حضرت فاطمہؓ کی کنیت ام ابیھا نبی کریمﷺ یا صحابہ سے ثابت ہے ؟

ام ابیھا کنیت
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 5]

حضرت  فاطمہؓ کی کنیت ام ابیھا نبی اکرمﷺ  یا صحابہ کرامؓ سے ثابت ہے ؟

حضرت فاطمہ کی کنیت ام ابیھا کے حوالے سے جن مورخین اور محدثین کی کتب میں حضرت فاطمہ رضی اللہ  کی  کنیت ام ابیھا نقل کی ہے۔ تو اس کنیت کا اصل ماخذ خود نبی کریمﷺ یا صحابہ کرامؓ سے ثابت نہیں ہے۔ بلکہ یہ متقدمین میں بعض لوگوں کی طرف سے شروع ہوا تھا ۔ اور اسکے بعد حضرت فاطمہ کی کنیت کے حوالے سے ”ام ابیھا” کنیت مشہور ہو گئی کچھ لوگوں کے حوالے سے ۔ اس کو تاریخی اعتبار سے مورخین نے نقل کیا ہے کہ حضرت فاطمہ کی طرف ایک کنیت ام ابیھا بھی منسوب ہوئی ہے۔ لیکن کسی چیز کا منسوب ہونا دلیل نہیں بن جاتا ہے۔ یہ بعض لوگوں کی رائے تو ہو سکتی ہے ۔ لیکن یہ فعل خود نبی کریمﷺ یا صحابہ کرامؓ یا اہل بیت صحابہ کرامؓ سے با سند صحیح ثابت نہیں۔

وہ درج ذیل دلائل ہیں :

حضرت فاطمہ ؓ کی کنیت کے حوالے سے امام طبرانی ایک روایت لاتے ہیں :

حدثنا الحسين بن فهم، ثنا مصعب بن عبد الله الزبيري قال: كنية فاطمة أم أبيها

امام مصعب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ حضرت فاطمہ کی کنیت ام ابیھا تھی

[معجم الکبیر طبرانی برقم: 985]

یہ قول زیادہ سے زیادہ امام صصعب کا ثابت ہوتا ہے جنکی وفات 231 سے 240ھ کے درمیان ہوئی۔

دوسری دلیل  جو پیش ہوسکتی ہے وہ  درج ذیل ہے۔

حضرت فاطمہ کی کنیت ام ابیھا کے حوالے سے امام طبرانی دوسری روایت نقل کرتے ہیں :

– حدثنا محمد بن علي المديني فستقة قال: «وكانت فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم تكنى أم أبيها يقال كانت أصغر ولد رسول الله صلى الله عليه وسلم من خديجة، ويقال بل كانت توأم عبد الله ابن رسول الله صلى الله عليه وسلم»

[معجم الکبیر طبرانی برقم: 988 ]

اس میں فقط محمد بن علی بن مدینی کا قول ہے جو امام علی بن مدینی کے بیٹے ہیں اور روایت کی  سند نہیں۔

جیسا کہ اس کو نقل کرنے کے بعد امام ہیثمی مجمع الوائد میں فرماتے ہیں :

وعن محمد بن علي بن المديني ” فستقة ” قال: كانت فاطمة بنت رسول الله – صلى الله عليه وسلم – تكنى: أم أبيها.

قال: كانت أصغر ولد رسول الله – صلى الله عليه وسلم – من خديجة. وقيل: كانت توأم عبد الله ابن رسول الله – صلى الله عليه وسلم -. في الطبراني منقطع الإسناد.

[مجمع الزوئد برقم: 15225]

تیسری دلیل جو  حضرت فاطمہ ؓ کی کنیت کے حوالے سےبیان کی جاتی ہے جسکو امام بخاری نے بھی نقل کیا ہے۔

اور امام الغازلی الشافعی نے اسکو باسند بھی امام بخاری نے سے نقل کیا ہے امام ابن ابی شیبہ کے طریق سے

[168] كنيتها

أخبرنا أحمد بن محمد بن عبد الوهاب إذناً، أخبرنا أبو أحمد عمر بن عبد الله بن شوذب، حدثنا الحسن بن علي بن منصور، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، حدثنا عثمان بن أبي شيبة، حدثنا بعض أصحابنا عن كثير بن يزيد عن جعفر بن محمد عن أبيه قال: كنية فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم: أم أبيها.

[مناقب أمير المؤمنين علي بن أبي طالب رضي الله عنه برقم: 392- ،  المعروف بابن المغازلي (المتوفى: 483هـ]

اس کی سند مجہول ہے : اس میں بعض اصحاب کون ہیں امام ابن ابی شیبہ کے معلوم نہیں۔اور کثیر بن یزید کا سماع بھی  امام جعفر صادق سے مبھم و ٖغیر ثابت ہے۔کیونکہ انکے شیوخ میں کسی نے امام جعفر کا نام نہیں لکھا ہے۔

خلاصہ تحقیق:

تو ثابت یہ ہوا کہ کسی بھی سند صحیح سے یہ کنیت ثابت نہیں ہے نبی کریم ، یا اصحاب رسولﷺ سے۲۰۰ھ کے بعد کے لوگوں سے یہ بات بغیر دلیل کے ملتی ہے۔ جس سے بس اتنا کہا جا سکتا ہے کہ یہ کنیت منسوب ہوئی ہے۔جسکی وجہ سے مورخین و محدثین نے یہ کنیت لکھ دی مگر ثابت نہیں جب یہ چیز ثابت نہیں اور آج کے پرفتن دور میں اس سے باطل مطلب نکالنے کا خطرہ عام ہو گیا ہے تو اس کنیت کو منسوب کرنے سے اجتناب کیا جائے

تحقیق دعاگو: اسد الطحاوی الحنفی البریلوی

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے