حضرت امیر معاویہ
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 4]

فرمان حضرت عمربن خطابؓ”قیصر و کسریٰ اور ان کے رعب و دبدبہ کے مقابل  حضرت امیر معاویہؓ ہیں”

حضرت امیر معاویہؓ کے حوالے سے بہت سے انجنئیر کے  مقلدین جنکو عقائد اور اسلوب کا خاک علم نہیں اور انکو بھی مشاجرات صحابہ ؓ پر زبانی درازی کرتے ہوئے شرم نہیں آتی کیونکہ انکو پتہ ہی نہیں کہ انکی زبان کے سبب انکے ایمان سلب ہو رہے ہیں لیکن وہ اس سے غافل ہیں کیونکہ انکے نزدیک یہ باب ایمان سے تعلق نہیں رکھتا اور انکی یہ ذہن سازی کر دی گئی ہے کہ  حضرت امیر معاویہؓ معاذ اللہ انکی کوئی فضیلت ذاتی یا کوئی  انکا ایسا فعل نہیں جو کہ اسلام کو تقویت دیتا ہو وغیرہ وغیرہ بلکہ یہ بے شرم لوگ میمز میں ایک صحابی رسولﷺ کی نتقیص کر رہے ہوتے ہیں!!

حضرت عمر بن خطابؓ جنکے بارے نبی اکرمﷺ نے فرمایا کہ  کہ اللہ نے حق عمرؓ کی زبان پر رکھا ہے۔

  انکے نزدیک حضرت امیر معاویہؓ کا کیا مقام تھا اس پر کچھ دلائل دیتے ہیں :؂

امام طبری علیہ رحمہ ایک روایت بیان کرتے ہیں اپنی سند سے :

حدّثني عبد الله بن أحمد بن شَبّوَيه، قال: حدّثني أبي، قال: حدّثني سليمان، قال: حدّثني عبد الله بن المُبارك، عن ابن أبي ذئب، عن سعيد المَقْبريّ، قال: قال عمر بن الخطاب: تذكرون كسرى وقيصرَ ودهاءَهما وعندكم معاوية!

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تم قیصر و کسریٰ اور ان کے رعب و دبدبہ کی بات کرتے ہو جبکہ تمہارے پاس معاویہ رضی اللہ عنہ موجود ہیں

[تاريخ الطبري،ج4، ص39،وسندہ صحیح]

رواتہ کے رجال کی تحقیق درج ذیل ہے۔

1۔ عبد الله بن أحمد بن شبويه المروزي

یہ صدوق درجہ کے راوی ہیں اور انکی توثیق کے دلائل درج ذیل ہیں:

امام خطیب انکے بارے کہتے ہیں:

”من أئمة أهل الحديث ”یہ ائمہ حدیث میں سے تھے 

اور پھر نقل کرتےہیں:

حدثني الحسين بن محمد أخو الخلال عن أبي سعد الإدريسي، قال: عبد الله بن أحمد بن شبويه المروزي كان من أفاضل الناس، ممن له الرحلة في طلب العلم

امام حسین بن محمد جو کہ خلال کے بھائی ہیں وہ سعد الادریسی سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ عبدالہ بن شبویہ یہ مروزی ہیں یہ لوگوں میں سب سے افضل تھے  انہوں نے  احادیث کی طلب میں سفر کیے ۔

[تاریخ بغداد ، برقم: 4899]

امام ابن حبان کہتے ہیں یہ مستقیم الحدیث  یعنی  انکی احادیث محفوظ تھیں

[الثقات برقم: 13900]

امام بزار (المتوفى: 292هـ)  نے انکی منفرد  روایت کردہ احادیث کی اسناد کو حسن قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

وهذا الحديث لا نعلمه يروى عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ”بإسناد أحسن” من هذا الإسناد

وهذا الحديث قد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم من غير وجه فذكرنا حديث أبي الدرداء لجلالته ”وحسن إسناده” إلا أن يزيد غيره كلاما فيكتب من أجل الزيادة.

[مسند البزار برقم: 4136،5994]

اور امام ضیاء المقدسی نے بھی ان سے اپنی مشہور تصنیف المختارہ میں تخریج کی ہے

أخبرنا أبو جعفر محمد بن أحمد أن أبا علي الحداد أخبرهم قراءة عليه وهو حاضر أبنا أبو نعيم أحمد بن عبد الله أبنا سليمان بن أحمد الطبراني ثنا أحمد بن محمد بن صدقة ثنا ”عبد الله بن أحمد بن شبويه المروزي”۔۔۔الخ

[الأحاديث المختارة، برقم: 171]

مذکورہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ سب نے انکے علم و فضل کی تعریف کی ہے اور انکو ائمہ حدیث میں  شامل کیا اور انکی معتبر ضمنی توثیق متقدمین سے متاخرین تک ثابت ہے سب نے ان سے احتجاج کیا ہے ۔

 2۔ ابن شبوية أبو الحسن أحمد بن محمد

یہ متفق علیہ ثقہ ہیں امام ذھبی انکے بارے فرماتے ہیں:

لإمام، القدوة، المحدث، شيخ الإسلام،الحافظ، ابن شبوية وحدث عنه من أقرانه: يحيى بن معين، وغيره.

وثقه: النسائي، وغيره.

[سیر اعلام النبلاء برقم:2]

3۔سليمان بن صالح الليثي أبو صالح سلمويه المروزي

امام ذھبی انکی توثیق کرتے ہوئے لکھتےہیں:

صدوق البخاري مقرونا

[الکاشف ، برقم: 2100]

4۔الامام عبداللہ بن مبارک متفق علیہ ثقہ حجت و امیر المومنین فی حدیث ہیں

5۔ابن أبي ذئب محمد بن عبد الرحمن العامري

امام ذھبی انکے بارے فرماتے ہیں:

الإمام، شيخ الإسلام، أبو الحارث القرشي، العامري، المدني، الفقيه. كان من أوعية العلم، ثقة، فاضلا

یہ امام شیخ الاسلام مدنی فقیہ اور اہل علم میں سے ایک ہیں فاضل و ثقہ ہیں

[سیر اعلام النبلاء برقم: 50]

6۔ سعيد المقبري أبو سعد بن كيسان

امام ذھبی انکے بارے فرماتےہیں:

الإمام، المحدث، الثقة، حدث عن: أبيه.

یہ ثقہ محدث ہیں یہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں

آگے کہتے ہیں :

لكنه اختلط قبل موته بأربع سنين.قلت: ما أحسبه روى شيئا في مدة اختلاطه، وكذلك لا يوجد له شيء منكر.

لیکن انکو موت سے چار سال قبل اختلاط ہو گیا تھا لیکن میں (امام ذھبی ) کہتا ہوں ان سے (اختلاط) میں کچھ روایت نہیں ہوا ہے جسکے سبب اسکی مرویات میں کوئی منکر روایت نہیں ملی

[سیر اعلام النبلاء ، برقم: 88]

لیکن انکا سماع حضرت عمر بن خطابؓ سے نہیں تھا لیکن یہ علت یہاں مانع نہیں کیونکہ یہ اپنے والد سے ہی  ارسال کرتے تھے کیونکہ انکا سماع حضرت ابو ھریرہ سے بھی نہیں تھا یہ اپنے والد کےطریق سے حضرت ابو ھریرہ سے روایت کرتے تھے لیکن پھر یہ اپنے والد کو سند میں سے حذف کرکے حضرت ابو ھریرہ سے ارسال کرکے  روایت کرتے تھے ۔

جیسا کہ امام علائی سے امام عراقی نقل کرتے ہیں :

قَالَ العلائي تقدم ان سعيد المَقْبُري سمع من أبي هُرَيْرَة وَمن أَبِيه عَن أبي هُرَيْرَة وانه اخْتلف عَلَيْهِ فِي احاديثه وَقَالُوا إِنَّه اخْتَلَط قبل مَوته وَأثبت النَّاس فِيهِ اللَّيْث بن سعد يُمَيّز ماروى عَن أبي هُرَيْرَة مِمَّا روى عَن أَبِيه عَن أبي هُرَيْرَة وَتقدم ان مَا كَانَ من حَدِيثه مُرْسلا عَن أبي هُرَيْرَة فَإِنَّهُ لَا يضر لِأَن أَبَاهُ الْوَاسِطَة انْتهى

امام علائی کہتے ہیں کہ سعید المقبری نے حضرت ابو ھریرہ سے سماع کیا ہے اور انہوں نے اپنے والد سے حضرت ابو ھریرہ سے سماع کیا ہے ۔ انکی روایت کردہ احادیث میں (سماع) کا اختلاف واقع ہے ۔ اور یہ  کہا گیا ہے کہ انکو موت سے قبل چار سال پہلے اختلاط ہو گیا تھا ۔ اور یہ لیث بن سعد سے روایت کرنے میں اوثق راوی تھے ۔ اور اس نے تمیز کی  حضرت ابو ھریرہ سے روایت کرنے اور اپنے والد کے زریعہ  حضرت ابو ھریرہ سے روایت کرنے  میں ۔  اور مقدم  ہے کہ اس نے حضرت ابو ھریرہ سے مرسل روایت کیا ہے لیکن یہ (اسکی مروایات کے لیے )مضر نہیں ہے کیونکہ یہ اپنے والد کو بیچ میں حذف کرتا ہے ۔  (جبکہ اسکے والد مشہور ثقہ راوی ہیں )

[تحفة التحصيل في ذكر رواة المراسيل،ص172]

یہی وجہ ہے کہ امام ابن عبدالبر  انکے والدکے ترجمہ میں  (جنکا سماع حضرت ابو ھریرہ و حضرت عمر بن خطاب سے تھا )کہتے ہیں:

سعيد في الرواية أشهر من أبيه

سعید (جو کہ بیٹا ہے ابو سعید مقبری کا ) اسکی مروایات اسکے والد کی مروایات سے زیادہ مشہور تھیں

[االتمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد،ج21،ص24]

یعنی جو مروایات اصل میں اسکے والد ابو سعید المقبری کی حضرت ابو ھیرہ سے مروی تھیں اسکا بیٹا کیونکہ والد سے ارسال کرتا تھا تو اسکی مروایات حضرت ابو ھریرہ سے زیادہ مشہور ہوگئیں تھی۔ اور یہی حال  اس راوی سعید مقبری کا حضرت عمرؓ سے روایت کرنے کے حوالے سے ہے کیونکہ یہ حضرت عمرؓ کی روایات بھی اپنے والد کےطریق سے روایت کرتا تھا جیسا کہ امام بیھقی نے روایت کیا ہے :

أخبرنا أبو حامد أحمد بن علي الإسفراييني , ثنا زاهر بن أحمد , ثنا أبو بكر بن زياد النيسابوري , ثنا أبو الزنباع روح بن الفرج ثنا يحيى بن بكير , حدثني عبد الله بن عبد العزيز الليثي , ”عن سعيد بن أبي سعيد المقبري”، ”أنه حدثه عن أبيه،” فخرجت به إلى عمر بن الخطاب رضي الله عنه الخ۔۔۔۔

ال أبو بكر النيسابوري: هذا حديث حسن

[السنن الكبرى، برقم: 21708]

جبکہ مذکورہ روایت جو تاریخ الطبری کے حوالے سے زیر تحقیق ہے اس میں اس نے حضرت عمرؓ سے ارسال کر دیا اور بیچ میں اسکے مشہور ثقہ والد ابو سعید المقبری ہیں لہذا یہ انقطاع مضر نہ رہا !!!

 اسی طرح حضرت  عمر بن خطابؓ  کا ایک اور واقعہ بھی مشہور ہے جسکو امام ابن حجر عسقلانی روایت کرتے ہیں :

امام ابن حجر عسقلانی علیہ رحمہ امام ابن مبارک کی کتاب الزھد سے با سند نقل کرتے ہیں :

وقال ابن المبارك في كتاب «الزهد» : أخبرنا ابن أبي ذئب، عن مسلم بن جندب، عن أسلم مولى عمر، قال: قدم علينا معاوية وهو أبض الناس وأجملهم، فخرج إلى الحج مع عمر بن الخطاب، وكان عمر ينظر إليه فيتعجب منه، ثم يضع إصبعه على جبينه ثم يرفعها عن مثل الشراك، فيقول: بخ بخ، إذا نحن خير الناس أن جمع لنا خير الدنيا والآخرة. فقال معاوية: يا أمير المؤمنين، سأحدثك، إنا بأرض الحمامات والريف. فقال عمر: سأحدثك، ما بك إلطافك نفسك بأطيب الطعام وتصبحك حتى تضرب الشمس متنيك، وذوو الحاجات وراء الباب. قال: حتى جئنا ذا طوى فأخرج معاوية حلة فلبسها، فوجد عمر منها ريحا كأنه ريح طيب، فقال: يعمد أحدكم فيخرج حاجا تفلا حتى إذا جاء أعظم بلدان الله جرمة أخرج ثوبيه كأنهما كانا في الطيب فلبسهما. فقال له معاوية: إنما لبستهما لأدخل على عشيرتي يا عمر، والله لقد بلغني أذاك ها هنا وبالشام، فالله يعلم أن لقد عرفت الحياء في عمر، فنزع معاوية الثوبين، ولبس ثوبيه اللذين أحرم فيهما. وهذا سند قوي.

امام ابن مبارک اپنی کتاب الزہد میں فرماتے ہیں مجھے ابن ابی ذئب نے مسلم بن جندب کے حوالے سے حضرت عمر ؓ کے غلام اسلم سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں :

حضرت امیر معاویہؓ ہمارے پاس   آئے اور حضرت معاویہؓ انتہائی خوبصورت  اور بھرے ہوئے ملائم جسامت والے تھے ۔ تو یہ حضرت عمرؓ کے ساتھ حج کرنے کے لیے نکلے۔ حضرت عمرؓ جب بھی حضرت معاویہؓ کی طرف دیکھتے  تو انکی خوبصورتی پر تعجب و حیرانگی کا اظہار فرماتے تھے ۔ پھر حضرت عمرؓ اپنی انگلی انکی  پیشانی پر رکھتے جب اٹھاتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے گھاس کی خوبصورت لکیر بنی ہو ۔

پھر حضرت  عمر خوش ہو کر فرماتے تھے ”واہ واہ!”

 اس وقت ہم لوگوں میں سب سے بہتر ہیں کہ ہمارے لیے دنیا و  آخرت کی بھلائیوں کو جمع کر دیا گیا ہے

پھر حضرت معاویہؓ نے انکو فرمایا  اے امیر المومنینؓ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ ہم حماموں والی اور سر سبز و شاداب زمین میں  رہتے ہیں ۔ تو حضرت عمرؓ نے فرمایا میں آپکو بتاتا ہوں  آپکی پسندیدہ چیزیں کیا ہیں   صبح تک سونا اور پھر حاجت  مند لوگوں کے پاس آنا ، تو راوی کہتا ہے ہم ایک کنویں  کے پاس پہنچے تو حضرت معایہؓ  نے ایک بہترین جوڑا نکالا اور پہن لیا تو حضرت عمرؓ نے بڑی عمدہ قسم کی خوشبو محسوس کی اور فرمایا جو بھی حج کا ارادہ رکھتا ہے وہ  پراگند  ہ حالت میں حج کرنے جائے  ۔ لیکن جب مکہ مکرمہ اللہ کے محترم ترین شہر میں پہنچے تو (ایسے ہی ) انتہائی خوشبو دار کپڑے  پہنے ۔

 تو حضرت معاویہؓ نے  حضرت عمرؓ سے فرمایا میں نے  بھی اسکو اپنے اہل خانہ کے پاس جانے کے لیے ہی پہنا ہے ۔  اور مجھے آپ کی طرف سے مشکل ہوئی ہے یہاں بھی اور شام میں بھی ۔  اللہ جانتا ہے کہ میں نے حضرت عمرؓ میں کتنی حیاء دیکھی ہے ۔ پھر حضرت معاویہؓ  نے وہ لباس اتار دیا اور وہ  کپڑے پہن لیے جس میں انہوں نے احرام باندھا تھا

(حافظ ابن حجر  کہتے ہیں ) یہ سند قوی ہے

[الإصابة في تمييز الصحابة، ج۶، ص ۱۲۲]

تحقیق: اسد الطحاوی الحنفی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے