكثر والأصح ولهذا حكموا بصحة إيمان المقلد الثاني بالعلم الصادر عن الدليل وهو الأقل فلذلك زعموا أن إيمان المقلد غير صحيح ثم اعلم أن لهؤلاء الفرقة اختلافا في موضع آخر أيضا وهو أن الإقرار باللسان هل هو ركن الإيمان أم شرط له في حق إجراء الأحكام قال بعضهم هو شرط لذلك حتى أن من صدق الرسول صلى الله عليه وسلم في جميع ما جاء به من عند الله تعالى فهو مؤمن فيما بينه وبين الله تعالى وإن لم يقر بلسانه وقال حافظ الدين النسفي هو المروي عن أبي حنيفة رضي الله عنه وإليه ذهب الأشعري في أصح الروايتين وهو قول أبي منصور الماتريدي وقال بعضهم هو ركن لكنه ليس بأصلي له كالتصديق بل هو ركن زائد ولهذا يسقط حالة الإكراه والعجز وقال فخر الإسلام أن كونه ركنا زائدا مذهب الفقهاء وكونه شرطا لإجراء الأحكام مذهب المتكلمين والفرقة الرابعة قالوا أن الإيمان فعل القلب واللسان مع سائر الجوارح وهم أصحاب الحديث ومالك والشافعي وأحمد والأوزاعي وقال الإمام وهو مذهب المعتزلة والخوارج والزيدية أما أصحاب الحديث فلهم أقوال ثلاثة الأول أن المعرفة إيمان كامل وهو الأصل ثم بعد ذلك كل طاعة إيمان على حدة وزعموا أن الجحود وإنكار القلب كفر ثم كل معصية بعده كفر على حدة ولم يجعلوا شيئا من الطاعات إيمانا ما لم توجد المعرفة والإقرار ولا شيئا من المعاصي كفرا ما لم يوجد الجحود والإنكار لأن أصل الطاعات الإيمان وأصل المعاصي الكفر والفرع لا يحصل دون ما هو أصله وهو قول عبد الله بن سعيد القول الثاني أن الإيمان اسم للطاعات كلها فرائضها ونوافلها وهي بجملتها إيمان واحد وأن من ترك شيئا من الفرائض فقد انتقص إيمانه ومن ترك النوافل لا ينقص إيمانه القول الثالث أن الإيمان اسم للفرائض دون النوافل وأما المعتزلة فقد اتفقوا على أن الإيمان إذا عدى بالباء فالمراد به في الشرع التصديق يقال آمن بالله أي صدق فإن الإيمان بمعنى أداء الواجبات لا يمكن فيه هذه التعدية لا يقال فلان آمن بكذا إذا صلى أو صام بل يقال آمن لله كما يقال صلى لله فالإيمان المعدى بالباء يجري على طريق اللغة وأما إذا ذكر مطلقا غير معدى فقد اتفقوا على أنه منقول نقلا ثانيا من معنى التصديق إلى معنى آخر ثم اختلفوا فيه على وجوه أحدها أن الإيمان عبارة عن فعل كل الطاعات سواء كانت واجبة أو مندوبة أو من باب الاعتقادات أو الأقوال والأفعال وهو قول واصل بن عطاء وأبي الهذيل والقاضي عبد الجبار والثاني أنه عبارة عن فعل الواجبات فقط دون النوافل وهو قول أبي علي الجبائي وأبي هاشم والثالث أن الإيمان عبارة عن اجتناب كل ما جاء فيه الوعيد وهو قول النظام ومن أصحابه من قال شرط كونه مؤمنا عندنا وعند الله اجتناب كل الكبائر وأما الخوارج فقد اتفقوا على أن الإيمان بالله يتناول معرفة الله تعالى ومعرفة كل ما نصب الله عليه دليلا عقليا أو نقليا ويتناول طاعة الله تعالى في جميع ما أمر به ونهى صغيرا كان أو كبيرا قالوا مجموع هذه الأشياء هو الإيمان ويقرب من مذهب المعتزلة مذهب الخوارج ويقرب من مذهبهما ما ذهب إليه السلف وأهل الأثر أن الإيمان عبارة عن مجموع ثلاثة أشياء التصديق بالجنان والإقرار باللسان والعمل بالأركان إلا أن بين هذه المذاهب فرقا وهو أن من ترك شيئا من الطاعات سواء أكان من الأفعال أو الأقوال خرج من الإيمان عند المعتزلة ولم يدخل في الكفر بل وقع في مرتبة بينهما يسمونها منزلة بين المنزلتين وعند الخوارج دخل في الكفر لأن ترك كل واحدة من الطاعات كفر عندهم وعند السلف لم يخرج من الإيمان

ایمان کے شرعی معنی میں اہل قبلہ کے چار قول ہیں ۔ ایک قول یہ ہے کہ ایمان قلب کا فعل ہے ۔ اور اس میں پھر دو نظریے ہیں ، محققین ، امام اشعری، قاضی عبد الجبار ، استاذ ابو اسحاق اسفرائنی ،  حسین بن فضل  اور دیگر ائمہ کا یہ مسلک ہے  کہ ایمان صرف تصدیق بالقلب  نام ہے یعنی ہر وہ چیز جس کے متعلق   علم  ہے کہ نبی اکرمﷺ اس کو اللہ کے پاس سے لائے ہیں اس کی تصدیق کرنا ایمان  ہے ۔  دوسرا نظریعہ جہم بن صفوان کا ہے  کہ ایمان فقط دل سے اللہ کی معرفت کا نام ہے  اور زبان سے اقرار کرنا اس کے لیے شرط نہیں ہے  حتیٰ کہ جس شخص کے دل سے اللہ کی معرفت  ہو خواہ  وہ زبان سے اقرار نہ کرے اور اسی حال میں  مر جائے  وہ بھی مومن کامل ہے ۔

ایمان کی تعریف پر دوسرا قول:

یہ ہے کہ ایمان زبان سے اقرار کا نام ہے اس میں بھ نظریے ہیں ، غیلان بن مسلم دمشقی، فضل بن رقاشی کا یہ نظریہ ہے کہ ایمان زبان سے اقرار کانام ہے  لیکن اس کی شرط معرفت بالقلب ہے اور کرامیہ کا قول یہ ہے کہ کہ فقط زبان سے اقرار  کرنا ایان ہے انکا زعم یہ ہے کہ منافق  بظاہر مومن ہے اور یہ باطن کافر ہے ۔  دنیا میں منافق مومنوں  کے حکم میں ہے اور آخرت میں کافروں کے حکم میں ہے ۔

ایمان کی تعریف پر تیسرا قول :

یہ  ہے کہ ایمان اقرار باللسان اور معرفت بالقلبت کا مجموعہ ہے  اس قول  میں بھی  متعدد نظریات ہیں ۔

 ائمہ احناف و متکلمین کے نزیک ایمان کی تعریف:

 امام ابو حنیفہ ، عامہ فقہاء اور بعض متکلمین کے نزدیک  ایمان اقرار باللسان اور معرفبہ بالقلب کا مجموعہ ہے ۔

ایمان کی تعریف پر بشر المریسی  اور ابو الحسن اشعری  کا نظریہ ہے  :

کہ ایمان زبان اور دل دونوں سے تصدیق کرنے کا نام ہے ۔ زبان سے اقرار اور دل کے اخلاص کا نام ایمان ہے ۔

  امام ابو حنیفہ کے قول پر معرفت بالقلب  کا کیا معنی ہے؟

 اس کی دو تفسیریں ہیں ۔

۱: معرفت بالقلب سے مراد اعتقاد و جازم ہے عام  ازیں  کہ وہ اعتقاد و تقلید سے حاصل ہو یا استدلال سے ، اکثر علماء نے اسی تفسیر کو اختیار  کیا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے ، اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ مقلد کا ایمان صحیح ہے ۔

ب:  معرفت  بالقلب  سے مراد اعتقاد ہے جو دلیل سے حاصؒ ہو، اس کی تفسیر کے مطابق مقلد کا ایمان صحیح نہیں ہے ۔

اس قول کے قائلین  میں یہ اختلاف بھی ہے کہ اقرار باللسان  ایمان کا جز ہے یا ایمان کی شرط ہے ، امام ابو حنیفہ ، امام ابو منصور الماتریدی، کا مذہب اور امام ابو الحسن اشعری کا ایک قول یہ ہے کہ اقرار باللسان ایمان کی شرط ہے حتیٰ کہ جس شخص نے رسولﷺ کی کائی ہوئی تمام چیزوں کی تصدیق کی وہ اللہ کے نزدیک مومن ہوگا۔ خواہ اس نے زبان سے اقرار نہ کیا ہو اور بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ اقرار ایمان کا جز ہے مگر اصلی جز نہیں ہے زائد جز ہے حتیٰ کہ حالت  اکراہ میں اقرار ساقط ہو جاتا ہے ۔

  چوتھا  قول  یہ ہے کہ ایمان تصدیق اقرار اور عمال کے مجموعے  کا نام ہے ۔

 امام مالک ، امام شافعی ، امام احمد اور اعزاعی اور محدثین کا قول ہے ،  معتزلہ خوارز اور زیدیہ کا بھی یہی قول ہے  محدثین کے اس قول میں  مزید تین نظریات ہیں۔

نمبر ۱:  عبداللہ بن سعید کا قول یہ ہے  کہ معرفت ایمان  کامل ہے اور یہ اصل ہے پھر ہر اطاعت الگ الگ ایمان ہے اور حجود اور دل سے انکار کرنا کفر ہے ۔ پھر اس کی ہر مصیبت الگ الگ کفر ہے اور بغیر معرفت کے کوئی اطاعت ایمان نہیں ہے اور بغیر انکار کے کوئی مصیبت کفر نہین ہے ۔

ب: فرائض اور نوافل  تمام  عبادات کے مجموعہ کا نام  ایمان ہے جس نے کسی ایک فرض کو ترک کیا اس کا ایمان ناقص ہو گیا ہے جس نے نفل کو ترک کیا اسکے ایمان میں کمی نہیں ہوئی ۔

نمبر۲: ایمان فرائض  کے مجموعہ کا نام ہے نہ کہ نوافل کا  معتزلہ کے بھی اس قول میں متعدد  نظریات ہیں جن کی تفصیل یہ ہے :

نمبر ۳: واصل بن عطار ، ابو الہذیل  اور قاضی عبدالجبار کا مسلک یہ ہے کہ ایمان تمام عبادات  کے مجموعہ کا نام ہے خواب واجب ہوں یا مستحب

نمبر ۳ کی ذیل:ابو علی جبائی   اور ابو ہاشم کا مسلک   کہ ایمان نقط عبادات واجبہ کا نام ہے نہ کہ مستحب کا ۔

 نظام معتزلی کا مذہب  یہ ہے کہ وہ ہر کام جس پر وعید ہے اس کے ترک کا نام ایمان ہے۔

خوارج کا اس پر اتفاق ہے کہ اللہ کی معرفت  اس کے تمام احکام کی اطاعت اور تمام معاصی  سے اجتناب  خواہ صغائر ہوں یا کبائر ، اس کے مجموعہ کا نام ایمان ہے ، ان کا مذہب معتزلہ  اور سلف صالحین  کے قریب ہے ، مگر ان مذاہب میں یہ فرق ہے کہ مصیبت کبیرہ کے ارتکاب  سے معتزلہ کے نزدیک  انسان ایمان سے خارج ہو جاتا ہے ۔ لیکن کفر میں داخل نہیں ہوتا ہے ۔ اور خوارج کے نزدیک ارتکاب مصییت  سے انسان کفر میں داخل ہو جاتا ہے ۔ اور سلف کے نزدیک ارتکاب معصیت سے انسان فاسق ہوجاتا ہے ۔ ایمان سے خارج نہیں ہوتا ۔

[الامام عینی ، عمدة القاری شرح صحیح البخاری،  ۱/۱۰۴]

ایمان کی تعریف پر اصحاب الحدیث کی تعریف پر  امام عینی  لکھتے ہیں :

وقال الشيخ أبو إسحق الشيرازي وهذه أول مسألة نشأت في الاعتزال ونقل عن الشافعي أنه قال الإيمان هو التصديق والإقرار والعمل فالمخل بالأول وحده منافق وبالثاني وحده كافر وبالثالث وحده فاسق ينجو من الخلود في النار ويدخل الجنة قال الإمام هذا في غاية الصعوبة لأن العمل إذا كان ركنا لا يتحقق الإيمان بدونه فغير المؤمن كيف يخرج من النار ويدخل الجنة قلت قد أجيب عن هذا الإشكال بأن الإيمان في كلام الشارع قد جاء بمعنى أصل الإيمان وهو الذي لا يعتبر فيه كونه مقرونا بالعمل كما في قوله صلى الله عليه وسلم الإيمان أن تؤمن بالله وملائكته وبلقائه ورسله وتؤمن بالبعث والإسلام أن تعبد الله ولا تشرك به وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة المفروضة وتصوم رمضان الحديث وقد جاء بمعنى الإيمان الكامل وهو المقرون بالعمل كما في حديث وفد عبد القيس أتدرون ما الإيمان بالله وحده قالوا الله ورسوله أعلم قال شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة وصيام رمضان وأن تعطوا من المغنم الخمس والإيمان بهذا المعنى هو المراد بالإيمان المنفي في قوله صلى الله عليه وسلم لا يزني الزاني حين يزني وهو مؤمن الحديث وهكذا كل موضع جاء بمثله فالخلاف في المسألة لفظي لأنه راجع إلى تفسير الإيمان وأنه في أي المعنيين منقول شرعي وفي أيهما مجاز ولا خلاف في المعنى فإن الإيمان المنجي من دخول النار هو الثاني باتفاق جميع المسلمين والإيمان المنجي من الخلود في النار هو الأول باتفاق أهل السنة خلافا للمعتزلة والخوارج ومما يدل على ذلك قوله صلى الله عليه وسلم في حديث أبي ذر ما من عبد قال لا إله إلا الله ثم مات على ذلك إلا دخل الجنة قلت وإن زنى وإن سرق قال وإن زنى وإن سرق الحديث وقوله صلى الله عليه وسلم يخرج من النار من في قلبه مثقال ذرة من الإيمان فالحاصل أن السلف والشافعي إنما جعلوا العمل ركنا من الإيمان بالمعنى الثاني دون الأول وحكموا مع فوات العمل ببقاء الإيمان بالمعنى الأول وبأنه ينجو من النار باعتبار وجوده وإن فات الثاني فبهذا يندفع الإشكال فإن

امام شافعی سے ایمان کے بارے منقول :

 امام ابو اسحاق شیرازی کہتے ہیں  کہ ایمان تصدیق ، اقرار اور عمل کا نام ہے ۔ جس کی تصدیق میں خلل ہو وہ منافق ہے کس کے اقرار میں خلل ہو وہ کافر ہے جس کے عمل میں خلل ہو وہ فاسق ہے  وہ دوزخ کے دائمہ عذاب سے نجات پالے گا ، اور جنت میں داخل ہو جائے گا ، امام رازی نے کہا اس مسلک پر یہ قوی اشکال ہے  کہ جب اعمال ایمان کی جز ہیں اور جز کی نفی سے کل کی نفی ہو جاتی ہے  تو  بے عمل شخص مومن کیسے ہوگا اور وہ کیسے دوزخ سے خارج اور جنت میں داخل ہوگا ؟ ، امر اشکال کا یہ جواب ہے کہ شارع  کے کلام میں ایمان کبھی اصؒ امیان کے معنی میں ہوتا ہے اور اصل ایمان  میں اعمال کا اعتبار نہیں ہوتا ہے  جیسا کہ رسول ﷺ  کا ارشاد ہے :

الایمان ان تو من باللہ و ملٰئکتہ  و باقاثہ ورسلہ و تومن بالبعث والسلام ان تعبد اللہ ولا تشرک بہ و تقیم الصلوٰ تہ و توئوتی الزکوٰتہ المفر و ضة وتصوم رمضان

ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر  اسکے  فرشتوں پر،  اس سے ملاقات پر ، اس کے رسولوں پر اور مرنے کے بعد اٹھنے  پر ایمان لاو، اور اسلام یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو  اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور نماز قائم  کرو اور فرض زکوٰتہ  ادا کرو اور رمضمان کے روزے رکھو۔

کبھی  شارح کے لیے کلام مین ایمان  ایمان کامل  کے معنی میں ہوتا ہے  جس میں اعمال داخل ہوتے ہیں جیساک ہرسولﷺ نے فرمایا:

اتدون ما الایمان باللہ وجد قالوا اللہ و رسولہ اعلم قال شہادة ان الا اله الا اللہ وان محمد ارسول اللہ وا قام الصلٰوة و ایتاء الزکٰوة وصیام رمضان وان تعطوا من الفنم الخمس۔

کیا تم جانتے ہو کہ اللہ وحدہ پر ایمان لانا کیا ہے ؟  انہوں نے کہا اللہ اور اسکا رسولﷺ زیادہ جانتا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ، محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ۔ اور نماز قائم کرنا ، زکوة ادا کرنا ، رمضان کے روزے رکھنا اور مال غنیمت سے خمس ادا کرنا ۔

پہلی حدیث میں ایمان اصل ایمان یا نفس ایمان کے معنی  میں ہے اور اس دوسری حدیث میں ایمان ، ایمان کامل کے معنی میں ہے اور جن احادیث میں اعما ل کی نفی سے ایمان کی نفی کی گئی ہے ان میں ایمان سے مراد ایمان کامل ہے جن احادیث میں عمل کی نفی کے باوجود ایمان کا اطلاق کیا گیا ہے اور جنت کی بشارت دی گ۴ی ہے ان سے مراد نفس ایمان ہے ۔

اسکی مثال یہ ہے :

لا یزنی الوانی حین یزنی وھم مئومن ۔

جس وقت زانی زنا کرتا ہے اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا ہے ۔

اس حدیث میں ایمان کامل کی نفی ہے ۔ 

رسولﷺ نے حضرت ابو زر سے فرمایا :

ما من عبد قال لا الہ الا للہ ثم مات  علی زالك الا خل الجنة قلت ان زنی و ان سرق قال و ان زنی و ان سرق

جس شخص نے بھی لا الہ اللہ کہا پھر اسی پر مر گیا وہ جنت مین داخل ہو جائے گا ۔ میں نے کہا خواہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا خواہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو ۔

حدیث مین نفس ایمان مراد ہے ۔

خلاصہ یہ ہے کہ اس مسلہ میں اختلاف لفظی ہے کیونکہ اس کا درجوع ایمان کی تفسیر کی طرف ہے اور ایمان کا کون سا  معنی منقول شرعی ہے اور کون سا معنی مجاز ہے اس میں اختلاف ہے اور اس میں کوئی اختلاف  نہیں ہے کہ جس ایمان کی وجہ سے دوزخ میں دخول سے نجات  ملتی ہے وہ ایمان کامل ہے اس پر تمام علماء کا اتفاق ہے اور جس  ایمان کی وجہ سے دوذخ  کے دخول سے نجات ملتی ہے ۔ وہ نفس ایمان ہے اس میں اہلسنت  کا اتفاق ہے اور خوارج اور معتزلہ  کا اس میں اختلاف ہے ۔

حاصل بحث یہ ہے کہ سلف اور اما م شافعی نے جو اعمال کی ایمان کی جز کہا ہے اس ایمان سے انکی مراد ا یمان کامل ہے نہ کہ نفس ایمان یا صل ایمان مراد ہے ۔ اور جب وہ کسی بے عمل یا بد عمل شخص پر مومن کا اطلاق کرتے ہیں تو اس سے ان کی مراد نفس ایمان ہوتی ہے نہ کہ ایمان کامل ۔ وہ کہتے ہیں کہ اس شخص میں ہر چند کی ایمان کامل نہیں ہے لیکن وہ نفس ایمان کی وجہ سے نجات پائےگا۔

[ امام عینی ، عمدة القاری شرح صحیح البخاری، 1/۱۰۴]


خلاصہ تحقیق:

احناف کے نزدیک جو ایمان میں اعمال مشروط نہیں اس سے مراد عین ایمان ہے۔ اور اصحاب الحدیث کے نزدیک جس ایمان میں اعمال مشروط وہ ایمان کامل ہے جو کہ عین ایمان سے اضافی ایک چیز ہے۔ جسکی دلیل یہ ہے کہ امام شافعی کے نزدیک بے عمل کلمہ گوہ مسلمان ہے اور جہنم سے دائمی نجات حاصل کرنے والا  ہوگا اور جنت میں جائے گا۔ اگر اصحاب الحدیث کے نزدیک بے عمل مسلمان میں سرے سے ایمان ہی نہ رہتا تو وہ آخر میں جنت کس بنیاد پر جائے گا؟ تو معلوم ہوا کہ اصحاب الحدیث کے نزدیک بے عمل انسان مسلمان کامل نہیں اور احناف کے نزدیک اسکا ایمان عمل والے مومن کے بابر تو ہے ۔ البتہ اعمال نہ کرنے کے سبب وہ شخص مسلمان تو ہے مومن کامل نہیں۔

تو ان دو موقف میں اصولی طور پر کوئی ایسا اختلاف نہیں جس کے سبب دونوں میں اختلاف کے سبب کسی ایک پر گمراہی کا فتویٰ لگ سکے۔

تحقیق: اسد الطحاوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے