عمار بن یاسر
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 5]

حضرت عمار بن یاسر  ؓسے حضرت عائشہ ؓ  کا دفاع 

حضرت عمار بن یاسر سے حضرت عائشہ کا دفاع اور مداح:کیا حضرت علیؓ کے خلاف جنگ کرنے سے کسی صحابیؓ کی فضیلت پر کوئی فرق پڑتا ہے ؟
حضرت عمار بن یاسر سے جھوٹی محبت کرنے والے پلمبریوں اور تفضیلیوں کا امتحان!
حضرت عمار بن یاسر سے غیر ثابت روایات پھیلا کر یہ لوگ حضرت معاویہ رضی اللہ اور انکے گروہ صحابہ پر طعن کرتے دکھائی دیتے ہیں اور پھر حضرت عمار کے فضائل پر مبنی رویات نقل کرتے ہیں۔ لیکن یہ منافق لوگ حضرت عمار کے پورے موقف کو نہیں مانتے۔

حضرت عمار کے نزدیک حضرت علی جنگ لڑنے والے صحابہؓ کے فضائل کیا معلق ہو جاتے ہیں ؟ ان سے ہی فیصلہ لیتے ہیں:

امام بخاری نقل کرتے ہیں:
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن الحكم , سمعت ابا وائل، قال: لما بعث علي عمارا والحسن إلى الكوفة ليستنفرهم خطب عمار، فقال:” إني لاعلم انها زوجته في الدنيا والآخرة ولكن الله ابتلاكم لتتبعوه او إياها”.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے اور انہوں نے ابووائل سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جب علی رضی اللہ عنہ نے عمار اور حسن رضی اللہ عنہما کو کوفہ بھیجا تھا تاکہ لوگوں کو اپنی مدد کے لیے تیار کریں تو عمار رضی اللہ عنہ نے ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا: مجھے بھی خوب معلوم ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، لیکن اللہ تعالیٰ تمہیں آزمانا چاہتا ہے کہ دیکھے تم علی رضی اللہ عنہ کی اتباع کرتے ہو (جو برحق خلیفہ ہیں) یا عائشہ رضی اللہ عنہا کی۔
[صحیح البخاری، برقم: 3772]

بلکہ جب کچھ روافض جنگ جمل کے بعد حضرت عائشہ پر طعن کرتے تو انکا رد کرتے ہوئے حضرت عمار بن یاسر حضرت عائشہ کا دفاع یوں کرتے تھے:

حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن ابي إسحاق، عن عمرو بن غالب، ان رجلا نال من عائشة عند عمار بن ياسر، فقال: ” اغرب مقبوحا منبوحا اتؤذي حبيبة رسول الله صلى الله عليه وسلم ". قال ابو عيسى: هذا حديث حسن صحيح.
عمرو بن غالب سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عمار بن یاسر رضی الله عنہ کے پاس عائشہ رضی الله عنہا کی عیب جوئی کی تو انہوں نے کہا: ہٹ مردود بدتر، کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبہ کو اذیت پہنچا رہا ہے؟
امام ترمذی کہتے ہی: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
[سنن الترمذی برقم:1885]


نوٹ:
اس روایت پر زبیر زئی اور علامہ البانی نے ضعیف کا حکم لگایا ہے ۔
زبیر زئی تو اس روایت کو امام سفیان ثوری کے معنن کی سبب بھی ضعیف گرادنتا تھا۔
اور
علامہ البانی اس روایت کو غالبا ابو اسحاق کے معنن روایت کرنے کے سبب ضعیف قرار دیا
اور
عمرو بن غالب کو امام ابن حجر کے تقریب میں ”مقبول” قرار دینے کے سبب ضعیف قرار دیا ہوگا۔


لیکن یہ تحقیق ناقص ہے :

اس روایت میں امام ابو اسحاق کا شیخ عمرو بن غالب ثقہ راوی ہے ۔

جیسا کہ امام مغلطائی اس راوی کے بارے فرماتے ہیں:
خرج الحاكم حديثه في ” صحيحه "، وأبو علي الطوسي في ” أحكامه "، وأبو محمد الدارمي. تفرد عنه أبو إسحاق بالرواية.
وقال البرقي: كوفي مجهول، احتملت روايته لرواية أبي إسحاق عنه.
وقال الصدفي: قال النسائي: ثقة.
وذكره ابن خلفون في كتاب ” الثقات

امام حاکم نے انکی روایت کی تصحیح کی ہے (جو انکے تفرد اور امام ابن حبان کی تائید میں حجت نہیں ہوتی)
امام برقانی کہتے ہیں یہ کوفی مجھول ہے اور احتمال اس لیے کیا کہ ان سے سوائے ابو اسحاق کے اور کوئی روایت نہیں کرتا۔
اور امام صفی نے کہا کہ امام نسائی (متشدد) نے انکو ثقہ قرار دیا ہے۔
اور ابن خفلون متاخر ناقد نے بھی اسکو ثقات میں درج کیا ہے
[اکمال تھذیب الکمال برقم:4162]

معلوم ہوا کہ امام نسائی کی توثیق اور امام ترمذی کی تصحیح کے بعد اس راوی کو مجھول کہنا صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ امام ترمذی روایت کی تحسین میں متساہل ہیں نہ کہ تصحیح میں ۔یہی وجہ ہے کہ تقریب کے حاشیہ میں محدث علامہ شعیب الارنووط الحنفی علیہ الرحمہ نے امام ابن حجر عسقلانی کا تعاقب کرتے ہوئے فرمایا:

عمرو بن غالب الهمداني، الكوفي: مقبول، من الثالثة. ت س.
ابن حجر کہتے ہیں؛ عمرو بن غالب کوفی یہ مقبول ہے ۔

علامہ شعیب الارنووط تعاقب کرتےہوئے لکھتےہیں:
• بل: ثقة، نعم تفرد أبو إسحاق السبيعي بالرواية عنه، لكن النسائي وثقه، وصحح الترمذي حديثه، وذكره ابن حبان في "الثقات”.
بلکہ یہ ثقہ ہے ہاں یہ بات ٹھیک ہے کہ اس سے ابو اسحاق روایت کرنے میں منفرد ہیں ۔ لیکن امام نسائی نے انکو ثقہ قرار دیا ہے ۔ اور امام ترمذی نے بھی انکی حدیث کی تصحیح کی ہے ۔ اور ابن حبان نے بھی انکو ثقات میں شامل کیا (ابن حبان جید محدثین کی متابعت میں ہیں)
[تحریر تقریب التھذیب برقم:5091]

یہی وجہ ہے کہ امام ذھبی پہلے الکاشف میں اس راوی پر ”وثق” کے الفاظ سے غیر معتبر توثیق لکھی
لیکن میزان اور سیر اعلام میں انہوں نے اس راوی کی روایت کی تصحیح کو قبول کیا ہے ۔

جیسا کہ میزان میں امام ذھبی لکھتے ہیں؛
عمرو بن غالب [ت، ق] الهمداني، عن عمار.
ما حدث عنه سوى أبي إسحاق، لكن صحح له الترمذي.
ان سے سوائے ابو اسحاق کے اور کوئی روایت نہیں کرتا لیکن امام ترمذی نے انکی روایت کی تصحیح کی ہے
[میزان الاعتدال برقم:6419]

اسی طرح تاریخ الاسلام میں بھی امام ترمذی کی تصحیح کو برقرار رکھا ہے ۔
اور سیر اعلام میں کہتے ہیں:
أن رجلا نال من عائشة عند عمار، فقال: اغرب مقبوحا، أتؤذي حبيبة رسول الله (-صلى الله عليه وسلم-؟!
صححه: الترمذي في بعض النسخ.
وفي بعض النسخ: هذا حديث حسن.
امام ترمذی نے مذکورہ روایت کو صحیح قرار دیا ہے ترمذی کے بعد نسخاجات میں ہے اور بعض میں حدیث کو حسن کہا (لیکن راجح یہ ہے کہ امام ترمذی نے تصحیح کی ہے )

[سیر اعلام النبلاء]


باقی رہا یہ اعتراض کہ امام ابو اسحاق نے مذکورہ روایت معنن بیان کی ہے تو یہ کوئی علت نہیں کیونکہ تمام محدثین کا اتفاق ہے کہ ان سے سوائے ابو اسحاق کے اور کوئی روایت نہیں کرتا لہذا انکی تدلیس کا احتمال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ کیونکہ ابو اسحاق واحد شاگرد ہیں ان راوی کے تو وہ کس سے تدلیس کرینگے۔

نیز کوئی یہ کہے کہ امام ابو اسحاق کے ان سے روایت کرنے سے کیسے ثابت ہو گیا کہ وہ ان کے شاگرد تھے ؟
تو اسکا جواب ہے
کہ امام بخاری نے ابو اسحاق کو ”عمرو بن غالب” کے تلامذہ میں ذکر کیا ہے اگر ابو اسحاق کا سماع نہ ہوتا ”عمرو بن غالب” سے تو وہ ضرور جرح کرتے جیسا کہ انکے لقاء کی شرط بہت سخت ہوتی ہے
عَمرو بْن غالِب، الهَمدانِيُّ.
عَنْ عائشة، رضي الله عَنْهَا، رَوى عَنْهُ أَبو إِسحاق الهَمدانِيّ.
[تاریخ الکبیر برقم:2642]


اس تحقیق سے معلوم ہوا اس روایت کی سند صحیح ہے ۔

باقی اگر حضرت معاویہؓ کے تعلق سے حضرت عمارؓ نے کچھ کہا بھی ہوتا وہ باب مشاجرات میں ہونے کی وجہ سے ایسے ہی قبول نہیں ہوگا جیسا کہ حضرت عائشہ کا قول حضرت عمار کے بارے قبول نہ ہوگا۔
جیسا کہ امام حاکم اپنی سند سے روایت کرتے ہیں:

أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، ثنا سعيد بن مسعود، ثنا عبيد الله بن موسى، أنبأ إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن عمرو بن غالب، قال: دخل عمار على عائشة رضي الله عنها يوم الجمل، فقال: السلام عليك يا أماه. قالت: لست لك بأم. قال: بلى إنك أمي وإن كرهت. قالت: من ذا الذي أسمع صوته معك؟ قال: الأشتر. قالت: يا أشتر أنت الذي أردت أن تقتل ابن أختي؟ قال: لقد حرصت على قتله وحرص على قتلي فلم يقدر فقالت: أما والله لو قتلته ما أفلحت، فأما أنت يا عمار فقد علمت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ” لا يقتل إلا أحد ثلاثة: رجل قتل رجلا فقتل به، ورجل زنى بعد ما أحصن، ورجل ارتد عن الإسلام «هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه»

عمرو بن غالب روایت کرتے یں خہ جنگ جمل کے موقع پر حضرت عمار ام المومنین حضرت عائشہؓ کے پاس آئے اور یوں سلام کیا ”اسلام ولعیکم یا امی جان تو ام المومنین ؓ نے فرمایا میں تیری ماں نہیں ہوں۔ حضرت عمارؓ نے کہا کیوں نہیں؟ آپ میری ماں ہی ہیں چاہے آپکو یہ اچھا نہ لگے۔ ام المومنینؓ نے فرمایا :
تیرے ساتھ جس کی آواز آرہی ہے وہ کون ہے ؟ حضرت عمارؓ نے فرمایا اشتر ہے ۔ ام المومنین ؓ نے فرمایا اےا شتر! توں وہی ہے نہ جو میرے بھانجے (غالبا حضرت عرہ بن زبیر) کو قتل کرنا چاہتا تھا؟ اشتر (لعین) نے کہا ”میں اسکو قتل کرنا چاہتا تھا اور وہ مجھے قتل کرنا چاہتا تھا، لیکن وہ ایسا نہ کرسکا”
ام المومنین ؓ نےارشاد فرمایا: کہ اللہ کی قسم! اگر توں ا سکو قتل کرتا تو کبھی فلاح نہ پاتا۔، اور اے عمار!
تم تو جانتے ہو کہ رسولﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ تین لوگوں کے سوا کسی کو بھی قتل کرنا جائز نہیں ہے ۔ وہ تین آدمی یہ ہیں

  • ۱۔جس نے کسی کو ناحق قتل کیا ، اسکو قتل کر دیاجائے

  • ۲۔شادی شدہ شخص زنا کرے تو اسکو قتل کر دیاجائے۔

  • ۳۔جو شخص اسلام کو چھوڑ کر کوئی دوسرا دین اختیار کر لے اسکو بھی قتل کر دیا جائے

[مستدرک الحاکم برقم: 8039]


رجال کا مختصر تعارف:
۱۔ محمد بْن أَحْمَد بْن محبوب بْن فُضَيْل، أَبُو الْعَبَّاس المَرْوزِيّ المحبوبي
كَانَ شيخ مَرْو ثروةً وإفضالًا، وسماعاته مضبوطة
قَالَ الحاكم: سماعه صحيح.
[تاریخ الاسلام برقم: 230]

۲۔ سَعِيْدُ بنُ مَسْعُوْدِ بنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ المَرْوَزِيُّ
المُحَدِّثُ، المُسْنِدُ، أَبُو عُثْمَانَ المَرْوَزِيّ، أَحَدُ الثِّقَاتِ.
[سیر اعلام النبلاء برقم: 184]

۴۔عبید اللہ بن موسی یہ بخاری کا احتجاج بہ راوی اور اور تقیہ باز شیعہ تھا۔
امام ذھبی لکھتے ہیں:
وَحَدَّثَ عَنْهُ: أَحْمَدُ بنُ حَنْبَلٍ قَلِيْلاً – كَانَ يَكرَهُهُ لِبِدْعَةٍ مَا فِيْهِ
ان سے امام احمد نے بہت کم روایت کیا ہے وہ اسکو اسکی بدعت (شیعت) کے سبب نا پسند کرتے تھے۔
وَعُبَيْدُ اللهِ أَثبَتُهُم فِي إِسْرَائِيْلَ
عبیداللہ یہ امام اسرائیل سے روایت کرنے میں متقن ہے
[سیر اعلام النبلاء برقم: 215]

۵۔امام اسرائیل بن یونس
متفق علیہ ثقہ

۶۔ امام ابو اسحاق متفق علیہ ثقہ

۷۔ عمرو بن غالب
اسکی توثیق اوپر تفصیلی طور پر پیش کر چکے ہیں۔

کیا کوئی ناصبی ایسی روایات کو دلیل بنا کر یہ کہے کہ اماں عائشہ حضرت عمارؓ کو اپنا بیٹا نہیں مانتی تھیں تو کیا اس سے حضرت عمارؓ کی فضیلت کم ہو جائےگی ؟ بالکل بھی نہیں۔ جبکہ حضرت عمار کو معلوم تھا کہ اماں عائشہ حضرت علیؓ کے خلاف نکلی ہیں جنگ میں لیکن حضرت عمار پھر بھی انکو امی جان کہتے اور انکی ناراضگی کو بالکل برا نہ سمجھتے تھے۔
معلوم ہوا حضرت عمار کا بھی ایسا کوئی عقیدہ نہ تھا جو کہ تفضیلیہ اور کھٹملوں کا ہے کہ حضرت علیؓ کے خلاف نکلنا فسق ہے ۔ جبکہ صحابہؓ بالکل ایسا نہ سمجھتے تھے۔
تحقیق: اسد الطحاوی الحنفی البریلوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے