فضائل معاویہ اور صحیح احادیث
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 5]

حضرت   معاویہ کے فضائل میں جید احادیث  اور  محدثین کی تحسین و تصحیح 

حضرت  معاویہ کے  فضائل پر مبنی صحیح و حسن  احادیث بارے میں کچھ لوگ یہ دعوی کرکے رد کرنے کی ناکام کو شش کرتے ہیں کہ  انکی شان میں کوئی فضلیت صحیح و حسن حدیث سے مروی نہیں۔  اور بطور دلیل اسحاق بن راہویہ کا ایک قول پیش کر دیتے ہیں۔ 


اسحاق بن راہویہ کا قول حضرت معاویہ کی فضیلت کی نفی کے برعکس امام العلل  ابن معین کا  موقف:

اور امام یحییٰ بن معین جو کئی لاکھ احادیث کے حافظ اور رجال اور علل کے متشدد امام تھے انکا فضیلت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ روایت کرنا۔

انکے بارے امام ابن سعد کہتے ہیں :

یحییٰ بن معین :

ویکنی ابا زکریاء وقد کان من کتاب الحدیث وعرف به وکان لا یکاد یحد 

امام یحییٰ بن معین سب سے زیادہ لکھنے والے تھے اور کتابت حدیث کے ساتھ مشہور تھے لیکن انکا حدیث بیان کرنا بہت ہی کم ہے .

[طبقات ابن سعد ، برقم : 3570]

اس سے معلوم ہوا امام یحییٰ بن معین جو بھی حدیث بیان کرتے ہیں اپنی متشدد اور محتاط طبیعت کی وجہ سے وہ یقینن صحیح حدیث ہی کو بیان کرتے تھے۔ تبھی حافظ الحدیث اور امام النقاد ہونے کے شاز نادر ہی روایت کرتے تھے۔


حضرت معاویہ کی فضیلت میں امام ابن معین کا حدیث رسول روایت کرنا

 امام یحییٰ بن معین یہ حدیث ھادیا اپنے شیخ ابو مسھر کے طریق سے سعید بن یزید سے باسند ربیعہ بن عزید سے متصل بیان کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ حدیث بالکل صحیح تھی انکی نظر میں تبھی ہی یہ علل کا امام بغیر نقد حضور کی طرف بالجز انتساب کرتا ہے روایت کا۔


جیسا کہ علامہ آجری روایت کرتے ہیں:

وَأَنْبَأَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا "يَحْيَى بْنُ مَعِين” قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ , عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عُمَيْرَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو لِمُعَاوِيَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا وَاهْدِهِ وَاهْدِ بِهِ وَلَا تُعَذِّبْهُ»

ابو محمد بن عبداللہ بن محمد بن ناجیہ (ثقہ ثبت ) وہ کہتےہیں مجھے بیان کیا احمد بن ابراہیم الدروقی (ثقہ ثبت ) نے مجھے بیان کیا امام یحییٰ بن معین (ثقہ ثبت نقاد ) نے مجھے حدیث بیان کی ابو مسھر (ثقہ ثبت نقاد ) نے انہوں نے سعید بن عبدالعزیز (ثقہ ) نے انہوں نے ربیعہ بن یزید (ثقہ ) سے اور انہوں نے عبدالرحمن بن ابی عمیرہ (صحابی رسولﷺ) سے جو کہ نبی کریمﷺ کے اصحاب میں سے ایک تھے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت معاویہ کو دعا دیتے ہوئے سنا” یا اللہ اسکو(معاویہ) کو ہادی و مھدی بنا اور اسکو ہدایت یافتہ اور ہدایت دینے والا بنا اور اسکو عذاب سے محفوظ فرما۔

[الشریعہ للآجری، وسندہ صحیح]


تو یہ جو کھٹملوں و جھٹملوں جنہوں نے اسحاق بن راہویہ کا قول رٹہ مارا ہوا ہے۔ 

اور اسحاق بن راہویہ کا ویسے کبھی نام بھی نہیں سنا ہوگا۔ تو امام یحیی بن معین جنکے پاس بھی نہیں علم حدیث و معرفت رجل میں اسحاق بن راہویہ۔

امام یحیی بن معین الحنفی علیہ رحمہ کا حضرت معاویہ کی فضیلت پر مبنی روایت کو بیان کرنا ہی اس روایت کے مقبول ہونے کے لیے کافی ہے۔اگرچہ جید ائمہ نے اس حدیث کی تصحیح و تحسین کی ہے۔


حضرت امیر معاویہؓ کے فضائل میں مروی روایات کی تصحیح جید ائمہ محدثین سے!

امام ابن عساکر سے فضائل حضرت معاویہ   احادیث کی  تحسین۔

وأصح ما روي في فضل معاوية حديث أبي حمزة عن ابن عباس أنه كاتب النبي (صلى الله عليه وسلم) فقد أخرجه مسلم في صحيحه وبعده حديث العرباض اللهم علمه الكتاب وبعده حديث ابن أبي عميرة اللهم اجعله هاديا مهديا

اور جو سب سے صحیح احادیث مروی ہیں حضرت امیر معاویہ ؓ کے فضائل میں وارد ہوئی ہیں جو ابو حمزہ روایت کرتے ہیں حضرت ابن عباسؓ کے حوالےسے کہ وہ کاتب رسولﷺ تھے جیسا کہ امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے ، اور اسکے بعد صحابی عرباض سے مروی ہے کہ ”اے اللہ انکو حساب و کتابت کا علم عطاء فرما اور اسکے بعد وہ حدیث جو صحابی رسولﷺ ابن ابی عمیرہ سے مروی ہے کہ اللہ انکو ہدایت یافتہ بنا اور ہدایت دینے والا 

[تاريخ دمشق ،جلد 59 ،ص106]


امام ذھبی علیہ الرحمہ سے فضائل حضرت معاویہ پر تحسین :

جماعة: عن معاوية بن صالح، عن يونس بن سيف، عن الحارث بن زياد، عن أبي رهم السماعي ، عن العرباض:سمع النبي -صلى الله عليه وسلم – وهو يدعو إلى السحور في شهر رمضان:هلم إلى الغداء المبارك . ثم سمعته يقول: (اللهم علم معاوية الكتاب، والحساب، وقه العذاب

اس روایت کو نقل کرنے کے بعد امام ذھبی فرماتے ہیں : 

وللحديث شاهد قوي.

أبو مسهر: حدثنا سعيد بن عبد العزيز، عن ربيعة بن يزيد، عن عبد الرحمن بن أبي عميرة المزني – وكان من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم -:أن النبي -صلى الله عليه وسلم – قال لمعاوية: (اللهم علمه الكتاب، والحساب، وقه العذاب

اور اس حدیث کی قوی شاہد ہے ابو مسھر کی روایت ابن ابی عمیرہ مزنی سے کہ نبی اکرمﷺ نے حضرت معاویہؓ سے فرمایا یا اللہ اسکو کتاب و حساب کا علم سکھا اور عذاب سے محفوظ فرما۔اور آگے فرماتے ہیں:

مروان بن محمد: حدثنا سعيد بن عبد العزيز، حدثني ربيعة بن يزيد: سمعت عبد الرحمن بن أبي عميرة:سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم – يقول لمعاوية: (اللهم اجعله هاديا، مهديا، واهد به) .حسنه: الترمذي.

اور ابن ابی عمیرہ فرماتے ہیں میں نے رسولﷺ کو فرماتے سنا اے اللہ (معاویہؓ) کو ھادی و مھدی بنا اور امام ترمذی نے روایت کی تحسین کی ہے 

(نوٹ: امام ذھبی نے امام ترمذی کی تحسین کو بر قرار رکھا ہے)

[سیر اعلام النبلاء ]


امام ابن کثیر  سے فضائل حضرت معاویہ کی تحسین

ابن عساکر سےمذکورہ کلام جو ہم نے اوپر نقل کیا امام ابن کثیر اسکو نقل کرنے کے بعد مذید فرماتے ہیں:

ثم قال ابن عساكر: وأصح ما روى في فضل معاوية حديث أبى جمرة عن ابن عباس «أنه كان كاتب النبي صلى الله عليه وسلم منذ أسلم» أخرجه مسلم في صحيحه، وبعده حديث العرباض: «اللهم علم معاوية الكتاب»

مذکورہ عبارت نقل کرنے کے بعد امام ابن کثیر فرماتے ہیں:

قلت: وقد البخاري في كتاب المناقب: ابن عباس، قال: أصاب، إنه فقيه

میں کہتا ہوں اور جبکہ امام بخاری نے اپنی صحیح میں مناقب نقل کیا کہ ابن عباس نے فرمایا کہ یہ (حضرت معاویہؓ) فقیہ ہیں۔

[البداية والنهاية – ج 11، ص410]


امام ابن حجر عسقلانی سے حضرت معاویہ کی فضیلت پر مروی روایات پر اعتراضات کا جواب:

قلت: قد ذكر من أخرج الروايتين، وفات ابن فتحون أن يقول: هب أنّ هذا الحديث الّذي أشار إليه ابن عبد البر ظهرت له فيه علّة الانقطاع، فما يصنع في بقية الأحاديث المصرّحة بسماعه من النبيّ صلى اللَّه عليه وسلّم، فما الّذي يصحّح الصحبة زائدا على هذا؟ مع أنه ليست للحديث الأول علّة الاضطراب، فإن رواته ثقات

امام ابن حجر عسقلانی فرماتے  ہیں:

میں کہتاہوں 

تحقیق کے ساتھ ذکر کیا ہے ان روایات کو درج کرکے امام ابن فتحون نے کہا ہے کہ اس روایت پر جو اشارہ کیا ہے منطقع ہونے کا اامام ابن عبدالبر نے لیکن اسکے علاوہ اور کوئی اعتراض وارد نہ کیا ابن عبدالبر نے جیسا کہ اور روایات میں سماع کی تصریح ہے نبی کریمﷺ سے اور جو انکی سماع کی تصحیح کرتے ہیں وہ کون لوگ ہیں ؟ (جنکو امام ابن عبدالبر نے نظر انداز کیا )پہلی بات یہ ہے کہ اس حدیث میں اضطراب کی علت ثابت ہی نہیں ہے کیونکہ اس روایت کے تمام رواتہ ثقہ ہیں 

[الإصابة في تمييز الصحابة برقم: 5193]


حضرت معاویہ کی فضیلت پر مبنی روایات پر مبھم کلام کا خلاصہ:

یہ وہ ائمہ حدیث ہیں جنکی نظر رجال پر اور متقدمین ائمہ علل پر بہت گہری ہے ۔۔ کوئی بھی متاخر امام ابن حجر عسقلانی، امام ذھبی کی حدیث میں مہارت کا انکار نہیں کرسکتا۔ اور یہ بات بھی ہے کہ ان سے بھی تسامحات ہوتے ہیں لیکن یہ روایات تو شروع سے مشہور و معروف ہیں اور ان پر اعتراضات بھی متقدمین سے کچھ ائمہ نے کیا ہے لیکن اسکے باوجود ان محدثین نےان روایات کسی کی بھی جرح قبول نہ کی کیونکہ متقدمین ہی سے ان روایات کو قبول کرنے کی تصریحات کثیرہ ہیں۔ بلکہ ان روایات پر ہر قسم کے اعتراض کا جواب دیا ہے ۔ اور ناقدین کے کلام پر توجہ نہیں دی کیونکہ انکے کلام میں کوئی بھی ایسی بات نہیں جو اس روایت کے ضعف پر دال ہو۔ 


تو بعض لوگوں کا یہ پراپیگنڈہ کرنا کہ حضرت معاویہؓ کے فضائل میں کوئی صحیح احادیث نہیں یہ بات ائمہ محدثین اور ناقدین کی تصریحات  اور موقف کے خلاف ہے۔

اسد الطحاوی ✍️

 فضائل صحابہ پر صحیح احادیث کی تحقیق کے لیے یہاں کلک کریں:

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے