حضرت خالد بن ولیدؓ کی کرامت زہر پینا اور امن پوری صاحب کے اعتراضات کا تحقیقی جواب!

حضرت خالد بن ولیدؓ کی کرامت زہر پینا
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 2 Average: 3]

حضرت خالد بن ولیدؓ کی  کرامت  زہر پینا  اور اس روایت کی سند پر امن پوری صاحب کے اعتراضات کا جواب!

ازقلم:اسد الطحاوی الحنفی البریلوی

خالد بن ولید

کراماتِ صحابہ ؓ اور اولیاءاللہ  پر اعتراضات اہلسنت کا شیوہ نہیں ہے اور یہ اہلسنت کے بنیادی عقائد میں سےہے کہ اولیاءاللہ کی کرامات حق ہوتی ہیں۔ اور اسکا اکار گمراہی اور خروج اہلسنت کا سبب ہے تقریبا عقائد کی تمام کتب میں کرامات کی حقانیت کے حوالے سے ابواب موجود ہیں ۔

عظیم محدث، شارح اور فقیہ امام طحاوی علیہ رحمہ  عقیدہ طحاویہ میں اس باب میں فرماتے ہیں :

(كَرَامَاتُ الْأَوْلِيَاءِ)

وَنُؤْمِنُ بِمَا جَاءَ مِنْ كَرَامَاتِهِمْ، وَصَحَّ عَنِ الثِّقَاتِ مِنْ رِوَايَاتِهِمْ

ہم اولیاءاللہ کی کرامات کو تسلیم کرتے ہیں اور ان سے مروی ثقات رواتہ پر مبنی روایات کو تسلیم کرتے ہیں۔

[العقيدة الطحاوية]

اسکا مطلب یہ ہے کہ جن کرامات کی روایات  کے اولیاءاللہ کی طرف نسبت میں ضعف ہے یا انکا ماخذ غیر معتبر ہے انکو تسلیم کرنے کا تعلق اس بات سے نہیں۔ کہ وہ کرامات ِ اولیاء کا منکر ہے بلکہ جو مروایات ثقات رواتہ پر مبنی ہیں اور جنکو سلف و حلف نے قبول کیا ہے۔اور ان پر کسی قسم کا کوئی اعتراض وارد نہیں کیا انکو عقلی بنیاد پر رد کرنا اور اسکا  ٹھٹھہ کرنا یہ امور ایسے لوگوں کو گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔ کیونکہ کرامات کا ظہور ہونا ایک حقیقی امر ہے اسکے لیے عقلی دلائل کا مطالبہ ہر وقت کرنا یہ بات اہل فہم کے نزدیک خود ایک مجروح عمل ہے کیونکہ  کرامات کا ظہور اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ خلاف عادت ہوگی ۔ وگرنہ وہ کرامت ہی کیا ۔

 البتہ اس اعتبار سے عقلی بنیاد پر رد کیا جا سکتا ہے کہ جو محال بالکل کہ جیسا کسی ولی سے  منسوب ہو کہ اس نے چاند تباہ کر دیا ، یا زمین کو برباد کر دیا ۔ یہ ایسی باتیں ہیں کو جسکو تسلیم کرنا محال ہے  تو اگر کچھ ائمہ نے عقلی بنیاد پر کچھ کرامات کو محال کہا ہے۔ تو وہ اس قسم کی کرامات کی روایات ہو سکتی ہیں اور جنکی نسبت بھی ثابت نہ ہو اولیاء  لیکن  یہ نہیں ہوتا کہ مطلق  ہر کرامات کا رد اس سبب کیا جائے کہ وہ عقل کے خلاف ہے ۔


کچھ دنوں سے کچھ دوستوں نے اصرار کیا کہ آپ حضرت خالد بن ولید سے منسوب روایت کہ جس میں انہوں نے زہر پیا اور اللہ کے کرم سے سلامت رہے اسکی اسناد پر اپنی تحقیق پیش کریں۔ تو آج سوچا کہ اس پر کچھ لکھ دیا جائے  اگر تحقیق میں کوئی کمزوری یااصولی خطاء ہو تو ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں وہ ہم کو اس سے محفوظ رکھے اور مطلع ہونے پر رجوع کی توفیق دے۔ (آمین)

امن پوری صاحب کے دو صفحات پر مشتمل  ایک تحریر موصول ہوئی  جس میں مختصرا  اعتراضات بطور علت بیان کرکے یہ اخذ کیا گیا کہ یہ کرامت غیر ثابت ہے اور عقل کے بھی منافی ہے ۔

امن پوری صاحب  کے مضمون کا مضمون درج ذیل ہیں :

سوال: کیا حضرت خالد بن ولیدؓ سے زہر  پینا ثابت ہے؟

جواب:سیدنا خالد بن ولیدؓ کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوں نے زہر کا پیالہ یا تھا۔ اس بارے میں جتنی بھی روایات ہیں ، ان میں سے کوئی بھی اصول محدثینکے مطابق پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتی ۔ اس بارے میں تفصیل ملاخطہ فرمائیں۔

1۔ابو سفر ، سعید بن یحمد کا بیان ہے :

حدثنا سريج بن يونس، حدثنا يحيى بن زكريا، عن يونس بن أبي إسحاق، عن أبي السفر قال: نزل خالد بن الوليد الحيرة على أمر بني المرازبة، فقالوا له: احذر السم، لا يسقيكه الأعاجم، فقال: «ائتوني به»، فأتي به، فأخذه بيده , ثم اقتحمه، وقال: «بسم الله»، فلم يضره شيئا

سیدنا خالد بن ولید ؓ بنو مرازکے معاملے میں ھیرہ آئے ، تو لوگوں نے کہا: ہو شیار رہیے، کہیں عجمی لوگ آپ کو زہر نہ پلا دیں ،آپؓ نے فرمایا ”زہر میرے پاس لاو”، زہر لایا گیا ، تو آپؓ نے اپنے ہاتھ مین پکڑا اور بسم اللہ پڑھ کر اسے نگل لیا۔ زہر نے آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچایا۔

[مسند ابی یعلی ، برقم: 7186]، [فضائل صحابہ]

اسکی سند  میں انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے ، ابو سفر کا سیدنا خالد بن ولید ؓ سے سماع نہیں ہے۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الجواب (اسد الطحاوی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم کو اس بات سے اتفاق ہے کہ یہ اس روایت کی سند میں انقطاع ہے


امن پوری صاحب  کے اس روایت کے  کی دوسری سند پر اعتراضات درج ذیل ہیں:

2۔ حضرت قیس بن ابو حازم سے بیان منسوب ہے :

رأيت خالد بن الوليد أتي بسم فقال ما هذا قالوا سم فقال بسم الله وشربه

میں نے دیکھا کہ سید نا خالد بن ولیدؓکے پاس زہر لایا گیا ۔ آپ نے پوچھا ”یہ کیا ہے؟”لوگوں نے بتایا کہ یہ زہر ہے  آپ نے بسم اللہ پڑھ کر اسکو پی لیا

[معجم الکبیر ، برقم:3809][فضائل صحابہ ][تاریخ ابن عساکر]

امن پوری صاحب مذکورہ روایت پر اعتراض جڑتے ہیں:

اسکی سند ضعیف ہے کیونکہ سفیان بن عیینہ اور انکے استاذاسماعیل بن ابو خالد، دونوں مدلس ہیں ۔ ان کی سماع کی تصریح نہیں مل سکی ۔

ویسے بھی زہر حرام اور مہلک چیز ہے ۔ سیدنا خالد بن ولیدؓ سے ایسیچیز کا پینا عقلی طور پر بھی ممکن معلوم نہیں ہوتا۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الجواب (اسد الطحاوی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فضائل صحابہ میں اس  روایت کی  سند ثقات راویان پر مشتمل ہے۔۔

حدثنا عبد الله قال: حدثني أبي، قثنا سفيان، عن إسماعيل، عن قيس

[فضائل الصحابه وسندہ صحیح]

اور

ایسے ہی تاریخ ابن عساکر میں صحیح الاسناد موجود ہے۔

امن پوری صاحب کے مذکورہ روایت پر اسنادی اعتبار سے دو اعتراضات ہیں۔

  1.  کہ امام سفیان بن عیینہ مدلس ہیں اور عن سے بیان کر رہے ہیں
  2.  انکا شیخ امام اسماعیل  بن ابو خالد بھی مدلس ہیں اور عن سے بیان کر رہے ہیں

اور سماع کی تصریح نہیں ملی لہذا روایت ضعیف ہے ۔

ایک عام سا بھی اصول حدیث  اور رجال کا طالب علم بھی جانتا ہے کہ یہ بچوں والے اعتراضات سوائے حماقت کے کچھ نہیں ہیں   چونکہ غیر مقلدین مسلہ تدلیس پر جمہور ائمہ کے اصول اور مدلس رواتہ کی تدلیس میں تخصیص کے اصول کے منکر ہیں۔ بس جس بارے انکو یہ مل جائے فلاں مدلس ہیں فورا اس پر عن والا اصول فٹ کر کے روایت ضعیف قرار دے دیتے ہیں۔ نہ یہ رواتہ کی تدلیس کے طبقات کی تفصیل دیکھتے ہیں چلیں طبقات کے تو یہ منکر ہیں۔ لیکن دوسرے تخصیص پر مبنی اصول بھی تو انکو بھی قبول ہیں کم از کم ان تصریحات  پر نظر کر لیتے ۔  جیسا کہ امام شعبہ کی مدلس سے معنن روایت غیر مقلدین بھی قبول کرتے ہیں اسکا مطلب وہ تخصیص پر مبنی اصول تسلیم کرتے ہیں تدلیس کے باب میں ۔

سب سے پہلے امام سفیان بن عیینہ کی تفصیل :

امن پوری صاحب نے یہ اعتراض زبیر علی زئی کے اصول کی اندھی تقلید میں اپنایا ہوا ہے

جیسا کہ زبیرعلی زئی لکھتے ہیں :

 حافظ ابن حبان بستی ( متوفی ۳۵۴ھ) نے فرمایا:
”الجنس الثالث: الثقات المدلسون الذين کانوا يدلسون في الأخبار مثل قتادة ويحيٰی بن أبي کثير والأعمش و أبو إسحٰق وابن جريج وابن إسحٰق والثوري وهشيم ومن أشبههم ممن يکثر عددهم من الأئمة المرضيـين وأهل الورع في الدين کانوا يکتبون عن الکل ويروون عمن سمعوا منه فربما دلّسوا عن الشيخ بعد سماعهم عنه عن أقوام ضعفاء لايجوز الإحتجاج بأخبارهم، فما لم يقل المدلّس وإن کان ثقة: حدثني أو سمعت فلا يجوز الاحتجاج بخبرہ،وهذا أصْلُ أبي عبد اﷲ محمد بن إدريس الشافعي ۔ رحمه اﷲ ۔ ومن تبعه من شيوخنا”

”تیسری قسم: وہ ثقہ مدلسین جو روایات میں تدلیس کرتے تھے مثلاً قتادہ،یحییٰ بن ابی کثیر، اعمش، ابو اسحق ، ابن جریج ، ابن اسحق ، ثوری ، ہشیم اور جو اُن کے مشابہ تھے جن کی تعداد زیادہ ہے، وہ پسندیدہ اماموں اور دین میں پرہیز گاروں میں سے تھے۔ وہ سب سے (روایات) لکھتے اور جن سے سنتے تو اُن سے روایتیں بھی بیان کرتے تھے۔ بعض اوقات وہ شیخ یعنی اُستاذ سے سننے کے بعد ضعیف لوگوں سے سنی ہوئی روایات اس (شیخ) سے بطورِ تدلیس بیان کرتے تھے، ان کی ( معنعن ) روایات سے استدلال جائز نہیںہے۔ پس جب تک مدلس اگرچہ ثقہ ہو حدثنی یا سمعتُ نہ کہے (یعنی سماع کی تصریح نہ کرے) تو اس کی روایت سے اِستدلال جائز نہیں ہے اور یہ ابو عبداللہ محمد بن ادریس الشافعیؒ کی اصل (یعنی اُصول) ہے اور ہمارے اساتذہ نے اس میں اُن کی اتباع ( یعنی موافقت ) کی ہے۔

( کتاب المجروحین:۱؍ ۹۲، دوسرا نسخہ :۱؍ ۸۶)
اس عظیم الشان بیان میں حافظ ابن حبان نے تدلیس کے مسئلے میں امام شافعی کی مکمل موافقت فرمائی

اور  پھر جب یہی امام ابن  حبان  امام سفیان بن عیینہ کے بارے  فرماتے ہیں :

سفيان بن عيينة وحدہ فإنه کان يدلّس ولا يدلّس إلا عن ثقة متقن ولا يکاد يوجد لسفيان بن عيينة خبر دلّس فيه إلا وجد ذلك الخبر بعينه قد بيّن سماعه عن ثقة مثل نفسه والحکم في قبول روايته لهذہ العلة ۔ و إن لم يبين السماع فيها ۔

سفیان بن عیینہ اکیلے کے کسی اور کے لئے ثابت نہیں ہے۔ کیونکہ وہ تدلیس کرتے تھے اور صرف ثقہ متقن سے ہی تدلیس کرتے تھے۔ سفیان بن عیینہ کی ایسی کوئی روایت نہیں پائی جاتی جس میں اُنھوں نے تدلیس کی ہو مگر اسی روایت میں اُنھوں نے اپنے جیسے ثقہ سے تصریح سماع کر دی تھی۔ اس وجہ سے ان کی روایت کے مقبول ہونے کا حکم اگرچہ وہ سماع کی تصریح نہ کریں

[صحیح ابن حبان ، الاحسان:۱؍ ۱۶۱]

مذکورہ نکتہ پر زبیر زئی میاں لکھتے ہیں  :

ہم کو امام ابن حبان کے اس نکتہ سے اختلاف ہے

[توضیح الاکلام]

یعنی اپنے مطلب کی بات لینی ہے اور جب وہی امام انکے مخالف کوئی بات کر دے اس سے  پھر موصوف کو اختلاف ہو جاتا ہے اور جو دلائل زبیر زئی نے دیے وہ نہایت بھونڈی قسم کی ہیں جن پر رد کسی اور تحریر کے حوالے سے لکھونگا ۔

یہاں تک کہ یہی بات امام العلل دارقطنی نے بھی کی ہے :

فَأَما بن عُيَيْنَة فَإِنَّهُ يُدَلس عَن الثِّقَات

امام  سفیان بن عیینہ ثقات سے (صرف)تدلیس کرتے تھے

[سؤالات الحاكم النيسابوري للدارقطني،ص 175]

یہی وجہ ہے کہ امام ابن حجر عسقلانی نے انکومدلسین کے دوسرے طبقات میں درج کیا ہے جنکی تدلیس مضر نہیں ہوتی روایت کی صیحت کےاسکے ساتھ یہی منہج اہل حدیث کے متعدد محققین کا بھی ہے  جیسا اثری  اور دیگر محققین!

اور محدثین میں سے کسی نے بھی امام سفیان ثوری کی تدلیس پر اعتراض وارد نہیں کیا   تو ائمہ علل اور ناقدین کی اتنی صریح تصریح پر لب کشائی کرنا  نفس پرستی کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔

جیسا کہ امام سخاوی فرماتے ہیں :

أما الإمام ابن عيينة فقد اغتفروا تدليسه من غير رد

امام سفیان بن عیینہ کی تدلیس کو (محدثین) نے قبول کیا اس پر رد نہیں کیا

[فتح المغيث،ص230]

تو ہر مسلے پر جمہور جمہور کی رٹ مارنا اور پھر جمہور کے دئے گئے استثنائی اصول کو رد کردینا تحقیق نہیں کہلاتا ۔تو یہاں تک امام سفیان بن عیینہ کا جواب مکمل ہوا !


دوسرا راوی : امام اسماعیل بن  ابی خالد کی تدلیس پر اعتراض ہے۔ مذکورہ روایت حضرت خالد بن ولید کے زہر پینے والی روایت کے تعلق سے:

یہ بھی طبقہ ثانیہ کے مدلس ہیں جنکی معنن روایت صیحت کے منافی نہیں ہوتی ہے ۔ نیز انکو ایک استثناء یہ بھی ہے کہ یہ حضرت قیس بن ابی حازم کی روایات کے سب سے بڑے حافظ تھے

جیسا کہ امام  عجلی انکے بارے فرماتے ہیں :

وكان إسماعيل طحانا ثبتا في الحديث رجلا صالحا ثقة

وكان راوية عن قيس بن أبي حازم الأحمسي تابعي لم يكن أحد أروى عنه منه وكان حديثه نحوا من خمسمائة حديث

اسماعیل یہ حدیث میں ثبت درجہ کے ہیں یہ نیک اور ثقہ ہیں

یہ حضرت قیس بن ابی حازم (کی مروایات) کے راوی تھے جو کہ تابعی ہیں کسی نے ان(قیس) سے روایت نہیں کیا جتنا اس(اسماعیل) نے کیا  اور انکی (قیس سے) بیان کردہ روایات تقریبا پانچ سو کے لگ بھگ ہیں

[الثقات  للعجلی برقم: 87]

 اور یہ اصول متفقہ علیہ ہے کہ کوئی مدلس جو اپنے شیخ کی مروایات کا سب سے اوثق راوی ہو یا جو کسی شیخ سےکثیر روایات بیان کریگا تو ان مروایات میں تدلیس نہیں ہوتی ہے۔

جیسا کہ امام قتادہ کی حضرت انس سے مروایات میں تدلیس نہیں ہوتی کیونکہ وہ حضرت انس کی روایات کے حافظ تھے۔ اور اسی طرح امام اعمش  امام ابو معاویہ ، ابراہیم اور صالح السیمان کی مروایات کے حافظ تھے جسکی وجہ سے امام ذھبی نے مذکورہ شیوخ سے انکی معنعن روایات میں تدلیس  کے احتمال کو ختم کر دیا۔

اور بھی متعدد مثالیں  پیش کی جا سکتی ہیں

تو ایک تو امام اسماعیل طبقہ ثانیہ کے مدلس ہیں  جمہور کے مطابق انکی معنن روایت قبول ہوتی ہے۔ اور انکو یہ بھی استثناء حاصل ہے کہ وہ حضرت قیس کی مروایت کے سب سے زیادہ حافظ تھے بلکہ500 کی قریب مروایات انکی منفرد ہیں۔ حضرت قیس سے جو کہ ایک بہت بڑی تعداد ہے تو اسکے بعد انکی  حضرت قیس سے مروایات میں تدلیس کا احتمال بالکل ختم ہو جاتا ہے ۔

 یہی وجہ ہے کہ امام ذھبی علیہ رحمہ حضرت خالد بن ولید کے زہر پینے والی کرامت نقل کرتے ہوئے  فرماتے ہیں :

مناقب خالد كثيرة ساقها ابن عساكر، من أصحها ما رواه ابن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم قال: رأيت خالد بن الوليد أتي بسم، فقال: ما هذا؟ قالوا: سم، فقال: ” باسم الله ” وشربه.

حضرت خالد بن ولیدؓ کے کثیر مناقب امام ابن عساکر نے روایت کیے ہیں جن میں سب سے صحیح روایت جسکو ابن ابی خالد نے امام قیس سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو دیکھا انکے پاس زہر لایا گیا تو انہوں نے کہا یہ کیا ہے ؟ تو کہا گیا  زہر ہے تو (قیس) کہتے ہیں انہوں نے اللہ کا نام لیکر اسکو پی لیا

[تاریخ الاسلام ، ج2، ص127]

 اسی طرح  سیر اعلام میں حضرت خالد بن ولید کی کرامت کو نقل کے فرماتے ہیں :

قلت: هذه -والله- الكرامة، وهذه الشجاعة.

میں (ذھبی) کہتا ہوں یہ اللہ کی قسم یہ انکی عزت (بزرگی) ہے یہ شجاعت ہے

[سیر اعلام النبلاء]


باقی موصوف کا یہ کہنا کہ یہ زہر پینا حرام فعل ہے تو حضرت خالد بن ولید سے اسکی توقع کیسے کی جا سکتی ہے ۔تو اسکا جواب یہ ہے کہ زہر مطلق حرام نہیں بلکہ فائدہ و  علاج کے سبب اسکی کچھ مقدار پی جا سکتی ہے ۔جیسا کہ امام عینی نے عمد القاری  میں بیان کیا ہے اور نیز جب حضرت خالد بن ولید کی نیت یہ تھی۔ کہ اسکے پینے سے مجھے نقصان نہیں ہوگا تو یہ عمومی حکم میں نہ رہا بلکہ یہاں انکی نیت یہی تھی۔ کہ مجھے اللہ کے فضل سے کچھ نہیں ہوگا اور اللہ نے انکے کی مراد پوری کر دی اور یہی کرامت ہے۔

 نیز سلفیہ کے مجتہد ابن تیمیہ نے بھی حضرت خالد بن ولید کی اس کرامت کا اقرار کیا ہے۔

فيؤيد الله المؤمنين بخوارق تدل على صحة دينهم؛ كما صارت النار على أبي مسلم6 بردا وسلاما؛ وكما شرب خالد السم

اور اللہ مومنین کی کرامات میں مدد کرتا ہے جیسا کہ ثابت ہے کہ امام مسلم خولانی کو آگ میں ڈالا گیا ، اور وہ سلامت رہے ، جیسا کہ حضرت خلد  بن ولید نے زہر پیا

[النبوات،ص 157]

 تحقیق: اسد الطحاوی  الحنفی البریلوی

 

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے