حضرت عمرؓ بن خطاب کے حوالے سے مالک اشتر کی حقیقت!

حضرت عمرؓ بن خطاب کے حوالے سے مالک اشتر کی حقیقت!
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 1]

حضرت عمرؓ بن خطاب کے حوالے سے مالک اشتر کی حقیقت!

تحقیق: ا سد الطحاوی الحنفی

مالک اشتر کی حقیقت بزبانی  حضرت عمرؓ جنکو نبی کریمﷺ نے اس امت کا محدث قرار دیا انہوں نے بھی مالک اشتر جیسے شریر شخص کی پیشین گوئی پہلے کر دی تھی!

جیسا کہ امام خلال اپنی السنہ میں روایت کرتےہیں:

أخبرنا عبد الله بن أحمد، قال: قال أبي: في حديث يزيد بن زريع عن شعبة، قال: نبأني عمرو بن مرة، عن عبد الله بن سلمة، قال: دخلنا على عمر معاشر مذحج، وكنت من أقربهم منه مجلسا، فجعل عمر ينظر إلى الأشتر ويصرف بصره، فقال: أمنكم هذا؟ قلت: نعم يا أمير المؤمنين، قال: ما له، قاتله الله  كفى الله أمة محمد شره، والله إني لأحسب أن للناس منه يوما عصيبا

ترجمہ:  حضرت عبداللہ بن سلمہ کہتے ہیں :ہم قبیلہ مذحج کے لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو آپ رضی اللہ عنہ (مالک) اشتر کو دیکھنے لگے اور وہ نظریں چرانے لگا. آپ نے پوچھا : یہ تمہارے ساتھ آیا ہے؟ ابن سلمہ کہتے ہیں : میں نے کہا جی امیر المومنین! ہمارے ساتھ ہی آیا ہے. فرمایا : اس کا کیا معاملہ ہے، اللہ اسے بردباد کرے اور امتِ محمد کو اس کے شر کے مقابلے میں کافی ہو جائے، اللہ کی قسم مجھے لگتا ہے اس کی طرف سے لوگوں کو بڑا پریشان کن دن دیکھنا پڑے گا۔

[السنة لأبي بكر الخلال، رقم: ۸۳۶]

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اعتراض:

امام عبداللہ نے انکی دو اسناد بیان کی ہے

پہلی: قال عبد الله: والحديث حدثناه بشار الخفاف حدثنا يزيد بن زريع حدثني شعبة حدثني عمرو بن مرة- وقال فيه كلاما كثيرا أكثر من هذا

 

دوسری: قال عبد الله قال أبي قرأته في كتاب عمي صالح بن حنبل عن الهيثم بن عدي عن عبد الله بن عمرو بن مرة عن أبيه- يعنى هذا الحديث

[تاریخ بغداد]

چونکہ یہ حدیث ھیثم بن عدی کذاب روایت کرتا تھا عبداللہ بن  عمرہ  سے۔

لیکن  بشار بن خفاف نے اسکو  یزید بن زریع سے امام شعبہ کے طریق سے بیان کردیا یعنی انہوں نے ھیثم بن عدی کی حدیث چوری کر لی اور شعبہ سے بیان کردی ۔

جسکی دلیل یہ ہے:

امامِ جرح و تعدیل یحییٰ بن معین نے اس روایت پر جرح مفسر کر دی ہے اور اس راوی نے حدیث کو سرقہ کر کے ہیثم کی روایت کو سیدھا یزید سے بیان کیا ہے اور ہیثم کا حال اوپر گزر چکا کہ وہ پکا کذاب ہے، اس روایت کی اصل ہیثم سے تھی، جسے بشار نے سرقہ کر کے سیدھا یزید سے بیان کیا۔

دلیل : أخبرنا أَبُو جَعْفَر مُحَمَّد بْن جَعْفَر بْن علان الورّاق، أخبرنا محمد بن الحسين أبو الفتح الأزدي،حدثني محمد بن جعفر بن أحمد المطيري قال: حدثنا عبد الله بن أحمد الدورقي قال: مضيت إلى بشار بن موسى الخفاف، فحدثنا عن يزيد بن زريع، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عبد الله بن سلمة قال: دخلنا على عمر بن الخطاب في وفد مذحج ومعنا الأشتر، فجعل ينظر إلى الأشتر، ويصرف بصره عنه، فقال: ويل لهذه الأمة منك ومن ولدك، إن للمؤمنين منك يوما عصيبا!

عبد اللہ کہتے ہیں: میں اپنے گھر آیا، وہاں یحییٰ بن معین اور خلف بن سالم موجود تھے، یحیی بن معین نے مجھے آواز دی: کہاں تھے عبد اللہ؟ میں نے کہا اس طرف بشار بن موسیٰ کے پاس تھا۔ یحییٰ نے کہا: تم سے کون سی حدیث بیان کی؟ میں نے کہا: حدثنا عن يزيد بن زريع، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عبد الله بن سلمة…..

اور ان سے حدیث بیان کی۔ یحییٰ نے کہا: اسے کیا ہوا اللہ جو کرتا ہے وہ کرتا ہے (اظہار افسوس اور تعجب کیا) اللہ کی قسم اس کو یزید بن زریع نے کبھی بیان نہیں کیا، اور نہ شعبہ نے عمرو سے سماعت کی۔ خلف بن سالم نے کہا: ابو زکریا اس کی تمہاری پاس کیا دلیل ہے؟ فرمایا: انہوں نے ہیثم کی حدیث سے سرقہ کیا ہے۔

(تاريخ بغداد ٧/ ١٢٠ – دار الكتاب العربي)

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الجواب (اسد الطحاوی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امام خطیب بغدادی سے  ابن معین کی جرح  کا رد پیش کرتے ہیں ۔امام  خطیب بغدادی  تاریخ میں پہلے امام ابن معین کی جرح نقل کرتے ہیں :

اسکے بعد امام خطیب مذکورہ روایت کو بشار کے ترجمہ میں بیان کرکے ابن معین کی جرح نقل کرتے ہیں جو متعرض نے نقل کی تھی ۔

أخبرنا أبو جعفر محمد بن جعفر بن علان الوراق، أخبرنا محمد بن الحسين أبو الفتح الأزدي، حدثني محمد بن جعفر بن أحمد المطيري قال: حدثنا عبد الله بن أحمد الدورقي قال: مضيت إلى بشار بن موسى الخفاف، فحدثنا عن يزيد بن زريع، عن شعبة، عن عمرو بن مرة، عن عبد الله بن سلمة قال: دخلنا على عمر بن الخطاب في وفد مذحج ومعنا الأشتر، فجعل ينظر إلى الأشتر، ويصرف بصره عنه، فقال: ويل لهذه الأمة منك ومن ولدك، إن للمؤمنين منك يوما عصيبا! قال عبد الله:فأتيت منزلنا، فإذا فيه يحيى بن معين وخلف بن سالم، فناداني يحيى بن معين: يا عبد الله أين كنت؟ قلت: كنت في ذاك الجانب عند بشار بن موسى، فقال يحيى:

وأيش حدثكم؟ قلت: حدثنا عن يزيد بن زريع، عن شعبة، عن عمرو بن مرة، عن عبد الله بن سلمة وذكرت له الحديث. فقال يحيى: ماله فعل الله به وفعل، والله ما حدث بهذا يزيد بن زريع قط، ولا سمعه شعبة من عمرو بن مرة. فقال له خلف بن سالم: يا أبا زكريا، فأيش الحجة عندك؟ قال: سرقوه من حديث الهيثم بن عدي عن ابن عمرو بن مرة عن أبي

عبد اللہ کہتے ہیں: میں اپنے گھر آیا، وہاں یحییٰ بن معین اور خلف بن سالم موجود تھے، یحیی بن معین نے مجھے آواز دی: کہاں تھے عبد اللہ؟ میں نے کہا اس طرف بشار بن موسیٰ کے پاس تھا۔ یحییٰ نے کہا: تم سے کون سی حدیث بیان کی؟ میں نے کہا: حدثنا عن يزيد بن زريع، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عبد الله بن سلمة….. اور ان سے حدیث بیان کی۔ یحییٰ نے کہا: اسے کیا ہوا اللہ جو کرتا ہے وہ کرتا ہے (اظہار افسوس اور تعجب کیا) اللہ کی قسم اس کو یزید بن زریع نے کبھی بیان نہیں کیا، اور نہ شعبہ نے عمرو سے سماعت کی۔ خلف بن سالم نے کہا: ابو زکریا اس کی تمہاری پاس کیا دلیل ہے؟ فرمایا: انہوں نے ہیثم کی حدیث سے سرقہ کیا ہے۔

[تاريخ بغداد ٧/ ١٢٠ – دار الكتاب العربي] 

اسکو نقل کرنے کے بعد امام خطیب اسکا رد کرتے ہوئے بشار کا متابع بیان کرتے ہیں :

قلت: قد رواه العباس بن أبي طالب البصري نزيل مصر أيضا عن يزيد بن زريع نحو رواية بشار.

أخبرناه أبو نعيم الحافظ حدثنا عبد الله بن جعفر بن أحمد بن فارس حدثنا إسماعيل بن عبد الله بن مسعود العبدى حدثني العباس بن طالب حدثنا يزيد بن زريع حدثنا شعبة حدثنا عمرو بن مرة حدثنا عبد الله بن سلمة: أن عمر بن الخطاب نظر إلى الأشتر فصعد فيه النظر ثم صوبه، ثم قال: إن للمسلمين من هذا يوما عصيب

امام خطیب کہتے ہیں  کہ : میں کہتا ہوں عباس بن طالب  البصری جو کہ مصر کے باشندے ہیں انہوں نے بھی اسکو یزید کے طریقے سے ہی بیان کیا ہے جیسا کہ بشار نے کیا

پھر امام خطیب بشار کا متابع بیان کرتے ہیں ابو نعیم کی سند سے

[تاریخ بغداد]

اورعباس بن طالب بصری یہ بھی صدوق راوی ہے جیسا کہ امام ابن عدی نے انکو صدوق و   لاباس بہ قرار دیا ہے ۔

جیسا کہ امام ابن عدی انکے بارے کہتے ہیں :

ایک کذاب راوی جو کہ ثقہ راویوں پر احادیث گھڑتا تھا اسکا رد کرتے ہوئے کہتے ہیں

زكريا بْن يَحْيى أبو يَحْيى الوقار مصري.

يضع الحديث

حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنا أبو يَحْيى، حَدَّثَنا الْعَبَّاسُ بْنُ طَالِبٍ الأَزَدِيُّ، عَن أَبِي عَوَانة، عَن قَتادَة، عَن أَنَس، قَال: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ هَوَانًا أَنْفَقَ مَالَهُ فِي الطِّينِ.

قال الشيخ: وهذان الحديثان بهذا الإسناد، عَن أَبِي عَوَانة، عَن قَتادَة، عَن أَنَس باطلان والعباس بْن طالب صدوق بصري سكن مصر لا بأس به.

امام ابن عدی کہتے ہیں کہ یہ حدیثیں دو اس اسناد سے جو ابی عوانہ اور قتادہ سے حضرت انس سے مروی ہیں(جنکو زکریہا کذاب نے روایت کیا ) یہ باطل ہیں اور عباس بن طالب صدوق ہے جو بصری ہیں اور ان میں کوئی حرج نہیں ہے۔

[الکامل ابن عدی]

اب یہ ثابت ہو گیا کہ بشار بن موسیٰ کا متابع عباس بن طالب صدوق بھی موجود ہے ۔ تو بشار  جو خود صدوق ہے اگر اس نے بھی ہیثم سے یہ حدیث سرقہ کی ہے تو پھر عباس بن طالب کو بھی یسرق الحدیث ماننا پڑے گا ۔۔ 

جیسا کہ یہ بات امام ابن حجر عسقلانی انکے ترجمہ میں کرتے ہیں :

قلت: فالظاهر أن العباس سرقه أيضًا ويحتمل أن يكونا جميعا سمعاه من يزيد بن زريع إن كانا ضبطا والله أعلم.

میں کہتاہوں اس سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عباس راوی نے بھی یہ روایت سرقہ کی  اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان سب نے سماع کیا ہو یزید  سے اگر انکا ضبط تھا اللہ بہتر جانتا ہے

[لسان المیزان ]

معلوم ہوا کہ امام ابن حجر جنکے نزدیک بشار ضعیف ہے وہ بھی اس میں اضطراب کا شکار تھے اور فیصلہ نہ کر سکے اور نہ ہی ابن معین کی جرح کا اعتبار کیا ۔ کیونکہ بشار کا جب متابع ثابت ہے تو یا تو دونوں کو سرقہ باز ماننا پڑے گا یا پھر واقعی انہوں نے سماع کیا تھا ۔۔ اور یہی مقدم موقف ہے ۔ 

اب چونکہ بشار بن موسیٰ کی عدالت پر ابن معین سے صریح جرح کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ حدیث چور تھا جبکہ متقدمین سے متاخرین تک کسی نے بھی اس بات کو قبول نہیں کیا بلکہ اسکی ثقاہت کی طرف فیصلہ دیا   ۔ (اسکی تفصیل آگے آرہی ہے)

اور امام خطیب نے صریح دلیل دیتے ہوئے بشار کے تفرد کو بھی ختم کر دیا  بلکہ اسکا متابع بھی بیان کر دیا

یعنی بشار بھی یزید سے بیان کرتا ہے

اور

العباس بن طالب بھی اسکو یزید سے بیان کرتا ہے  جو کہ صدوق ہے۔

تو بشار پر ابن معین کی جرح یسرق الحدیث جو ویسے ہی محدثین نے قبول نہیں کی امام خطیب نے صریح دلیل کے ساتھ رد کر دیا ،نہ ہی محدثین نے امام یحییٰ بن معین کی اس جرح پر توجہ دی اور نہ ہی امام یحییٰ بن معین کے اس کلام سے کسی نے اتفاق کیا ہے

امام یحییٰ بن معین کی جرح کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔

۱۔بقول امام ابن معین امام شعبہ نے اس روایت کو عمرو بن مرہ سےسنا ہی نہیں

۲۔ بقول امام ابن معین اس روایت کو بشار بن موسیٰ نے سرقہ یعنی چوری کر کے یزید سے بیان کر دیا ہے

یعنی امام ابن معین کے بقول شعبہ نے اسکو عمرہ سے سنا ہی نہیں  اور یہ روایت باطل ہے لیکن سائل نے جب ابن معین سے کہا کہ آپ کے پاس اسکا ثبوت کیا ہے ؟

تو ابن  معین نے کہا کہ بشار بن موسیٰ نے سرقہ کی ہے ۔

اب دیکھتے ہیں ابن معین نے جو بشار  پر حدیث چوری کرنے کا الزام لگایا ہے اگر تو یہ صحیح ہوگا تو  جرح ابن معین کی صحیح ہوگی اور اگر محدثین نے اس جرح کا رد کیا ہوگا تو روایت  جرح مبھم ہو جائے گی

اور اگر بشار کا متابع بھی ثابت ہو گیا تو بھی روایت پر ابن معین کی جرح ساقط ہو جائے گی۔جیسا کہ متابعت اوپر ثابت کرآئے۔

اب آتے ہیں بشار بن موسیٰ کے تعارف کی طرف:  جو مالک اشتر کی مذمت پر مشتمل روایت بیان کرنے میں منفرد نہیں۔

امام ذھبی سے توثیق:

امام ذھبی نے میزان میں بشار بن موسیٰ کو درج کرتے ہوئے اس پر جرح اور تعدیل (جسکی تفصیل آگے آئے گی) پیش کرنے کے بعد اپنا فیصلہ دیتے ہوئے کہتے ہیں :

وقول من وثقه أقرب.

 اور جنہوں نے اس(بشار) کو ثقہ قرار دیا ہے انکا قول زیادہ مناسب ہے

[میزان الاعتدال ، برقم: 1180]

 یعنی امام ذھبی  تو محدثین سے بشار کی توثیق کو مقدم قرار دے رہے ہیں تو ابن معین کا اس صدوق راوی کو یسرق الحدیث قرار دینا تو بے کار ہو گیا جسکی وجہ سے   امام ابن معین نے اسکی روایت کو باطل قرار دیا تھا۔

اور بشار اور اما  م ابن معین میں چپکلش بھی تھی چونکہ یہ  ہم عصر تھے  اجیسا کہ امام ذھبی بشار بن موسیٰ کا ابن معین کے بارے یہ قول نقل کرتے ہیں :

وقال ابن الغلابى: قال ابن معين: بشار الخفاف

من الدجالين.

وعن بشار، قال: نعم الموعد يوم القيامة.

نلتقي أنا ويحيى بن معين.

ابن غلابی کہتے ہیں کہ یحییٰ بن معین کہتے تھے کہ بشار الخفاف دجالوں میں سے ایک ہے

اور بشار سے یہ روایت کیا گیاہے وہ کہتے تھے کہ قیامت کے دن کا وعدہ ہے اس دن میرا اور ابن معین کا سامنہ ہو جائے گا

[تاریخ  بغداد]

معلوم ہوا ابن معین اور بشار کے بیچ کو ئی ذاتی مسلہ تھا جسکی بنیاد پر بشار اور ابن معین ایک دوسرے پر کلام کرتے تھے اور ایسا کلام باطل ہوتا ہےؕ

اس لیے امام ذھبی ابن معین کی   اس جرح کے مقابل کہتےہیں :

وقال أبو عبيد الآجري سألت أبا داود عنه، فقال: كان أحمد يكتب حديثه، وكان حسن الرأى فيه، وأنا لا أحدث عنه.

اور ابو عبیدہ الاجری کہتےہیں کہ میں نے ابو داود سے انکے بارے پوچھا تو وہ کہتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل ان سے حدیث لکھتے تھے اور انکے بارے میں بہت اچھی رائے رکھتے تھے اور میں ان سے بیان نہیں کیا

[میزان الاعتدال ، برقم: 1180]

تو فقط اتنی تفصیل سے یہ تو ثابت ہو گیا کہ بشار کو امام ذھبی ثقاہت کے قائل تھے اور ثقاہت کے قائل ہیں تو عدالت پر ابن معین کی جرح رد ہو گئی

اب  دیگر محدثین سے توثیق کا ثبوت پیش کرتے ہیں جنہوں نے امام ابن معین سے بالکل اختلاف کیا ہے۔

متشدد ناقد امام ابن حبان

امام ابن  حبان انکو ثقات میں درج کیا ہے

– بشار بن مُوسَى الْخفاف أَبُو عُثْمَان الْبَغْدَادِيّ يروي عَن أبي زَائِدَة وَالنَّاس روى عَنهُ مُحَمَّد بن إِبْرَاهِيم الْبكْرِيّ وَأهل الْعرَاق كَانَ صَاحب حَدِيث يغرب مَاتَ سنة ثَمَان وَعشْرين وَمِائَتَيْنِ

[الثقات ، برقم: 12711]

اور امام ابن حبان معروف راویان پر جرح کرنے میں متشدد ہیں اس لیے معروف راویان  میں انکی توثیق  حجت کا درجہ رکھتی ہے

جیسا کہ امام ذھبی فرماتے ہیں :

ويَنْبُوعُ معرفةِ الثقات: تاريخُ البخاريِّ، وابن أبي حاتم، وابن حِبَّان،

اور ثقات راویوں کی معرفت کا سرچشمہ  امام بخاری (صاحب )تاریخ ، امام ابن ابی حاتم اور امام ابن حبان ہیں

[الموقظة في علم مصطلح الحديث، ص ۷۹]

متشدد ناقد امام ابو حاتم

امام ابو حاتم کہتے ہیں

يتكلمون فيه وينكر عن الثقات وهو شيخ (بشار) وھو شیخ

یعنی بشار کے بارے لوگوں نے کلام کیا گیا ہے کہ ثقات سے مناکیر ہیں ۔ اور امام ابو ھاتم کہتے ہیں 

[الجرح والتعدیل]

بشار شیخ ہیں اور امام ابو حاتم نے ان پر کوئی جرح ابن معین  قبول  نہ کی جبکہ وہ ابن معین کے بشار پر حدث شعبہ کے معاملے کو جانتےتھے ۔اور شیخ امام ابو حاتم اپنے نزدیک صالح الحدیث کو کہتے ہیں جسکی عدالت قابل قبول ہوتی ہے تو امام ابو حاتم سے بھی امام ابن معین کے یسرق الحدیث اور دجال کی جرح ساقط ہوئی  

تیسرے متشدد ناقد  امام  علی بن مدینی

امام ابن ابی حاتم بیان کرتے ہیں :

قال قال عثمان بن سعيد الدارمي بلغني أن علي ابن المديني  كان يحسن القول في بشار

عثمان الدارمی کہتے ہیں کہ امام علی بن مدینی بشار کے بارے میں بہت اچھا کلام کرتے تھے  (یعنی انکی رائے بشار کے بارے اچھی تھی)

[الجرح والتعدیل ، برقم :۱۶۵۰]

امام احمد بن حنبل سے توثیق      

امام ابن عدی روایت کرتے ہیں :

حَدَّثَنَا عَبد الصَّمَدِ بْنُ عَبد الله الدمشقي، حَدَّثَنا أَبُو عمران مُوسَى بْن الْحَسَن البغدادي، حَدَّثَنا بشار بْن مُوسَى العجلي وَكَانَ أحمد يحسن القول فيه.

امام ابن عدی موسی بن حسین سے بیان کرتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل انکے بارے اچھی رائے رکھتے تھے۔

اسکے بعد امام ابن عدی  ان پر ابن معین ، بخاری وغیرہم سے جرح نقل کرنے کے بعد دو روایت بیان کرتے ہیں بطور نمونہ اور اسکا زمیدار اور راوی کو قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں :

بشار بن موسى رَجُلٌ مَشْهُورٌ بِالْحَدِيثِ وَيَرْوِي عَنْ قَوْمٍ ثِقَاتٍ وَأَرْجُو أَنْ لا بَأْسَ بِهِ وَأَنَّهُ قَدْ كَتَبَ الْحَدِيثَ الْكَثِيرَ وَقَدْ حَدَّثَ عَنْهُ النَّاسُ وَلَمْ أَرَ فِي حَدِيثِهِ شَيْئًا مُنْكَرًا وَقَوْلُ مَنْ وَثَّقَهُ أقرب إلى الصواب ممن ضعفه.

بشار بن موسیٰ جو کہ حدیث کے حوالے سے بہت مشہور شخصیت تھے ، اور جب یہ ثقات سے روایت کریں تو میرے نزدیک انکی روایت لینے میں کوئی بھی حرج نہیں ہے  اور یہ بہت زیادہ احدیث کو لکھا کرتے تھے ، اور ان سے جماعت نے روایت کیا ہے

یہ کہنے کے بعد امام  ابن عدی کہتےہیں۔

میری نظر میں اس سے کوئی بھی منکر روایت مروی نہیں ہے اور  میرے نزدیک انکے بارے توثیق کے اقوال زیادہ صحیح  اور مناسب ہیں بجائے تضعیف کے

[الکامل ابن عدی ، برقم :  ۲۶۳]

تو یہاں تک ہم نے محدثین جن میں متشدد ناقدین موجود ہیں جنہوں نے ابن معین کی جرح کو باکل اہمیت نہیں دی بلکہ اسکو ثقات میں شمار کیا اور امام ابن عدی اور امام ذھبی کے نزدیک انکی ثقاہت ہی قریب ہے بجائے تضعیف کے۔ اور اسکا صدوق متابع  عباس بن طالب بھی موجود ہے۔

تو نہ یہ روایت منکر رہی اور نہ ہی کذب۔

تحقیق: اسد الطحاوی

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے