قصاص عثمان
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 5]

 حضرت عثمان کے قصاص کے مسلہ پر حضرت عمار حضرت علی کے اصحاب کے مخالف تھے

حضرت عثمان  کے قصاص اور ان کی شہادت کے قصاص کو جائز نہیں سمجھتے تھ حضرت عمار  بن یاسر ۔ شاید انکے فہم میں اس شہادت کے ذمہ دار حضرت عثمان کی ذات ہے۔
جبکہ یہ موقف نبی اکرم کے فرمان کے صریح خلاف ہے۔ کہ جس میں نبی کریم نے حضرت عثمان سے فرمایا تھا کہ منافقین آپکی قمیض (یعنی خلافت) اتارنے کی کوشش کرینگے آپ ثابت قدم رہنا۔
[صحیح حدیث]

اچھا پھر کچھ کھٹمل زدہ زہن یہ پروپیگنڈہ کرتے نظر آتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ نے اپنے دور خلافت میں من پسند گورنر لگائے فلاں ڈھینگ۔۔۔

تو عرض ہے یہ اعتراض کرتے کھٹملی لوگوں کو فضائل حضرت عثمان میں صحیح روایات بھول جاتی ہیں۔
جیسا کہ نبی کریم نے حضرت عثمان کی طرف سے امداد ملنے پر فرمایا تھا کہ
"آج سے عثمان کچھ بھی نہ کرے (یعنی جو بھی کرے) اسکا حساب کتاب اللہ نہیں لیگا
[مفہوم صحیح حدیث]
جبکہ اللہ و رسول نے حضرت عثمان رضی اللہ کی زندگی کے تمام امور گرینٹی فرما دی کہ وہ حق پر ہی رہینگے تبھی تو اللہ نے ان کو حساب کتاب سے بری فرما دیا تھا بقول رسول اللہ۔
تو آج کے کھٹملوں کی کیسی اوقات؟ کہ وہ حضرت عثمان کے بطور خلیفہ کیے گئے فیصلوں پر اپنا بد بودار منہ کھولیں۔۔۔

یہی وجہ ہے کہ خلیفہ سوم کا نا حق شہید ہونے کے بعد بھی حضرت عمار انکے قصاص لینے کے لیے راضی نہ تھے۔
امام بخاری علیہ رحمہ روایت بیان کرتے ہیں:
حدثني موسى ثنا حماد عن محمد بن عمر عن أبيه عن جده قال كنا بعد عثمان فقال أبو جهم من بايعنا فإنا نقص من الدماء فقال عمار أما من دم عثمان فلا فقال يا بن سمية أتقص من جلدات ولا تقص من دم عثمان
حضرت عقلمہ بن وقاص کہتے ہیں میں (شہادت) عثمان کے بعد اکٹھے ہوئے تو حضرت ابو جہمؓ نے فرمایا کہ ہم اس بات پر بیعت کرینگے کہ خون(شہادت) کا بدلہ لینگے تو حضرت عمار بن یاسر بولے اگر تمہاری مراد (حضرت) عثمان کی شہادت ہے تو اسکا بدلہ ہم نہیں لینگے۔
تو اس پر صحابی رسول حضرت ابو جہم نے فرمایا”اے ابن سمیہ! تم کو (خود پر لگے) کوڑوں کا بدلہ تو چاہیے لیکن حضرت عثمان کی شہادت کا قصاص نہیں چاہیے۔
[تاریخ الصغیر للبخاری برقم:333 وسندہ حسن]

اب حضرت عمار کا یہ موقف کہ قصاص عثمان رضی اللہ کوئی اہم امر نہیں تھا اسکا رد حضرت مولا علی کے سب سے قریبی ساتھی اہل بیت حضرت ابن عباس سے پیش کرتے ہیں!

جیسا کہ امام طبرانی علیہ رحمہ روایت کرتے ہیں :

حدثنا أبو مسلم الكشي، والحسن بن المثنى العنبري، وعلي بن عبد العزيز، قالوا: ثنا عارم أبو النعمان، ثنا الصعق بن حزن، ثنا قتادة، عن زهدم الجرمي، قال: خطبنا ابن عباس رضي الله عنهما، فقال: «لو أن الناس لم يطلبوا بدم عثمان لرجموا بالحجارة من السماء»

امام قتادہ حضرت زھدم جرمی کے حوالے سے فرماتے ہیں: حضرت ابن عباسؓ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا :اگر لوگوں نے حضرت عثمانؓ کے خون کا بدلہ کا مطالبہ نہ کیا تو آسمان سے ان پر پتھر برسیں گے۔ (بطور عذاب)
[المعجم الکبیر برقم: 122، رجال ثقات]
امام قتادہ رحمہ اللہ منفرد نہیں ان کی متابعت ایک اور راوی نے کر رکھی ہے جو موجود ہے
طبقات ابن سعد میں
قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ قَالَ: أَخْبَرَنَا لَيْثٌ عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي مَلِيحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَوْ أَجْمَعَ النَّاسُ عَلَى قَتْلِ عُثْمَانَ لَرُمُوا بِالْحِجَارَةِ كَمَا رُمِيَ قَوْمُ لُوطٍ.
[ابن سعد ,الطبقات الكبرى ط العلمية ,3/58]
لیکن اسکا جید شاہد خود حضرت ابن عباس سے دوسری سند سے بطریق ذھم جرمی سے ہی روایت ہے جس میں حضرت عباس ؓ جنکا ذاتی اجتہاد یہ تھا کہ حضرت علیؓ کو حضرت عثمان کے قصاص کے مطالبہ پورا ہونےتک انتظار کرنا چاہیے تھا اور انہوں نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا حضرت علیؓ سے لیکن حضرت علیؓ کی حکمت عملی و اجتہاد اسکے برعکس تھا جسکی وجہ سے انہوں نے حضرت عباسؓ کی اس بات کو تسلیم نہیں کیا ۔
اور پھر حضرت ابن عباسؓ نے ہی فرمایا کہ بیشک حضرت معایہؓ حضرت عثمان ؓ کے قصاص کے حقدار ہیں پھرقرآن سے آیت کی قرات کی ۔
جیسا کہ امام طبرانی روایت کرتے ہیں:
 حدثنا يحيى بن عبد الباقي الأذني، ثنا أبو عمير بن النحاس، ثنا ضمرة بن ربيعة، عن ابن شوذب، عن مطر الوراق، عن زهدم الجرمي قال: كنا في سمر ابن عباس، فقال: ” إني محدثكم بحديث ليس بسر ولا علانية: إنه لما كان من أمر هذا الرجل ما كان – يعني عثمان – قلت لعلي: اعتزل؛ فلو كنت في جحر طلبت حتى تستخرج، فعصاني، وايم الله ليتأمرن عليكم معاوية، وذلك أن الله عز وجل يقول {ومن قتل مظلوما فقد جعلنا لوليه سلطانا فلا يسرف في القتل إنه كان منصورا} [الإسراء: 33] ، ولتحملنكم قريش على سنة فارس والروم، وليتمنن عليكم النصارى واليهود والمجوس، فمن أخذ منكم يومئذ بما يعرف نجا، ومن ترك، وأنتم تاركون، كنتم كقرن من القرون فيمن هلك "
ثقہ تابعی ابومسلم زھدم بن مضرب جرمی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
’’ہم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس رات کی محفل میں شریک ہوئے۔انہوں نے فرمایا : میں تمہیں ایسی بات بیان کرنے والا ہوں جو نہ مخفی ہے نہ ظاہر۔جب عثمان(کی شہادت) کا معاملہ ہوا تو میں نےحضرت علیؓ سے کہا : اس معاملے سے دُور رہیں، اگر آپ کسی بِل میں بھی ہوں گے تو (خلافت کے لیے)آپ کو تلاش کر کے نکال لیا جائے گا، لیکن انہوں نے میری بات نہیں مانی
(پس میں نے کہا) اللہ کی قسم!حضرت معاویہؓ ضرور تمہارے حکمران بنیں گے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : {وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَانًا فَلَا یُسْرِفْ فِّي الْقَتْلِ إِنَّہٗ کَانَ مَنْصُوْرًا}(الإسرائ17: 33)(اور جو شخص ظلم سے قتل کر دیا جائے، ہم نے اس کے ولی کو اختیار دیا ہے،وہ قتل کرنے میں زیادتی نہ کرے، اس کی ضرور مدد کی جائے گی)
ضرور قریش تم پر سوار ہوجائیں گے فارس اور روم کی طریقے پرضرور تم پر نصاری یہود،مجوس احسان جتلائیں گے پس تم میں سے جس اس سے اس دن وہ چیز لے کی جس کو وہ پہچانتا ہے تو اس نے نجات پالی اور جس نے چھوڑ دی اور تم چھوڑنے والے ہی ہوتو تم اس امت کی طرح ہوگے جو ھلاک ہونے والے ہیں ‘‘
[المعجم الکبیر برقم: 10613وسندہ صحیح ]
جبکہ پوری امت کے خلاف حضرت عمار بن یاسر ؓ اجتہاد تھا کہ حضرت عثمان کی شہادت کا قصاص ہی نہ لیا جائے تو یہ انکی خطاء اجتہادی تھی۔ جسکی دلیل ہم سابقہ تحریر میں دے چکے!
اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہہ بھی حضرت عمار کے اس اجتہاد کو کبھی قبول نہ فرمایا! ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے