حضرت عائشہ کا بارش کے لیے قبر رسول ﷺ سے توسل اور ابو یحیی نور پوری کارد

توسل عائشہ
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 5]

حضرت عائشہ کا بارش کے لیے رسولﷺ کی قبر مبارک سے توسل اور ابو یحیی نور پوری کے اعتراضات کارد

ابو یحیی نور پوری کا رد

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ صحابہ کرام کی ایک جماعت جو انکے پاس یہ بات لے کر آئے کہ قحط کےسبب بارش نہیں ہو رہی کیا کیا جائے؟ تو حضرت عائشہ نے صحابہ کرامﷺ کو حضور اکرمﷺ کی قبر مبارک کا وسیلہ لینے کی ترغیب دی تھی! جو کہ مسند دارمی میں سند صحیح سے موجود ہے ۔ کیونکہ یہ روایت غیر مقلدین کے نظریات کے خلاف ہے تو اس پر فضول قسم کے اعتراضات کرتے ہیں جس کا ہم تفصیلی جائزہ لینگے اس تحریر میں ۔

امام دارمی ، ابو الجوزاء اوس بن عبد اللہ سے صحیح اسناد کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ

حدثنا أبو النعمان ثنا سعید بن زید ثنا عمرو بن مالک النکری حدثنا أبو الجوزاء أوس بن عبد اللہ قال : قحط أہل المدینۃ قحطا شدیدا فشکوا إلی عائشۃ فقالت انظروا قبر النبی صلی اللہ علیہ و سلم فاجعلوا منہ کووا إلی السماء حتی لا یکون بینہ وبین السماء سقف قال ففعلوا فمطرنا مطرا حتی نبت العشب وسمنت الإبل حتی تفتقت من الشحم فسمی عام الفتق

قال حسین سلیم أسد : رجالہ ثقات وہو موقوف علی عائشۃ

مدینہ کے لوگ سخت قحط میں مبتلاء ہوگئے تو انہوں نے حضرت عائشہ سے شکایت کی آپ نے فرمایا کہ حضور کی قبر مبارک کے پاس کھڑے ہوجاو اور اس سے ایک کھڑکی آسمان کی طرف اس طر ح کھولو کہ قبر انور اور آسمان کے درمیان کوئی پردہ حائل نہ ہو راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے ایسا ہی کیا پس بہت بارش ہوئی حتی کہ خوب سبزہ اگ گیا اور جانور اتنے موٹے ہوگئے کہ ایسا لگتا تھا کہ چربی سے پھٹ پڑیں گے ۔لہذا اس سال کا نام عام الفتق (سبزہ و کشادگی کا سال) رکھ دیا گیا

[مسند الدارمی  وسندہ صحیح]

hazrat ayesha waseela

ایک دوست نے موصوف ابو یحیییٰ نور پوری صاحب کی پوسٹ کا سکرین شارٹ دیا جس میں موصوف نے صریح کذب بیانیوں کے سہارے
حضرت اماں عائشہ رضی اللہ عنہ کا قبر رسولﷺ سے تبرک و وسیلہ کا ثبوت ہے اسکا رد کرنے کی ناکام کوشش کی!

موصوف کہتا ہے:
اس راوی عمرو بن مالک نکری کی حدیث ابو جوزا سے غیر محٖوظ ہے ۔ روایت بھی ایسی ہی ہے ۔

الجواب (اسد الطحاوی)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۔ پہلی کذب بیانی کہ حافظ ابن حجر عسقلانی سے ابن عدی سے نقل کردہ ادھورے کلام سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ابن عدی کے بقول ابو جوزا سے النکری کی مطلق روایات غیر محفوظ ہیں

جبکہ حقیقت میں یہ مبھم جرح بھی خاص النکری عن ابو جوزا عن ابن عباس کے طریق پر تھی نہ کہ مطلق۔

۲۔ کذب بیانی یہ کہ کہ امام ابن عدی کے ابو جوزا کے حضرت ابن عباس کے طریق میں ٍٍٍ۱۰ غیر محفوظ مروایات کے کلام کو مطلق طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

جبکہ امام ابن عدی کا یہ کلام سماع ابو جوزا کا حضرت عائشہ ؓ سے سماع پر امام بخاری کے اعتراض کے حوالے سے ہے اور امام ابن عدی کا کلام اس میں بھی خاص طریق جب النکری ابو جوزا سے اور وہ ابن عباس سے ۔
جبکہ مذکورہ طریق ابن عباس سے نہیں ہے۔یہ بات بھی موصوف کی صریح کذب بیانی پر محمول ہوتی ہے!

جیسا کہ امام ابن عدی کا مکمل کلام انکی اپنی تصنیف میں درج ذیل ہے:

قال الشيخ: وأوس بن عبد الله أبو الجوزاء هذا يحدث عن عمرو بن مالك النكري يحدث، عن أبي الجوزاء هذا أيضا، عن ابن عباس قدر عشرة أحاديث غير محفوظة،
ابن عدی کہتے ہیں ابو جوزا یہ عمرو بن مالک النکری سے حدیث بیان کرتے ہیں ۔ اورا بو جوزا سے ایسے ہی ابن عباس سے دس غیر محفوظ روایتیں بیان کی ہیں،
جبکہ امام ابن عدی یہ کلام امام بخاری کی تشریح میں کیا ہے انکے نزدیک ایسا نہیں۔

جیسا کہ وہ کہتے ہیں آگے :

وأبو الجوزاء روى عن الصحابة بن عباس وعائشة، وابن مسعود وغيرهم وأرجو أنه لا بأس به
اور ابو جوزا جو صحابہ سے روایت کرتے ہیں ابن عباس، اماں عائشہ اور حضرت ابن مسعود وغیرہم سے ۔ اور انکی روایت کو لینے میں کوئی حرج نہیں ہے (یعنی یہ محفوظ روایات ہوتی ہیں)

پھر آگے امام بخاری کے کلام کے سبب کہتے ہیں:

ولا يصحح روايته عنهم أنه سمع منهم ويقول البخاري في إسناده نظر أنه لم يسمع من مثل بن مسعود وعائشة وغيرهما إلا أنه ضعيف عنده وأحاديثه مستقيمة
اور جو انکی روایات کی تصحیح نہیں کرتے وہ انکے سماع کے سبب۔ اور بخاری کہتے ہیں اسکی سند میں نظر ہے ۔ کہ اسکا سماع مثل صحابہ حضرت ابن مسعود ، اماں عائشہ وغیرہم سے نہیں ہے اس لیے ضعیف ہیں ان(متعرض) کی نظر میں (جنکا اعتماد امام بخاری کے کلام پر ہے)

جبکے اس موقف کارد کرتے ہوئے امام ابن عدی اپنا فیصلہ دیتے ہوئے کہتے ہیں آخر میں:

وأحاديثه مستقيمة مستغنية عن أن أذكر منها شيئا في هذا الموضع
اور انکی احادیث محفوظ ہیں اور کافی تعداد میں ہے ان(صحابہ سے) اور مجھے کوئی بات خاص ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے اس مسلہ پر (یعنی اسکی روایات متفقہ محفوظ اور صحیح ہیں)
[الکامل فی ضعفاء]
یعنی یہ مبھم جرح بھی خاص ابن عباس کے طریق کے حوالے سے تھی نہ کہ مطلق اور اسکی بنیاد وہی امام بخاری کا قول تھا جس میں سماع و لقاء کے عدم ثبوت کی بنیاد پر کلام ہے جو کہ انکے شاذ منہج کی وجہ سے مقبول نہیں ۔
جیسا کہ یہی کلام امام ابن عدی نے نقل کرنے کے بعد خود امام بخاری سے اتفااق نہیں کیا ہے ۔

امام ابن حجر عسقلانی اس پر رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

وقول البخاري في إسناده نظر يريد أنه لم يسمع من مثل بن مسعود وعائشة وغيرهما
اور امام بخاری کا قول ہے کہ (ابو جوزا )کی اسناد میں نظر ہے کہ اسکا سماع حضرت ابن مسعود و حضرت عائشہ جیسے صحابہ سے نہیں ہے

اسکو نقل کرنے کے بعد اس پر رد کرتے ہوئے امام ابن حجر کہتے ہیں:

قلت: حديثه عن عائشة في الافتتاح بالتكبير عند مسلم
میں (ابن حجر) کہتا ہوں کہ انکی حدیث صحیح مسلم میں موجود ہے حضرت عائشہؓ سے تکبیر کے افتتاح کے باب میں
پھر فرماتے ہیں:
فهذا ظاهره أنه لم يشافهها لكن لا مانع من جواز كونه توجه إليها بعد ذلك فشافهها على مذهب مسلم في إمكان اللقاء -والله أعلم-.
(امام بخاری کے عدم سماع کے کلام سے)یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان (ابو جوزا) کی ملاقات نہیں لیکن یہ اعتراض مانع یا جواز نہیں رکھتا ہے ۔ کہ انکی توجہ نہ ہوئی ہو (ملاقات کرنے کی)پس وہ متوجہ ہوئے (ملاقات کی طرف)امام مسلم کے مذہب امکان لقاء کے ساتھ
[تھذیب التھذیب برقم: 702]

یہاں تک کلام کا خلاصہ یہ ہے :

امام بخاری کے شاذ منہج کے تحت انکا یہ قول جمہور نے رد کیا ہے ۔ لقاء کی شرط کی وجہ سے !
اور امام مسلم نے اپنی صحیح میں امام ابو جوزا تابعی کی اماں عائشہ سے روایت کو بیان کیا ہے ۔
تو یہ جمہور ائمہ اور صحیح مسلم کی شرط پر صحیح طریق ہے!
کیونکہ غیر مقلدین بھی مانتے ہیں کہ اصول میں امام مسلم کی تمام مروایات متصل اور ثقات رجال پر مبنی ہیں اور اس پر اجماع تسلیم کرتے ہیں ۔
جیسا کہ امام نووی نے صحیح مسلم کی شرح میں امام مسلم کی شرط کی تصریح امام ابن صلاح سے نقل کرتے ہیں:
شرط مسلم رحمہ اللہ تعالی فی صحیحیة ان یکون الحدیث متصل الاسناد
امام ابن صلاح کہتے ہیں کہ اما م مسلم رحمہ اللہ کی شرط ہے کہ حدیث متصل الاسناد ہونگی (پس امام مسلم کے اصول پر انکا ابو جوزا کی حضرت اماں عائشہ سے روایت کی تخریج بطور اصول اپنی صحیح میں کرنے کے سبب سماع کا اعتراض رفع ہو جاتا ہے )
[صحیح مسلم بشرح النووی، ص ۳۴]

نیز عمرو بن مالک النکری کی روایات میں نکارت و خطاء جو آئی ہے وہ اسکے بیٹے کے روایت کرنے کے سبب آئی ہے نہ کہ عمرو بن مالک النکری کی ابو جوزا سے روایت میں مسلہ ہے اور نہ ہی ابو جوزا کا صحابہ سے سماع میں مسلہ ہے۔

جیسا کہ امام ابن حبان سے یہ بات ملتی ہے جب عمرو بن مالک النکری سے اسکا بیٹا روایت بیان کرے تو روایات میں خطاء ہوتی ہے ۔

یعنی کہ اسکی وجہ عمرو بن مالک النکری کا بیٹا ہے نہ کہ وہ خود جیسا کہ امام ابن حبان فرماتے ہیں:
عمرو بن مالك النكري أبو مالك والد يحيى بن عمرو وقعت المناكير في حديثه من رواية ابنه عنه وهو في نفسه صدوق اللهجة
عمرو بن مالک النکری ابو مالکیہ والد ہے یحیی بن عمرو کے اور ان سے مناکیر حدیث میں مروی ہوئی ہیں جن میں انکا بیٹا ان سے روایت کرتا ہے ۔ جبکہ یہ (عمرو بن مال النکری) خود اپنی ذات کے اعتبار سے سچے ہیں
[مشاهير علماء الأمصار وأعلام فقهاء الأقطار، برقم:1223]
اس لیے امام ابن حبان نے اپنی ثقات میں جب عمرو بن مالک النکری کے بارے کہتے ہیں کہ انکی مروایات میں خطاء ہے تو اسکی تصریح امام ابن حبان نے پیش کر دی ہے کہ وہ اسکے بیٹے کے سبب ہے!معلوم ہوا عمرو بن مالک النکری کی مروایات میں مناکیر تب آتی ہیں جب ان سے انکا بیٹا روایت کرے اور اسکا التزام بھی بیٹے کے زمے ہے ۔
اور مذکورہ روایت عمرو بن مالک النکری سے اسکا بیٹا بیان کر ہی نہیں رہا تو یہ جھوٹا دعویٰ ہے جو ابو یحییٰ نورپوری صاحب نے کیا !!!
کہ عمرو بن مالک النکری کی ابو جوزا سے روایات غیر محفوظ ہوتی ہیں
یہ بالکل جھوٹ ہے! جیسا کہ اوپر انکا لوگوں کو دھوکا دینا واضح کر چکے ہیں ادھورے کلام سے!

یہ تھے موصوف کی کذب بیانیاں کہ امام ابن عدی کی اپنی کتاب سے مکمل کلام نقل کرنے کی بجائے امام ابن حجر عسقلانی کی کتاب سے امام ابن عدی کے ادھورے کلام سے لوگوں کو دھوکا دینے کی کوشش کی ہے !!

کچھ غیر مقلدین اس روایت پر کچھ اضافی اعتراضات بھی کرتے ہیں:

انکا جواب بھی اس تحریر میں دے دیتا ہوں۔ جیسا کہ ایک اور اعتراض امام ابن عدی کے حوالے سے کیا جاتا ہے۔ انکے تسامح کو دلیل بنا کر ذبردستی !
کہ امام ابن عدی نے عمرو بن مالک النکری کی تضعیف کی ہے الکامل میں اور یسرق حدیث کہا ہے
امام ابن عدی کا تسامح کی دلیل!
امام ابن عدی نے الکامل فی ضعفاء میں عمرو بن مالک النکری کا باب قائم کرکے اس میں اس راوی کے ہم نام ایک بصری راوی ”عمرو بن مالک الراسبی’‘ پر وارد جروحات نقل کی ہیں ۔ جبکہ یہ اور راوی ہے

تسامح کے دلائل درج ذیل ہیں:

امام ابن عدی راوی کا نام لکھتے ہیں الکامل میں
عمرو بن مالك النكري بصري.
پھر کلام کرتے ہیں:
منكر الحديث عن الثقات، ويسرق الحديث. سمعت أبا يعلى يقول عمرو بن مالك النكري كان ضعيفا.
یہ راوی منکر حدیث ثقات سے روایت کرنے میں اور یہ حدیثیں چوری کرتا ہے۔ اور میں نے شیخ ابو یعلی کو کہتے سنا کہ عمرو بن مالک (الراسبی کی جگہ النکری لکھ دیا امام ابن عدی نے) یہ ضعیف ہے!

پھر بطور ثبوت جو روایات درج کی ہیں امام ابن عدی نے کو ابو یعلی اپنے ضعیف شیخ عمرو بن مالک الراسبی سے بیان کر رہا ہے ۔

آخر میں امام ابن عدی کا کلام درج ذیل ہے:
ولعمرو غير ما ذكرت أحاديث مناكير بعضها سرقها من قوم ثقات.
اور عمرو بن مالک (الراسبی) کی جو روایات مین ذکر کی ہیں اسکے علاوہ بھی مناکیر ہیں اور بعض اس نے ثقہ رجال سے چوری کی ہیں
[الکامل فی ضعفاء برقم:1315]
جبکہ عمرو بن مالک النکری تو امام ابو یعلی سے بہت پہلے زمانے کا راوی ہے! اور مذکورہ جو ابو یعلی کا شیخ ہے یہ ”عمرو بن مالک الراسبی ہے نہ کہ النکری’اور امام ابن عدی کے کلام میں کہیں یہ بات نہیں کہ اس عمرو بن مالک کی ابو جوزا سے ۱۰ غیرمحفوظ مرویات ہیں جو کہ ابو یحییٰ صاحب کا واضح جھوٹ تھا!۔ یہی وجہ ہے امام ابن عدی کے اس واضح تسامح پر امام ذھبی اور امام ابن حجر عسقلانی نے تعاقب کیا ہے ۔

جسکے دلائل درج ذیل ہیں:

امام ذھبی میزان میں جب ‘‘عمرو بن مالک راسبی” ضعیف راوی کا ترجمہ بیان کرتے ہیں تو تصریحا یوں باب قائم کرتے ہیں:
عمرو بن مالك [ق] الراسبي البصري لا النكرى.
یہ راوی عمرو بن مالک راسبی بصری ہے نہ کہ النکری (جو کہ ثقہ ہے)
پھر لکھتے ہیں:
هو شيخ.
حدث عن الوليد بن مسلم.
ضعفه أبو يعلى.
یہ شیخ ہے جو ولید بن مسلم سے روایت کرتا ہے اور ابو یعلی نے اسکی تضعیف کی ہے (یعنی راسبی کی)
وقال ابن عدي: يسرق الحديث.
وتركه أبو زرعة.
اور ابن عدی نے کہا یہ حدیث چور ہے
اور امام ابو زرعہ نے اسکو ترک کر دیا
[میزان الاعتدال برقم:6435]

اور میزان میں ”عمرو بن مالک النکری” جو ثقہ تابعی راوی کے بارے واضح تصریحا فرماتے ہیں:

عمرو بن مالك [عو] النكرى، عن أبي الجوزاء.
وعمرو بن مالك [عو] الجنبي.
عن أبي سعيد الخدري وغيره، تابعي –
فثقتان
عمرو بن مالک النکری جو کہ ابو جوزا سے روایت کرنے والے ہیں
اور
عمرو بن مالک الجنبی جو کہ ابو سعید خدری سے روایت کرنے والے ہیں تابعی ہیں۔
اور یہ دونوں ثقات روایت میں سے ہیں ۔
[میزان الاعتدال برقم:37-6436]

اسی طرح امام ابن حجر عسقلانی تھذیب میں عمرو بن مالک ”الراسبی”کے ترجمہ میں امام ابن عدی کےوھم اور تسامح کی تصریح دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

وقال بن عدي منكر الحديث عن الثقات ويسرق الحديث وسمعت أبا يعلى يقول كان ضعيفا ثم ساق له حديثين وقال وله غير ما ذكرت مناكير وبعضها سرقة انتهى إلا أنه قال في صدر الترجمة عمرو بن مالك النكري فوهم فإن النكري متقدم على هذا
امام ابن عدی کہتے ہیں یہ ثقات سے منکر حدیث اور روایات چوری کرتا ہے۔ اور میں نے امام ابو یعلی کو اسکی تضعیف کرتے سنا ہے۔ اور پھر (ابی یعلی)اسکی دو احادثیں بیان کرتے ہیں۔ اور ابن عدی نے اسکے بعد کہا کہ جومنکر روایات میں نے ذکر کی ہیں بعض سرقہ شدہ روایات ہیں۔(ابن عدی کا کلام ختم ہوا)
اور
سوائے اسکے ابن عدی نے یہ کلام عمرو بن مالک ”النکری’‘ کے ترجمہ کے شروع میں کر دیا ہے ۔ جو کہ ان سے وھم و تسامح ہوا ہے۔ جبکہ وہ راوی النکری مقدم ہے
[تھذیب التھذیب برقم:152]
معلوم ہوا امام ابن حجر عسقلانی نے یہ امام ابن عدی کے حوالے سے جو کلام نقل کیا ہے وہ عمرو بن مالک ”النکری” کے بارے نہیں بلکہ الراسبی کے بارے نقل کیا ہے ۔
اور اس میں بھی ابن عدی نے ایسی کوئی بات نہیں کی کہ عمرو بن مالک النکری کی ابوجوزا سے روایت غیر محفوظ ہوتی ہیں۔

حد تو یہ ہے کہ اہل حدیث حضرات کے جید محدث البانی صاحب کو بھی پہلے تسامح ہوا لیکن انہوں نے اس موقف سے رجوع کر لیا تھا۔

جیسا کہ وہ کہتے ہیں:
حدثنا نوح بن قيس قال حدثني
عمرو بن مالك النكري عن أبي الجوزاء عن ابن عباس قال.. قلت: وهذا إسناد
صحيح رجاله ثقات رجال مسلم، غير عمرو بن مالك النكري، وهو ثقة، كما قال
الذهبي في ” الميزان ” ذكره فيه تمييزا، ووثقه أيضا من صحح حديثه هذا ممن
يأتي ذكرهم
عمرو بن مالک النکری کی ابو جوزا سے روایت نقل کرنے کے بعد علامہ البانی صاحب کہتے ہیں :
یہ سند صحیح ہے اور اسکے رجال مسلم کے ثقات میں سے ہیں سوائے عمرو بن مالک النکری کے جو کہ ثقہ ہیں جیسا کہ امام ذھبی نے میزان میں انکے بارے کہا ہے اور فرق کیا ہے (عمرو بن مالک النکری اور راسبی میں) اور ثقہ کہا ہے انکی روایات کی تصحیح کرنے والوں نے جو کہ یہاں درج ذیل ہیں
أحمد (1 / 305) والترمذي (2 / 191 – بولاق) والنسائي (1 / 139) وابن
ماجة (1046) وابن خزيمة في ” صحيحه ” (رقم 1696 – 1697) وابن حبان (1749) والطبري في ” تفسيره ” (14 / 18) والحاكم (2 / 353) والبيهقي أيضا من
طرق أخرى عن نوح ابن قيس به. وقال الحاكم: ” صحيح الإسناد،
[سلسلہ صحیحیہ برقم:2472]
یعنی درج ذیل محدثین نے عمرو بن مالک کی توثیق کی ہے مذکورہ روایت کی تصحیح کرکے بقول البانی صاحب!!

اسکے علاوہ اس روایت کا راوی ”سعید بن زید ” جس پر اعتراض کیا جاتا ہے ضعیف ہونے کے حوالے سے:

تو اس پر تو کوئی جرح مفسر ہے ہی نہیں اور امام یحییٰ بن معین متشدد ناقد نے انکی توثیق کر رکھی ہے۔

سب سے پہلے کلام نقل کرتے ہیں:

امام دارقطنی :
• قال الحاكم: قلت للدارقطيي سعيد بن زيد أخو حماد بن زيد؟ قال ضعيف، تكلم فيه يحيى بن القطان
امام دارقطنی کہتے ہیں کہ سعید بن زید جو کہ حماد بن زید کا بھائی ہے ضعیف ہے امام یحیی بن سعید القطان اس پر کلام کرتے تھے
[موسوعہ دارقطنی ]
جبکہ نہ ہی امام دارقطنی نے تضعیف کا سبب بیان کیا ہے اور نہ ہی امام ابن قطان کا کلام بیان کیا ہے کہ کس حوالے سے کلام کرتے تھے یہ سارا کلام ہی مبھم ہے !

جبکہ اس کے برعکس ائمہ نے صریحا توثیق کی ہے

جیسا کہ ابن خیثمہ روایت کرتے ہیں :
وَسَمِعْتُ يَحْيَى بْن مَعِيْن يَقُولُ: سعيد بْن زَيْد أخو حَمَّاد بْن زَيْدٍ: ثقة.
امام یحیی بن معین کہتے ہیں سعید بن زید جو کہ حماد بن زید کا بھائی ہے ثقہ ہے
[تاریخ الکبیر ابن خیثمہ ، برقم: 165]
نیز امام بخاری نے امام مسلم سے توثیق نقل کی ہے :
قال مسلم: حدثنا سعيد ابن زيد أبو الحسن صدوق حافظ.
امام مسلم کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی سعید بن زید نے جو صدوق حافظ حدیث ہیں
[تاریخ الکبیر للبخاری برقم: 1576]
امام احمد بن حنبل کہتے ہیں ”لاباس بہ”
[موسوعہ احمد بن حنبل]

یہاں تک کہ غیر مقلدین کے جید محدث البانی صاحب اس راوی پر کہتے ہیں :

قلت: وهذا إسناد حسن , رجاله كلهم ثقات , وفى سعيد بن زيد ـ وهو أخو حماد بن زيد ـ كلام لا ينزل به حديثه عن رتبة الحسن إن شاء الله تعالى , وقال ابن القيم فى ” الفروسية ” (20) : ” وهو حديث جيد الإسناد ".
میں کہتا ہوں یہ سند حسن ہے ۔ اسکے سارے رجال ثقہ ہیں ۔ اور اس میں سعید بن زید جو کہ حماد بن زید کا بھائی ہے اس پر کلام کےسبب اسکی روایت حسن درجہ سے کم نہیں ہے ان شاءاللہ۔ اور ابن قیم نے فروسیہ میں اس حدیث کے بارے کہا کہ اسکی سند جید ہے
[إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل ، برقم: 1508]
تو یہ راوی بھی متفقہ طور پر ثقہ و صدوق ہے۔

باقی آخری اعتراض اس روایت کے حوالے سے آ جا کر یہ کیا جاتا ہے کہ ابو نعمان عارم کو آخری عمل میں اختلاط ہو گیا تھا تو یہ روایت کے عدم تمیز کے سبب ضعیف ہے

تو اسکا جواب یہ ہے کہ
ابو نعمان یہ امام بخاری کا شیخ ہے اور ان پر تغیر کا کلام بھی امام بخاری نے کیا ہے جو کہ انکی عمر کے آخری ادوار میں ہوا جبکہ مذکورہ روایت امام بخاری کے شیخ امام دارمی بیان کر رہے ہیں جو کہ امام بخاری کے شیخ ہیں اور اما م دارمی کا سماع امام ابو نعمان سے پہلے ادوار کا ثابت ہوتا ہے اصولا!۔نیز چونکہ اختلاف آخری ادوار میں آیا تھا جسکے سبب ابو نعمان کی مروایات میں کوئی بھی منکر روایت ظاہر نہ ہوسکی۔

جیسا کہ امام العلل امام دارقطنی سے تصریحا امام ذھبی ابو نعمان پر اختلاط کے کلام کا رد کرتے ہوئے اس موقف کو صواب ثابت کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

وقال البخاري: تغير عارم في آخر عمره، وقال أبو داود: بلغى أن عارما أنكر سنة ثلاث عشرة ومائتين، ثم راجعه عقله، ثم استحكم به الاختلاط سنة ست عشرة ومائتين.
وقال الدارقطني: تغير بأخرة، وما ظهر له بعد اختلاطه حديث منكر.
وهو ثقة.
امام بخاری کہتے ہیں عارم آخری عمر میں تغیر کا شکار ہو گئے تھے۔ امام ابو داود کہتے ہیں مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ عارم کو ۲۱۳ھ میں منکر قرار دے دیا گیا تھا۔ پھر انکی عقل واپس آگئی تھی یعنی اختلاط ختم ہو گیا تھا ۔ اسکے بعد دوبارہ ۲۱۶ھ میں دوبارہ حافظہ پختہ ہو گیا تھا!(یعنی صرف تین سال کا قلیل عرصہ گزرا )
امام دارقطنی کہتے ہیں یہ آخری عمر میں تغیر کا شکار ہوگئے تھے۔ انہوں نے اختلاط کے بعد ان سے کسی منکر روایت کا ظہور نہیں ہوا۔ اور یہ (مطلق)ثقہ ہیں

امام دارقطنی سے اتفاق کرتے ہوئے امام ذھبی کہتے ہیں:

قلت: فهذا قول حافظ العصر الذي لم يأت بعد النسائي مثله، فأين هذا القول من قول ابن حبان الخساف المتهور في عارم، فقال: اختلط في آخر عمره وتغير حتى كان لا يدرى ما يحدث به، فوقع في حديثه المنا كير الكثيرة، فيجب التنكب عن حديثه فيما رواه المتأخرون، فإذا لم يعلم هذا من هذا ترك الكل، ولا يحتج بشئ منها.
میں (ذھبی) کہتا ہوں یہ اس حافظ عصر (امام دارقطنی) کا قول ہے ۔ امام نسائی کے بعد اس پائے کا اور کوئی شخص نہیں آیا (علل حدیث کے فن میں )
تو اسکھ مقابلے ابن حبان کے کلام کی کیا اہمیت ہے ۔جنہوں نے عارب کے بارے تشدید سے کلام لیا ۔ اور زیادتی کی ۔ اور یہ کہہ دیا کہ ٓخری عمر میں اختلاط کا شکار ہوئے تہاں تک کہ انہیں یہ بھی پتا نہیں چلتا تھا کہ یہ کیا حدیث بیان کر رہے ہیں ۔ تو ان کی روایات میں منکرات زیادہ ہوگیں۔ تو انکی حدیث سے اجتناب لازم ہوگیا۔ اور انکی تمام روایات کو ترک کر دیا گیا کسی بھی روایت سے استدلال سے ۔
امام ابن حبان کے تشدید پر مبنی اس مبھم کلام کا ردد کرتے ہوئے امام ذھبی پھر کہتے ہیں :
قلت: ولم يقدر ابن حبان أن يسوق له حديثا منكرا، فأين ما زعم؟
میں (ذھبی) کہتا ہوں کہ ابن حبان سے یہ تو نہں ہو سکا کہ اس حوالے سے کوئی منکر روایت نقل کر دیتے تو پھر ان کے گمان کا کیا بنا ؟
[میزان الاعتدال برقم: 8057]
پس ائمہ علل کی تصریحات اور ۳ سال کے قلیل اختلاط پر انکی مروایات کو رد کرنا کسی اصول سے صحیح نہیں اور امام دارقطنی نے انکا اختلاط میں منکر روایت کے عدم بیان کے سبب انکی کلی روایات محفوظ کا موقف مضبوط کرتا ہے اور یہی امام ذھبی اور دیگر ائمہ کا فیصلہ ہے! اس روایت پر فقط یہی اعتراضات تھے جسکا جواب میں نے مکمل کر دیا ہے اور بو یحییٰ صاحب کی غلط بیانی دلائل سے واضح کر دی ہے ! کیونکہ یہ باریک واردات ڈالتے ہیں اور انکی ڈنڈیوں کو وہی پکڑ سکتا ہے جسکا رجال پر کچھ نہ کچھ مطالعہ ہو۔ کیونکہ انکی جماعت کے لوگ تو انکی تحقیق کے جامد مقلد ہیں
تحقیق: اسد الطحاوی الحنفی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے